| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
والخامس عشر الاوائل ان جوزوا التعریف بالاعم وھو الاقرب حیث لابُعد، کما قدمت فقد جوزوا التعریف بالاخص ایضا، والدلیل الدلیل فان عندھم لیس من شریطۃ التفسیر الا التمییز عن بعض مایغایر، وھو حاصل فی الکل بل قد یمکن ان یحصل بالمباین فالقصر قصور، بل لک ان تقول ان من قبل الاعم فہو الاخص اقبل، لانہ یمیز المعرف عن کل ماعداہ، کما ہو ظاھر وقد نص علیہ الحسن چلپی فی حواشی المواقف وغیرہ فی غیرھا،
تنبیہ پانزدہم متقدمین کا مسلک: متقدمین نے جس طرح اعم سے تعریف جائز رکھی (اور اس میں کوئی بعد بھی نہیں، جیساکہ ہم نے بھی بیان کیا) انھوں نے اخص سے بھی تعریف کو جائز رکھا اور مبائن سے بھی امتیاز ہوجائے تو اس سے بھی تعریف جائز ہوگی، کیونکہ ان کے یہاں جمیع ماعدا سے امتیاز ضروری نہیں، بعض مشترکات سے بھی تمیز حاصل ہوجائے تو تعریف جائز ہے۔ پس لفظ عام کی ہی کوئی خصوصیت نہیں رہی اخص بلکہ مبائن سے بھی تعریف جائز ہوئی۔ بلکہ اخص تو جمیع ماعدا سے ممتاز بھی کردیتاہے۔ البتہ کچھ فرد کو اپنے سے بھی خارج کردیتاہے۔
قال المحقق الشریف فی شرحہا اما المتقدمون فقد جوزوا الرسم بالاعم والاخص ، واید بان المعرف لابد ان یفید التمیز عن بعض الاغیار، واما عن جمیعھا فلیس شرطا لہ، فالمساواۃ شرط للمعرف التام دون غیرہ، حدا کان او رسما ۱؎ اھ وکذلک ایدہ ایضا فی حواشیہ علی شرح المطالع کما نقلہ چلپی فیہا، وقال قدس سرہ فی حواشیہ علی شرح الشمسیۃ الصواب ان المعتبر فی المعرف تمییزہ عن بعض ماعداہ، اما عن الکل فلا فالاعم والاخص یصلحان للتعریف ۲؎ اھ، وکذلک صححہ المولی العلامۃ بحرالعلوم قدس سرہ فی شرح السلم،
(۱؎ شرح المواقف المرصدالسادس المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۵، ۶) (۲؎ لوامع الاسرار ھاشیۃ علی شرح مطالع الانوار)
شہادتیں: O متقدمین نے اعم اور اخص دونوں سے تعریف جائز رکھی دلیل یہ دی کہ تما مشترکات سے تمیز دینا مقصود نہیں، بعض اغیار سے تمیز مقصود ہوتی ہے۔ البتہ معرف تام کے لئے مساوی ہونا ضروری ہے۔ اوریہ بات حد و رسم کے لئے عام ہے۔ (حاشیہ شرح موافق میر سید شریف وشرح مطالع حسن چلپی) O معرف میں بعض ماعدا سے امتیاز مطلوب ہوتاہے تمام ماعدا سے نہیں، توخاص اور عام دونوں تعریف کی صلاحیت رکھتے ہیں (شرح شمسیہ میر سید شریف)
فقال المتقدمون قالو ان کان الغرض الامتیاز عن کل ماعداہ، فلا یجوز الاالمساوی والاخص ، ان لم یکن الاعم ذاتیا لہ۔ وان کان الغرض الامتیاز عن بعض الاغیار، فیجوز بالاعم والاخص والمساوی، واما المباین فان کان یورث الامتیاز فلا حجر فی التعریف بہ لکنہ نادر جدا، ووجہ حقیۃ ھذا المذھب ظاہر، فان الحاجۃ الی جمیع الاقسام المذکورۃ ثابتۃ، فاسقاط البعض عن درجۃ الاعتبار غیر لائق ۱؎ اھ الکل مختصر واذا جاز الامران ، فمن این لک ان اطباق المترجمین قاطبۃ، علی التفسیر بمیش، وتفسیر اکابر العلماء من الفقہاء والمفسرین والمحدثین، واللغویین بذات الصوف، اوبخلاف المعز، وھوالخارج من جادۃ الجودۃ، دون تفسیر البعض لصاحبۃ الالیۃ، وما یدریک لعل الثلثۃ الاول ھی التفسیر بالمساوی، وھذا تفیسیر بالاخص ولم تکن بیدیک علقۃ شبہۃ تدعوک الی ما ادعیت الا الاغترار بہذا الفظ فحسب، وقد شرد عنک وبردلنا ما قدمنا ونذکر بعد وﷲ الحمد من قبل ومن بعد۔
(۱؎ شرح السلم لبحرالعلوم فصل المعرف الشیئ الخ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۱۸)
O متقدمین کہا کہ کل ماعدا سے امتیاز مطلوب ہو تو مساوی یا اخص کے سوا جبک عام اس کا ذاتی نہ ہو، کسی سے بھی تعریف جائز نہیں، اور اگر غرض بعض ماعدا سے امتیاز ہو تو اعم واخص اور مساوی سبھی سے جائز ہے۔ اور مبائن سے امتیاز ہوسکے، تو اس سے بھی تعریف جائز ہے لیکن ایک نادر الوجود بات ہے اور اس مذہب کی حقانیت ظاہر ہے کیونکہ وقت وقت سے ضرورت سارے ہی اقسام کی پڑی ہے۔ تو بعض کو ترجیح دینا اور بعض کو ترک کرنا غلط ہے (شرح سلم بحر العلوم) تو ثابت ہوا کہ عام کی کوئی تخصیص نہیں خاص و عام دونوں ہی سے تعریف ہوسکتی ہے پس آپ کو یہ حق کب پہنچتا ہے کہ علمائے محققین مفسرین و محدثین کی ان تینوں تعریفوں کی (میش، اون دار، خلاف ماعز) تو آپ ساقط الاعتبار گردانیں اور بعض حضرات نے ''صاحب الیہ'' تفسیر کردی تو وہ قابل اعتبار ہوگئی، کیا ایسا ممکن نہیں کہ وہ تینوں تعریفیں مساوی کے ساتھ ہوں، اور چکتی والی تعریف تعریف بالاخص ہو، ہمارے اس نظرئے کے خلاف خوش اعتماد کے سوا اور کوئی دلیل نہیں، تو مسئلہ بالکلیہ ہمارے موافق ہوگیا۔
السادس عشر : استشہادک بمن التبیعضیۃ ان تمشیئ، ففی عبارۃ شرح النقایۃ دون سائر عبارات التی نقلنا بعضہا، ثم لاحجۃ لک فیہا ایضا فان ما فی قولہ ما کان من ذوات الصوف ۱؎ للاستغراق والغردیۃ تاتی بالبعضیۃ فمن فی محلہا قطعا من دون دلالۃ علی عموم الحد، والمعنی ان الضان اسم کل فد من ذوات الصوف، کان تقول علی ما اشتھر باقتفاء، اٰثار الفلاسفۃ المبطلۃ ان الانسان اسم کل من کان من اھل النطق، افیفہم منہم ان الناطق یعم الانسان وغیرہ وانظر الی عبارۃ نفسک حیث نزلت عن ادعاء التفسیر بالاعم و اتیت علی تعبیر المساوات بین الضان وذات الصوف علی قول مخالفک، فقلت لو قبل ان غرضہم من تفسیر الضان بمیش ان الضان ما کان من ذوات الصوف سواء کان لہ الیۃ اولا، کما ان میش کذٰلک الخ فاین ذھب عنک ہہنا من التبعیضیۃ۔
(۱؎ جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۳۰۶)
تنبیہ شانزدہم تعریف میں من تبیعیضیہ کی تحقیق: صرف شرح نقایہ کی عبارت میں لفظ من آیا ہے، ما کان من ذوات الصوف (جو اون دار میں سے ہو) اس کو بعض کے معنی میں لے کر یہ سہارا پکڑنا کہ یہاں مراد تمام صوف والے نہیں بلکہ بعض صوف والے ہیں (یعنی دنبہ) غلط ہے، کیونکہ اس سے قبل ماکان ہے۔ جو استغراق کے لے ہے، تو یہاں مِنْ جو تبعیض کے لئے آتی ہے کلی کے افراد پر فردا فردا دلالت کے لئے ہے۔ او رمعنٰی یہ ہے کہ ضان نام ہے اون والے جانور میں سے ہر ہر فرد کا ، تو من کی تبعیض بھی سلامت رہی اور ماکا استغراق بھی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ فلاسفہ نے انسان کی اوندھی سیدھی جو تعریف کی ہے : الانسان حیوانٌ ناطقٌ۔ اس کی تعبیر کوئی یوں کرے:
الانسان اسم لکل ماکان من اھل النطق
(انسان ہر اس کانام ہے جو نطق والوں میں سے ہو) تو کیا اس مثال میں کوئی یہ گمان کرسکتاہے کہ ناطق انسان سے اعم ہے۔ مجیب اگر خود اپنی عبارت پر غور کرے تو اپنے اس غلط استشہاد سے رجوع کرے کیونکہ جب اس پر یہ اعتراض ہوا کہ علماء نے فارسی میں ضان کو میش کہا، اور یہی چیز اردو میں بھیڑ کہی جاتی ہے لہذا بھیڑ ضائن میں داخل ہوئی، تو اس نے کہا اس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ
''ماکان من ذوات الصوف میش سواء کان لہ الیۃ او لا ''
(جو اون والی ہے میش ہے۔ اس کے چکتی ہو یانہ ہو) دیکھئے یہاں بھی من تبعیضہ ہے، لیکن مجیب نے اس چکتی دار اور غیر چکتی دار دونوں میں عام مانا، یہاں منْ تبعیضہ کا سہارا لے کر صوف دار کو ضان سے عام نہیں مانا، پس معلوم ہوا کہ ان تعفریفوں میں مِنْ کا سہارا لینا بھی غلط ہے۔
السابع عشر : استنادک بعموم حد المعز لایغنی عنک شیئا فان عموم قرین لایدل علی عموم صاحبہ، وقد نص العلماء علی ان الاستدلال بالقران فی الذکر من افسدالدلائل، وایضا لیس اسلوب الکلام فیہ کمثلہ فی الضان لعدم ما الافرادیۃ ھناوکان ھذہ ھی نکتۃالتغییر ان کان القھستانی لایخص الشعر بالمعز، علی انا رأینا العلماء یخصون، قال العلامۃ علی القاری فی المرقاۃ تحت حدیث زید ن المذکور رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان الشعر مختص بالمعز، کما ان الوبر مختص بالابل، قال تعالٰی "ومن اصوافہا واوبارھا اوشعارھا اثاثا ومتاعا الی حین" ولکن قد یتوسع بالشعر فیعم ۱؎ اھ، وسیأتیک من کلام المفسرین مایمیل الیہ میلا ظاھرا، مع ان الکلام ھہنا فی الغنم فغیرہ خارج عن المقسم، فلم یکن فی شیئ من التعریف بالاعم۔
(۱؎ مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلٰوۃ باب فی الاضحیہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۵۷۸)
تنبیہ ہفدہم قرآن فی اللفظ کی بحث : (علماء نے ضان کی تعریف میں ماکان من ذوات الصوف کہا (جس کے اون ہو) او رمعز کی تعریف میں ماکان ذوات الشعر ( جو بال والا ہو) کہا: ا سے ان لوگوں کی تائید ہوتی تھی جو بھیڑ کو ضان میں داخل مانتےہیں کہ علماء نے ضانیت کا مدار اون پر رکھا چکتی پر نہیں)۔
اس کا جواب مجیب نے یہ دیا تھا کہ یہ تو جب ہو جب ہم یہ تسلم کرلیں کہ "مَالَہ صُوْف"کالفظ ضان کے مساوی ہے۔حالانکہ یہ لفظ یہاں بھی ضان سے اعم ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اسی کے ساتھ مالہ شعر کہہ کے بکری کی تعریف کی گئی ہے۔ تو اگر اس تعریف میں بھی مدار بال پررکھا جائے تو گائے اور بھینس بھی جو بالدار ہیں، بکری بھی شامل ہوجاتے ہیں، اس لئے حقیقت یہی ہے کہ اس مقام پر علماء نے ضان اور معز دوونوں ہی کی تعریفیں لفظ عام سے فرمائی ہیں۔
مجیب کی یہ بات صحیح نہیں، کیونکہ اس جواب کا مدار اس قاعدے پر ہے کہ ''جو دو جملے لفظ میں ساتھ ساتھ ہوں ان دونوں کا حکم بھی ایک ہی ہوتاہے '' جبھی تو مجیب یہ کہہ رہا ہے کہ معز کی تعریف ''مَالَہ شَعْر" میں شعر عام ہے۔ تو ''مالہ صوف'' میں صوف عام ہونا چاہئے، حالانکہ یہ استدلال ہی سرے سے فاسد اور غلط ہے۔