فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
87 - 126
(۴) علامہ دمیری نے حیوۃ الحیوان الکبری میں صاف حصر فرمادیا کہ اون صرف ضان کے لئے ہوتی ہے، لفظ غنم میں فرماتے ہیں :
صوف الضان من شعر المعز واعز قیمۃ ولیس الصوٖ ف الاللضان ۴؎۔
بھیڑ کی اون بکری کے بالوں سے افضل اور قیمت میں گراں ہے اور اون صرف ضان کی ہے۔ (ت)
(۴؎ حیاہ الحیوان باب الغین المعجمہ (الغنم) مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۲۲)
اب بھیڑ کو ضان سے خارج ماننے والے پر لازم ہوگا کہ بھیڑ کی اون سے انکار، اور ان کی پشت پر بکری کے سے بال آشکارا کرے۔ وانی لہ ذٰلک۔
(۵) زبان عرب وخود قرآن شاہد ہے کہ نوع غنم میں صرف دو صنفیں ہیں : ایک وہ جسے عربی میں معز نر کو تیس،مادہ کو عنز، فارسی میں بز کہتے ہیں، دوسری جسے عربی میں ضان نر کو کبش مادہ کو، نعجہ فارسی میں گوسپند ومیش کہتے ہیں، رب العزت جل وعلا نے آیہ مذکورہ میں آٹھ ہی جوڑے بتائے، ضان،معز، ابل۔ بقر ہر ایک سے دو، مادہ ونر، اہل زبان نے معز کو خلاف ضان، ضان کو خلاف معز سے تفسیر کیا، معلوم ہوا کہ ان کے لئے ثابت نہیں ، قاموس میں ہے:
المعز خلاف الضان من الغنم ۵؎۔
بکری کی جنس میں معز الگ ہے ضان سے۔ (ت)
(۵؎القاموس المحیط فصل المیم باب الزای ''المعز'' مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۹۹)
اسی میں ہے :
الضائن خلاف الماعز من الغنم ''ج'' ، ضائن، اضأن ضانک اعزلہا من المعز ۱؎۔
مینڈہا غنم میں بکرے کے خلاف ہے۔ ضائن کی جمع اضأن ہے تیری بھیڑی اسے علیحدہ کرلے بکری سے (ت)
(۱؎ القاموس المحیط فصل الضاد باب النون (الضائن) مصطفی البابی مصر ۴ /۲۴۴)
مختار رازی میں ہے :
الضائن ضدالماعز، والجمع الضائن والمعز ۲؎۔
ضائن (مینڈھا) بکرے کی ضد ہے اس کی جمع ضان اور معز ہے۔ (ت)
(۲؎ مختار اصحاح تحت لفظ ضائن موسسۃ علوم القرآن بیروت ص ۳۷۶)
اسی میں ہے :
المعز من لاغنم ضد الضان ۳؎۔
معز غنم سے ہے ضان کی ضد ہے۔ ت)
(۳؎مختار اصحاح تحت لفظ معز موسسۃ علوم القرآن بیروت ص ۶۲۷)
مجمع بحار الانوار میں ہے :
فی ح شقیق مثل قراء ھذا الزمان کمثل غنم ضوائن ذات (عہ)صوف عجاف، ھو جمع ضائنۃ۔ وھی الشاۃ من الغنم، خلاف المعز ۴؎۔
ح میں بیان کیا، اس زمانہ کے قراء کی مثل میں شقیق جیسے ضوائن باریک کھال پر اون والی جس کی جمع ضوائن ہے۔ یہ بکری ہے جو معز سے مختلف ہے۔ (ت)
(۴؎ مجمع بحارا لانوار باب الضاد مع الہمزہ تحت الفظ ضائن مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ۳ /۳۸۲)
عہ: احتراز اعما اذا جزصوفہا فاستبان عجفہا والمقصود ان باطنہم علی خلاف ظاہر ہم ۱۲ منہ قدس سرہ،۔
یہ اجتنا ب ہے اس بھیڑ جس کی اون کاٹ دی جائے تو چمڑی برہنہ ہوجائے اور مقصد یہ ہے کہ ان کا ظاہر اون باطن چمڑی ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۱۲ منہ قدس سرہ، (ت)
کوئی ادنٰی فہم والا بھی نہیں کہہ سکتا کہ بھیڑ معز میں داخل ہے کیا بھیڑ کوفارسی میں بز کہتے ہیں، کیا مینڈھے کو عربی میں تیس، مادہ کو عنز بولتے ہیں، جنتا صاف ترجمہ بکرا بکری ہے لاجرم بھیڑ ضان ہی ہے اور ضان ہی میں داخل ہے، اور حکم ضان اسی کا حکم ہے۔ اسے قطعا شامل شیخ محقق قدس سرہ اشعۃ المعات میں فرماتے ہیں:
بدانکہ اضحیہ جائز نیست مگر از ابل وبقر وغنم وغنم دو صنف است، معز کہ آنرا بز گویند، وضائن کہ آنرا میش خوانند، ودر جمع ایں اقسام ثنی شرط ست، مگر از ضان کہ جذعہ ہم درست ست، و درست نیست از معز ۱؎۔
جان لینا چاہئے کہ قربانی صرف اونٹ، گائے اور بکری کی جائز ہے۔ بکری دوقسم ہے۔ ایک معز کی جس کو بز بکری کہتے، اور دوسری ضأن جس کو میشہ کہتے ہیں، ان تمام اقسام میں کامل سال شرط ہے۔ مگر ضان کہ ا س کا جذعہ بھی جائز ہے اور بکری (معز) میں یہ جائز نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیہ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۶۰۸)
کیا اس ارشاد سے بھی زیادہ کوئی تصریح صریح درکارہے۔ اور بفرض باطل اگر بھیڑ کو ضان میں داخل نہ مانئے اور اس کا اہل وبقر ومعز اونٹ گائے بکری سے نہ ہونا بدیہی، تو حاصل یہ رہے گا کہ کہ وہ بہیمۃ الانعام کی چاروں قسم سے خارج ہے، اور بالاجماع قربانی تو صرف انھیں چار قسم پر محدود ، تو بھیڑ اگر ضان نہیں، تو واجب کہ سرے سے اس کی قربانی بھی باطل ہو اگرچہ کتنی ہی عمر کی ہو، نہ یہ کہ قربانی جائز ہونےکو تو وہ ضان میں داخل اور ششماہہ جائز نہ ہونے کو ضان سے خارج، یہ جہل صریح وتعسف قبیح ہے غرض حکم واضح ہے۔ اور مسئلہ روشن، اور اس کا خلاف نہ بین، نہ مبین، بلکہ باطل بین، عبارت نہایہ منقولہ استفاء مذکورہ فتاوٰی کو اگر بعد ادراک معنی ضان لحاظ کیجئے تو صراحۃ ہمارا ہی مطلب اس سے ثابت اور تحقیق معنی ضان کی نظر سے دیکھئے تو راسا بے علاقہ وساکت، ہاں مجیب لکھنوی کو وجہ اشتباہ عبارت منح الغفار واقع ہوئی کہ
الضان ماتکون لہ الیۃ ۲؎
(ضان وہ جس کی چکّی ہوتی ہے۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ منح الغفار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۴)
(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار بحوالہ المنح الغفار دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۱۶۴)
وہم گزرا کہ الیہ خاص چوڑی چکی چکتی کو کہتے ہیں جس میں بکثرت چربی ہو، لہذا ضان بالتخصیص صنف دنبہ کا نام خیال کیا حالانکہ غنم میں الیہ مطلقا دم گوسپند کا نام ہے۔ کبر وصغر وطول وقصر وغیرہا کچھ اس میں شرط نہیں، نہایہ ابن اثیر ومجمع بحارالانوار میں ہے :
الیات جمع الیۃ وھی طرف الشاۃ ۳؎۔ الیہ
کی جمع الیات ہے اور وہ بھیڑ کی دم ہوتی ہے۔ (ت)
(۳؎ مجمع بحارالانوار باب الہمزہ مع اللام (الئی) مکتبہ دارالمدینۃ المنورۃ ۱/ ۹۷)
صراح میں ہے : اَلْیَہ بالفتح ذنب ۱؎ ۔ برہان میں ہے: ذنب بضم بمعنی دُم ۲؎۔
لاجرم فتاوٰی امام اجل قاضی خان وردالمحتار وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ اگر الیہ خلقۃ صغیر ومشابہ دم ہو رواہے۔
اگر اس کی چکّی چھوٹی دم کی مانند پیدائشی ہو تو جائز ہے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاضحیہ فصل فی العیوب نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۹)
یہ بعینہ ہمارے بلاد کی بھیڑوں کی صورت ہے ہم نے ان بھیڑوں کی دم کو تشریح کرکے دیکھا وہ ضرور گوشت اور چربی پر مشتمل ہوتی ہے بخلاف دم بز بس یہی فرق الیہ وذنب میں ہے۔ طول وقصر، عظم و صغر، و کثرت وقلت لحم وشحم کو ہر گز اس میں نہ لغۃ دخل ہے۔ نہ فقہا،
وھذا مما لا یخفی علی جاھل فضلا عن فاضل
(یہ کسی جاہل پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی ہو۔ ت)بات یہ ہے کہ جانوروں بلکہ آدمیوں کے بھی اعضاء صورت وہیئت بلکہ نفس وجود وعدم میں اختلاف ممالک سے مختلف ہوتے ہیں اس سے نہ وہ دو نوعیں ہوجائیں گے، نہ ان کے احکام مختلف فقیر نے بعض بلاد کے اونٹ دیکھے چھوٹے چھوٹے نہایت خوشنما بدن پر بڑے بڑے بال مشابہ بہ یال، پشت پر دو کوہان بلند و مرتفع، بیچ میں نشست کی جگہ خالی کہ سوار کو آگے پیچھے دو تکیوں کا کام دیتے، چینیوں کی ناکیں کس قدر پست وپہن، تاتاریوں کی آنکھیں چھوٹی، زنگیوں کے لب فروہشتہ وسطبر ہوتے ہیں ہنہ ناتیہ بین الاسکتین کہ خفاض کیا جاتاہے۔ زنان مغربیہ میں خلقۃ نہیں ہوتا، بعض اتراک وحوش کے عصعص پر لحمہ زائد بقدر ایک بالشت مثل ذُنب ہوتاہے۔ امام کمال الدین دمیری وعلامہ زکریا بن محمد بن محمود انصاری قزوینی نے ایک قسم کی بھیڑذکر کی جس کے چھ الیہ ہوتے ہیں، ایک سینہ پر، دو شانوں پر، ایک پیچھے دو رانوں پر، یہی اختلاف ممالک دم گوسپند میں ہے، ان دیار میں پتلی لمبی ہوتی ہے۔ جس میں اسی کے لائق گوشت اور چربی، عرب میں اکثر چوڑی چھوٹی قدرے زیادہ گوشت اور چربی مشتمل، اور بعض خوب پہن ودراز بکثرت لحیم شحیم، یہ کاہل وغیرہ میں کثیر الوجود ہے۔ اور بعض کی چکتی تو اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اسے چلنے سے معذور کردیتی ہے۔ ایک گاڑی بناکر اسے جوتنے اور دم گاڑی پر رکھ دیتے ہیں جسے وہ کھینچتی چلتی ہے۔ کیا ان اختلافات سے یہ انواع مختلف ہوجائیں گی، اور ان کے احکام جدا ، ایسا کوئی عاقل خیال نہیں کرسکتا،
عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات میں ہے : یجلب من الہند نوع من الضان علی صدرہ الیۃ وعلی کتفہ الیتان وعلی فخذیہ الیتان، وعلی ذنبہ الیۃ، وربما تکبر الیۃ الضان حتی تمنعہ من المشی فیتخذ لا لیتہا عجلۃ توضع علیہا، وتشد الی صدرہا فمتشی الضان وتجری العجلۃ الالیۃ علیہا ۱؎۔
ہندوستان سے ایک قسم کی بھیڑ لائی جاتی ہے اس کی چھاتی پر چکی، اس کے کندھوں پر دو چکیاں اور اس کی دونوں رانوں پر دو چکیاں اور اس کی دم پر ایک چکی ہوتی ہے۔ اور کبھی یہ چکی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اس کا بوجھ اس کے چلنے سے مانع ہوتاہے تو اس کی چکی کے نیچے ریڑھی بنائی جاتی ہے جس کو اس کی چھاتی سے باندھ دیتے ہیں تو وہ ریڑھی چکی کو اٹھائے پھرتی ہے۔ (ت)
(۱؎ عجائب المخلوقات وغرائب الموجوداست تحت لفظ ضان مصطفی البابی مصر ص۲۴۹)
اسی طرح حیاۃ الحیوان میں ہے :
الی قولہ تمنعہ من المشی ۲؎
(چکتی اس کے پلنے سے مانع ہے۔ تک)۔
(۲؎حیاۃالحیوان باب الضاد المعجمۃ تحت لفظ الضائن مصطفی البابی مصر ۲ /۶۳۴)
جسے اس قدر کافی نہ ہو ہمارا رسالہ
عربیہ ہادی الاضحیہ بالشاۃ الہندیۃ (۱۳۱۴ھ)
ملاحظہ کرے کہ بتوفیق علام تحقیق مرام بمالا مزید علیہ ہے۔