| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
مسئلہ ۲۱۳: مسئولہ عبداللہ عرف دین محمد صاحب ساکن شہر کہنہ بریلی محلہ روہیلی ٹولہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے ایک اہل ہنود سے گائے مبلغ (پینتالیس مہ للعہ) روپیہ میں خرید کی تھی، اس ہنود نے خرید کرتے وقت دریافت کیا تھا کہ تم کس واسطے اس گائے کولیتے ہو، میں نے اس شخص سے کہا کہ پالنے کو لیتاہوں اور اصل میں واسطے قربانی کے لی تھی، تو ایک مسلمان نے اس شخص سے کہا انھوں نے قربانی کے واسطے لی ہے۔ اور میں ریلوے کے بڑے بابوں کی ماتحتی میں کام کرتاہوں، وہ بھی اہل ہنود ہیں، اس نے بابوں سے آکر کہا کہ وہ میری گائے واپس کرادی جائے، انھوں نے میرے مکان پر آدمی روانہ کیا کہ اس کو مبلغ پانچ روپیہ نفع لےکر واپس کردوں میں نے نہیں واپس کی، میں کام پر اپنے گیا تو بابو نے کہا کہ وہ گائے واپس کردو، میں نے اس سے انکار کیا، تو انھوں نے ایک پولیس کے داروغہ سے بہت بڑا زور ڈال کرکہا، اور یہ بھی کہا کہ اگر نہیں دوگے تو ہم تم کو نوکری سے برخاست کردینگے، تو میں بسبب نوکری جانے کے پانچ روپیہ نفع لےکر گائے واپس کردی، اور مبلغ (چالیس للعہ) روپیہ کی فورا اور گائے قربانی کے واسطے لایا، اب اس میں سے دس روپیہ بچے اس کا کیا کیا جائے، اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ تم نے پانچ روپیہ لےکر گائے دی، اور میں نے مجبورا دی، اور مجھ کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ میری ملازمت جاتی تھی، اور مجھ کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ میں مال گودام ریلوے میں کام کرتاہوں شاید کچھ الزام نہ لگادیں، یہ وجہ تھی فقط۔ بینوا توجروا
الجواب : اگر وہ شخص صاحب نصاب ہے اور اگریہ بیان واقعی ہے تو اس پر کچھ الزام نہیں اور جو پانچ روپیہ نفع کے لئے ان کا تصدق کردینا چاہئے اوریہ گائے جو پانچ کم کرکے خریدی اس کمی کا کوئی معاوضہ اس پر نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۴ تا ۲۱۵ : از کرتوئی ضلع بدایوں مسئولہ برادرم عزیزم مولوی محمد رضاخاں صاحب سلمہ ۶ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ (۱) بحضور قبلہ وکعبہ دارین مدظلہم العالی بجاہ النبی الرؤف الرحیم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ سلامت سنت اسلام کے بعد عرض ہے کہ قربانی کی غرض سے دوگائیں خریدنے کو چماروں کو روپیہ دے کر بھیجا، وہ دو گائیں خرید لائے جو گراں قیمت ثابت ہوئیں، اس پر اور دو گائیں منگوائیں، وہ بھی بسبب گرانی قیمت کے، اور یہ کہ ان مؤخر گائیوں ہی سے ایک پرگابھن کاخیال ہے۔ جس نے فروخت کی وہ جولاہے کہتاہے کہ گابھن ہوگئی ہے مگر ابھی کہل تھن ہے۔ جس کو اور لوگ بھی گابھن کہہ سکیں، صرف دو جانیں کاخیال قربانی کا تھا آیا ان گائیوں کافروخت کرناجائز ہوگا یانہیں؟ ان کے عوض میں اپنی گائیں دے سکتاہوں یا نہیں۔ ایک گائے پارسال قربانی کے واسطے منگوائی تھی ( ان چاروں کو وقت آنے کے قربانی کے واسطے نامزد نہیں کیا، پارسال والی کو نامزد کردیا تھا) روانگی کے وقت لنگڑی ہوگئی بریلی جانے کے قابل نہ رہی اب اچھی ہے دو مہینہ بعد اندازا بپا چلے گی، اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ آیا وہ میرا مال ہے یا قربانی کا؟ (۲)قرآن مجید بائیں ہاتھ میں باوضو لے کر تلاوت جائز ہے یانہیں؟
الجواب : (۱) جان برادر از جان بہتر مولوی محمد رضا کاں سلمہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، جوگائے قربانی کےلئے تھی اور وہ لنگڑی ہوگئی اس اور اس کے عوض دوسری کردی، اب وہ گائے تمھارا مال ہے جو چاہو کرو، جب روپیہ دے کر گائیں خریدنے کو بھیجا اس سے اگریہ نیت تھی کہ دیکھنے کےلئے خریدتے ہیں جس کی قربانی مناسب جانیں گے کریں گے، ورنہ اورلیں گے تو وہ گائیں قربانی کے لئے مخصوص نہ ہوئیں اور ان کے بدلے اپنے پاس سے یا اور خریدکر قربانی کرو اور اگر مخصوص قربانی کے لئے خریدیں،اور آپ اس وجہ سے کہ یہ زائد قیمت کی ہیں، انھیں نہ کرنا چاہو، اور ان کے بدلے اپنے پاس سے یا کوئی اور لےکر ان سے کم قیمت کی قربانی کرو تو قربانی ہوجائے گی اور وہ پہلی گائیں بیچو یا رکھو اختیارہے۔ مگر ایسا کرنا جائزنہ ہوا کہ جب ان پر مخصوص قربانی کی نیت ہوئی تھی، تو ان کو اگر بدلتے تو ان سے بہتر سے بدلتے نہ کہ کمتر سے، جبکہ کمتر سے بدلا تو جتنی زیادتی رہی، اتنے دام تصدق کرنے کاحکم ہے۔ مثلا دس روپیہ کی گائے کی قربانی کو خریدی تھی پھر اس کے بدلے سات روپیہ کی قربانی کردی تو تین روپیہ تصدق کئے جائیں ، یہ تو سال گزشتہ کا علاج ہے اور ہر سال کہ ابھی قربانی نہیں ہوئی وہی پہلی گائیں اگر قربانی کے لئے خریدی تھیں خواہ نخواہی قربانی کی جائیں اور ان سے کم قیمت کی ہر گز نہی بدلی جائیں کہ قصدا خلاف کرکے جرمانہ دینا جسارت ہے بلکہ خلاف حکم کیا ہی نہ چاہئے، قربانی میں بالخصوص ارشاد ہوا کہ دل کی خوشی سے کرو کہ وہ صراط پر تمھاری سواریاں ہیں پہلو کو گراں سمجھ کرجودوسری خریدیں اور ان میں سے ایک گابھن ہے یانہیں۔بہر حال ان کا تم کو اختیارہےکہ سرکاری مطالبہ پہلی گائیوں سے متعلق ہوچکا اسی شرط پر کہ آدمی ارادہ سے بھیجے ہوں کہ جو جانور یہ لائیں قربانی کریں گے، نہ اس ارادہ سے کہ دیکھ مناسب سمجھیں گے کرینگے۔ (۲)قرآن مجید باوضو ہاتھ میں لےکر تلاوت کرسکتا ہے۔ جبکہ اس کے لئے کوئی وجہ ہو مثلا داہنا ہاتھ خالی نہیں یا تھگ گیا، والسلام۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶: مرسلہ امام علی صاحب از بمبئی ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو گائیں خریدی گئیں، شرکت میں قیمت جدا جدا نہ کی گئی چودہ حصے کئے گئے، قربانی کے بعد دونوں کا گوشت یکجائی ملاکر برابر حصوں میں تقسیم کردیا گیا، ایک گائے کم قیمت یعنی (صہ للعہ) کی اور دووسری (صہ صہ) کی ۔ ان چودہ حصوں میں ہر شخص کا برابر حصہ قیمت وگوشت میں کیا گیا،یہ صورت جواز کی ہوئی یا نہیں؟
الجواب : دونوں مشتریوں کی رضا سے اس میں کچھ حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۲۱ : از موضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب مورخہ ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ (۱) ایک شخص نے قصاب سے گائے منگائی اس نیت سے خریدکر کہ وہ آجائیگی تو جو شریک حصہ ہوں گے شریک سمجھ لوں گا۔ (۲) ای جگہ دیھا کہ فقراء کے گوشت میں آنت ، اوجھڑی بالکل ڈال کر تقسیم کرتے ہیں، دو حصوں میں نہیں۔ (۳) ایک جگہ دیکھا ہےکہ سر اورپیر سقے اور حجام کو، اور ایک پارچہ قصاب کو۔ (۴) بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ قربانی یا عقیقہ یا نیاز میں کھانا بھنگی کو دیتے ہیں۔ (۵) قربانی گائے میں نصف ایک شخص ہواور نصف میں دو شریک یا تین، درست یا نہیں؟ اور نصف میں چار ہوجائیں یہ کیونکر ہے؟ بینوا توجروا
الجواب (۱)جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲) یہ بیجا کرتے ہیں۔ مستحب یہ کہ تہائی حصہ گوشت کا فقیرں کو ملے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۳) سقے، حجام ، قصاب کا قربانی میں کوئی حصہ نہیں، دینے کا اختیار ہے۔ مگر قصاب کی اگر یہ اجرت قرار پائی تو حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۴)بہت برا کرتے ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔ (۵) نصف میں تین تک شریک ہوسکتے ہیں، اور نصف گائے ایک کی ہو،ا ور دوسرے میں چار شریک ہوں تو ان پانچوں یعنی کسی کی قربانی ادا نہ ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۲: از بلگرام شریف ضلع ہردوئی محلہ میدان پور مرسلہ حضرت سید ابراہیم میاں صاحب ۲۶ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو یا چار سات آدمیوں نے ایک گائے قربانی کے واسطے خرید کی منجملہ ان کے ایک شخص نے قیمت نہ وقت خرید کے ادا کی نہ بعد ، اور وہ شریک رہا، پس اس صورت میں کس کی یا اس کی قربانی میں حرج یا غیر جائز تو قربانی نہیں ہوا، جواب اس کا بحوالہ عبارت مرحمت فرمایا جائےکہ ضرورت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
الجواب : بیع نفس ایجاب وقبول سے تمام ہو مبیع ملک مشتری میں داخل اور ثمن ذمہ پر لازم ہوتی ہے ادائے ثمن حصول ملک کے لئے شرط نہیں اگر نہ دے گا تو بائع کا مدیون رہے گا مبیع میں ملک تام ہے۔
فی التنویر اذ وجدا (ای الایجاب والقبول) لزم البیع ۱؎۔
تنویر میں ہے۔ جب ایجاب وقبول پایا جائے بیع لازم ہوجاتی ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵)
اسی میں ہے:
وصح بثمن حال ومؤجل الی معلوم ۲؎۔
نقد اور ادھار مقرر مدت ہو تو بیع جائز ہے۔ (ت)
(۲؎درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶)
پس جب شرکائے مشترین مالک گاؤ تھے اور انھوں نے بہ نیت اضحیہ قربانی کی، سب کی قربانی اداہوگئی، ثمن کا مطالبہ اس شریک پر رہا اگر و ہ نیت قربانی سے دست بردار ہوکر اصلا ذبح نہ چاہتا یا خالی گوشت وغیرہ امور غیر قربت کی نیت سے ذبح چاہتا اور ایسی حالت میں بقیہ شرکاء بہ نیت قربانی ذبح کرلیتے تو کسی کی قربانی ادانہ ہوتی کہ ان میں ایک شریک کی نیت تقرب نہیں۔
فی التنویر ان کان شریک الستۃ نصرانیا او مرید اللحم لم یجز عن واحد ۳؎ ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
تنویر الابصار میں ہے اگر قربانی کرنیوالے کے ساتھ باقی چھ میں کوئی نصرانی یا گوشت کے ارادے سے شریک ہو تو کسی کی قربانی صحیح نہ ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۳؎درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳)