Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
94 - 126
کما نص علیہ فی عامۃ کتب المذہب وعن ام المومنین عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا قالت قالوا یارسول اﷲ ان الناس یتخذون الاسقیۃ من ضحایاھم ویحملون فیہا الودک فقال وماذاک قالوا نہیت ان توکل لحوم الاضاحی بعد ثلث قال نھیتکم من اجل الدافعۃ فکلو اوادخروا وتصدقوا، اخرجہ احمد والبخاری و مسلم۔ ۱؎۔
جیسا کہ اس پر عامہ کتب مذہب میں تصریح کی ہے اور حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرما یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ! لوگ قربانی کے چمڑے سے مشکیزے بناتے ہیں اور مشکیزوں میں چربی بھرلیتے ہیں توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہوا انھوں نے عرض کی آپ نے تین دن کے بعد قربانی کی گوشت کھانے سے منع فرمادیاہے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا میں نے تمھیں ضرورتمندوں کی آمدکی وجہ سے منع کیا تھا تو اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو، اس کی تخریج امام احمد، بخاری، اور مسلم نے کی ہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم     کتاب الاضاحی باب ماکان من النہی عن اکل الحوم الاضاحی     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۱۵۸)
اسی طرح مذہب صحیح میں جلد ولحم کی تبدیل بھی ایسی اشیاء سے جائز ٹھہری جو اپنی بقائے عین کے ساتھ استعمال میں آئے ، جیسے برتن ، کتابیں، کپڑے،
ہدایہ وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے :
اللفظ للہدایۃ یعمل منہ اٰلۃ تسعمل فی البیت کا لنطع والجراب والغر بال و نحوہا لان الانتفاع بہ غیر محرم ولا باس بان یشتری بہ ماینتفع بہ فی البیت بعینہ مع بقائہ استحسانا، وذٰلک مثل ما ذکرنا، لان للبدل حکم المبدل واللحم بمنزلۃ الجلد فی الصحیح۔ ۲؎ اھ ملخصا۔
ہدایہ کے الفاظ میں ہےکہ اس کی کھال سےکے استعمال والے آلات بنائے جائیں مثلا بچھونا، تھیلا، غربال (چھلنی) جیسی چیزیں، کیونکہ کھالوں سے انتفاع حرام نہیں ہے۔ اور ان سے گھر میں استعمال کے لئے چیز خریدنا جو بعینہ باقی رہے تو استحسانا اس میں کوئی حرج نہیں اس کی مثال ہماری ذکر کردہ چیزیں ہیں، کیونکہ بدل کاحکم مبدل والا ہے۔ اور گوشت حکم میں بمزلہ کھال کے ہے صحیح مذہب میں اھ ملخصا۔(ت)
(۲؎ الہدایہ   کتاب الاضحیۃ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴ /۴۴۸)
یوہیں اغنیاء کو گوشت یا کھال یا اس کو کوئی چیز بناکر یا اسی قسم کی اشیاء ان کے عوض خرید کر ہدیہ دینا بھی جائز ہوا۔
لانہ لما جاز التصرف بنفسہ، فجواز الہدیۃ من باب اولٰی کما استدل فی الہدایۃ لجواز طعام الغنی بقولہ متی جاز اکلہ وھوغنی جاز ان یوکل غنیا ۱؎۔
کیونکہ جب خود اپنا تصرف جائز ہے تو ہدیہ کا جواز بطریق اولٰی ہوگا جیسا کہ ہدایہ میں غنی کو کھلانے کے جواز پر استدلال فرماتے ہوئے فرمایا جب خود غنی ہونے کے باوجود کھانا جائز ہے تو کسی غنی کو کھلانا بھی جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ     کتاب الاضحیۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ     ۴ /۴۴۸)
ولہذا فقیر کو دینے میں تملیک شرط نہ ہوئی، بلکہ اباحت بھی روا ٹھہری یعنی دے نہ ڈالے بلکہ دسترخوان پر بٹھا کر کھلادے،
شرح نقایہ علامہ للبرجندی میں ہے :
ویوکل ای یطعم من شاء منہا علی طریق الاباحۃ سواء کان فقیرا اوغنیا، ویہب من یشاء علی سبیل التملیک فقیرا او غنیا ۲؎۔
    قربانی کے گوشت میں سے جس کو چاہے دے اباحت کے طور پر، اور ہبہ کے طورپر تملیک کرے فقیر کو خواہ غنی کو۔ (ت)
(۲؎ شرح النقایہ للبرجندی    کتاب الاضحیۃ   نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۹۹)
شرح لباب میں ہے :
کل دم وجب شکرا، فلصاحبہ ان یاکل منہ ماشاء ویوکل الاغنیاء ولوبالاباحۃ والفقراء تملیکا اواباحۃ ولا یجب التصدق بہ، لابکلہ، ولا ببعضۃ ۳؎ اھ ملخصا۔
ہر قربانی جو بطور شکر واجب ہو تو مالک کو اختیار ہے جتنا چاہے کھائے، اغنیاء کو کھلائے اباحت کے طور پر خواہ تملیک کے طور پر فقیرکو خواہ غنی کو، یا بعض گوشت کا صدقہ واجب نہیں ہے۔ اھ ملخصا۔ (ت)
(۳؎ المسلک المتقسط فی النسلک المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایا فصل فیما لایجوز من الہدایا دارالکتاب بیروت ص۳۱۲)
اور یہ معنی خو دآیت وحدیث سے مستفاد کہ اطعموا ۴؎ فرمایا نہ کہ اعطوا البتہ یہ ناجائز ہے کہ اپنے یااپنے اہل وعیال اور اغنیاکے صرف میں لانے کو گوشت یا کھال یا کسی جز کو بعوض ایسی اشیاء کے فروخت کرے جو استعمال میں خرچ ہوجائیں اور باقی نہ رہیں جس طرح روپیہ پیسہ یا کھانے پینے کی چیزیں یا تیل پھلیل وغیرہ کہ ان کے عوض اپنی نیت سے بیچنا تمول ہے۔ اور نیت اغنیا مثل اپنی نیت کے ہے۔ اور یہ جانور جس سے اقامت قربت ہوئی، اس قابل نہ رہا کہ اس کے کسی جز سے تمول کیا جائے۔
 (۴؎ صحیح البخاری     کتاب الاضاحی    باب مایوکل من لحوم الاضاحی    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۳۵)
ہدایہ میں ہے :
لایشتری بہ مالا ینتفع بہ الاباستہلاکہ کالخل ولا بازیر اعتبار ابالبیع بالدراہم والمعنٰی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول ۱؎۔
قربانی کی کھال سے ایسی چیز نہ خریدے جس کو ہلاک کرکے نفع اٹھائے جیسے سرکہ یا بیچ جس طرح کہ دراہم سے نفع بطریقہ ہلاک ہوتاہے تو یہ بھی منع ہے۔ منع کی وجہ مال حاصل کرنے کی غرض سے تصرف کرنا ہے۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ   کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۴ /۴۴۸)
علامہ عینی بنایہ میں فرماتے ہیں:
والمعنٰی فی عدم الشتراہ مالاینتفع بہ الابعد استھلاکہ انہ تصرف علی قصد القول، وھو قد خرج عنہ جہتہ التمول ۲؎۔
ایسی چیزی خرید نے کی ممانعت میں وجہ یہ ہے کہ ہلاک کرکے نفع کی صورت میں مال حاصل کرنے کی غرض سے تصر ف کرنا ہےحلانکہ قربانی تو مال سے خارج کرنا مقصود بنائے۔ (ت)
(۲؎ البنایۃ فی شرح الہدایہ    کتاب الاضحیۃ    المکتبۃ الامدادیہ مکہ المکرمہ    ۴ /۱۹۰)
بخلاف اس کےکہ اس قسم کی اشیاء سے صرف خیر میں صرف کرنے کو مبادلہ کرے کہ اس میں معنی ممنوع یعنی تمول متحقق نہیں، تو اس نیت سے استبدلال بھی جائز ۔
ولہذا تبیین میں فرماتے ہیں :
لوباعہم بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۳؎۔
اگر دراہم سے اس لئے فروخت کیا تاکہ دراہم کو صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ بھی صدقہ کی طرح قربت ہے۔ (ت)
(۳؎ تبیین الحقائق     کتاب الاضحیۃ    المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر    ۶ /۹)
خلاصہ یہ کہ بعد قربانی اس کے اجزاء میں ہر قسم کا تصرف غنی کو حلال ہے۔ مگر وہ جس میں معنی تمول پائے جائیں، اسی لئے مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں تصریح کی کہ
المعنی انہ لایتصرف علی قصد التمول ۴؎ اھ
(مقصد یہ ہے کہ مال کے حصول کی غرض سے تصر ف نہ کرے۔ ت)
 (۴؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر     کتاب الاضحیۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۵۲۱)
اس تحقیق وتنقیح سے واضح ہوا کہ علماء جو ایک شق تصدق کی لکھتے ہیں اس کے یہ معنی نہیں کہ تصدق عین ضروری ہے یعنی خاص اسی چیز کو بغیربد لےخیرات کرے بلکہ مطلقا ہر شیئ کےعوض بیچ کر خیرات کرنی جائز ہے خواہ روپے پیسے ہوں یا اشیائے خوردنی یا اعیان باقیہ، نہ عین تصدق ضرور ہے۔ جس کے حقیقی معنی فقیر کو مالک کرنا۔
کما فی الزکاۃ من فتح القدیر حقیقۃ الصدقۃ تملیک الفقیر ۱؎۔
جیساکہ فتح القدیر کے زکوٰۃ کے باب میں ہے کہ صدقہ کی حقیقت فقیر کو مالک بنانا ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر     کتاب الزکوٰۃ    باب من یجوز دفع الصدقہ الیہ الخ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۲۰۸)
بلکہ مطلقا ہر مصرف خیر میں صرف کرنا جائز ہے اگر چہ اس میں کسی کی تملیک نہ ہو، جیسے کفن موتٰی ونفقہ مسجد وغیر ذٰلک، ولہذا اباحت روا ٹھہری، اور علامہ زیلعی کی عبارت مذکور نے صاف واضح کردیا کہ قربت چاہئے خاص تصدق کی کوئی خصوصیت نہیں، اور خود ظاہر ہے کہ جب بے صورت تمول اپنے اور اغنیا کے صر ف میں لانا رواہوا۔ اور جانور کا قربت کے لئے ہونا اس کا مانع نہ ٹھہرا تو مصارف خیر جس میں اصلا بوئے تمول نہیں اور خود امور قربت ہیں، بدرجہ اولٰی جائز ہوں گے۔
اب حکم مسئلہ بحمدالہ روشن ہولیا، بہ نیت تصدق داموں سے بچنا عبارت فتاوٰی ہندیہ سے گزرا اور مسجد کی چٹائی وغیرہ میں صرف کرنا بھی قربت ہے۔ نہ اپنا تمول جو ممنوع ٹھہرا، پس دونوں صورت مسئولہ سائل کاحکم جواز ہے۔ یہ بحمداللہ تعالٰی وہ تحقیق ہے جس سے اس فصل کی تمام جزئیات کا حکم نکل سکتاہے۔
فاتقن ھذا لعلک لا تجدہ بہذا الایضاح والتحریر فی غیر ھذا التحریر، ولا علیک من خفائہ علی بعض (عہ) ابناء الزمان المدعین العلم العزیز، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اس کو مضبوط کرو ہوسکتاہے اس وضاحت اور صفائی سے تمھیں کسی اور تحریر میں نہ ملے اور موجودہ زمانے کے مدعین علم پر اس کے مخفی ہونے پر تمھیں تعجب نہ ہو، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
   عہ: مولوی رشید احمد گنگوہی
مسئلہ ۲۴۳: از بنارس محلہ کنڈی ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵محرم الحرام ۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چرم قربانی واسطے تعمیر مسجد واشیاء متعلقہ مسجد مثل بوریا، بدھنا، فرش، شامیانہ وغیرہ یا برائے درستگی قبرستان کے دینا جائز ہے یانہیں؟ درصورت عدم جواز کے اگر کوئی شخص مصرف مذکور میں صرف کرے۔ یاسرا پایہ وغیرہ ہندو کافر کو دے، تو اس کی قربانی درست ہوگی یانہیں؟
الجواب : قربانی اراقہ دم لوجہ اللہ سے ہوجاتی ہے
کما نص علیہ العلماء قاطبۃ
 (جیساکہ علماء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ ت) اس کے بعد کھانے، دینے، دلانے سے اس میں کچھ فرق نہیں آتااگر چہ کسی کودے، اور چرم کے باب میں ابھی بیان ہوا کہ ہر قربت روا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴: از موضع کٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی عبدالکریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۷ ۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت پوست قربانی مرمت مسجد اور بوریاں وغیرہ مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یانہیں؟ اور غسل خانہ، پاخانہ واردین مسجد کے لئے اس قیمت سے بنوانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : اصل یہ ہے کہ اراقہ دم سے اقامت واجب کے بعد اجزائے اضحیہ سے صرف تمول ممنوع ہے خاص تصدق ضروری نہیں بلکہ جمیع انواع خیر کہ مثل تصدق قربت ہیں، سب جائز ہے۔ اوربلا بیع خود اپنے تصرف میں لانا دیگر احباب اغنیاء کو ہدیہ دینا بھی جائز۔
کما طفحت بنقول ذٰلک کتب المذہب المعتمدہ ولنا فی خصوص ذٰلک رسالہ حافلۃ سمیناھا ''الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ''۔
جیسا کہ تم نے مذہب کی کتب معتمدہ سے فائدہ پایا، اور خاص اس مسئلہ میں ہمارا جامع رسالہ ہے ہم نے اس کا نام
''الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ''
رکھا ہے۔(ت) حدیث میں ہے رسو ل اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلوا اوادخروا وائتجروا ۱؎۔ رواہ ابوداؤد عن نبشۃ الھذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کھاؤا ور اٹھا رکھو، اور وہ کام کرو جس سے ثواب حاصل ہو (اس کو ابوداؤد نے حضرت نبشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۳)
تبیین الحقائق میں ہے :
لو باعہا بالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۱؎۔
اگر دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کو صدقہ کرے، توجائزہے۔ کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الاضحیۃ  المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر    ۶ /۹)
لباب میں ہے :
لایجب التصدقہ بہ ۲؎
 (سب گوشت صدقہ کرنا واجب نہیں ہے۔ ت)
 (۲؎ المسلک المتقسط المنسک المتوسط مع ارشاد الساری     باب الہدایا     دارالکتاب العربی بیروت    ص ۳۱۲)
شرح میں ہے :
لابکلہ ولاببعضہ ۳؎
 (نہ سب کا صدقہ کرنا نہ بعض کا واجب ہے۔ ت)
(۳؎ المسلک المتقسط المنسک المتوسط مع ارشاد الساری     باب الہدایا     دارالکتاب العربی بیروت    ص ۳۱۲)
بالجملہ مدار قربت وعدم قبول ہے۔ اور شک نہیں کہ مسجد کی مرمت، اس میں بوریا وغیرہ آلات کا رکھنا، غسل خانہ بنانا سب افعال قربت ہیں، تو ان میں اس کا صرف ضرورجائز، اسی طرح واردین مسجد کے لئے پاخانہ بنوانا اگر فنائے مسجد سے جدا اور زمین وقف میں خلاف مشروط تصرف سے برکراں ہو باعث اجر ہے۔ کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter