Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
85 - 126
الحادی والعشرون : یاھذا اصنع واتبع ان اطعتنی ذھبت بک الی حیث یلمع الحق من دون حجاب ویزیل عنک کل تحیر واضطراب ، حقیقۃ الامر ان الاطراف فی الحیوان تجری مجری الاوصاف کما نصوا علیہ قاطبۃ ولذا لایقابلہا شیئ من الثمن، حتی انہ اذا اشتری جاریۃ فاعورت فی ید البائع قبل التسلیم لاینتقص شیئ من الثمن، وکذٰلک اذا اشتری جاریۃ فاعورت فی ید المشتری، ثم اراد ان یبیعہا مرابحۃ کان لہ ذٰلک من دون حاجۃ الی البیان کما فی الہدایۃ وشروحہا، کفتح القدیر و غایۃ البیان وغیرھما وان سالت سردت لک نصوصہا واوصاف الشیئ لا تدخل فی سنخ قوامہ، وقد افادوا کما علمت انہا کالاعراض المفارقۃ لا انتفاء للحقیقۃ بانتفائہا، فانعدام الالیۃ رأسا لایخرج الضأن عن الضانیۃ، کما لو خلق انسان بلاید لا یخرج عن الانسانیۃ، وانما مدار التعریف ھھنا ان ہذا الوصف لایوجدا لا فی ھذہ الحقیقۃ ینتقل الیہا الذھن منہ بہذہ الوجہ لا انہا لا توجد الابہ، فمعنی قول القائل الضأن ماھو الیۃ النوع الذی تتحقق فیہ الا لیۃ الا انہ لایکون ضانا مالم تکن لہ الیۃ، اتقن ھذا فقد جلیت لک جلیۃ الحال بغیر مریۃ۔
تنبیہ بست ویکم حیوان کے اعضاء کا حکم :  میر ی مانو تو میں تم کو نورحق کے سامنے کھڑا کروں گا، جہاں کوئی حجاب نہ ہوگا، اور ہر قسم کے خطرات دور ہوجائیں گے۔

واقعہ ہے کہ جانوروں کے اعضاء وجوارح اوصاف کے مرتبہ میں ہوتے ہیں جس کے مقابلہ میں دام کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس پر سارے فقہاء کا اتفاق ہے۔

''کسی نے ایک باندی خریدی، ابھی بائع کے ہی پاس تھی کہ بھینگی ہوگئی، دام میں سے کچھ کم نہ ہوگا، یونہی کسی نے باندی خریدی، وہ مشتری کے قبضہ میں اگر بھینگی ہوگئی اور مشتری کسی دوسرے کے ہاتھ اس کو منافع پر (مرابحۃً) بیچنا چاہتاہے تو اسے بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ میرے یہاں آکر عیبی ہوگئی ہے۔''

میں اس موضوع پر کثیر نصوص پیش کرسکتاہوں کہ اطراف حیوان کا حکم اوصاف کاہے۔ اور اوصاف کسی شے کی حقیقت میں داخل نہیں ہوتے جیسا کہ علماء نے بیان فرمایا ہے۔ اور آپ بھی جانتے ہوں گے یہ ان اعراض مفارقہ کی طرح ہیں جن کے انتفاء سے حقیقت منتفی نہیں ہوتی، تو ضان بھی چکتی نہ ہونے کی صورت میں ضان سے نہیں نکل سکتا، جیسے وہ آدمی آدمی ہی رہتا ہے جس کے پیدائشی ہاتھ نہ ہو، اس وصف کے ساتھ تعریف کرنے کا مقصد صرف یہ ہوتاہے کہ یہ وصف اس حقیقت میں پایا جاتاہے تو اس وصف سے ذہن صرف اس حقیقت کی طرف منتقل ہوجاتاہے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ حقیقت اس وصف کے بغیر پائی نہیں جاتی تو ''ماتکون لہ الیۃ'' کا مطلب یہ ہوا کہ ضان جانور کی وہ قسم ہے کہ ا س میں چکتی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ بے چکتی کا ضان ہوگا ہی نہیں۔اسی کو ذہن کیں راسخ کرکہ میں نے تیرے لیے روشن حال کو بغیر کسی شک کے وضح کیا ۔
الثانی والعشرون : ھذا ما سایرناک فیہ، وانت تزعم ان الالیۃ ھی الضخمۃ الکبیرۃ العریضۃ السمینۃ المحتویۃ علی لحم کثیر وشحم غزیر، المعروفۃ فی لسان الہند بچکتی، وھو زعم باطل لادلیل علیہ، وانما الا لیۃ طرف الشاۃ لا یشترط فیہا کبر ولا صغر ولا طول ولا قصر، قال فی مجممع البحار نقلا عن نہایۃ ابن الاثیر الیات جمع الیۃ وھی طرف الشاۃ ۱؎ اھ وفسرھا فی القاموس بمارکب العجز من شحم ولحم ۲؎ اھ وقد شرحنا عن ذالعضو لہذا الحیوان الذی نتحاورفیہ فوجدناہ یحتوی علی لحم وشحم فتم معنی الالیۃ ۲؎۔وقد مناہ کلمات العلماء الکرام ان الالیۃ ان کانت صغیرۃ تشبہ الذنب جازت الاضحیۃ وھذہ الایا الشاۃ التی توجد فی بلادنا، فجزئیتہا منصوص علیہا فی الکتب المذہبۃ، وظہر انہا یصدق علیہا ما لہا الیۃ، وان ابیت الا اللجاج فابرز لنا ماعندک فی الحجاج واَبِنْ ماحد الیۃ ورسمہا، وعلی ای حدیجب ان یکون حجمہا بحیث لو صغرت عنہ لم تکن الیۃ وبین الالیۃ التی تشبہ الذنب خلقۃ، وکیف تکون ھذہ فی ہیأتہا، وکمک تکون فی بسطتہا واثبت کل ذٰلک بکلام ائمۃ الشان، لا بہوی النفس وھفوات اللسان، فان لم تفعل و لن تفعل فاقتف الحق حیث ظہر، فان من لم یرالشمس وھی بازغۃ، فعلیہ التسلیم لاھل النظر۔
 (۱؎ مجمع بحارا لانوار     باب الہمزۃ مع للام تحت (الی)     مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ     ۱/ ۹۷)

(۲؎ القاموس المحیط     با ب الواؤ والیاء فصل الہمزہ        مصطفی البابی مصر    ۴/ ۳۰۲)
تنبیہ بست ودوم چکتی کی بحث: اب تھوڑی دیر چکتی پر بحث ہوجائے ، آپ سوچتے ہوں گے کہ ''الیۃ'' (چکتی) جبھی ہوگی جب اس پر خوب گوشت ، چربی، اور وہ خوب چوڑی ہو، جس کو ہندی میں چکتی کہتے ہیں، تو یہ ایک زعم باطل اور بلا دلیل ہے۔ ''الیہ'' بکری کی دم کو کہتے ہیں، اس میں چھوٹے اور بڑے، لانبے اور ناٹے ہونے کی شرط نہیں، حوالے ملاحظہ ہوں، ''الیات'' الیۃ کی جمع، بکری کی دم کو کہتے ہیں۔ (مجمع نقلا عن ابن اثیر)

''ریڑھ کی آخری ہڈ ی پر جو چربی، یا چربی اور گوشت درنوں چڑھ جاتی ہے اسی کو الیہ کہتے ہیں (قاموس) اور بھیڑ کا بھی یہی حال ہے کہ اس کی دم پر بھی گوشت چربی الود ہوتاہے تو اس کو الیہ کون نہ کہے گا علماء کے حوالہ سے ہم لکھ آئے ہیں کہ معمولی چکتی والے کی قربانی جائز ہے۔ تو کیا یہی مسئلہ بھیڑ کا جزئیہ نہ تھا تو بیشک اس بھیڑ پر بھی لہا الیۃ کی تعریف صادق ہے۔ اور اگر اس پر بھی تسلی نہ ہو تو سوال یہ ہے کہ چکتی کی لمبان چوڑان کیا ہوگی کہ اس سے کم کو چکتی کے بجائے دم کہا جائے، اور زرا  اس چکتی کا بھی خیال رہے۔ جس کو فقہاء نے دم کی طرح چھوٹا کہا ہے۔ ظاہر ہےکہ یہ سب  باتیں ائمہ اعلام کے کلام سے ثابت کرنی ہوگی زبانی  جمع خرچ کی سند نہیں۔
الثالث والعشرون :  تقرر مما تحرر ان الفقہاء فسروا الضان بثلثۃ تفاسیر ذات الصوف وذات الالیۃ، وخلاف المعز من الغنم، وترجموہ بمیش، والقینا علیک ان عند بیان الاحکام لایجوز التعریف وکذا الترجمۃ الا بالمساوی، لما فی غیرہ من المساوی، فثبت ان الا ربعۃ بل الخمسۃ خامسہا بہیڑ، کلہا متساویۃ فیما بینہا ومساویۃ لمحدودھا وان کل ذات صوف، ذات الیہ، وبالعکس وانما مطمح النظر کما وصفنا الشان النوعی لا الفعلیۃ الفردیۃ کما ھو المرسوم فی کثیر من الرسوم، کالتحرک الارادی والمشی، والضحک، والکتابۃ، فی الحیوان والانسان، کما لایخفی علی ذوی الشان فظہران الذی بضئین بلا دنا الیۃ جزما، وان کان شابہ الذنب حجما وانہ المنصوص علیہ صورۃ وحکما وان لاخلاف بین التفاسیر، وان لیس ہنا باعم ولا اخص التفاسیر وان لیس ھنا باعم ولا اخص تفسیر وان الکل متحد مآلا، وان لاتثلیث فی الانواع بمالا الیہ ، ومالا۔ وانما کان کل ذٰلک شقشقۃ ھدرت عن واھمۃ بدرت ھکذ ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔
تنبیہ بست وسوم تعریفوں میں عدم تضاد: گزشتہ تحریروں سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ علماء نے ضان کی تین تفسیریں کی ہیں۔ اون والا چکتی و، معز کے علاوہ، اور فارسی والوں نے اس کا ترجمہ میش کیا اور ہم یہ ثابت کرآئے کہ احکام مخصوصہ کے بیان کے وقت ترجمہ ہو یا تعریف ،مساوی کے علاوہ نہیں ہوسکتی، تو پتہ چلا کہ مذکورہ بالا چاروں لفظ بلکہ ہندی کابھیڑ مل کر پانچوں لفظ آپس میں مساوی ہیں، ان کامحدود ومفہوم شے واحد ہے۔ تو جو اون والی ہے وہی چکتی والی ہے۔ اور جو چکتی والا ہے وہی اون والا ہے۔ اور جو چکتی والا ہے کیونکہ ایسے مواقع پر تعریف کا مقصد وصف نوعی بیان کرنا ہوتاہے، افراد کے وصف فعلی کا ذکر نہیں ہوتا کہ یہ تو عام طورپر رسم میں ملحوظ ہوتاہے۔ جیسے انسان اور حیوان کی تعریف میں تحرک ارادی یا مشی یا ضحک اور کتابت وغیرہ اوصاف ____ تو ہماری تقریر سے ثابت ہوگیا کہ بھیڑ کی دم جو ہمارے بلاد میں ہوتی ہے وہ چکتی ہی ہے۔ اور فقہ حنفیہ میں اس کی صورت اور حکم دونوں کا جزئیہ موجود ہے۔

اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ ان بظاہر مختلف تعریفوں میں کوئی تضادنہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں تعریف نہ تو اعم کے ساتھ خاص ہے نہ اخص کے ساتھ، بلکہ سب مساوی ہیں، اوریہ کہ غنم میں چکتی اور بے چکتی کی بنیاد پر ایک تیسیری قسم نہیں پیدا ہوتی، یہ سب دماغی خدشات اور وہمی خیالات ہیں۔
الرابع والعشرون :   بہ تبین ان صغر الالیۃ ودقتہا بحیث تشبہ الذنب کما فی اضؤنا ھذہ لیس من النقص فی شیئ ولذاجازت التضحیۃ معہ کما نصوا علیہ فزعم ان ھذا ناقص فلا یلحق بالکامل قول ناقص خالف نصوص الائمۃ الاکامل۔
تنبیہ بست وچہارم ناقص کامل کی نفی : یہ بھی واضح ہوا کہ بھیڑ کی دم میں کوئی کمی نہیں کہ کہا جائے وہ ناقص ہے اور چکتی کامل ہے۔ لہذا دنبہ کے ساتھ لاحق نہیں ہوسکتی۔
الخامس والعشرون: لئن تنزلنا عن کل ھذا وسلمنا ان الاالیۃ لہا فخ تاتی الخلافیۃ بین الامام الاعظم، والامام الثالث رضی اﷲ تعالٰی عنہما، ویجب بحکم الجواز بناء ان الفتوٰی علی قول الامام رضی اﷲ تعالٰی عنہ علی الاطلاق، ای مالم یتفق ائمۃ الفتیا علی الفتوی بقول صاحبہ اواحدھما کما نص علیہ فی الفتح والبحر والخیریۃ  ۱؂ وردالمحتار ۲؂  وغیرھا من معتمدات الاسفار، و قد سردنا نصوصہا فی کتاب النکاح من فتاوٰنا ھذا اذا لم یرجع قول الامام فکیف اذا رجع قول الامام فکیف اذارجح وقد رجح ھہنا قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ من نصوا علی انہ لایعدل عن تصحیحہ لانہ فقیہ النفس اتدری من ھو ھوالامام قاضی خاں کما قالہ العلامۃ قاسم فی تصحیح القدوری، ونقلہ السید الحموی فی غمز العیون ۳؂  وسید الشامی فی حاشیۃ الدر۔ فان کنت عارفا بہذہ المسالک مدرکا لتلک المدارک فقد عرفت تصحیحہ ھنالک وان لم تعرف فاسمع منی فانی لک زعیم بذٰلک الم ترہ قد قدم قول الامام وھو رحمۃ اﷲ تعالٰی کما صرح بہ فی صدرفتاواہ لانقدم الا الاظہر الاشہر، قال السیدان الفاضلان الطحطاوی والشامی فی حواشی الدر، ان مایقدمہ قاضیخاں یکون ھو المعتمد ۱؎ وانی قد احملت لک ھہنا القول، ظنا بک ان لک اشتغالا بالعلم فتکون قد وقفت علی ھذہ المطالب الدائرۃ السائرۃ الظاھرۃ الزاہرۃ فان خفی علیک شیئ منہا فراجعنی و لاتیأس من التفہیم فقد قلت لک انی لک باظہار کل ذٰلک زعیم، فثبت بحمداﷲ تعالٰی ان لو فض عدم الالیۃ، لہذا الحیوان لکان جواز التضحیۃ بہ ھوالمذہب وقول امامنا الاعظم الاوحد وھوالماخوذ الصحیح المعتمد، والحمد لہ الاحدا الصمد علینا ما اسبغ من نعم لاتعد۔
 (۱؂ بحرالرائق     کتاب القضاء  فصل المفتی         ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۶/ ۲۶۹)

(فتاوٰی خیریہ     کتاب الشہادات     دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۳۳)

(ردالمحتار      کتاب القضاء     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۳۰۲)

(۲؎ ردالمحتار     کتاب الہبۃ      داراحیاء التراث العربی یبروت    ۴/ ۵۱۳)

(۳؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ     الفن الثانی کتاب الاجارات     ادارۃ القرآن کراچی    ۴/ ۵۵)

(۱؎ ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ   باب العشر   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۵۵)
تنبیہ بست وپنجم امام اعظم کے فتوٰی کی بنیاد پر فیصلہ :  اور اگر ہم سب چھوڑچھا کریہی مان لیں کہ بھیڑ بے چکتی کا ہے تب بھی یہ انعام میں داخل ہے۔ تو قربانی کا جانور ہے اور اسی جانور کی قربانی جائز ہونے نہ ہونے میں امام اعظم اور امام محمد رحمہم اللہ تعالٰی کا اختلاف ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ ائمہ جب تک کسی مسئلہ میں امام اعظم کے خلاف کسی اور امام کے قول پر متفق نہ ہوں، فتوٰی امام کے قول پر ہے۔ یہ مسئلہ فتح، بحر، نہر، خیریہ ، شامی وغیرہ معتمد اسفار میں منصوص ہے، میں نے ان سب کو اپنے فتاوٰی کی جلد کتاب النکاح میں تفصیل سے نقل کیا ہے۔
یہ حکم تو امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے اس قول کا ہے جس کی ائمہ ترجیح میں سے کسی نے ترجیح نہ دی ہو، اور اس قول کی تو امام فقیہ النفس قاضی خاں نے ترجیح فرمائی ہے کہ اپنے اصول کے موافق اسی کو مقدم کیا، یہ مسئلہ بھی امام شامی اور امام طحاوی نے منصوص فرمایا۔

 پس ایسی صورت میں بھیڑ کی قربانی کے جواز کا فتوٰی دئے بغیر چارہ نہیں۔
تذییل الکتب السبعۃ التی اسندت الیہا لیس فی ثلثۃ منہا اعنی ذخیرۃ العقبٰی والدر المختار واشعۃ اللمعات اثر من التفسیرا لضأن بمالہ الیۃ بل فی الاول والثالث ما یرد علیک کما سمعت باذنیک واما عبارۃ تعلیق الممجد لبعض ابناء الزمان فقد کانت تستاھل ان ترد الی الحق، وتحمل علی مااعطاہ کلام العلماء بجعل الوصف لزیادۃ الکشف دون الاحترازبید انی احطت علما بان الرجل ینکر کون ضئین الہند من الضئین اعتراہ الوھم کما اعتراک انہا لا الیۃ لہا، وما یدررینی لعلک انما قلدتہ فیہ لکنہ وقف دونک ولم یتجاوز قدر تجاوزک بانکار التضحیۃ بہا اصلا، وانما زعم انہا لاتجوز التضحیۃ بجذع منہا، حیث قال فی فتیاہ بکری اور بھیڑ اور ایسے ہی گائے اور اونٹ چھ مہینہ کا نہیں درست ہے۔ فقط دنبہ مہینے کا درست ہے۔ فالظاھر ان مرادہ ھواالتقیید زعما منہ بان الصوٖف اعم من الالیۃ، لکن لیس کلام المنح الذی عزاالیہ بہذا الاسلوب، وانما عبارتہا کما نقل بنفسہ ثمہ، والسیدان الفاضلان الطحطاوی والشامی فی حواشی الدر ان الضأن ماتکون لہا الیۃ اھ فلیس فیہا ذکر الصوف، ثم التقیید بالالیۃ وبالیتک اذا قلدتہ اتمت تقلیدہ فلم تعدالی ما عددت من المحال، ولم تنسب المسلمین الی الضلال والاضلال ، وقد کان سألنی بعض تلامذہ ھذا العاصرا عنی صاحب التعلیق الممجد من بنارس فی اول ھذہ السنۃ عن فتیاہ المذکورۃ فاجیت باحرف تکفی وتشفی وبینت ان الجذع من ھذہ یجزی ویکفی ،و ماذکرنا ھہنا بتوفیق اﷲ تعالٰی،فہو حافل کافل بدفع کلاالوھمین، بل الرد الاشد علی من یجز التضحیۃ بہا لابجذعہا فانہ اذ قد جاز التضحیۃ فقد کانت من الانعام ولا انعام الا الانواع الاربعۃ واذ لیست من ابل وبقر ومعز۔ وجب ان تکون من الضان فوجب اجزاء الجزع منہا اذا کان بحیث لو خلط بالثنایالم یتمیز من بعد وﷲ الحمد تعالٰی من قبل ومن بعد، وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد والہ اجمعین کان الفراغ عن ھذہ العجالۃ المسماۃ ہادی الاضحیۃ بالشاۃ الہندیۃ (۱۳۱۴ھ) ۔
 (۱؎ مجموعہ فتاوٰی بعد الحی     کتاب الاضحیۃ     مطبع یوسفی فرنگی محل لکھنؤ    ۲/ ۲۷۹)

(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الاضحیۃ    دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۱۶۴)

(ردالمحتار    کتاب الاضحیۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۴)
تذئیل: آپ کے ساتھ مستند کتابوں میں سے تین (ذخیرہ عقبٰی ، درمختار، اشعۃ اللمعات) میں تو ضائن کی تفسیر میں ''بمالہ الیۃ'' کاکہیں پتہ نہیں، بلکہ ذخیرہ عقبٰی اور اشعۃ اللمعات میں توآپ کے مدعا کے خلاف ہے جیسا کہ مذکور ہوا لیکن صاحب تعلیق ممجدنے تو انھوں نے حق کی تلاش میں تساہل برتا، اور کلام علماء میں ذکر وصف کو زیادتی کشف کے بجائے قیداحترازی سمجھا اور بھیڑ کو ضان میں شامل نہ ماننے میں وہ بھی اسی طرح وہم میں گرفتار ہوئے جیسے آپ نے ''الیہ'' کے لفظ سے دھوکا کھایا، غلب ہے کہ آپ نے اس معاملہ میں انھیں کی تقلید کی ہو، مگر ان سے آگے بڑھ گئے، کیونکہ وہ تو صرف یہ کہہ رہ گئے کہ چونکہ یہ ضان نہیں اس لئے اس کے ششماہہ بچے کی قربانی جائز نہیں، اورآپ نے سرے سے اس کو قربانی کے جانور سے ہی خارج کردیا۔

یہ بات فاضل لکھنو کے فتوٰی سے ظاہر ہے وہ کہتے ہیں بکری اور بھیڑ، ایسے ہی گائے اور اونٹ کا چھ ماہہ درست نہیں ہے۔ فقط دنبہ چھ ماہہ درست ہے۔
اس سے اندازہ یہ ہوتاہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ ''منح الخالق'' کی عبارت میں (جس کا حوالہ انھوں نے دیا ہے) ضان کے بیان میں صوف کا ذکر ہے جس کو ''مالہ الیۃ'' سے مقید کیا ہے تو ا س کا مطلب یہی ہے کہ الیہ کی قید احترازی ہے حالانکہ خود ان کی عبارت اور امام طحاوی اور شامی کی روایت میں صوف کا ذکر نہیں ہے صرف مالہ الیۃ ہے۔ تو آپ کو بھی ان کی تقلید کرنی تھی تو اتنی ہی بات میں کرتے نہ کہ آگے بڑھ کر ایک محال بات کا دعوٰی کردیا، اور سب مسلمانوں کو گمراہ اور گمراہ گر کا خطاب دیا۔
مجھ سے لکھنوی صاحب کے ایک شاگرد نے ان کا یہ فتوٰی ذکر کرکے صورت حال دریافت کی تھی، میں نے چند جملوں میں اس کا خلاصہ لکھ دیا تھا، اور مسئلہ حق واضح کردیا تھا، یہ کلام تو اللہ تعالٰی کی توفیق سے حافل اور کافل ہے۔ ان دونوں وہموں کو دفع کرنے والا ۔ بلکہ اس کا تو رد شدید ہے جو ان کی قربانی جائز کرتا ہے۔ اور ان کے بچے کی نہیں۔

بلا شبہ بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ جو دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوا س کی قربانی جائز ہے
وصلی اللہ تعالٰی علی خیر خلقہ محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین
اس رسالہ
 ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الہندیۃ
سے ۱۳۱۴ھ میں فراغت حاصل ہوئی۔
Flag Counter