Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
88 - 126
مسئلہ ۲۰۴: از ضلع آرہ ڈاکخانہ وقصبہ دائی ساگر مسئولہ محمد یوسف

خصی  سال سے کم عمر والے کی قربانی جائز ہے یانہیں؟
الجواب : چھ مہینے تک کا ایسا فربہ مینڈھا کہ سال بھر والوں کے ساتھ ہو تو دور سے تمیز نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے اگر چہ خصی نہ ہو، اور بکرا سال بھیر سے کم کا جائز نہیں اگر چہ خصی ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۶ :  از ریاست جے پور سوائی تکیہ آدم شاہ گھاٹ دروازہ مرسلہ مولانا عبدالرحمن اعظمی مئوی صاحب مورخہ ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکرا بکری اگر سال بھر سے کسی قدر کم کا ہو مثلا گیارہ مہینہ یا کم وبیش کا ، تو اس کی قربانی جائز ہے یانہیں، اگر جائز نہیں تو اس جانور کو جس پر نیت قربانی کی ہوچکی ہے اور پورے سال بھرکا نہیں ہے۔ تو کیا کرنا چاہئے۔ اور اگر جائز ہے یک سال سےکم مدت کا، تو اس کتاب کا درج کردیا جائے تاکہ یہاں دیکھ کر اطمینان حاصل کیا جائے۔ بینوا توجروا
الجواب: بکرا بکری ایک سال سے کم کا قربانی میں ہر گز جائز نہیں، نہ اس پر قربانی کی نیت صحیح وہ اس کی ملک ہے جو چاہےکرے، قربانی کے لئے دوسرا جانور لے ہاں اگر یہ نیت کی ہو کہ آئندہ سال اس کی قربانی کروں گا تو اسے قربانی ہی کے لئے رکھے، اس کا بدلنا مکروہ ہے۔
درمختارمیں ہے :
صح ابن خمس من الابل۔ وحولین من البقر والجاموس وحول من الشاۃ والمعز ۱؎۔
پانچ سال کا اونٹ، دو سال کی گائے اور بھینس، اور ایک سال کی بکری اور بھیڑ، کی قربانی صحیح ہے۔ (ت)
(۱؎درمختار   کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۳۳)
ردالمحتارمیں ہے :
فی البدائع تقدیرھذہ الاسنان بما ذکر لمنع النقصان ولا الزیادۃ فلو ضحی بسن اقل لا یجوز و باکبر یجوز  وھو افضل ۲؎۔
 بدائع میں ہے کہ ان عمروں کا بیان جو مذکور ہا کمی کو روکنے کے لئے ہے زیادتی کو مانع نہیں، تو عمرمیں اگر قلیل سی کمی ہو تو جائزہوگا اور بڑا ہو تو جائز ہے جبکہ بڑا افضل ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الاضحیۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۰۵)
ہدایہ میں ہے :
لو اشتری بقرۃ یریدان یضحی بہا عن نفسہ ثم اشرک فیہا ستۃ معہ جاز استحسانا وفی القیاس لایجوز لانہ اعدھا للقربۃ فیمنع عن بیعہا تمولا، وجہ الاستحسان دفع الحرج والاحسن ان یفعل ذٰلک قبل الشراء، لیکون ابعد عن صورۃ الرجوع فی القربۃ وعن ابی حنیفۃ انہ یکرہ الاشتراک بعد الشراء لما بینا ۱؎ (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر اپنے لئے گائے خریدی تاکہ قربانی دے پھر بعد میں چھ اور شریک کرلئے تو استحسانا جائز ہے جبکہ قیاس کے لحاظ سے جائز نہیں کیونکہ اسے اس نے قربت کے طورت پر خریدا تو مال کے حصول کےلیے فروخت کرنا منع ہے اور استحسانا جوازکی وجہ یہ ہے کہ حرج نہ پیدا ہو اور بہتریہ ہے کہ خریدنے سے قبل حصہ دار بنائے تاکہ قربت کے معاملہ میں رجوع کی صورت پیدا نہ ہو، جبکہ امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی سے خریدلینے کے بعدشریک بنانا مکروہ ہے۔ (ملخصا) (ت)
  (۱؎ الہدایہ  کتاب الاضحیۃ  مطبع  یوسفی لکھنؤ    ۴ /۴۴۳)
مسئلہ ۲۰۷: مرسلہ عبداللہ خان از شہرانبالہ محلہ وکیل پور       یکم صفر ۱۳۳۵ھ

جناب مولانا صاحب! بعد سلام علیکم کے واضح ہو کہ بقر عید کی قربانی میں بکرا خصی جائز ہے یا نہیں، اور جو کہ قربانی کرے اس کو روزہ رکھنا جائز ہے کہ نہیں؟
الجواب : خصی کی قربانی افضل ہے اوراس میں ثواب زیادہ ہے۔ اور عید کے دن کا روزہ حرام ہے۔ ہاں پہلی سے نویں تک کے روزے بہت افضل ہیں اس پر قربانی ہو یا نہ ہو، اور سب نفلی روزوں میں بہتر روزہ عرفہ کے دن کا ہے۔ ہاں قربانی والے کو یہ مستحب ہے کہ عید کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے قربانی ہی کے گوشت میں سے پہلے کھائے، مگریہ روزہ نہیں، نہ اس میں روزہ کی نیت جائز، کہ اس دن اور اس کے تین دن روزہ حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: مرسلہ قاضی سید واجد علی صاحب مقام جاود ضلع ندسور ریاست گوالیار نیمچ دروازہ ۱۷ صفر ۱۳۳۵ھ

ایک بچہ بکری کا ہے اور وہ کتی کے دودھ سے پرورش پایا، اس کی قربانی کریں تو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : جب سال بھر کا ہوجائے اس کی قربانی جائز ہے۔
والمسئلۃ فی الخانیہ ۲؎ وغیرہا
(یہ مسئلہ خانیہ وغیرہا میں ہے۔ ت)
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
 (۲؎. فتاوٰی قاضی خاں  الصید والذبائح   نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۵۲)
مسئلہ ۲۰۹ : از بنگالہ میمن سنگھ قصبہ کھولا مرسلہ میاں جاں سرکار ۲۶ جمادی الاول ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،
ما قولکم رحمکم اﷲ تعالٰی
(اللہ آپ پر رحم کرے آپ کیا فرمان ہے) کہ ہندہ نے بکری پالی تھی، اس نے ایک بچہ جنا، بعدہ وہ بکری بقضائے الٰہی مرگئی اس بچہ کی ہندہ مذکورہ نے اپنے پستان کے دودھ سے پرورش کیا، پھر خصی کردیا، اب وہ بچہ بڑ اہوگیا، ہندہ اس کو قربانی کرنا چاہتی ہے۔ اگر قربانی رے تو ہندہ مذکورہ اور اس کے خاوند کواس کا گوشت کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :  بلا شبہ جائز ہے جس کے جواز میں اصلا گنجائش کلام نہیں، 

فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے :
لو ان جدیا غذی بلبن الخنزیر لا باس باکلہ، لان لحمہ لایتغیر وما غذی بہ یصیر مستھلکا لایبقی لہ اثر ۱؎۔
اگر بھیڑ کے بچے نے خنزیر کے دودھ سے غذا پائی تو اسکے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس سے اس کا گوشت متغیر نہیں ہوتا اور جو غذا اس نے کھائی وہ ختم ہوگئی اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں   کتاب الصید والذبائح     نولکشور لکھنؤ    ۴ /۷۵۲)
فتاوٰی کبری وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
الجدی اذا کان یربی بلبن الاتان والخنزیر ان اعتلف ایاما فلا باس ، لانہ بمنزلۃ الجلالۃ، والجلالۃ اذا حبست ایا مافعلفت لا باس بہا فکذا ھذا ۲؎۔
بھیڑکے بچے نے اگر گدھی کے دوھ یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائی اور پھرچند روز چارہ دکھایا تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ گندگی کھانیوالے جانور کی طرح ہے کہ جب اس کو چند روز قیدرکھا تو ا نے چارہ کھایا تو اس میں کوئی حرج نہیں تو یہ بھی ایسے ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     بحوالہ الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الذبائح الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۲۹۰)
اور شوہر کے حق میں اگر ضاعت کا خیال ہو تو محض جہل، اول تو عمر رضاعت کے بعد رضاعت نہیں، اور شوہر اتنی ہی عمر کا بچہ ہو بھی تو شیر زن مستہلک ہوگیا، گوشت کھانا دودھ پینا نہیں،
درمختارمیں ہے :
لایحرم المخلوط بطعام وکذا لو جَبَّنَہ، لان اسم الرضاع لایقع علیہ بحر، اھ ملخصا ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
طعام میں دودھ مخلوط ہوجانے سے حرمت پیدا نہیں ہوتی اور یونہی اگر دودھ سے پنیر بنالیا تو حرج نہیں کیونکہ دودھ پلانے کا اطلاق اس پرنہیں ہوتا، بحر اھ ملخصا۔ واللہ تعالی اعلم۔
 (۳؎ درمختار   کتاب النکاح باب الرضاع  مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۱۳)
مسئلہ ۲۱۰ تا ۲۱۲: مسئولہ سید منیر الدین پیشکار محلہ کلال ٹولہ گیا     ۱۱ محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا کسی نامعلوم شخص کا بیل یا گائے زید کے جانوروں میں شامل ہوگیا، اور زید نے اس کو پکڑ کر اپنے قبض وتصرف میں رکھا، اور ایام قربانی میں چونکہ وہ دو برس سے کم کا تھا اس لئے اس کو اپنی لڑکی کی گائے سے بلا علم لڑکی کے بدل کر اس لڑکی کی گائے کو قربانی دیا اور غیر سے ذبح کرایا اور اس غیر کو گائے کے کل قصہ مذکور سے واقفیت نہیں۔

(۱)ایسی قربانی جائز ہے یانہیں؟  (۲) ذبح کرنے والا گنہ گارہوگا یانہیں؟

(۳) تین سال کی گائے جس کے سینگ ہنوز نمودار نہ ہوئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) جانور کو تصرف میں رکھناحرام تھا، اسے بیٹی کی گائے سے بدلنا حرام تھا، اس گائے کی قربانی حرام تھی۔

(۲) ذابح پر اس کا ذبح کرنا حرام تھا، دونوں سخت گنہگارہوئے، پھر اگر بیٹی نے اپنے گائے کی قیمت نادانی میں اپنے باپ سے لے لی، تو اس کے باپ کی قربانی ادا ہوگئی ورنہ نہیں،
درمختار میں ہے :
یصح لوضحی شاۃ الغصب ان ضمنہ قیمتہا حیۃ ۱؎ ای قیمتہا لو کانت حیۃ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگرمغصوبہ بکری قربان کردی اور اس پر ضمان زندہ بکری والا دے دیا تو قربانی صحیح ہوگی واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎درمختار     کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۴)
 (۳) جب دوسال کا مل کی ہوگئی قربانی کے قابل ہوگئی اگر چہ سینگ نہ نکلیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter