فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
98 - 126
مسئلہ ۲۷۰: از موضع میونڈی بزرگ ضلع بریلی مسئولہ سید امیر عالم حسین صاحب ۲۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قیمت جلود قربانی مسجد میں لگانا درست ہے یانہیں؟ بعض کہتے ہیں کہ فرش وچھت میں لگانا درست نہیں، یعنی جس جگہ سجدہ کیا جائے وہ جگہ قیمت جلود قربانی سے نہ بنائی جائے کہ وہ قیمت صدقہ ہے اس جگہ سجدہ کرنا حرام ہے۔ ہاں اس قیمت سے حدود دیوار مسجد یا غسلخانہ وغیرہ بنایا جائے تو درست ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ کنواں وغیرہ بنوادیا جائے، تو کچھ حرج نہیں خواہ مسجد میں ہو یا اور کہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ کنواں بھی نہ بنایا جائے، کہ وہ قیمت صدقات سے ہے کہ اس کے پانی سے وضو جائز نہ ہوگا، اور نہ اس کا پانی پینے کے قابل ہوگا، تو جناب قبلہ سے امیدوار ہیں کہ اس کا ثبوت غلامان کو کیوں نہ دیا جائے کہ قیمت جلود قربانی کس کام میں صرف کی جائے آیا مسجد یا کنویں وغیرہ میں لگانا درست ہے یانہیں؟
الجواب :اگر قربانی کی کھال مسجد میں دے دی تو متولی کو اختیار ہے کہ اسے مسجد کے جس صرف میں چاہے صرف کرے،ا ور اگر مسجد میں دینے کی نیت سے خود اس کے دام کئے تو وہ دام بھی مسجد کے ہر کام میں صرف ہوسکتے ہیں، ہاں اگر اپنے خرچ لانے کی بہ نیت سے کھال بیچے تو یہ حرام دام خبیث ہیں، مسجد میں نہ دے، نہ مسجد کے کسی کام میں صرف ہوں، بلکہ فقیر مسلمان پرصدقہ کئے جائیں،
مسئلہ ۲۷۱ : ا ز جز میرہ ضلع فرید پور ڈاک خانہ خاص مرسلہ مولوی مفیض الدین صاحب قاضی ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
ماقولکم ونفع المسلمین بعلو مکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں کہ تعمیر مسجد ازچرم جائز ست یا نہ وتصدق بچرم اضحیہ از قبیل تطوعات ست یا از واجبات ، ودر ادائے صدقہ واجبہ تملیک مشروط ست ، ھکذا درادائے صدقہ نافلہ تملیک، مشروط است یانہ؟
آپ کا کیا ارشاد ہے اور اللہ تعالٰی آپ کے علوم سے مسلمانوں کو نفع دے، اس مسئلہ میں کہ قربانی کے چرم سے مسجد کی تعمیر جائز ہے یانہیں؟ قربانی کے چرم کا صدقہ واجب ہے یانفل؟ اور صدقہ واجبہ کی ادائیگی میں تملیک شرط ہے کیا نفلی صدقہ کی ادائیگی میں بھی تملیک شرط ہے یانہیں؟ (ت)
الجواب : صدقہ باطلاق عام درگرد تملیک نیست کما نطقت بہ الاحادیث الکثیرۃ وحققناہ فی فتاوٰنا منہا قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مااطعمت زوجتک فہو لک صدقۃ، وماا طعمت ولدک فہو لک صدقۃ۔ وما اطعمت خادمک فہو لک صدقۃ ۱؎۔
مطلق صدقہ تملیک کا پابند نہیں ہے جیسا کہ کثیر احادیث اس پر ناطق ہیں اور اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے ایک حدیث یہ ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ واسلام کا ارشاد ہے : جو تو نے اپنی بیوی کو کھلایا صدقہ ہے اور جو تو نے اپنی اولادکو کھلایا وہ تیرا صدقہ ہے اور جو تو نے اپنے خادم کو کھلایا ہے وہ تیراصدقہ ہے۔
بلکہ کفارہ صوم وظہار ویمین خود واجب ست، وشک نیست کہ از قسم صدقہ است، ولہذاغنی را روا نیست، معہذا تملیک لامز نکردہ اند۔ اباحت دارد کما نصوا علیہ قاطبۃ برچرم اضحیہ راسا ہیچ وظیفہ از شرع معین نیست، روا ست کہ باستعمال خود دارد، یابغنی ہدیہ کند پس اوبمعنی مطالبہ شرعیہ اصلا صدقہ نیست نہ واجبہ، نہ نافلہ، نہ عامہ، نہ خاصہ، پس شرط تملیک فقیر زیادت ست بر شرع است آری اگر بفقیر بخشید صدقہ خاصہ نافلہ شود وایں معنی موجب آں نبود کہ جزیں کار آں جا ہیچ روا نیست نہ بینی کہ زرے کہ بہ بنائے مسجد یا تکفین میت صرف کنی، اگر بفقیرے دہی، نیز صدقہ خاصہ نافلہ بود، وایں معنی منع نہ کندازصرف زر در کارخودیا درکارخیر، بلکہ آنجا خود مطالبہ شرعیہ بود کہ بنائے مسجد بمحل حاجت، وتکفین میت، ہر دو واجب ست، وبصرف اضحیہ یا چرم او بکار دگر اصلا مطالبہ نیست ناگویند کہ مطلوب شرع صدقہ اوہست ومصرف صدقہ جز محل تملیک نباشد بہ صدقہ اش زنہار از شرع مطالبہ نیست، بلکہ ایں جاسہ کار فرمودہ اند کلو اوادخروا وائتجروا خورید، وبرائے حاجت بردارید، وبکار ثواب صرف کنید، رواہ ابو داؤد ۱ عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، ایں سوم خود جمیع میراث ومثوبات راشامل ست، تعمیر مسجدنیز از ان ست، پس بالیقین رواست واللہ تعالٰی اعلم۔
بلکہ کفارہ صوم، ظہار اور قسم، واجب ہے اور شک نہں کہ از قسم صدقہ ہے اسی لئے غنی کو کھانا جائز نہیں اس کے باوجود تملیک لازمی نہیں ہے بطور اباحت دیناجائز ہے جیساکہ تمام فقہاء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ چرم قربانی پر تو کوئی شرعی حکم معین نہیں ہے خود استعمال کرناجائزہے یا کسی غنی کو ہدیہ کردے تو شرعی مطالبہ کےطور پر ہر گز صدقہ نہیں ہے۔ نہ واجب، نہ ہی نفلی، اورنہ عام نہ خاص پس اس میں تملیک فقیر کی شرط کرنا شرع پر زیادتی ہے۔ ہاں اگر فقیر کو دے گا تو خاص نفلی صدقہ ہوگا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ فقیر کے بغیر کسی کے لئے رواہ نہیں، دیکھئے جو زر آپ نے مسجد کی تعمیر پر کیا یا میت کے کفن پر خرچ کیا اگر فقیر کو دیتا تو وہ بھی خاص نفلی صدقہ ہوجاتا جبکہ وہ اس چیز کو مانع نہیں کہ آپ خود اپنے صرف میں یا کسی بھی کار خیر میں صرف کریں بلکہ مسجدکی تعمیر ضروری ہو یا کفن دینے کی حاجت ہو، تو شرعی مطالبہ ہے اور یہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں حالانکہ چرم قربانی کو کسی کام پر خرچ کرنے کا شرعا کوئی مطالبہ نہیں ہے تاکہ یہ کہا جائے کہ اس کو صدقہ کرنا شرعا مطلوب ہے اور اس صدقہ کا مصرف تملیک کے بغیر نہیں ہوسکتا جبکہ شرع نے اس کو صرف کرنے کا کوئی بھی حکم نہیں دیا، ابوداؤد نے حضرت نبشہ الہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : کھاؤ، ذخیرہ کرو اور اجر کماؤ، یہ تین کام کرنے کا حکم فرمایا جبکہ تیسرا حکم تمام نیکیوں اور ثواب والے مقامات کو شامل ہے اور مسجد کی تعمیر بھی نیکی کا کام ہے۔ لہذا اس کا مصرف تعمیر مسجد کے لئے بالیقین جائزہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
مسئلہ ۲۷۲: از ملا محمد اسمعیل ابن محمد رمضان در مسجد رنگریزاں پالی تاریخ ۱۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہم لوگ سب محلہ قربانی کی کھالیں ہمارے محلہ کی مسجد میں دیتے ہیں تاکہ مسجد کی ڈول، رسی وچراغ وبتی میں امداد پہنچے، اوراگر سوائے ہماری مسجد کے اور جگہ ان کھالوں کو صرف کردے، تو اس کو ہم محلہ سے خار ج کردیتے ہیں، عندالشرع ایسا کرنا کس حکم میں داخل ہے؟
الجواب: مسجد میں چرم قربانی صرف کردینا جائز ہے مگر واجب نہیں، دوسرا اگر اور کسی جائز صرف میں خرچ کرے اس پر کوئی مواخذہ نہیں، اس بناء پر اسے محلہ سے خارج کردینا ظلم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳ و ۲۷۴: از انبیٹھ تحصیل نکوڑ ضلع سہارنپور مسئولہ سید مظفر صاحب ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
علمائے ذی شان مسئلہ محررہ ذیل میں کیا ارشاد فرماتے ہیں :
(۱) زید پوست قربانی بعینہٖ مسجد میں دینے کو اور اس کی ضروریات میں خرچ کرنے کو خواہ تنخواہ مؤذن ہو یادیگر حوائج مسجد جائز کہتاہے۔ اور نیز قربانی کرنے والے کو اپنے استعمال میں لانا ، خواہ ڈول بناکر یا دیگر کسی طریقے سے شے معتمد اپنے لئے تیار کرانے کو شرعاجو جائز کہا گیا، تو اسی ڈول کو جو اس نے استعمال کےلئے تیار کرایا تھا مسجد میں اگر دے دے تو زید مذکور اس کو جائز رکھتا ہے اور عمرو ان دونوں امر کو ناجائز کہتاہے۔ اور استدلال ہر دو کا کتب فقہ مثل ہدایہ وشامی کی عبارت سے جیساکہ عبارت ہدایہ مطبوعہ اصح المطابع صفحہ ۴۴۸ میں ہے:
ویتصدق بجلد ھا لانہ جزء منہا اویعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت کالنطع والجراب والغربال ونحوھا ۱؎ الخ۔
قربانی کی کھال کو صدقہ کیا جائے کیونکہ یہ قربانی کا جز ہے یا اس کوخود کام میں لاکرگھر میں خوان یا تھیلا یا چھلنی وغیرہ بنالے الخ۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸)
زید کہتاہے جبکہ پوست قربانی کی اشیاء قربانی کرنے والا اپنی ذات کے لئے تیار کراکر استعمال کرسکتاہے تو وہ ان کو مسجد میں دے دے تو کیاحرج ہے۔ عمرو کہتاہے کہ صدقہ طفر کے معنی تملیک بلا عوض ہے تو مسجد میں پوست قربانی دینا جائز نہ ہوگا، کیونکہ مسجد تملیک کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی، ایسے ہی شارع علیہ السلام نے پوست قربانی کی اشیاء تیار شدہ کو اپنے نفس کے لئے اپنے گھر میں استعمال کرنے کے لئے حکم فرمایانہ کہ مسجد میں اسی شیئ کو اپنی طر ف سے دے دینے کو۔
(۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی گائے وغیرہ کے سینگ کے اوپر کا حصہ نیچے تک ٹوٹا ہو تو ہدایہ میں تو مطلقا مکسورۃ القرن کوجائز لکھاہے۔ اور شامی میں تفصیل اس طرح کہ اگر کسر مخ تک پہنچی تو ناجائز ہے ونیز مشاش یعنی رؤس عظام تک اگر کسر پہنچے تو ناجائز، تو جس جانور کا اوپر والاحصہ نیچے تک اکھڑ گیا وہ جائز ہوگا یا ناجائز ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱)زید کا قول صحیح ہے ۔ بیشک اسے امور بروخیر میں صرف کرسکتے ہیں، اور اپنے لئے ایسی چیز جو باقی رکھ کر استعمال کی جائے جیسے ڈول۔ مشک ، کتاب کی جلد وغیرہ بناسکتے ہیں اور اسے بدرجہ اولٰی مسجد میں دے سکتے ہیں، تصدق جس میں تملیک فقیر ضرور ہے۔ صدقات واجبہ مثل زکوٰۃ میں ہے ہر صدقہ واجبہ میں بھی نہیں، جیسے کفارہ صیام وظہار ویمین کہ ان کے طعام میں تملیک فقیر کی حاجت نہیں اباحت بھی کافی ہے ،
کما فی فتح القدیر ۱؎وغیرہ عامۃ الکتب
(فتح القدیر وغیرہ عام کتب میں جیساکہ موجود ہے۔ ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ باب من یجوز دفع الصدق الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۰۹)
چرم قربانی کا تصدق اصلا واجب نہیں، ایک صدقہ نافلہ ہے۔ اس میں اشتراط تملیک کہاں سے آیا، بلکہ ہر قربت جائز ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کلوا وادخروا وائتجروا ۲؎۔
کھاو اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کا کام کرو۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتا ب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
کیا مسجد میں دینا ثواب کاکام نہیں امام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں :
لانہ قربۃ کالتصدق ۳؎
(کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ ت)
(۳؎ تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶ /۹)
کیا مسجد میں دینا قربت نہیں۔ اور عجیب منطق یہ ہے کہ مسجد میں دینا تو جائز نہیں کہ تملیک فقیر نہ ہوگی، اور غنی کا اپنے صرف میں رکھنا جائزاس میں تملیک فقیر ہوگئی
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)قرن اوپرہی کے حصے کو کہتے ہیں۔ جو ظاہر ہوتاہے وہ اگر کل ٹوٹ گیا حرج نہیں ولہذا ہدایہ میں مکسورۃ القرن کو جائز فرمایا، ہاں اگر اند رسے اس کی جڑ نکل آئی کہ سر میں جگہ خالی ہوگئی، توناجائز ہے۔ ردالمحتار کایہی مفاد ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔