Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
90 - 126
مسئلہ ۲۲۳: مرسلہ صاحب علی طالب علم از جاورہ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ

ایک گائے کو چھ شخصوں نے قربانی کی، ایک کے دو حصے نفلی اور پانچ شخصوں کے واجبی، تو کیا دو حصہ والا شخص بعد ذبح گائے، قبل تقسیم گوشت کے ایک حصہ میں دوسرے شخص کو شریک کرسکتاہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: قربانی اراقہ دم کا نام ہے اور اب اراقہ دم ہوگئی تو دوسرے کی طرف اس کا انتقال ناممکن ہےہاں اس کا ثواب یا گوشت جسے چاہے دے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴ : از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ عزیز احمد فرید پوری ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی عید الاضحی کے پوست کی قیمت گوشت کی طرح تین حصوں میں پر تقسیم کی جائے یا تمام وکمال قیمت خیرات کردی جائے، اور کھال کا اپنے صرف میں لانا صاحب قربانی کے لئے جائز ہے یانہیں؟ اور کھال قربانی کی قیمت سید کو دینا جائزہے یانہیں؟ درصورت عدم جواز کوئی شرعی حیلہ تحریر فرمائیے۔ بینوا توجروا
الجواب : کھال اپنے تصرف میں صرف کرنا لاسکتاہے جس میں کھال باقی رہے۔ مثل مشک، ڈول یا کتاب کی جلد بناسکتاہے، کھال اگر اپنے خرچ میں لانے کی نیت سے داموں کو بیچی تو وہ دام تمام خیرات کرے، یعنی فقیر محتاج مصرف زکوٰۃ کو دے، سیدکو نہیں دے سکتا، اور اگر سیدکو دینے کی نیت سے بیچی تو وہ دام سید کو دے، تین حصوں کاحکم گوشت میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۵:از موضع ڈوالہ ویرم تحصیل ضلع امرتسر مرسلہ میاں شمس الدین صاحب حنفی قادری ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ

مولوی غلام قادر صاحب بھیروی نے مسئلہ قربانی اور کتاب اسلام میں لکھا ہے کہ اگر غنی قبل از ایام عید قربانی خریدے وہ واجب بالنذر ہوجائے گا وہ سب گوشت فقراء کو صدقہ کرے آپ نہ کھائے، ایسے ہی فقیرجس پر قربانی واجب نہیں، لیکن اس نے کتاب کا حوالہ نہ دیا، اس لئے بعض جہلاء احناف کو تردد ہے۔ براہ مہربانی حوالہ کتب سے ارشاد ہو، اوریہ بھی تحریر فرمائیں کہ کس قرینہ میں قربانی قبل از عید بعد طلوع آفتاب عندالحنفیہ جائزہے۔ یا باوجود قریہ جامع ہونے کے بھی بعد طلوع قربانی درست ہے کیونکہ کتب فقہ میں لفظ دیہ یعنی گاؤں واقع ہے اور بعض کتب میں لکھا ہے کہ جس گاؤں میں چند کس حر بالغ آزاد ہو جمعہ واجب ہے۔ جب جمعہ واجب ہوا تو عید بھی وہاں درست ہوگی، پھر بعد عید قربانی ہوگی یا بعد طلوع قبل از عید؟ جواب بواپسی ڈاک مرحمت ہو۔ والسلام۔
الجواب : فقیر اگر بہ نیت خریدے اس پر خاص اس جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ اگر جانور اس کی مالک میں تھا اورقربانی کی نیت کرلی یا خریدا، مگر خریدتے وقت نیت قربانی نہ تھی، تو اس پر وجوب نہ ہوگا، غنی پر ایک اضحیہ خود واجب ہے۔ اور اگر اورنذر بصیغہ نذر کرے گا تو وہ بھی واجب ہوگا۔ اس عبارت میں بھی یہی ہے کہ واجب بالنذر ہوجائے گا یعنی نذر کئے سے واجب ہوگا نہ کہ غنی پر مجرد خریداری سے،
درمختارمیں ہے :
تصدق بہا ناذر وفقیر شراہا لو جوبہا علیہ بذٰلک (ملخصا) ۱؎۔
نذر والا اور فقیر جس نے قربانی کی نیت سے خریدا تھا، یہ صدقہ کرینگے کیونکہ نذر اورخریدنے کی بنا پر ان پر واجب ہوگیا تھا (ملخصا) ۔ (ت)
(۱؎درمختار     کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۳۲)
ردالمحتارمیں ہے:
فلو کانت فی ملکہ فتوٰی ان یضحٰی بہا، او اشتراھا، ولم ینوالاضحیۃ وقت الشراء ثم نوی بعد ذٰلک لایجب، لان النیۃ لم تقارن الشراء فلا تعتبر، بدائع ۲؎۔
اگر بکری اپنی ملک میں تھی تو نیت کرلی کہ اس کی قربانی کرے گا یا خریدتے وقت قربانی کی نیت نہ کی ہو پھر بعد میں قربانی کی نیت کی تو اس سے اس پر قربانی واجب نہ ہوگی کیونکہ خریدتے وقت ساتھ نیت نہ کی لہذا بعد کی نیت معتبرنہ ہوگی، بدائع (ت)
 (۲؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۰۴)
درمختارمیں ہے:
لوماتت فعلی الغنی غیرھا الا الفقیر، ولو ضلت او سرقت فشری اخرٰی فظہرت فعلی الغنی احدھما وعلی الفقیر کلامہا شمنی ۳؎۔
          اگر مرجائے تو غنی پر دوسری واجب ہے فقیر پر نہیں، اور اگر گم ہوجائے یا چوری ہوجائے تو دوسری خریدی اور پہلی مل گئی تو غنی پر ایک ہی لازم ہوگی جبکہ فقیرپر دونوں کی قربانی واجب ہوگی شمنی (ت)
(۳؎ درمختار     کتاب الاضحیۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۳۳)
جو شہر نہ ہو اس میں نہ نماز جمعہ ہے نہ نماز عید، سو دوسو کی آبادی کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ اس میں متعدد محلے ہوں، دائم بازار ہوں، وہ پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں، اس میں فصل مقدمات پر کوئی حاکم مقرر ہو وہ شہر ہے جہاں ایسانہیں صبح سے قربانی جائز ہے
ھو الصحیح الذی علی المحققون کما فی الغنیۃ
 (وہی صحیح ہے جس پرمحقق حضرات ہیں، جیسا کہ غنیہ میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سات شخصوں نے ایک راس گائے واسطے قربانی خرید کی، وہ گائے فرار ہوگئی، اس کو ہر چند تلاش کیا سب کانجی ہاؤس اور اس شخص کے مکان پر اور اس کے نواح میں بھی جہاں سے اس کو خرید اتھا، آج وہ گائے بفضلہ تعالٰی ہاتھ آگئی، اب اس گائے کے واسطے کیا حکم ہے اور کس طرح سے ہم کو ثواب قربانی کا حاصل ہوگا؟
الجواب : ساتوں شخص اس گائے کو زندہ خیرات کردیں کسی فقیر کو دے ڈالیں، بیان سائل سے معلوم ہوا کہ ان میں پانچ شخص صاحب نصاب تھے۔ ان پانچوں پر واجب تھا کہ اگر وہ گائے گم ہوگئی تھی اور گائے یا بکریاں لے کر بارھویں تاریخ قربانی کرلیتے، اب کہ بارھویں گزرادی اور قربانی نہ کی، یہ پانچوں گنہگار ہوئے، ان پر تو بہ استغفار واجب ہے۔ اور گائے کی نسبت ساتوں پر واجب ہے کہ زندہ خیرات کردیں،
ردالمحتارمیں ہے :
ذکر فی البدائع ان الصحیح ان الشاۃ المشتراۃ للاضحیۃ اذا لم یضح بہا۔ حتی مضی الوقت یتصدق الموسر بعینہا حیۃ کالفقیر بلاخلاف بین اصحابنا فان محمدا قال وھذا قول ابی حنیفہ وابی یوسف وقولنا اھ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
   بدائع میں ذکر کیا کہ صحیح یہ ہے کہ جو قربانی کے لئے خرید شدہ بکری کی قربانی نہ کرسکا اور وقت گزر گیا تو غنی شخص اس زندہ کو ہی صدقہ کرے جیسا کہ فقیر کے لئے یہ حکم بلاخلاف ہمارے اصحاب میں ہے کیونکہ امام محمد نے فرمایا: یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف اور ہمارا قول ہے رحمہم اللہ تعالٰی، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الاضحیۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۳۴)
مسئلہ ۲۲۷: ۱۰ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پردیس میں ہے اس کی جانب سے اس کا کوئی عزیز قربانی کردے توفرض زید پر سے اتر جائے گا یا اجازت کی ضرورت ہے؟
الجواب : قربانی وصدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے تو بلااجازت ناممکن ہے۔ ہاں اجازت کے لئے صراحۃ ہونا ضروری نہیں دلالت کافی ہے۔ مثلا زید اس کے عیال میں ہے اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہونا ہے۔ یا یہ اس کا وکیل مطلق ہے۔ اس کے کاروبار کیا کرتاہے۔ ان صورتوں میں ادا ہوجائی گی۔
درمختارمیں ہے:
لاعن زوجتہ وولدہ الکبیر العاقل ولوادی عنہما بلااذن اجزا استحسانا للاذن عادۃ ای لو فی عیالہ ولا فلا قسہتانی ۱؎ عن المحیط، فلیحفظ،قلت ومسئلۃ القائم بامورہ بامرہ اظھر وازہر لو جود الا ذن ولو فی ضمن العام۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بیوی اور عاقل بالغ بیٹے کی طرف سے اس پر واجب نہیں، اوراگر ان دونوں کی طر ف سے اجاز ت کے بغیر ادا کردے تو استحسانا جائز ہے عادتا اجازت کی بناء پر یعنی جب عاقل بالغ بیٹا اس کی عیال میں شامل ہو ورنہ اجازت کے بغیر نہیں یہ قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے۔ تو اس کو محفوط کرلو۔ میں کہتاہوں اگر وہ بیٹا والد کے کام میں مشغول ہو والد کے حکم سے توپھر یہ مسئلہ زیادہ ظاہر اور بہتر ہے کیونکہ اذن پایا گیا کہ اگرچہ عام کے ضمن میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار   کتاب الزکوٰۃ باب صدقہ الفطر  مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۴۳)
Flag Counter