Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
97 - 126
مسئلہ ۲۵۷: محمد عبدالحافظ صاحب، میمن سنگھی مدرس مدرسہ یاکد سرپوست لکھیا ضلوع میمن سنکھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی جلد سے مسجد بنانا اور مسجد کے چونا لگا اور مرمت کرنا اور چٹائی وفرش خریدنا جائز ہے یانہیں؟ بدلائل کتب صافیہ و عبارات صحیحہ سے بیان فرمایا جائے۔ فقط
الجواب : جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کلو اوادخرو وائتجروا ۲؎۔رواہ ابوداؤد عن نبشۃ الہذلی رضی ﷲ تعالٰی عنہ .
کھاؤ اور اٹھارکھو اور ثواب کے کاموں میں خرچ کرو (ا سے ابوداؤد نے نبشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد     کتاب الضحایا   باب حبس لحوم الاضاحی     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۳)
تبیین الحقائق وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے :
لو باعہابالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۱؎۔
اگر دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کا صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ (ت)
 (۱؎تبیین الحقائق   کتاب الاضحیۃ     المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر    ۶ /۹)
ثابت ہو اکہ خاص تصدق ضرور نہیں بلکہ ہر وقت ۔ ہاں اس سے اپنا تمول ممنوع ہے کہ اپنے خرچ کے لئے روپوں یا کسی ایسی چیز سے بدلے جوخرچ ہوجاتی ہے۔
بنایہ شرح ہدایہ للامام العینی میں ہے :
المعنٰی فی عدم الشتراہ مالاینتفع بہ الا بعد استہلاکہ انہ تصرف علی قصد التمول وھو قدخرج عن جہۃ التمول ۲؎۔
کھال کے بدلے ایسی چیز نہ خریدناجس کو ہلاک کرنے کے بعد انتفاع حاصل کی ممانعت کا مطلب ما حاصل کرنے کی غرض سے تصرف مراد ہے جبکہ اس صورت میں تمول کی جہت خارج ہوگیا۔ (ت)
 (۲؎ البنایۃ فی شرح الہدایہ  کتاب الاضحیۃ  المکتبۃ الامدایۃ مکہ المکرمہ    ۴ /۱۹۰)
ظاہر ہے کہ مسجد میں صرف کرنا تمول سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا بلکہ تصرف (عہ) باطل ہے۔ کوئی ذی شعور ایسا نہیں کہہ سکتا نہ کوئی ذی علم۔
عہ:  فی الاصل ھکذا لعلہ من قلم الناسخ والصحیح
بلکہ اس کو تمول کہنا تصرف باطل ہے۔ ۱۲ عبدالمنان الاعظمی
ان مدعیوں پر فرض ہے کہ اولا شرح مطہر سے اس کا ثبوت دیں کہ جس مسجد کی مرمت پرست قربانی سے ہوئی ہو اس میں نماز ناجائز ہے۔ جب وہ ثبوت دینے کاا رادہ کریں گے ان پر کھل جائے گا کہ ان کی دونوں باتیں محض بے اصل تھیں وباطل تھیں ان پر توبہ فرض ہے کہ شرع مطہر پر افتراء بہت سخت چیز ہے۔ اللہ تعالٰی ہمارے بھائیوں کو توفیق خیر دے آمین۔ واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۴: از رنگون مگول اسٹریٹ یونانی ڈسپنسری (یونانی شفا خانہ مرسلہ حکیم محمد ابراہیم راندیری ۲۷ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

اس بستی میں دستور ہےکہ قربانی کی کھالیں مسجد کے پیش امام کو دے دیتے ہیں اگر نہ دی جائے تو جھگڑا بھی ہوتاہے اور پیش امام صاحب بھی یوں فرماتے ہیں کہ قربانی کی کھالوں کامیں حقدار ہوں، ضرور مجھے دی جائیں، اور اہل جماعت یوں کہتے ہیں کہ پیش امام صاحب کو قربانی کی کھالیں تبرعا دینا جائز ہیں نہ کہ جبرا۔

جب تبرعادینا جائز ہے تو کچھ حصہ قیمت چرم باقی کا امام صاحب کو دینگے، اور کچھ حصہ دیگر مساکین کو دیا جائے تو زیادہ افضل ہے۔ پس اختلاف طرفین کی جانب سے ایک مولوی صاحب منصف قرار دیئے،منصف مولوی صاحب نے یوں حکم دیا کہ قربانی کی کھال سب کی سب مسجد کے پیش امام صاحب کو دے دو اور کسی دیگر مساکین کو نہ دو، اس واسطے کہ وہ لوگ تمھاری حیات وممات کے حقدار نہیں، اور پیش امام صاحب پر جبرالینے سے بھی گناہ نہیں اور گناہ واقع ہو تو میں یہ اقرار کرتاہوں کہ حشر کے دن اس گناہ کی جزا سزا میں نے لی، تم لوگ بے خوف قربانی کے سب چمڑے پیش امام صاحب کو دے دو۔
حاضرین محفل میں سے کسی صاحب نے ان مولوی صاحب سے یہ عرض کیا کہ میں نے ایک گائے کی قربانی کی ، اور دو مسکینوں نے ایک ساتھ چمڑا مانگا، ان کو دیا جائے گا یانہیں؟

مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ایک چمڑے کی قیمت یا چمڑہ دو مسکینوں کو دینا مکروہ ومنع ہے۔ اس نے پھر کہا دوسرا مسکین بھی تو سائل ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ دوسرے سائل کا سوال اس کی دُبر میں جانے دو۔
اب سوال یہ ہے کہ :
 (۱) اس طرح جبرا قربانی کی کھال پیش امام کو لینا جائز ہے یانہیں؟

(۲)اگر جبرا لے لیا تو اس پیش امام کے حق میں حکم شرعی کیا ہے؟

(۳) اور اسی طرح جو شخص جبرا لینے والے کی مدد کرے، اس مددگار کے حق میں کیاحکم ہے؟

(۴) اگر کوئی شخص اس خیال سےکہ امام صاحب کو تنخواہ ملتی ہے۔ قربانی کی کھال نہ دے تو اس شخص پر امام صاحب کو حاضرین مجلس کے ساتھ غضب خدا پڑنے کی بدعا کرنا جائز ہے یانہیں؟

(۵) اس منصف مولوی صاحب کے حق میں جس نے حشر کے دن مواخذہ خدا وندی کی ضمانت لے لی ہے۔ کیاحکم ہے، نیز منصف مولوی صاحب ایک مسجد کے پیش امام ہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیساہے؟

(۶)جو شخص حق کو باطل کردے اس کے حق میں حکم شرعی کیاہے؟

(۷)ایک کھال کئی مسکینوں کو صدقہ دینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب : اس شخص نے جھوٹ کہا کہ قربانی کی کھالیں اس کا حق ہے۔ شریعت مطہرہ نے کھالوں میں اتنے اختیار دئے ہیں، وہ صورت کرے کہ بعینہٖ ان کو باقی رکھ کر استعمال میں لائی جائیں، مثلا مشک یا ڈول یا کتابوں کی جلدیں بنوالے، یا کسی ایسی ہی چیز سے جو باقی رکھی جاتی ہے بدل لے۔ مثلا ان کے بدلے برتن یا کتاب خریدلے۔ یا بعینہٖ کھال اپنے عزیزوں، قریبوں خواہ کسی غنی کو دے دے، یا مسجد یامدرسہ دینی میں دے دی جائے، یا اسے تقریب الی اللہ کےلئے بیچ کر اس کے دام فقراء مساکین طلبہ وغیرہم مصارف خیرکو دئے جائیں، خواہ ایک کو سو کو، یہ جو اس شخص نے کہا کہ ایک چمڑے کی قیمت یا ایک چمڑا دو کو دینا منع ہے۔محض جھوٹ کہا، اور شریعت مطہرہ پر افترا کیا، اور اس کا یہ کہنا کہ پیش امام کو جبرا لینے سے بھی گناہ نہیں، شریعت پر اس کا دوسرا افتراء اورظلم کوجائز کرناہے۔ اور اس پر وہ سخت جرأت کہ اس پر جو سزا ہو وہ اپنے ذمہ لی، عذاب الٰہی کو ہلکا سمجھنا اور معاذ اللہ کلمہ کفر ہے۔ اس کی امامت جائز نہیں ، اور پیش امام اگرکھالیں لینے پر جبر کرے اس سے باز نہ رہے تو یہ بھی فاسق معلن ہے۔ اور اس کا امام بنانا گناہ اور اس جبراًلینے میں جو اس کی مدد کرے وہ سخت شدید گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ حدیث میں ہے :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام ۱؎۔
جو دانستہ ظالم کی مدد کوچلا وہ اسلام سے نکل گیا۔ (ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر    حدیث ۶۱۹  المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱ /۲۲۷)
اور جو شخص امام کو کھال نہیں دیتے خواہ وہ تنخواہ پاتاہویانہ پاتا ہو ، اس میں ان پر کوئی شرعی الزام نہیں کہ امام کو دینا شرع نے واجب نہ کیا تھا، نہ کھال امام کاحق تھی کہ اس کی حق تلفی ہوتی، اس پر جوامام نے اس مسلمان کو وہ سخت بدعا دی کہ ''وہ خدہی مستحق غضب ہوا، العیاذ باللہ تعالٰی کہ اس نے مسلمان کو ناحق ایذا دی، اورنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ ۲؎۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ عزوجل کو ایذا دی۔ (ت)
(۲؎ المعجم الاوسط   حدیث ۳۶۳۲  مکتبہ المعارف ریاض   ۴ /۳۷۳)
مسئلہ ۲۶۵ تا ۲۶۹: از سنھبل محلہ رحمن سرائے مرسلہ احمد خاں صاحب     ۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کے جانور کی کھال دام صاحب قربانی اپنے مصرف میں لائے یانہیں؟ اورقربانی کا گوشت کس طرح تقسیم کرے؟ اور قربانی کے چمڑے کو بحق پیش امام دے یانہیں؟ اور مسجد میں صرف کرے یا مدرسہ علم القرآن وحدیث میں؟ اور سری قربانی کی حجام اپنا حق سمجھ کرلے تو دے یانہیں؟
الجواب : قربانی کی کھال کے دام صاحب قربانی اپنے صرف میں نہیں لاسکتا۔ حدیث میں ہے :
من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۱؎۔
جو اپنی قربانی کی کھال بیچے اس کی قربانی نہ ہوئی۔
 (۱؂المستدرک  کتاب التفسیر   دارالفکر بیروت   ۲/ ۳۹۰)
مستحب یہ ہےکہ گوشت کے تین حصے کرے۔ ایک حصہ اپنا، ایک احباب کا ایک مساکین کا، پیش امام کا اس میں کوئی حق نہیں، دو تو اختیار ہے ۔ لیکن اگر وہ اس کا نوکر ہے تو تنخواہ میں نہیں دے سکتا، مسجد اور مدرسہ دینیہ دونوں میں صرف کرنا جائز۔ حجام کا اس میں کوئی حق نہیں، دینے کا اختیار ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter