فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
93 - 126
مختصر امام کرخی پھر غایۃ البیان علامہ اتقانی میں ہے :
قال ہشام وسألت ابایوسف عن السکاء التی لاقرن لہا قال تجزئ فان لم یکن لہا اذنلا تجزئی وہو قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی ۱؎۔
ہشام نے کہا میں نے امام ابویوسف رحمہاللہ تعالٰی سے سکاء کے متعلق سوال کیا اور یہ وہ ہے جس کے پیدائشی طورپر سینگ نہ ہوں، تو انھوں نے فرمایا جائز ہے اور اگر کان نہ ہوں تو ناجائز ہے یہ امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کا قول ہے۔ (ت)
(۱؎ غایۃ البیان)
ہدایہ میں ہے :
السکاء وھی التی لا اذن لہا خلقۃ لا تجوز لان مقطوع اکثر الاذن اذا کان لایجوز فعدیم الاذن اولٰی ۲؎۔
سکاء وہ ہے جس کے پیدائشی طورپر کان نہ ہوں، جائز نہیں، کیونکہ جب کان کا اکثر حصہ کٹا ہو تو ناجائز ہے۔ تو بالکل کان نہ ہوں تو بطریق اولٰی ناجائز ہوگا۔ (ت)
(۲؎ الہدایہ کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۶)
عنایۃ وغایۃ البیان ونتائج الافکار وغیرہا میں اس پر تقریر کی،
منسک متوسط میں ہے:
لایجوز الذی لا اذن لہ خلقہ اولہ اذن واحدۃ ۳؎۔
جس کے پیدائشی کان نہ ہوں یا صرف ایک کان ہو تو ناجائز ہے۔ (ت) مسلک متقسط میں اس پرتقریر کی،
(۳؎ المسلک المتقسط فی المنسلک المتوسط باب الہدایہ دارالکتب العربی بیروت ص۳۱۴)
تنویر الابصار میں ودرمختار میں ہے:
والا السکاء التی لا اذن لہا خلقۃ ۴؎۔
اور سکاء جس کے پیدائشی کان نہ ہوں ناجائز ہے (ت) طحطاوی وشامی میں اس پر تقریر کی،
(۴؎ درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳)
سکاء وہ جس کا پیدائش کان یا چکّی نہ ہو وہ جائز نہیں ہے۔ (ت)
(۴؎ خزانہ المفتین کتاب الاضحیۃ قلمی نسخہ ۲ /۲۰۷)
اتقانی علی الہدایہ میں ہے :
قال محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی فی الاصل بلغنا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال استشرفوا العین والاذن، وروی فی السنن عن علی کرم اﷲ وجہہ عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان تستشرف العین والاذن وقد اعتبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقاء الاذن فمنع فواتہا من جواز الاضحیۃ ۵؎۔
امام محمد نے فرمایا اصل میں،کہ ہمیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت پہنچی کہ آپ نے فرمایا کہ آنکھ اور کان کو بغوردیکھو، اور سنن میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے روایت فرمایا کہ ہم آنکھ اور کان کو بغودیکھیں، تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کان کی بقاء کا اعتبار فرمایا تو معدوم ہو ناجواز قربانی کے لئے مانع ہوگا۔ (ت)
سکاء جس کے پیدائشی کان نہ ہو اس کی قربانی نہ کی جائے بخلاف چھوٹے کان کے۔ (ت)
(۱؎ فتح المعین کتاب الاضحیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۸۰)
مجمع الانہر میں ہے:
ولاالسکاء وھی التی لا اذن لہا خلقۃ ۲؎۔
او ر سکاء جس کے پیدائشی کان نہ ہوں جائز نہیں۔ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۵۲۰)
سراجیہ میں ہے:
لاتجزی التی لم یخلق لہا اذن ۳؎۔
جس کے کان پیدا نہ ہوں جائز نہیں، (ت)
(۳؎ فتاوٰی سراجیہ کتاب الاضاحی نولکشور لکھنؤ ص۸۹)
ثانیا یہی قضیہ حدیث ہے:
کما علمت من غایۃ البیان
(جیسا کہ تم نے غایۃ البیان سے معلوم کرلیاہے۔ ت)
ثالثا اس کی وجہ اظہر وازہر ہے۔
کما علمت من الہدایۃ ومناسک الکرمانی
(جیسا کہ تم نے ہدایہ اور مناسک کرمانی سے معلوم کرلیا ہے۔ ت) ایراث نقص میں عدم طاری واصلی میں تفرقہ کی کوئی وجہ ظاہر نہیں۔
رابعایہی اکثر کتب میں ہے
والعمل بماعلیہ الاکثر
(عمل اس پر ہوگا جس پر اکثریت ہو۔ت)
خامسا یہی احوط ہے تو بوجوہ اسی کو ترجیح ،ا ور اسی پر اعتماد وعمل وفتوٰی واجب۔ واللہ تعالٰی اعلم،
مسئلہ ۲۴۰: ۹ ذی الحجہ ۱۳۲۱ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گائے کی دم تہائی کے قریب کٹی ہوئی ہے اور ایک کان چرا ہوا ہے مگر حصہ اس کا جدا نہ ہوا کان ہی میں لگاہے۔ تو اس صورت میں اس کی قربانی جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: جائز ہے۔
فی التنویر یضحی بالجماء لامقطوع اکثرالاذن اوالذنب ۱؎۔ فی الدرالمختار للاکثر حکم الکل بقاء وذھابا۔ فیکفی بقاء الاکثرعلیہ الفتوی ۲؎۔ فی الہندیۃ تجزئی الشرقاء وہی مشقوقۃ الاذن طولا، والمقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنہا شیئ، ولا یبان بل یترک معلقا والمدابرۃ ان یفعل ذٰلک بمؤخر الاذن، والنہی محمول علی الندب کذا فی البدائع ۳؎ اھ مختصرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تنویرا لابصارمیں ہے جماء جس کا پیدائشی سینگ نہ ہو کی قربانی کی جائے نہ کہ اس کی جس کا کان یا دم اکثر کٹی ہو، درمختار میں ہے اکثر کاحکم کل والا ہو تاہے بقاء اور ضیاع میں تو اکثر حصہ کی بقاء کافی ہے۔ اور اسی پر فتوٰی ہے۔ ہندیہ میں ہے شرقاء جائز ہے یہ وہ ہے جس کا کان لمبائی میں کٹا ہو۔ او مقابلہ جائز یہ وہ ہے جس کا کان آگے سے کٹاہو، اور جدا نہ ہوا ہو بلکہ لٹکتاہو، اور مدابرہ جائز ہے، یہ وہ ہے جس کان پیچھے سے ایسے کٹا ہو اور ان سے نہی تنزیہہ پر محمول ہو۔ بدائع میں یوں ہے اھ مختصرا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳)
(۲؎درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۸)
مسئلہ ۲۴۱: قصبہ کوسی کلاں ضلع متھرا، محلہ مسجد مندی حافظ محمد رمضان پیش امام بروزیک شنبہ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
قربانی کی کھال سید کو یا والدین کو دینا درست ہے یا نہیں۔ کتاب مالابدمنہ کے اندر صدقہ نفل سید کو جائز لکھا ہے۴؎۔ اب یہ امر قابل تحقیق ہے کہ کھال قربانی صدقہ واجب ہے یا نفل ہے۔ سید کو قربانی کی کھال دے یانہیں؟ اکثر لوگ قربانی کی کھال دے دیا کرتے ہیں، درست ہے یانہیں؟
(۴؎ مالابدمنہ (فارسی) کتاب الزکوٰۃ مطبع علوی لکھنؤ ص۵۹)
الجواب : قربانی کی کھال سادات کرام کو دینا جائز ہے۔ اپنے ماں باپ اولاد کو بھی دے سکتاہے شوہر زوجہ کو زوجہ شوہر کو دے سکتی ہے۔ وہ بہ نیت تصدق ہو تو صدقہ نافلہ ورنہ ہدیہ، سقا کو دینے میں بھی حرج نہیں ۔ وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۲:مرسلہ حاجی الہ یار خان صاحب تاجر کتب ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
قربانی کی کھال کو بہ نیت تصدق فروخت کرنا یا اس کی قیمت سے بوریا وغیرہ خریدکر مسجد میں رکھا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : جائزہے کہ تصدق کے لئے بیچا یا مسجد کےصرف میں لانا دونوں قربت ہیں، اوریہاں وہی مقصود،
اپنے یا اپنی عیال پر خرچ کرنے کے لئے قربانی کی کھال کو دراہم سے فروخت نہ کرے اور اگر دراہم کا صدقہ کرنا ہو توجا ئز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح عبادت ہے تبیین الحقائق میں یوں ہے اھ ملخصا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۰۱)
ایضاح الجواب اصل یہ کہ اضحیہ مثل دم قران وتمتع وذبح تطوع دم شکر ہے ان میں قربت مقصودہ صرف اراقہ دم لوجہ اللہ سے حاصل ہوجاتی ہے۔ ولہذا ان کے لحم وغیرہ کا تصدق واجب نہ ہوا، اور خو دکھانے کی بھی اجازت عطا فرمائی۔
قال تعالٰی فکلوا منہا واطعموا القانع والمعز ۲؎،
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلوا واطعموا وادخروا، اخرجہ احمد والشیخان ۳؎ ان سلمۃ بن الاکوع رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا قربانی سے خود کھاؤں اور قناعت والے اورمحتاج کو کھلاؤ، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو، اس کو احمد اور شیخین نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۲ /۳۶)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب مایوکل من لحوم الاضاحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۵)
اور کھال کی کوئی چیز مثل مشکیزہ وغربال وپوستین توتشہ دان وفرش وتکیہ دجلہ کتا ب وغیرہا بناکر اپنے تصرف میں لانا بھی روا۔