فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
92 - 126
مسئلہ ۳۳۵: ۹ ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکرے دو طرح خصی کئے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ رگیں کوٹ دی جائیں، اس میں کوئی عضو کم نہیں ہوتا، دوسرے یہ کہ آلت تراش کو پھینک دی جاتی ہے۔ اس صورت میں ایک عضو کم ہوگیا، آیا ایسے خصی کو بھی قربانی جائزہے یانہیں؟ بعض لوگ بوجہ مذکورہ ممانعت کرتے ہیں بینوا توجروا
الجواب : جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا بلکہ وصف بڑھ جاتاہے کہ خصی گائے کو گوشت بہ نسبت فحل کے زیادہ اچھا ہوتاہے۔
فی الہندیۃ عن الخلاصۃ یجوز المحبوب العاجز عن الجماع ۱؎
(ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ذکر کٹا جو جفتی کے قابل نہ رہا وہ قربانی میں جائز ہے الخ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎.فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۷)
مسئلہ ۲۳۶: ۹ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک گائے کا کان چرا ہوا ہے جیسے گاؤں کے لوگ بچپن میں کان چیردیتے ہیں کہ طول یا عرض میں شق ہوجاتاہے مگر ووہ ٹکرا کان کا ہی لگا دیتاہے جدا نہیں ہوتا اور اس کے سینگ جو گھوم کر چہرے پرآئے۔ اور ایک سینگ آنکھ تک آیا جس سے آنکھ کو نقصان پہنچنے کا احتمال تھا اس اس کی نوک تراش دی گئی۔ ایسی گائے کی قربانی شرعاجائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : بلا شبہہ جائز ہے۔ مگر مستحب یہ ہے کہ کان ، آنکھ، ہاتھ، پاؤں بالکل سلامت ہوں۔
فی العالمگیریۃ تجزی الشرقاء وہی مشقوقہ الاذن طولا، ولامقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنہا شیئ ولا یبان بل یترک معلقا والمدابرۃ ان یفعل ذٰلک بمؤخر الاذن من الشاۃ، وماروی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہی ان یضحی بالشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ والخرقاء فالنہی فی الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ محمول علی الندب وفی الخرقاء علی الکثیر علی اختلاف الاقاویل فی حدالکثیر کذا فی البدائع ۱؎۔
عالمگیری میں ہے قربانی شرقاء جائز ہے یہ وہ ہے جس کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں اور مقابلہ جائز ہے یہ وہ جائز ہے جس کے کام کا اگلا کچھ حصہ کٹا ہو لیکن جدا نہ ہو بلکہ لٹکا ہوا ہو، او رمدابرہ جائز ہے یہ وہ ہے جس کے کا پچھلا حصہ اس طرح کٹاہو، یہ صفات بکری کی ہیں، اور جو مروی ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے شرقاء، مقابلہ، مدابرہ اور خرقاء کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ تو شرقاء مقابلہ اور مدابرہ میں یہ نہی تنزیہہ پرمحمول ہے جبکہ کثیر کی حد میں اقوال کا اختلاف ہے بدائع میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۸)
ردالمحتارمیں ہے :
یضحی بالجماء ھی التی لاقرن لہ خلقۃ و کذا العظماء التی ذھب بعض قرنہا بالکسر اوغیر فان بلغ الکسرالی المخ لم یجز قہستانی، وفی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لا یجزئ والمشاش رؤس العظام مثل الرکبتین والمرفقین اھ ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جماء کی قربانی جائز ہے یہ وہ ہے جس کے سینگ پیدائشی طور پر نہ ہو اور یوں عظماء بھی جائز ہے یہ وہ ہے جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹا ہوا ہو اور غیر میں اگر سینگ مخ سمیت ٹوٹا ہوتو ناجائز ہے۔ قہستانی اور بدائع میں ہے کہ اگر سینگ کا ٹوٹنا مشاسش تک ہوجائے تو ناجائز ہے۔ اور مشاش یہ ہڈی کا سرا ہے جیسے گھٹنے اور کہنیاں ہیں اھ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۵)
مسئلہ ۳۳۷:ـ ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۲۳ھ
ایک راس عقیقے کے لئے خریدی اس کا سینگ ٹوٹ گیا، اب دوبارہ پھر نکل آیا۔ یہ راس قابل قربانی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : سینگ ٹوٹنا اس وقت قربانی سے مانع ہوتاہے کہ جبکہ سر کے اندر جڑ تک ٹوٹے اگر اوپر کا حصہ ٹوٹ جائے تو مانع نہیں۔
فی ردالمحتار یضحی بالجماء وھی التی لا قرن لہا خلقۃ وکذا العظماء التی ذھب بعض قرنہا بالکسر اوغیرہ۔ فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز قہستانی ، و فی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لایجزئی والمشاش رؤس العظام مثل الرکبتین والمرفقین ۱؎ اھ۔
ردالمحتار میں سے جماء کی قربانی جائز ہے یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ پیدائشی نہ ہو اور یوں عظماء بھی، یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹا ہوا اور منح تک ٹوٹ چکا ہو تا ناجائز ہے۔ قہستانی، اور بدائع میں ہے اگر یہ ٹوٹ مشاش تک ہو تو ناجائز ہے اور مشاش ہڈی کے سرے کو کہتے ہیں جیسے گھٹنے اور کہنیاں اھ (ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۵)
او ر اگر ایسا ہی ٹوٹا تھا کہ مانع ہوتا ،مگر اب زخم بھر گیا، عیب جاتا رہا تو حرج نہیں
لان المانع قد زال وھذا ظاھر
(کیونکہ مانع جاتا رہا، اور یہ ظاہر ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸: مسئولہ مولوی خلیل الرحمن متعلم مدرسہ منظر الاسلام اہلسنت وجماعت بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کا جانور کس قدر صحیح ہونا چاہئے اور کس قدر سینگ جانور کا کٹا ہواہو تو قربانی ہوسکتی ہے۔ اور جڑسے ٹوٹ کیا ہو تو کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا
الجواب : ۤۤآنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں سب اعضاء سلامت ہوناضروری ہے۔ سینگ ٹوٹا ہونا مضائقہ نہیں رکھتا مگرجہاں سے اُگا ہے اگر وہاں تک ٹوٹا تو ناجائز ہے۔
ردالمحتار میں ہے :
قول (ویضحی بالجماء) ھی التی لاقرن لہا خلقۃ وکذا العظماء التی ذھب بعض قرنہا بالکسر اوغیرہ فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز قہستانی وفی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لایجزی والمشاش رؤس العظام مثل الرکبتین والمرفقین ۱؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس کا قول کہ ''جماء کی قربانی جائز ہے۔ یہ وہ ہے جس کے سینگ پیدائشی طور پر نہ ہوں اور یوں عضماء بھی جس کے سینگ کا ٹوٹنا وغیرہ کچھ حصہ میں ہو، اور یہ ٹوٹ مخ سمیت ہو تو ناجائزہے۔ قہستانی اور بدائع میں ہے اگر ٹوٹنا مشاش تک ہو تو ناجائز ہے۔ مشاش ہڈی کے سرے کو کہتے ہیں جیسے گھٹنے اور کہنیاں اھ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۵)
مسئلہ ۲۳۹: از چونیاں ضلع لاہور ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
انجمن مذکور کے اشتہار مذکور میں ہے جس جانور کے پیدائشی کان دم نہ ہوں وہ جائز ہے ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک، اور ناجائز ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک، مگر چونکہ وہ روایت اصول ہے اس واسطے امام صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے فتوٰی کے اوپر فتوٰی دیتے ہیں کہ جس جانور کے پیدائشی کان دم نہ ہو وہ جائز ہے۔
اب حضرت مولانا صاحب جواب خود تحریر فرمائیں کہ ایسا مذکورہ بالا جانور واقعی قربانی میں جائز ہے یاناجائز؟ کیونکہ میں نے سنا ہےکہ اکثر فتاووں میں ایسے جانور کا ناجائز لکھاہے۔ حضرت صاحب انجمن کے اشتہار شائع شدہ میں یہ دونوں مسئلے اسی طرح لکھے ہیں، آیا یہ دونوں مسئلے درست لکھے ہیں یاکہ نہیں؟ مفصل طور پر تحریر فرمائیں بحوالہ کتب معتبرہ۔
الجواب : جس جانور کی اصل پیدائش میں کان اور دم نہ ہو امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اس کی قربانی جائز ہے اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک ناجائز، اور معتمد قول امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ،
خانیہ میں ہے:
الشاۃ اذالم یکن لہا اذن ولا ذنب خلقۃ یجوز۔ وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لا یکون ھٰذا ولو کان لایجوز، وذکر فی الاصل عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ یجوز ۲؎۔
بکری کو اگر پیدائشی طورپر کان اور دم نہ ہو تو جائز ہے۔ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ایساجانور نہیں ہوتا اگرہو تو قربانی جائز نہیں ہے۔ اور مبسوط (اصل) میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ یہ جائز ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاضحیۃ فصل فی العیوب نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۴۸)
اسی طرح اجناس وخلاصہ وبزازیہ میں ہے۔ غالبا یہ ہے جس پر اشتہار میں اعتماد کیا اورواقع میں وہ قابل اعتماد نہ تھا۔
اولا متون وشروح نے عدم جواز پر جزم کیا اور قول خلاف کا نام نہ لیا،