| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
مسئلہ ۲۴۹ و ۲۵۰: مسئولہ حافظ محمد ایاز صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان ۲۵ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ چرم قربانی امام یا مؤذن مسجد کو دینا یا اس کی قیمت فروخت کرکے دینا جائز ہے یانہیں۔ اگر پیش امام تنخواہ پاتے ہیں تو کیا حکم ہے۔ اور جن کی تنخواہ بھی مقرر نہیں صرف عید کوکچھ بطور ہدیہ چندہ کرکے دے دیا، عیدالاضحٰی کو قربانی کے چرم وغیرہ دے دئے یا محلہ میں نکاح خوانی لیں، اسی پر ان کی گزراوقات ہو۔ تو ایسوں کے واسطے چرم قربانی یا اس کی قیمت دینا کیسا ہے اور کیاحکم ہے ؟بینو ا توجروا۔ کانجی ہاؤس کے نیلام کی راس عدالت سے کسی شخص کے قرضہ کی بابت کے نیلام کی راس قربانی کے واسطے علیحدہ علیحدہ کیا حکم رکھتی ہے؟
الجواب (۱) امام ومؤذن غیر تنخواہ دار کو بطور اعانت چرم قربانی یا اس کی قیمت دینے میں حرج نہیں، اورتنخواہ دار کو بھی جبکہ تنخواہ میں نہ دیں، یعنی زید نے امام کو نوکر رکھا اور اس کی تنخواہ اس کے ذمہ ہے۔ یہ قربانی کی کھال بیچ کر اسے ادا کرے تو اپنا روپیہ بچاتا اور اپنا مطالبہ اس سے ادا کرتا ہے۔ اور یہ تمول ہے اور قربانی سے تمول جائز نہیں ۔ ہاں اگر اہل محلہ نے امام ومؤذن کو مسجد کا نوکر رکھا جس کی تنخواہ ذمہ مسجد ہے تو چرم قربانی یا اس کی قیمت مسجد میں دے کر اس سے تنخواہ ادا کرسکتے ہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) کانجی ہاؤس کے نیلام کی راس خریدنا جائز نہیں، نہ اس کی قربانی ہوسکے کہ وہ فضولی کی بیع ہے۔ یعنی غیر مالک کی بے اجازت مالک، اور ایسی بیع اجازت مالک پر موقوف رہتی ہے۔ اور بیع موقوف قبل اجازت مفید ملک نہیں ہوتی۔ اور ملک غیر کی قربانی نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح کچہری میں نیلام جبکہ قیمت اس مطالبہ سے زائد نہ دی گئی ہو، جس میں وہ نیلام ہوا، وہ نیلام بھی بے رضائے مالک ہے۔ ہاں مثلا اگر سو روپے کا مطالبہ تھا اور ایک سو ایک کو نیلام ہوا، سو روپے ڈگری دار کو دئے گئے اور باقی روپیہ اصل مالک کو، اور وہ اس نے لے لیا، تو یہ اس بیع کی اجازت ہوگئی، اب خریدار اس شیئ کا مالک ہوجائے گا۔ اور اس کی قربانی صحیح ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱ تا ۲۵۴: از موضع سٹیلہ ڈاکخانہ موانہ کلاں ضلع میرٹھ مرسلہ مجید اللہ خاں ۲۹ صفر۱۳۳۴ھ حامدًا ومصلیاً ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین مسائل ہذا میں: (۱) کھال قربانی کی اگر ہم لوگ بلارعایت کسی استحقاق خدا کے واسطے خیال کرکے اگر اپنے امام مسجد کو دیں تو جائز ہوگا یانہیں؟ (۲) آج ہمارا امام غریب ہے کل کو خداکے فضل سے صاحب نصاب ہوگیا تو کھال قربانی اس صورت میں بھی دینا جائزہوگایانہیں؟ (۳) سیدصاحب کو کھال قربانی اور مد زکوٰۃ سے مسلوک ہونا جائز ہوگایانہیں؟ (۴) صاحب قربانی اپنی قربانی کی کھال کو اپنے صرف میں لاسکتاہے تو کس کس خرچ میں؟ ڈول، مصلٰی ، مشک وغیرہ کے علاوہ تاڑی سائی وغیرہ بھی بنواسکتا ہے یانہیں؟ فیض اللہ خاں ، حبیب خاں، جھدو خاں، کالے خاں پسر جنگ بازخان
الجواب : واجب اضحیہ اراقۃ دم سے ادا ہوجاتاہے۔ اس کے بعد لحم وجلد اس کی ملک ہیں، اس میں ہر تصرف مالکانہ کرسکتا ہے صرف تمول ممنوع ہے۔ تو کھال بیعینہ، خواہ اس کا ڈول، مشک، کتاب کی جلدوغیرہ بنواکر اپنے صرف میں لاسکتاہے ۔ سید کو بھی دے سکتا ہے ہر غنی کو دے سکتا ہے تو امام نے کیا قصور کیا ہے۔ عام ازیں کہ صاحب نصاب ہو یا نہو، ہاں اس داموں سے بیچنا اس غرض سے کہ اپنے دام اپنے یا کسی غنی کے صرف میں لائے جائیں، جائز نہیں، وہ غنی ہو یا غیر، یونہی اگر امام اس کا نوکر ہے اور اس کی تنخواہ کے بدلے کھال دی تو ناجائز ہے کہ یہ تمول ہو ایعنی کھال دے کر مال بچانا، اور اگر کھال اس لئے بیچی کہ اس کے دام تصدق کرے تو امام غیر صاحب نصاب کو دے سکتا۔
وکل ذٰلک مفصل فی فتاوٰنا وفی رسالتنا الصافیۃ الموفیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ۔
یہ تمام ہمارے فتاوٰی اورہمارے رسالہ۔ ''الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ'' میں مفصل بیان ہوچکاہے۔ (ت)
بنی ہاشم کو زکوٰۃ دینا جائزنہیں، نہ انھیں لینا جائز۔ نہ ان کے دئیے ادا ہو، یہی ظاہر الرویۃ ہے۔ اور یہی صحیح ہے
کما بیناہ فی رسالتنا ''الزھر الباسم فی حرمۃ الزکوٰۃ علی بنی ہاشم
(جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے رسالہ ''الزھر البالہم فی حرمۃ الزکوٰۃ علی بنی ہاشم'' میں بیان کیاہے۔ ت) امامت کے معاوضۃ میں بھی چرم قربانی دینا ایک صورت میں جائز ہے۔ وہ یہ کہ متولیان مسجد یا اہل محلہ نے اسی طرح اسے مقر ر کیا کہ تم امامت کرو قربانی کی کھالوں سے تمھاری خدمت کی جائے گی، یہ صورت بھی صورت تمول نہیں، چرم قربانی جس طرح مذکور ہوا اپنے مصرف میں مطلقا لاسکتاہے۔ رنگوانے کی شرط محض رنگ آمیزی حماقت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵: مرسلہ سید محمد حسن علی قاضی، مہدیوا علاقہ اندور محلہ جمال پورہ بروز یک شنبہ تاریخ ۲۲ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کیسے شخص کو دینادرست ہے اور جائز ہے اور گر قربانی کی کھال صاحب نصاب کو دے دیں تو قربانی اس کی جائز ہوئی یانہیں؟ اگرقربانی کی کھال صاحب نصاب کو کہ ''وہ پیش امام بھی مسجد کا ہے۔ دے دی، تو قربانی انس کی درست اور جائز ہوئی یانہیں؟ اور اگر قربانی کی کھال مسجد کے پیش امام کا حق سمجھ کر اس کو دے دی جائے، یا وہ پیش امام ان کھالوں کو اپنا حق سمجھ کر بزور لے تو ان کھالوں کا اس شخص کو دینا درست اور جائز ہے یانہیں؟ اور قربانی ان لوگوں کی درست ہے اور جائز یانہیں؟ اگر قربانی کی کھالیں کسی مسجدکی تعمیر کےکام میں لائیں یا ان کو فروخت کرکے مسجد کے جانماز بنوالیں، یا مسجد کے اور کام میں لائیں، مثلا مسجد کا سقاد ابنوالیں، یا مسجد میں اس کی قیمت کا پانی ڈلوائیں تاکہ سب نمازی وضو کریں، یا مسجد میں آفتابے بنوائے جائیں تاکہ نمازی وضو کریں، ان سب صورتوں میں قربانی درست اور جائز ہوئی یانہیں؟ بحوالہ حدیث وآیات کتب معتبرہ تحریر فرمائیں اجر ملے گا دن قیامت کے نزدیک اللہ جل شانہ، کے۔
الجواب : قربانی راقۃ دم لوجہ اللہ کانام ہے۔ واجب اس قدر سے اداہوجاتاہے۔ پھر اس کے گوشت پوست کے لئے تین صورتیں ارشاد ہوئیں ہیں، بعینہٖ اپنے صرف میں لایاجائے، یا وقت حاجت کے لئے ذخیرہ رکھا جائے، یا اس سے ثواب کا کام کیا جائے۔
کلوا وادخروا وائتجروا ۱؎۔
کھاؤ اور اٹھا رکھواور ہر وہ کام کرو جس سے ثواب ہو۔ (ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس ۲ /۳۳)
ثواب میں وہ مسجد کے سب کام داخل ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے اجزائے اضحیہ سے صرف تمول ممنوع ہےکہ اس کے دام کرکے اپنے کام میں لائے جائیں۔
من باع جلد اضحیۃ فلا اضحیۃ لہ ۲؎۔
جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی اس کی قربانی نہ ہوئی۔ (ت)
(۲؎المستدرک للحاکم کتاب التفسیر دارالفکربیروت ۲ /۳۹۰)
کھال کی جس طرح جانماز یا کتابوں کی جلدیں یا مشکیزہ اپنے لئے بنواسکتاہے یونہی کسی غنی کو بھی ہدیہ دے سکتاہے اگر چہ وہ غنی امام ہو، جبکہ اس کی تنخواہ میں نہ دی جائے، اور اگر تنخواہ میں دے تو امام اگر اس کا نوکر ہےجس کی تنخواہ اسے اپنے مال سے دینی ہوتی ہے تو دینا ناجائز۔ کہ یہ وہی تمول ہوا جو ممنوع ہے۔ اور اگر وہ مسجد کانوکر ہےجس کی تنخواہ مسجد دیتی ہے تو جائز نہیں کہ یہ مسجد میں دے دے، او رمسجد کی طرف سے امام کی تنخواہ میں دی جائے۔ قربانی کی کھالوں میں امام کا کوئی حق نہیں اور اسے جبرا لینا حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی لا تاکلوا املوالکم بینکم بالباطل ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقہ سے نہ کھاؤ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۲۹)
مسئلہ ۲۵۶: از کیلا کھیڑا ڈاکخانہ بازپور ضلع نینی تال مرسلہ عبدالمجید صاحب ۱۱ ذی قعدہ ۱۳۳۵ھ اس علاقہ میں یہ رسم ہے کہ بقر عید کی قربانی کی کھال مسجد کے پیش امام کو دیتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں؟ الجواب : قربانی کی کھال امام مسجد کو دیناجائزہے اگر وہ فقیر ہو، اوربطور صدقہ دیں، یا غنی ہو اور بطور ہدیہ دیں، لیکن اگر اس کی اُجرت اور تنخواہ میں دیں تو اس کی دو صورتیں ہیںِ اگر وہ اپنا نوکر ہے تو اس کی تنخواہ میں دینا جائزنہیں۔ اور اگر وہ مسجد کا نوکر ہے اور کھال مہتمم مسجد کو مسجد کے لئے دے دی اس نے مسجد کی طرف امام کی تنخواہ میں دے دی تو اس میں کچھ حرج نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔