Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
86 - 126
مسئلہ ۲۰۴ : از بنارس محلہ کنڈی گڈٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
ماقولکم ایہا العلماء
(اے علماء کرام! آپ کاکیا ارشاد ہے۔ ت) اس مسئلہ میں کہ قربانی بھیڑ ششماہہ کی درست ہے یانہیں؟ اکثر حدیثوں میں جو لفظ جزعۃ من الضان آیا ہے ا س سے ششماہی بھیڑ مرا دہے یا دنبہ یا دونوں؟ عبارت نہایہ شرح ہدایہ مندرجہ ذیل سے معلوم ہوتاہے کہ قربانی ششماہی بھیڑ کی جائزنہیں، اسی پر مولانا استاذنا مولوی عبدالحی صاحب نے عمل فرمایا ہے۔ چنانچہ یہ مسئلہ مولوی صاحب مرحوم کے مجموعہ فتاوٰی کی جلد اول ص ۱۹۱ میں موجود ہے ۔
عبارت شرح ہدایہ :
ویجزئ من ذٰلک کل الثنی فصا عدا الا الضان فان الجذع منہ یجزئ والتقیید بالضان لان الجذع من الابل والبقر والغنم لا یجزئ منہا الا الثنی ۱؎۔ بینوابالکتاب تو جروا یوم الحساب۔
ان تمام جانوروں میں کامل سال یا اس سے زائد عمروالا جائز ہے ماسوائے بھیڑ کے کہ اس کا جذع یعنی کامل چھ ماہ والاجائز ہے، اور ضان یعنی بھیڑ کی قید اس لئے کہ اونٹ گائے اور بکری میں صرف کامل سال والا ہی جائز ہے۔ کتاب سے بیان کیجئے یوم حساب اجر حاصل کیجئے۔ (ت)
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی  کتاب الاضحیہ  مطبع یوسفی لکھنؤ  ۲/ ۲۷۹)
الجواب 

 شماہی بھیڑ کی قربانی بلا شبہ جائزہے جبکہ یکساں ہمجنسوں میں دور سے متمیز نہ ہوسکے۔
فی الدرالمختار صح الجذع ذوستہ اشہر من الضان ان کان بحیث لوخلط بالثنایا لایمکن التمیز من بعد ۲؎۔
درمختار میں ہے بھیڑ میں چھ ماہ کا جذع جو سال والے جانوروں میں خلط ہو تو امتیاز نہ ہوسکے تو وہ جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎درمختار   کتاب الاضحیۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۲ و ۲۳۳)
یہی شرط دنبہ میں ہے، اور دنبہ بھیڑ کی ایک ہی نوع ہیں اور دونوں کا ایک ہی حکم، اس قدر میں تو کسی کو کلام ہو ہی نہیں سکتا کہ جواز ششماہہ کاحکم احادیث صحیحہ وکتب فقہیہ میں بلفظ ضان واردہے۔ اب مدار صرف ادراک معنی ضان پر رہا، اگر یہ لفظ اس بھیڑ کو بھی شامل تو قطعا یہ بھی اس حکم میں داخل والا لا، مگر بالیقین معلوم کہ ضان وہی چیز ہے جسے فارسی میں میش، اردو میں بھیڑ، اور اسی کی ایک صنف کو دنبہ کہتے ہیں،عرب دونوں معزز ضان کے سوا نہیں جانتے، نہ یہاں تیسری نوع ہے
 (۱) قال اﷲ تعالٰی
ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعزاثنین ۱؎
مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی مرحوم موضح القرآن میں اس آیہ کریمہ کا ترجمہ فرماتے ہیں : پیدا کئے آٹھ نر ومادہ بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو ۲؎۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶/ ۱۴۳)     (۲؎ موضح القرآن    ۶/ ۱۴۳    مطبع مصطفائی انڈیا    ص۱۴۲)
دیکھو ں ضان کا ترجمہ بھیڑ کیا، اسی طرح مولانا رفیع الدین نے ترجمہ کیا، یونہی نفائس میں اس کا عکس یعنی بھیڑا کو میش نر وضان سے مترجم کیا۔ 

تحفۃ المومنین میں کہا : بھیڑ بہندی غنم ست ۳؎۔ پھر لکھا : غنم ضان ست ۴؎۔
 (۳؎ تحفۃ المومنین مع مخزن الادویۃ     الباء مع الہاء    نولکشورکانپور        ص۱۶۹)

(۴؎تحفۃ المومنین مع مخزن الادویۃ  الغین مع المیم     نولکشورکانپور     ص۴۲۵)
(۲) سب جانتے ہیں کہ بھیڑ کا ترجمہ میش ہے۔ اور اہل لغت نے یہی ترجمہ ضان کیا، منتخب رشیدی میں ہے :
ضان میش، ضائن میش نر ۵؎۔
 (۵؎ منتخب اللغات مع غیاث اللغات   باب الضاد مع النون  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۸۲)
صراح میں ہے :
ضائن میش نر خلاف ماعز۔ والجمع ضأن خلاف معز ۶؎۔
 (۶؎ الصراح فی لغۃ الصحاح    باب النون فصل الضاد       نولکشور لکھنؤ        ص۴۱۸)
تحفہ ومخزن میں ہے :
ضان بفارسی میش نامند ۷؎۔
(۷؎ تحفۃ المومنین مع مخزن الادویۃ  الضاد مع الالف  نولکشور کانپور  ص۳۹۷)
(۳) علمائے لغت وتفسیر حدیث وفقہ ضأن کی تعریف اون والی غنم فرماتے ہیں او رمعز کی تفسیر بالوں والی، مصباح المنیر واحیوۃ الحیوان وغیرہما میں ہے:
الضان ذوات الصوف من الغنم ۸؎ ۔
بکری کی اون والی جنس کا نام ضان ہے۔ (ت)
(۸؎ المصباح المنیر    الضاد مع الواؤ (الضأن)     مصطفی البابی مصر    ۲/ ۱۲)
تفسیر کبیر میں ہے :
لضان ذوات الصوف من الغنم والمعز ذوات الشعر من الغنم ۱؎۔
بکری کی اون والی جنس ضان ہے اور بالوں والی جنس معز ہے۔ (ت)
(۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)  تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳  المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳/ ۲۱۶)
معالم التنزیل میں ہے :
الضان والنعاج ھی ذوات الصوف من الغنم والمعز والمعزی ذوات الشعر من الغنم ۲؎۔
بکری کی اون والی جنس ضان اور نعاج ہے اور بالوں والی معز اور معزی ہے (ت)
 (۲؎ معالم التزیل علی ہامش تفسیر الخازن  تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳     مصطفی البابی مصر    ۲/ ۱۹۲)
جامع الرموز پھر ردالمحتار میں ہے :
الضان ماکان من ذوات الصوف والمعز من ذوات الشعر ۳؎۔
ضان وہ ہوتی ہے جو اون والی ہو اورمعز بالوں والی۔ (ت) اب یہ دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ بھیڑ کے بدن پر اون ہوتی ہے یا بال۔
 (۳؎ جامع الرموز     کتاب الزکوٰۃ     مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/ ۳۰۶)

(ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ     باب زکوٰۃ الغنم         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۱۹)
Flag Counter