فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
91 - 126
مسئلہ ۲۲۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آدمی پر اولاد صفار کی طرف سے قربانی مثل صدقہ فطر واجب ہے۔ اپنے مال سے کرے یا ہر شخص اپنی علیحدہ کرے، اور جس قدر چاہے اس قدر کرے۔ بینوا توجروا
الجواب : اولاد صغار کی طر ف سے قربانی اپنے مال سے کرنا واجب نہیں، ہاں مستحب ہے۔ اور قربانی جس پر واجب ہے اس پر ایک ہی واجب ہے زیادہ نفل ہے۔ چاہے ہزار جانور قربانی کرے گا ثواب ہے۔ نہ کرے گا کچھ مواخذہ نہیں۔
فی الدرالمختار تجب التضحیۃ عن نفسہ لاعن طفلہ علی الظاھر بخلاف الفطرۃ، شاۃ او سبع بدنہ ۲؎ اھ ملتقطا،
درمختار میں ہے قربانی خود اپنے طرف سے واجب ہے۔ نابالغ اولاد کی طرف سے اس پر واجب نہیں بخلاف فطرانہ کے۔قربانی کے لئے بکری یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔ اھ ملتقطا،
اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر روایۃ یہ کہ نابالغ کی طرف سے مستحت ہے واجب نہیں بخلاف صدقہ، فطر کے، اور فتوٰی ظاہر روایۃ پرہے اھ ملخصا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الاضحیۃ فصل فی صفۃ الاضحیۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۴)
مسئلہ ۲۲۹ : از دیورنیاں ضلع بریلی مسئولہ رحیم بخش بروز شنبہ ۱۳۳۴ھ
جناب مولوی صاحب قبلہ ! بعض ادائے آداب کے عرض ہے دیگر احوال یہ ہے ایک شخص نے ایک راس بکری عیدالاضحی کو قربانی کی اور اس کی کلیجی ٹول اور خاسہ میں باند ھ کر قبرکہنہ میں دفن کیا اور راس مذکور کا گوشت سب تقسیم کردیا، اپنے لئے قطعی نہیں رکھا، محلہ والوں نے سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو اپنے فعل کا اختیار ہے۔ تحریر فرمائے کہ یہ قربانی جائزیا کیا قصہ ہے۔ معلوم ہوتاہے کہ اس نے کوئی ٹوٹکا کیا ہے۔ تحریر فرمائے کہ کیا وجہ ہے؟
الجواب : کلیجی دفن کرنا مال ضائع کرناہے اور اضاعت مال ناجائز۔ اگر اس نے بہ نیت قربانی جانور مولا تعالٰی کے لئے ذبح کیا تو قربانی ہوگئی اور بعد کو اس کایہ فعل منافی قربانی نہیں اور اگر سے سے اس کا ذبح ہی کسی ٹوٹکے یا عمل کے لئے تھا نہ بہ نیت ادائے واجب ،تو قربانی نہ ہوئی۔ وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: از موضع بہدور ضلع پٹنہ مرسلہ مولوی عبدالحکیم صاحب ڈاکخانہ سرمرہ بروز چہار شنبہ ۴ ذیقعدہ ۱۳۳۳ھ
ورثۃ الانبیاء کیاحکم دیتے ہیں اس مسئلہ میں کہ منجانب میت جو قربانی دی جائے اس گوشت کو کس طرح تقسیم کیا جائے، اس کا رواج ہے کہ ایک حصہ خویش واقرباء اور ایک وقف علی المساکین اور تیسرا حصہ وقف کیا جاتاہے۔ مع دلیل جواب ارشاد ہو۔بینوا توجروا
الجواب :اس کے بھی یہی حکم ہیں جو اپنی قربانی کے کہ کھانے، کھلانے، تصدق، سب کا اختیار ہے اور مستحب تین حصے ہیں، ایک اپنا ، ایک اقارب، ایک مساکین کا، ہاں مگر میت کی طر ف سے بحکم میت کرے۔ تو وہ سب تصدق کی جائے۔
ردالمحتارمیں ہے :
من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اضحیۃنفسہ من التصدق والاکل والاجر للمیت و الملک للذابح قال الصدر والمختار انہ ان بامر المیت لایاکل منہا والا یاکل ''بزازیۃ'' ۱؎۔
اگرمیت کی طرف سے قربانی کی تو صدقہ اور کھانے میں اپنی ذاتی قربانی والا معاملہ کیا جائے اور اجر وثواب میت کے لئے ہوگا اور ملکیت ذبح کرنے والے کی ہوگی، فرمایا صدر نے اور مختاریہ ہے کہ اگر میت کی وصیت پر قربانی اس کے لئے کی تو خود نہ کھائے ورنہ کھائے۔ بزازیہ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۳۰۷)
اور فقیر کا معمول ہے کہ قربانی ہر سال اپنے حضرت والد ماجد خاتم المحققین قدس سرہ، العزیز کی طر ف سے کرتاہے اور اس کا گوشت پوست سب تصدق کردیتاہے اور ایک قربانی حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے کرتا ہے اور اس کا گوشت پوست سب نذر حضرات سادات کرام کرتاہے۔
تقبل اﷲ تعالٰی منی ومن المسلمین (آمین) ،
(اللہ تعالٰی میری طرف اور سب مسلمانوں کی طرف سے قبول فرمائے، آمین۔ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: از قصبہ حافظ گنج ضلع بریلی مرسلہ رحیم بخش منہار ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
گوشت قربانی کا جو بقر عید میں اہل اسلام میں ہوتاہے وہ اہل ہنود کو دیا جائے یانہیں؟ اس مسئلہ کی ہم کو ضرورت ہے ۔ جواب سے مطلع فرمائے گا۔
الجواب : قربانی اگر فقیر نےکی ہو اس کا گوشت کسی کافر کو دینا جائز نہیں، اگر دے گا تو اتنے گوشت کا تاوان دینا لازم ہوگا اور اگر غنی نے کی تو ذبح کرنے سے اس کا واجب ادا ہوگیا، گوشت کا اسے اختیارہے مگر مستحب یہ ہے کہ اگر اس کے تین حصے کرلے، ایک حصہ اپنے لئے، ایک عزیزوں خویشوں کے لئے، ایک تصدق کے لئے، یہاں کے کفار کو دینا ان تینوں مدوں سے خارج ہے۔ لہذا انھیں دینا خلاف مستحب ہے۔ اور اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑ کر دینا حماقت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: ازچتور گڑھ محلہ چھیپیاں مسئولہ جمیع مسلماناں گنہ گار ۱۵ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کا عقیقہ کا گوشت کافر کو دینا جائز ہے یا ناجائز؟ اسی طرح قربانی کے رودہ اور آنت کا کافر کودینا کیسا؟ اور اگر کسی نے نہ جاننے کی حالت میں گوشت یا رودہ وغیرہ دلایا تو اس کی قربانی ادا ہوئی یانہیں؟
الجواب : آنت کھانے کی چیز نہیں، پھینک دینے کی چیز ہے۔ وہ اگر کافر لے جائے یا کافر کو دی جائے تو حرج نہیں۔
الخبیاث للخبیثین والخبیثون للخبیث ۱؎۔
خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے اور خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے۔ (ت)
(۱؎القرآن الکریم ۲۴ /۲۶)
یہاں کے کافرو ں کو گوشت دینا جائز نہیِں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے۔
والطیبت للطیبین والطیبون اللطیبت ۲؎۔
طیب چیزیں طیب لوگوں کے لئے اور طیب لوگ طیب چیزوں کے لئے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۴ /۲۶)
پھر بھی اگر کوئی اپنی جہالت سے دے گا قربانی میں کوئی حرج نہ کرے گا۔ وھو تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۳: مسئولہ اکبر یار خاں باشندہ سوداگری محلہ بریلی سوداگر چشمہ بروز جمعہ ۱۱ ذوالقعدہ ۱۳۳۲ھ
ایک شخص نے ایک قربانی میں تین (عہ) آدمیوں کے نام جو مرگئے ہیں، کیا، وہ فرماتے ہیں قربانی درست ہے یانہیں؟
عہ: اصل میں بیاض تھی اندازہ سے درست کیا۔
الجواب :قربانی اللہ عزوجل کے لئے کی، اور اس کا ثواب جتنے مسلمانوں کوپہنچانا چاہا اگر چہ عام امت مرحومہ کو تو قربانی درست ہوگی، اور ثواب سب کو پہنچے گا، اور اگر ان تینوں نے اپنی طر ف سے قربانی کی وصیتیں کی تھیں، تو ہر ایک کے مال سے جدا قربانی لازم ہے۔ ایک قربانی د وکی طرف سے نہیں ہوسکتی اگر کی جائے تو کسی کی طرف سے نہ ہوگی محض گوشت ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ : از سیتاپور ڈاکخانہ خیرآباد مدرسہ نیازیہ مرسلہ شکور اللہ صاحب ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے نیت قربانی کی او ر عمرو نے عقیقہ کی نیت ، جانور واحد معین میں کرکے جانور حلال کیا اور دونوں نے آپس میں برابر گوشت تقسیم کرلیا، عمرو کا عقیقہ اورزید کی قربانی صحیح ہوئی یانہیں؟
الجواب : گائے یا اونٹ میں دو سے سات تک شریک ہوسکتے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ کسی طرح باہم حصہ کریں جبکہ ایک حصہ سے کم نہ ہوجائزہے۔ ہاں اگر ایک نے سوا چھ حصے لئے دوسرے نے پون ،تو وہ جانور نرا گوشت ہوگیا، قربانی وعقیقہ کچھ نہ ہوا، نہ اس پون والے کا نہ سوا چھ والے کا، کہ ایک حصہ سے کم میں تقرب نہیں ہوسکتا، اور جب اس کے ایک جز میں نہ ہوا تو کسی جز میں نہ ہوا اللہ عزوجل ہر شریک سے غنی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتاہے کہ بعض اس کے لئے اور بعض غیر کے لئے جس کا یک ذرہ غیر کے لئے ہو وہ کل غیر کے لئے ہے۔ یہاں جبکہ دو شخصوں میں گائے نصفا نصف ہے تو ہر ایک کے ساڑھے تین حصے ہوئے۔ ایک حصہ ٹوٹا مگر اورسالم حصے موجود ہیں، اور قربانی عقیقہ دونوں اللہ ہی کے لئے ہیں لہذا دونوں صحیح ہوگئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔