فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
99 - 126
مسئلہ ۲۷۵: از تلہڑ ضلع شاہجہانپور محلہ ہندوپٹی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۲۰ رمضان ۱۳۳۷ھ
مفتیان کرام ذوی الاحترام کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے۔ زید کہتاہے کہ جلد قربانی و عقیقہ مسجد ومدرسہ کے صرف میں آسکتی ہے۔ بکر کا قول ہے کسی فقیر کو دی جائے وہ خرچ کرسکتاہےکیونکہ یہ صدقہ ہے اور صدقات کی تفصیل کلام الٰہی نے فرمادی:
انما الصدقات للفقراء ۱؎ الاٰیۃ سورۃ توبہ
(صدقات خاص کر فقراء کے لئے ہیں۔ ت) اورحکم باری تعالٰی ہے :
فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اﷲ والرسول ۲؎۔
تو اگر تم کسی معاملہ میں تنازع کرو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف پھیرو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۶۰) (۲؎ القرآن الکریم ۴ /۵۹)
لہذا کلام ربانی کی طرف رجوع کی گئی نیز بکرکا بیان ہے کہ برتقدیر صحت قول زید کا اس کا ماخذ کہاں ہے امید کہ مسئلہ کی توضیح مع نقل عبارات فرمائی جائے۔ فقط
الجواب : بیشک ہر مناز عت میں اللہ ورسول ہی کی طرف رجوع لازم ہے۔ مگر ہر ایک کو بلا واسطہ رجوع کی لیاقت کہاں، یہیں دیکھئے آ یہ کریمہ میں صدقات سے زکوٰۃ مراد کہ اسی میں ارشاد ہوتاہے
والعاملین علیہا ۳؎
(صدقات پر کام کرنے والوں پر۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۹ /۶۰)
اور بکر نے اسے قربانی وعقیقہ کو شامل کردیا یہ بھی نہ دیکھا کہ اس کے تو گوشت کی نسبت خود قرآن عظیم میں ارشاد ہے:
فکلوا منہا ۴؎
اس میں سے خودبھی کھاؤ۔
(۴؎ القرآن الکریم ۲۲ /۲۸۔ ۳۶)
اب کہاں رہی صدقات کی وہ تفصیل جو اس آیہ کریمہ میں بالحصر ارشاد ہوئی تھی کہ
انما الصدقات للفقراء ۵؎
(صدقات فقراء کے لئے ہیں الآیۃ۔ ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۹ /۶۰)
یہ بھی نہ سمجھا کہ عوام تک اس کو قربانی کہتے ہیں نہ کہ صدقہ، تو ہر کارتقرب اس میں روا،
لہذا امام زیلعی نے شرح کنز الدقائق میں فرمایا:
لانہ قربۃ کالتصدق ۶؎
(کیونکہ صدقہ کی طرح یہ قربت ہے۔ ت)
(۶؎تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المکتبۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر ۶ /۹)
ہاں ہم نے خاص مسئلہ میں اللہ عزوجل کی طرف رجوع کی تو اس کا ارشاد پایا،
فکوا منہا واطعموا البأس الفقیر ۷؎ ۔
خوداس میں سے کھاؤ اور ضرورتمند فقیر کو کھلاؤ۔ (ت)
(۷؎ القرآن الکریم ۲۲ /۲۸)
اطعام کے لفظ نے بتایا کہ تصدق ہی واجب نہیں اباحت بھی کافی ہے۔ جو محض ایک قربت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف رجوع کی، تو حضور کاارشاد پایا:
کھاؤ اور اٹھا رکھو اور ثواب کا کام کرو۔ اسے ابو داؤد وغیرہ نے حضرت نبشہ الہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
مسجد ومدرسہ دینیہ اہلسنت میں دینا بھی ثواب کا کام مثل اطعام، اور اسی ائتجروا کے حکم میں داخل ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص اس کی جلد اپنے صرف میں لانے کی نیت سے روپوں پیسوں کو بیچے تو بیشک قیمت اس کے حق میں خبیث ہوگی۔
لانہ جزء من التمول کما نصوا علیہ وفی حدیث المستدرک من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۲؎۔
کیونکہ یہ مالداری کاجز ء ہے جیسا کہ انھوں نے نص فرمائی ہے اورمستدرک کی حدیث میں ہے جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی تو اس کی قربانی نہیں ۔ (ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب التفسیر دارالفکربیروت ۲ /۳۹۰)
وہ قیمت نہ مسجد میں دے نہ مدرسہ میں
فان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ۳؎
(اللہ طیب ہے وہ صرف طیب کو قبول فرماتاہے۔ ت) بلکہ فقراء پر تقسیم اور تصدق کرے
کما ھو حکم مال الخبیث
(جیسا کہ ناپاک مال کا حکم ہے۔ ت)
(۳؎مسند امام احمد بن حنبل مسند ابوہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۲۸)
اور اگر نہ اپنے لئے بلکہ مسجد ومدرسہ یا کسی فقیرہی کو دینے کے لئے روپوں پیسوں کو بیچے، خود یہ خواہ مسجد ومدرسہ ووکیل فقیر، بہر صورت جائز ہے۔ اور وہ دام مدرسہ ومسجد میں صرف ہوسکتے ہیں کہ ممنوع تمول ہے نہ کہ
تقرب وقد مرعن التبیین انہ قربۃ کالتصدق ۴؎ و تمام التحقیق فی رسالتنا'' الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ'' واﷲ تعالٰی اعلم۔
تبیین سے گزرا کہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے، مکمل تحقیق ہمارے رسالہ
''الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ''
میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۴؎ تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المکتبۃ الامیریہ بولاق مصر ۶ /۹)
مسئلہ ۲۷۶ تا ۲۷۹ : انجمن اسلامیہ رانا واڑ کاٹھیاوار ۵ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
مجدد مائۃ حاضرہ امام اہلسنت مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی ! بعد تسلیم بعد تکریم وقدمبوسی عرض یہ ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)قربانی کے چمڑے کے پیسے جو معلم کو مدرسہ کی دینی اور دنیاوی تعلیم پر مقرر کئے گئے ہیں آیا ان کو بطور ماہانہ تنخواہ دے سکتے ہیں یانہیں؟
(۲) قربانی کے چمڑے کے پیسے سے غریب اور تونگر کے بچوں کوتعلیم دینے کے لئے مدرسہ کے لئے عمارت بنانے کےکام میں خرچ کرسکتے ہیں یانہیں؟
(۳) قربانی کے چمڑے کی آمد سے عمارت بناکر اس کا سود یا کرایہ کہ آئے۔ اس کو بچوں کی تعلیم میں صرف کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(۴) قربانی کے چمڑے کی آمد سے غریب یا تونگر طلباء کو کتاب دے سکتے ہیں یا نہیں مانند قرآن شریف وغیرہ بینو توجروا
الجواب: اقول وباﷲ التوفیق اغنیاء جو ایام نحر میں قربانی کرتے ہیں کہ ابتداء شرع مطہر نے ان پر واجب فرمائی اس کو کھال میں یہ احکام ہیں:
(۱) وہ اسے باقی رکھ کر اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں ۔ مثلا انکے مشک، ڈول یاکتابوں کی جلدیں بنوالیں
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وادخروا ۱؎
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب جنس لحوم الضحایا آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
(۲) اپنے استعمال کے لئے اس سے وہ چیزیں خرید سکتے ہیں جو باقی رکھ کر استعمال ہوتی ہیں، جیسے برتن، کتابیں،
کھال کا صدقہ کرے یا خودغربال۔ تھیلا، مشکیزہ خوان یا ڈول بنالے یا ایسی چیزی تبادلہ کرے جس کو باقی رکھ کرنفع حاصل کرتا رہے جیسا کہ گزرا۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۴)
(۳) اسے اپنے لئے داموں کونہیں بیچ سکتے، اگر بیچیں تصدق کریں
لانہ سبیل ماحصل بوجہ خبیث
(خبیث طریقہ سے حاصل شدہ کایہی حکم ہے۔ ت)
ردالمحتارمیں ہے:
تصدق بالدراھم فیما لو ابدلہ بہا ۱؎۔
اگر اسے دراہم سے بدلا تو دراہم کو صدقہ کرے۔ (ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۹)
یہاں تک کہ اگر داموں کو بیچے پھر چاہے کہ ان داموں سے کوئی چیز ایسی خریدے جس کی خرید جائز تھی، جیسے برتن وغیرہ، تو اب اس کا اختیار نہیں وہ دام تصدق ہی کرنے ہوں گے ،
طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
قولہ بما ینتفع بعینہ ظاہرہ انہ لایجوز بیعہ بدراھم ثم یشتری بہا ماذکر ۲؎۔
قولہ وہ چیزجس کے عین سے نفع حاصل کرے اس کا ظاہر یہ ہے کہ کھال کو دراہم کے عوض فروخت کرکے پھر دراہم کے ساتھ کوئی چیز خریدناجن کو ذکر کیا۔ جائز نہیں۔ (ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاضحیۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۲)
ردالمحتار میں ہے :
ویفیدہ مانذکرہ عن البدائع ۳؎۔
اس کا فائدہ دے گا جو ہم بدائع کے حوالہ سے ذکر کرینگے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۱)
(۴)یوں ہی اپنے لئے کسی ایسی چیز سے بیچیں جو خرچ ہو کر کام میں آتی ہے۔ جیسے کھانے پینے کی چیزیں، یہ ناجائز ہے۔ اور ان کی قیمت تصدق کرنی ہوگی،
درمختارمیں بعد عبارت مذکورہ ہے :
لابمستھلک کخل ولحم ونحوہ کدراھم فان بیع اللحم اوالجلدبہ ای بمستھلک اوبدراھم تصدق بثمنہ ۴؎۔
ہلاک ہونے والی چیز کے عوض نہیں جیسے سرکہ گوشت وغیرہ مثلا دراہم، تو اگرگوشت یا کھال کو ایسی ہلاک ہونے والی چیز یا دراہم کے عوض فروخت کیا تو اس کی قیمت صدقہ کرے۔ (ت)