Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
84 - 126
 (الف) علماء اسلام کا فیصلہ ہے کہ
''قران فی اللفظ قراٰن فی الحکم''
لفظ میں ساتھ ہونا محکم میں ساتھ ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ اس لئے یہ بالکل ضروری نہیں ہے کہ
"مَالَہ شَعْر"
عام ہو تو
"مَالَہ صَوْف"
بھی عام ہو۔
 (ب) شاید اسی لئے قہستانی نے ضان کی تعریف میں
''مَاکَانَ مِنْ ذَوَاتِ الصُّوْفِ''
لفظ ماکان کے ساتھ، اورمعز کی تعریف میں صرف
''من ذوات الصوف''
لفظ ماکان کے بغیر کہا، یعنی یہ اسلوب بدلنا اسی لئے ہو اکہ ایک جگہ عام اور ایک جگہ مساوی مرادہو۔
 (ج) معز کی تعریف میں لفظ شعر، معز کے مساوی ہے۔ یہ خیال غلط ہےکہ عام ہے۔ ملا علی قاری وغیرہ علماء کے نزدیک بکری کے بال کو ہی شرع کہا جاتاہے، اس لئے بھینس اور گائے کے شمول کا کوئی سوال نہیں۔

''بیشک بال بکری کے ساتھ خاص ہے، جیسا وبر اونٹ کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن عظیم میں
''مِنْ اَصْوَافِہَا  وَاَوْبَارِھَا وَاَشْعَارِھَا ۱؎''
فرمایا کہ صوف ضان کے لئے، وبر اونٹ کے لئے، اور شعر بکری کے لئے، البتہ محاورہ میں مجازا دوسرے بال کے لئے بھی شعر کا اطلاق ہوجاتاہے''۔ (ملاعلی قاری مرقات زید حدیث زید)
 (۱؎ مرقات المفاتیح        کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیۃ الفصل الثالث    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۳/ ۵۷۸)
 (د)گائے، بیل اور بھینس سے اعتراض بیکار ہے کہ وہ یہاں مقسم میں شامل ہی نہیں، کلام تو غنم میں ہے کہ غنم کی دو قسمیں ہیں مالہ صوف ومالہ شعر، تو لفظ مساوی مان کر بھی حصہ کامل ہوگیا۔
الثامن عشر : کلا بل لا مساغ ھٰھنا لادعاء العموم، فان العلماء صرحوا ان الصوف مختص بالضان، قال العلامۃ کمال الدین الدمیری فی حیوۃ الحیوان لیس الصوف الاللضان ۱؎ اھ وقال الامام الرازی فی مفاتیح الغیب تحت الاٰیۃ المتلوۃ اٰنفا قال المفسرون واھل اللغۃ الاصواف للضان، والاوبار للابل۔ والاشعار للمعز ۲؎ اھ،
 (۱؎ حیوۃ الحیوان   باب الغین المعجمۃ تحت الغنم         مصطفی البابی مصر        ۲/ ۱۲۳)

(۲؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۱۶/ ۸۰         المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر        ۲۰/ ۹۲)
تنبیہ ہیزدہم لفظ ضان اور صوف کی تحقیق : ضان کی تعریف مَالَہ، صَوْف میں لفظ صوف ضان سے اعم ہوہی نہیں سکتا اور یہ کہنے کی گنجائش ہی نہیں کہ تعریف بالاعم ہے۔

کیونکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ صوف ضان کے بال ہی کو کہتے ہیں،
صوف صرف ضان کے بال کو کہتے ہیں (حیوۃ الحیوان دمیری)

O اہل تفسیر ولغت فرماتے ہیں کہ صوف ضان کا بال، وبر اونٹ کا بال اور شعر معز کے بال کے لئے خاص ہے۔ (مفاتیح الغیب للرازی)
وقال القاضی فی انوار التنزیل الصوف للضائنۃ، والوبرللابل والشعرللمعز ۳؎ اھ قال العلامۃ المفتی ابوالسعود فی ارشاد العقل الضمائر للانعام علی وجہ التنویع ای وجعل لکم من اصواف الضان والاوبار الابل، واشعار المعز اثاثا ۴؎ الخ وقال محی النسۃ فی المعالم یعنی اصواف الضان، واوبار الابل، واشعار المعز ۵؎ اھ، فلو وجد الصوف لشیئ من الانعام سوی الضان، والکنایۃ الالہیۃ انما ھی للانعام، ما ساغ لہم الحکم علی کلام اﷲ عزوجل بخصوص العنایۃ مع عموم الکنایۃ، وقد اسمعناک کلام المرقاۃ مفرقا فی موضعین، فاجمعۃ فانہ یدلک بفحواہ علی ان الصوف مختص بالضان، وہو المستفاد من تفاسیر اللغۃ، وبالجملۃ من عرب لسان العرب لم یعرب عنہ ان الصوف لیس الا للضان، فاما ان یعم افرادہ کما ھوا لواقع فمساو  او لا فاخص وعلی کل فلا تکون ذات الصوف الامن الضان، وقد اعترفت ان حیواننا ھذا من ذوات الصوف فوجب ان یکون من الضان وفیہ المطلوب باتم شان۔
(۳؎ انوار التنزیل (تفیسر البیضاوی)     تحت آیۃ  ۱۶/ ۸۰    مصطفی البابی مصر نصف اول        ص۲۷۷)

(۴؎ ارشاد العقل السلیم (تفسیر ابی السعود )     تحت آیۃ ۱۶/ ۸۰     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۳۳)

(۵؎ معالم التنزیل علی ہامش (تفسیر الخازن) تحت آیۃ ۱۶/ ۸۰    مصطفی البابی مصر        ۴/ ۱۰۷)
0صوف ضائنہ کے لئے، اور دبر اونٹ کے لئے اور شعر معز کے لئے (قاضی بیضاوی)

0 ضمائر الانعام کے لئے ہیں، اور اس کے ہر نوع پر تقسیم بھی ہے یعنی تمھارے لئے ضان کے صوف اونٹ کے وَبر اورمعز کے بال بنائے، (ارشاد العقل المفتی ابوالسعود)

0 یعنی ضان کے صوف، اونٹ کے وبر اور معز کے بال (تفسیر خازن)

کلام الٰہی میں ان تینوں ضمیروں کا مرجع جو تینوں بالوں کے ساتھ ہیں لفظ انعام ہے تو اگر فی نفسہ انعام میں سے کسی اور جانور کا بال بھی صوف کہلاتا، تومفسرین کو ہر گز یہ جرأت نہ ہوتی کہ اللہ تعالٰی نے کس عام فرمایا، یہ خاص کریں صاحب مرقات کے متفرق کلام جو ہم نے دو جگہ لکھا، ملاؤں تو ان کا فرمان بھی یہی ہے کہ صوف صرف ضان کے لئے ہے پس ایسی صورت میں صوف کو اگر دونوں (بھیڑ اور دنبہ) کے لئے عام مانا جائے تو مساوی کے ساتھ تعریف ہوئی ورنہ اخص کے ساتھ اعم کے ساتھ تعریف کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔

توثابت ہوا کہ ضان صوف والا ہے۔ اور ہمارا یہ جانور بھی صوف والا ہے۔ لہذا اب بات واضح طو رپر ثابت ہوگئی کہ بھیڑ بھی ضان ہی ہے،
التاسع عشر : کان من قولی فیما سلف مایدریک لعل الثلثۃ الاول ھی التفسیر بالمساوی ھذا بالاخص والاٰن اقول قابضا للعنان بعد ما ارخیت مالی ترجیت وقد قضیت، اما تفطنت بما فی السابع والحادی عشر القیت، ان لو قصرت الضانیۃ علی شیئ اخص من الصوف بطل حصر الغنم فی نوعین فوجب ان یکون التفسیر بالمساوی، والتعریف بذات الالیۃ التعریف بالاخص علی ما توھمت من معناھا والنظر حقیقۃ لم تبع مرماھا۔
تنبیہ نوزدہم تعریف بالا عم اور تعریف بالاخص :  میں نے پہلے کہا تھا، ہوسکتاہے کہ ضان کی پہلی تعریف لفظ مساوی سے ہو اور ''الیۃ'' چکتی والی تعریف اخص کے ساتھ ہو، اب میں قطعیت کے ساتھ اسی بات کو دہرا تاہوں کیونکہ میں بتاچکا ہوں کہ اعم مانتے ہیں ''غنم'' کا حصر اس کی دو نوعوں میں ختم ہوجائے گا، اور بھیڑ تیسری قسم ہوجائے گی۔
العشرون: ھل لک اجالۃ نظر فی کلمات الائمۃ الکرام، فانہم یتکلمون فیما اذا خلقت شاۃ بلا الیۃ ہل تجوز التضحیۃ بہا، فمذھب امامنا الاعظم والہمام الاقدم سراج الامۃ کاشف الغمۃ امام الائمۃ ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم ان نعم، وھو الاصح عند الائمۃ الشافعیۃ رحمہم اﷲ تعالٰی وقال محمد رحمہ اللہ تعالٰی لا تجوز التضحیۃ بشاۃ کذا وانا اسمعک اولا کلمات العلماء قال الامام الاجل فقیہ النفس فخر الدین الاوزجندی فی الخانیۃ، الشاۃ اذا لم یکن لہا اذاولا ذنب خلقۃ تجوز، قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لا یکون ھذا ولو کان لایجوز، وذکر فی الاصل عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ یجوز ۱؎ اھ ثم قال وان کان لہا الیۃ صغیرۃ مثل الذنب خلقۃ جاز  اما علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی فظاھر لان عندہ لو لم یکن لہا اذن ولا الیۃ اصلا جاز، فصغیرۃ الاذنین اولی، واما علی قول محمد رحمہ اﷲ تعالٰی صغیرۃ الاذنین جائزۃ، وان لم تکن لہا الیۃ والااذن خلقۃ لا تجوز ۲؎ اھ
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخاں     کتاب الاضحیۃ     فصل فی العیوب     نولکشور لکھنو،    ۴/ ۷۴۸)

(۲؎فتاوٰی قاضیخاں     کتاب الاضحیۃ     فصل فی العیوب     نولکشور لکھنو،   ۴/ ۷۴۹)
تنبیہ بستم ائمہ وعلماء کے فتاوے: یہ لطیفہ بھی قابل ملاحظہ ہے دنبہ جس کے چکتی ہوتی ہے اگر کسی کے خلقۃچکتی ہو ہی نہیں، اس کی قربانی جائزہوگی یا نہیں؟ امام اعظم ہمام اقدم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ''ایسے دنبہ کی قربانی جائزہے'' امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ''یہی صحیح ہے'' امام محمد بن حسن فرماتے ہیں: ''ایسے کی قربانی صحیح نہیں ہے''۔

بکری کا کان اور دم پیدائشی طور پر غائب ہو تو قربانی جائز ہے یا نہیں؟

امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔:۔ ''ناجائزہے۔''

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ـ:ـ ''جائز ہے ۔'' (فقیہ النفس امام قاضی خان)

اگر دنبہ کی چکتی دم ہی کی طرح خلقۃ چھوٹی ہو؟ ''امام اعظم جب بے کان اور دم کی جائز قرار دیتے ہیں تو چھوٹے کان میں کیا رکھاا ہے۔ یہ بھی جائز ہوگی''

''امام محمد کے یہاں صرف صغیر الاذن کی جائز ہے، خلقی کان چکتی نہ ہو تو جائز نہیں'' (قاضی خاں الامام فقیہ النفس)
وفی الاجناس ثم الخلاصۃ ثم الہندیۃ وعن الاخیرین، نقلت واللفظ للوسطی ، فی الاجناس ان کانت للشاۃ الیۃ صغیرۃ خلقت شبہ الاذن تجوز، وان لم تکن لہا الیۃ خلقت کذٰلک قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لا تجوز ۱؎ اھ وفی وجیز الامام الکردری التی لا الیۃ صغیرۃ تشبہ الذنب تجوز، وان لم تکن لہا الیۃ خلقۃ فکذٰلک وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لا تجوز ۲؎ اھ،
 (۱؎خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الاضحیۃ الفصل الخامس     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۲۱)

(فتاوٰی ہندیۃ   کتاب الاضحیۃ    الباب الخامس     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۹۷)

(۲؎ فتاوی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ   کتاب الاضحیہ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۲۹۳)
''اجناس میں ہے کہ اگر دنبہ کی چکتی کان کی طرح چھوٹی ہو قربانی جائز ہے۔ اور اگر مطلقا ہو ہی نہیں تو امام کے یہاں ناجائز ہے'' (اجناس، خلاصہ، عالمگیری ، اخیریین میں میں نے خود دیکھا عبارت خلاصہ کی ہے)

''وہ دنبہ کی اس کی چکنی چھوٹی دم کے مشابہ ہو یا ہو ہی نہیں اس کی قربانی جائز ہے، امام محمد کے یہاں ناجائز ہے۔'' (وجیز امام کردری)
وفی خزانۃ المفتین لا تجو زالسکار وھی التی لااذن لہا خلقۃ، کما لاذنب لہا خلقۃ اولا الیۃ لہا خلقۃ ۳؎ اھ فی الاناوار للامام یوسف الاردبیلی الشافعی تجزئ، التی خلقت بلاضرع اوالیۃ اوقرن ۴؎ اھ وفی حیوۃ الحیوان للکمال الدمیری الشافعی تجزئ الشاۃ التی خلقت بلا ضرع او بلا الیۃ علی الاصح ۵؎ اھ فظہر باتفاق القولین ان الا لیۃ لیست من ارکان حقیقۃ الضان بحیث ان لو عدمت لم تکن ضأنا، اما علی قول الامام الاعظم فظاھر فانہ یجیز التضحیۃ لہا وان لم تکن لہاالیۃ خلقۃ اصلا، واما علی قول محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی فلا نہ یتکلم علی شاۃ لاالیۃ لہا، فلو کانت الالیۃ رکن حقیقتہا لکان معنی قولہ ان لو لم تکن الشاۃ شاہ لم تجز الا ضحیۃ بہا، وھذا قول غسل رذل اشبہ شیئ بالہزل لایجوز صدورہ عن عاقل فضلا عن امام مجتہد کامل۔ فانظر الاٰن الی دندنتک این مدت عنک فی غایۃ ام قفار بل اجتثت من فوق الارض مالہا من قرار والحمد اﷲ علی توالی اٰلائہ کقطر المطروامواج البحار۔
 (۳؎ خزانۃ المفتین    کتاب الاضحیۃ   قلمی نسخہ   ۲/ ۲۰۷)

(۴؎ الانوار الاعمال الابرار)

(۵؎ حیاۃ الحیوان    باب الشین المعجمہ (الشاۃ)   مصطفی البابی مصر        ۱/ ۵۹۲)
''سکار جس کے خلقۃ کان نہ ہو اس کی قربانی جائز نہیں، ایسے ہی جس کی دم یا چکتی نہ ہو'' (خزانۃ المفتین)

''جس کے خلقۃ تھن یا چکتی نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے'' (امام ابویوسف اردبیلی شافعی)

''جو پیدائشی طو ر پر بے تھن اور چکتی کا جانور ہو صحیح یہی ہے کہ اس کی قربانی جائز ہے'' (حیوۃ الحیوان دمیری)

ان دونوں فتووں سے یہ ثابت ہو تاہے کہ چکتی ضان کی حقیقت کا جز نہیں کہ یہ نہ ہو تو جانور ضائن کے بجائے کچھ اور ہوجائے، امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قول پرتو یہ امر بالکل واضح ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر  بھی، کیونکہ بے چکتی شاۃ کی بات کررہا ہے اگر چکتی حقیقت کی جز ہو تو انکی عبارت ''لاالیۃ لہ'' کے معنی یہ ہوجائیں گے اگر بکری بکری  ہی نہ ہو تو اس کی قربانی ناجائز ہے: اور ایسی ردی عبارت تو کوئی عام عربی بھی نہیں بو ل سکتا ، چہ جائیکہ
امام للغۃ والفقہ امام محررالمذھب امام محمد رحمۃ اللہ علیہ۔
Flag Counter