Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
95 - 126
مسئلہ ۲۴۵: ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھالیں تعمیر دیوارمسجد کے لئے دے دینا جائز ہے یانہیں؟ اور اگر کھالیں بیچ کر دام کرلئے ہوں تو یہ دام صرف مسجد میں دے دینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر کھالیں صرف مسجد کے لئے پہلے سے دے دی جائیں یا ان کا داموں کے عوض بیچنا اپنے صرف میں لانے کے لئے نہ ہو بلکہ امور قربت وثواب کی غرض سے ہوں تو ان داموں کا مسجد کے صرف کے لئے دے دینا، یہ دونوں صورتیں جائز ہیں، اور اگر کھالیں اپنے صرف میں لانے کے لئے داموں کو بیچ ڈالیں تو یہ دام مسجد میں صرف نہیں ہوسکتے بلکہ مساکین کو دے دئے جائیں، جس مسکین کو دے وہ اپنی طرف سے مسجد میں لگادے تو مضائقہ نہیں۔
وذٰلک لان الطریق فی الجلود اما الادخار واما الائتجار، فاذا اعطا ہا المسجد، اوباعہا لامور القرب، واعطی الثمن فیہ، فقد اتی بما ینبغی، اما اذا باعہا للتمول، فقد خالف فما حصل خبیث، وسبیلہ التصدق، وانما التصدق تملیک للفقیر اما اذا ملک فقیر، فاعطی المسجد فلا حرج، فان الصدقۃ قد بلغت محلہا واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ اس لئے کہ قربانی کی کھالوں میں طریق ذخیرہ کرنا یا اجر وثواب حاصل کرنا ہے تو جب مسجد کو دیں یا ان کو فروخت کرکے تقرب والے امور کے لئے یا ان کی قیمت ان امور میں خرچ کرنے کے لیے تو اس نے مناسب محل پورا کردیا لیکن اگر مال حاصل کرنے کی غرض سے فروخت کیا تو خلاف ورزی کی لہذا جو مال بنایا خبیث ہوا اس کا راستہ یہی ہے۔ کہ اس کو صدقہ کرے جبکہ صدقہ فقیر کو مالک بنانا ہے تو فقیر کو مالک بنایا تو اس نے مسجد کو دے دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ صدقہ اپنے محل پہنچ چکا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۴۶: مرسلہ جناب حکیم سراج الحق صاحب شہرالہ آباد دروازہ جناب حضرت شاہ محمد اجمل صاحب ۵ ذی الحجہ یک شنبہ ۱۳۲۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کا چمڑا فروخت کرکے مسجد کی جانماز اور مسجد کی مرمت کرنا، اور مسجد میں لگانا، عام اس کے مسجد کی دیوار ہو یا مسجد کا پائخانہ، غسل خانہ وغیرہ ہو، جائزہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب : قربانی کی کھال ہر اس کا م میں صرف کرسکتے ہیں جو قربت وکار خیر وباعث ثواب ہو، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قربانی کی نسبت فرماتے ہیں:
کلوا وادخروا وائتجروا ۱؎۔ رواہ ابوداؤد عن نبیشہ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کھاؤ اور اٹھا رکھو اور وہ کام کرو جس سے ثواب ہو (اسے ابوداؤد نے نبیشہ ہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 ( ۱؎ سنن ابی داؤد   کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی   آفتا ب عالم پریس لاہور  ۲ /۳۳)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
لو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۱؎۔
اگر صدقہ کرنے کی غرض سے دراہم کے بدلے فروخت ہو توجائزہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ (ت)
 (۱؎تبیین الحقائق         کتاب الاضحیۃ     المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر         ۶ /۹)
مگر فنائے مسجد میں پائخانہ بنانا قربت نہیں بلکہ ممنوع ہے کہ مسجد کو بوئے بد سے بچانا واجب ہے۔ او ر اس کی فنا کا اد ب بھی اسی کی مانند ہے یہاں تک کہ علماء نے فنائے مسجد میں بعد مسجدیت جدید دکان بنانے کی ممانعت فرمائی کہ باعث بیحرمتی،
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
قیم المسجد لایجوز لہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجد اوفی فنائہ لان المسجد اذا جعل حانوتا ومسکنا تسقط حرمتہ وہذا لایجوز والفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد۔ کذا فی محیط السرخسی ۲؎۔
مسجد کے منتظم کو جائز نہیں کہ مسجد کی حدود میں دکانیں بنائے، کیونکہ مسجد یا فنائے مسجد کو دکانیں بنایا تو مسجد کی حرمت ساقط ہوگی اور یہ جائز نہیں ہے۔ جبکہ فنائے مسجد بھی مسجد کے تابع ہے تو اس کا حکم بھی مسجد والا ہوگا، محیط سرخسی میں یوں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الوقف الباب الحادی عشر الفصل الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۴۶۲)
ہاں اگر حدود وفنائے مسجد سے دور کوئی پائخانہ مسافروں اور بے گھر نمازیوں کے متعلق مسجد ہے تو اس کی تعمیر یا مرمت ضروری بھی نیت صالحہ سے ضرور قربت وموجب اجرہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷: مولانا مولوی بشیر احمد صاحب علی گڑھی بالائے قلعہ مدرس اول مدرسہ منظر الاسلام یوم یک شنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کھال قربانی بیچ کر مسجد بنانا درست ہے یانہیں؟ اور کوئی عمارت مثل مسافر خانہ، نشست کی چوپال جس میں مسافر یا اپنے ہم قوم مقیم ہوسکیں بینوا توجروا
الجواب : مسجد یالوجہ اللہ مسافر خانہ وغیرہ آرام مسلمانان کی عمارت بنانا جس میں اجر ہو اور حصول اجر ہی کی نیت ہو، بالجملہ ہر اس کام میں جو شرعا قربت ہو، قربانی کی کھال صرف کرنا ہر گز ممنوع نہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اضحیہ کی نسبت جیسا تصدقوا فرمایاصدقہ کرو، یونہی وائتجروا ۳؎ بھی ارشاد فرمایا وہ کام کرو جس میں ثواب ہو،
رواہ ابوداؤد عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(اسے ابوداؤد نے نبشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد     کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی         آفتاب عالم پریس لاہور    ۳ /۳۳)
امام زیلعی شرح کنز میں فرماتے ہیں:
لو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۱؎۔
اگر ان کو دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کو صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ (ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الاضحیۃ     المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر    ۶ /۹)
معلوم ہوا کہ عین تصدق لازم نہیں، بلکہ قربت ہونا درکار ہے۔ تصدق بھی اسی لئے مطلوب ہوا کہ قربت ہے۔ تو جو قربت ہو سب کی وسعت ہے۔ ہاں بہ نیت تمول اپنے صرف میں لانے کو اس کے دام کرناجائز نہیں۔
حدیث: من باع جلد اضحیۃ فلا اضحیۃ لہ۔ رواہ الحاکم ۲؎ والبیہقی عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
جس نے قربانی کی کھال فروخت کی تواس کی قربانی نہ ہوئی، اس کو حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ (ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب التفسیر     دارالفکر بیروت        ۲ /۳۹۰)
کایہی محمل ہے۔ اور حدیث صحیحین میں مولی علی کرم اللہ وجہہ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اپنے شتران قربانی حج کی نسبت حکم فرمانا کہ ان کا گوشت پوست صدقہ کردیں ۳؎۔جو از تصدق کی دلیل ہے نہ کہ تعین تصدق کی، ورنہ اکل واذخار بھی ممنوع ہوجائے حالانکہ بالاجماع جائزومنصوص ہے۔ وہ واقعہ حال ہے۔ اور وقائع حال کے لئے عموم نہیں،
  (۳؎ صحیح البخاری  کتاب المناسک باب یتصدق بجلود الہدی   قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۲)
اسی حدیث میں ان کی نکیلیں اور جھولیں تصدق کردینے کا بھی حکم ہے تو یہ جواد کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بخشش تھی نہ کہ عام تشریع، ہاں جس نے تمول کے لئے بیچی وہ ان داموں کو تصدق ہی کرے کہ اول ان کا حصول بروجہ خبیث ہے۔ اورجو مال یوں حاصل ہو اس کی سبیل تصدق ہے۔ عبارت ہدایہ کا یہی مطلب ہے۔ خود ہدایہ میں فرمایا:
المعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول ۳؎۔
وجہ یہ ہے کہ اس نے مال بنانے کی غرض سے تصرف کیا۔ (ت)
(۴؎ الہدایہ         کتاب الاضحیۃ         مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴ /۴۴۸)
اس مسئلہ کی تحقیق تام مع ازاحت اوہام فقیر کے رسالہ
"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"
میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۸: از جیت پور کاٹھیا وار مرسلہ مولوی نورمحمد عرف باوامیاں بن قاضی محمد ہاشم امام مسجد حاجی جیت پور ۳ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
بخدمت اقدس علی جناب فیضمآ ب اعلم اہلسنت وجماعت مجدد مأتہ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ اعلٰیحضرت مولانا مولوی مفتی حاجی شاہ محمد احمد رضاخاں صاحب ادام اللہ برکاتکم ومدفیوضاتکم علینا آمین۔
از جانب احقر العباد نور محمد بن قاضی محمد ہاشم کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کے گزارش یہ ہے کہ قربانی کے چمڑوں کویہاں کے مسلمان اپنے اپنے محلہ کی مسجد میں للہ خیرات دیتے ہیں۔ اور متولیان مسجد ان کو بیچ کر قیمت جمع رکھتے ہیں اور حسب ضرورت امام کا پگاراس رقم میں سے دیتے ہیں۔

پس یہ قربانی کے چمڑوں کا مسجد میں خیرات دینا اور اس پیسوں کا اما م کودینا یا دوسرے ضروری خرچ مسجد ڈول رسی وغیرہ میں صرف کرنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : قربانی کے چمڑوں کو للہ مسجد دے دینا کہ انھیں یا ان کی قیمت کو متولی یا منتظمان مسجد مسجد کے کاموں مثلا ڈول۔ رسی، چراغ، بتی، فرش، مرمت ، تنخواہ مؤذن، تنخواہ اما م وغیرہا میں صرف کریں، بلاشبہ جائز و باعث اجر وکارثواب ہے۔
تبیین الحقائق میں ہے،
جازلانہ قربۃ کالتصدق ۱؎
(جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ ت) اسی طرح ہدایہ وکافی وعالمگیری وغیرہ میں ہے۔
 (۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الاضحیۃ     المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر        ۶/۹)
ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلواوادخروا وائتجروا ۲؎
 (کھاؤ اوراٹھارکھو اور وہ کام کرو جس سے ثواب ہو۔ ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۳)
امام اگرچہ غنی ہو اس کی تنخواہ دینے کو متولی  یا منتظم ان چمڑوں کو بیچ سکتے ہیں، یا پہلے سے انھوں نے مصارف مسجد کےلئے دام رکھے ہیں، تو ان میں سے تنخواہ دے سکتے ہیں۔
فان الجلد قد وصل موضع التقرب وعطاء وظیفۃ امام المسجد ایضا قربۃ۔ وان لم یکن اخذہا قربۃ للغنی بل مباحا علی المفتی بہ فلم یکن فی معنی البیع بالدراہم لہدیۃ غنی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ کھال تقرب کے مقام کو پہنچ گئی، امام مسجد کو وظیفہ دینا بھی قربت ہے اگر چہ غنی کو لینا قربت نہیں۔ بلکہ مفتی بہ قول پر مباح ہے۔ تو غنی کو ہدیہ دینے کی غرض سے فروخت کے معنی میں نہ ہوئی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter