Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
82 - 126
الثانی عشر : لوفرضنا التساوی فی الجودۃ فلا یرتاب من لہ عقل ورزق سلیقۃ مافی فہم الکلام، ان الظاھر المتبادر من التعریف انما ھو التساوی ولا یجوز العدول عن الظاھر الا بدلیل، الا تری ان العلامۃ المحقق سعد الدین التفتازانی رحمہ اﷲ تعالٰی صرح فی حاشیۃ الکشاف کما نقلہ حسن چلپی فی حواشی التلویح، ان قول الفائق الحمد ھو المدح صریح فی الترادف ۱؎ اھ مع انہ لو القائل فی التلویح ان کتب اللغۃ مشحونۃ بتفسیر الالفاظ بماھوا عم من مفہوما تہما ۲؎ الخ، فلم یمنعہ تصریحہ ھذا عن جعلہ تفسیر الفائق الحمدبالمدح صریحا فی الترادف، وھل ھو الا ؛ لان الظاھر ھو ا لتساوی مالم یدل علی خلافہ دلیل، وبہ یجاب عن بحث چلپی،
 (۱؎ حاشیۃ التلویح مع التوضیح والتلویح     بحوالہ شرح الکشاف    المطعۃ الخیریۃ مصر    ۱/ ۶۷)

(۲؎حاشیۃ التلویح مع التوضیح والتلویح     بحوالہ شرح الکشاف    المطعۃ الخیریۃ مصر   ۱/ ۶۷و ۶۸)
تنبیہ دوازدہم تشریح مزید: ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ عام اور مساوی دونوں کے ساتھ تعریف ہم پلہ ہی ہے۔ پھر بھی سخن فہم خوب جانتے ہیں کہ لفظ تعریف سے ذہن کی سبقت تسادی کی طرف ہی ہوتی ہے اور بغیرکسی قرینہ کے متبادرکو چھوڑ کر اعم مراد لینا خلاف نقل و عقل ہے۔

امام تفتا زانی نے حاشیہ توضیح میں تصریح فرمائی کہ کتب لغت میں عام کے ساتھ تفسیر عام ہے۔''

اس کے باوجود ''فائق'' کے قول ''الحمد ھو المدح'' کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:

'' اس کا مطلب یہ ہے کہ حمد اورت مدح دومرادف لفظ ہیں۔'' (شرح حاشیہ کشاف بحوالہ چلپی)

اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہوا کہ احتمال اعم ہونے کے باوجود انھوں نے ظاہر متبادر و مساوی پر کلام ''فائق'' کو محمول کیا۔
وھکذا قال المولی السید الشریف (رحمۃ اﷲ تعالٰی) فی شرح الکشساف، قولہ الحمد والمدح اخوان ۱؎ ای ھما مترادفان ویدل علی ذٰلک انہ قال فی الفائق والحمد ھو المدح والوصف بالجمیل الخ فقد استدل بتفسیر اللغۃ علی الترادف مع انہ مصوب لجواز التفسیر بالاعم کما سیأتی وبالجملۃ فجواز شیئ شیئ وجواز الحمل علیہ شیئ اٰخر، فقد یجوز شیئ فی نفسہ ولا یحوز حمل الکلام علیہ لکونہ خلاف الظاھر فلا عدول عنہ الابدلیل زاھر۔
 (۱؎ حاشیہ علی الکشاف للجرجانی مع الکشاف     سورۃ افاتحۃ الکتاب     انتشارات آفتاب تہران ایران    ۱/ ۴۶)
ٹھیک اسی طرح میر سید شریف نے بھی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ تعریف اعم بھی جائز ہے۔

شرح کشاف میں ''المدح والحمد" اخوان فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کا محتمل اور جائز ہونا اور بات ہے۔ اور اس کا محمول اور مراد ہونا اور بات ہے۔  پس ثابت ہوا کہ متبادر سے پھرنے اور محتمل پر کلام حمل کرنے کے لئے واضح قرینہ ضروری ہے۔
الثالث عشر :  الحق عندی ان التفسییر بالاعم انما یجوز ان جازحیث وضح المفاد وقامت القرینۃ علی المراد، والا فلا قطعا لعرق التغلیط، لما فیہ حٓ من التلبیس والتخلیط، وطریقۃ اھل اللغۃ معروفۃ انہم اذا نکرواعرفوا واذا عرفوا  نکروا فاذا قیل اُحد جبل وسعدانۃ نبت، لویفہم منہ الا انہ جبل معین ونبت مخصوص، ولئن قال ان اُحدا  الجبل وسعد انۃ النبت لکان مخطئا قطعا،وان کان لم یرتکب الا تفسیرا بالاعم کیف وانہ افہم ان احدا یرادف الجبل والسعدانۃ  النبت وھذا ان کان خفیا علی غبی، فلیس یخفی علی ذکی و اذا کان ھذا فی اللغۃ، فما ظنک بالشرعیات حیث المحل لبیان الاحکام الالہیۃ الخاصۃ بالشیئ،فان التفیسر بالاعم ثم من ابین الاباطیل من دون اقامۃ قرینۃ وایتاء دلیل،
تنبیہ سیزدہم توضیح مزید :  اور جو سچ پوچھو تو ہمارے نزدیک اعم سے تفسیر اسی وقت جائز ہے جبکہ اس سے مراد خاص ہو۔ مثلا اہل لغت کایہ دستور ہے کہ نکرہ بول کو معرفہ اور معرفہ بول کو نکرہ مراد لیتے ہیں۔ اب انھوں نے کہا ''اُحُدْ جبل'' و ''سَعْدَ اَنَۃُ نبت" تو اس کا ترجمہ ہوا'' احد ایک خاص پہاڑہے، اور ''سعد انہ ایک خاص گھاس ہے''تو یہاں تعریف احد میں ایک عام لفظ جبل بول کر بھی مراد خاص پہاڑ ہو، اور محاورہ نکرہ بول کر معرفۃ مرادلیا ہو، اس موقع پر کوئی جبل کے بجائے الجبل بولے تو خلاف محاورہ اور غلط ہوگا، حالانکہ اس بیچارے نے معرفہ کی تعریف میں لفظ معرفہ ہی استعمال کیا ہے، لیکن اس عبارت سے کوئی یہ نہ سمجھے گاکہ اُحد اور الجبل میں ترادف ہے۔ تو سر اس میں یہی ہے کہ تعبیر اول میں محاورہ عام سے مراد خاص ہے اور ثانی میں خاص سے مراد عام ہے۔ اور محاورے کا یہ فرق ہر صاحب فہم پر واضح ہے۔ تو جب لغت کا یہ حال ہے کہ بولیں عام اور مراد لیں خاص، تو شریعت غرا جس میں خاص شیئ کے احکام مخصوصہ کا بیان ہوتاہے۔ عام بول کر عام ہی کس طرح مراد لیں گے؟ یہاں بغیر قرینہ کے تفسیر بالاعم غلط اور باطل ہوگی،
الاتری ان من علیہ کفارۃ صوم اذ سأل ما تحریر رقبۃ، فزعم زاعم انہ رفع قید عن شیئ حی، فقد اخطأ وجعل سائلہ عرضۃ للخطأ فانہ ان قنع بقولہ فسیظن انہ یجزئ عنہ اطلاق انسان، اوطلاق نسوان، اوتسبیب حیوان و لذا تری العلماء المحققین من الفقہاء والمحدثین لم یزالوا یواخذون بترک القیود وبانثلام فی عکس، اوانخرام فی طرد یاخذون علی الحدود، ولقد احسن واجاد المولی المحقق محمد بن عبداﷲ الغزی فی منح الغفار کما اثر عنہ فی ردالمحتار اذ یقول فی بیان شناعۃ الاطلاق فی محل التقیید، مانصہ فیظن من یقف علی مسائلہ الاطلاق، فیجری الحکم علی اطلاقہ وھو مقید، فیرتکب الخطأ فی کثیر من الاحکام فی الافتاء والقضاء، ۱؎ اھ مثلا فی مانحن فیہ ان کان تفسیر الضان بذات الصوف ، وبخلاف المعز وبمیش کل ذٰلک تفیسر بالاعم، فمن وقف علی کلماتہم المتظافرۃ المتکاثرۃ المتوافرۃ فی ذٰلک ،
 (۱؎ردالمحتار   کتاب الجہاد فصل فی کیفیۃ القسمۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۲۳۵)
دلیل تنویری : روزہ کاکفارہ قرآن مجید میں ایک گردن آزاد کرنا آیا ہے۔ اگر اب کوئی شخص لفظ تحریر رقبۃ کے معنی عام (زندہ کی قیددورکرنا)مراد لے تو غلط ہوگا کیونکہ ترجمہ کی بنیاد پر بندھے آدمی کو کھولنا، عورت کو طلاق دینا، اور جانور کو چھوڑدینا، سبھی مراد ہوسکتے ہیں، تو لازم آئے گا کہ یہ سب چیزیں روزہ کا کفارہ بنیں۔

یہیں سے علمائے محققین فقہاء ومحدثین کے اس طرز عمل کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ عام طور سے تعریفات میں قیود احترازی اور جمعیت و منعیت کا لحاظ کیوں کرتے حالانکہ وہ عام طور سے تعریفات میں قیود احترازی اور جمعیت و منعیت کا لحاظ کیوں نہیں کرتے، حالانکہ جو کچھ بیان کرتے ہیں اس کی مراد ایک جامع مانع محدود ہی ہوتاہے ___ علامہ غزی تمر تاشی سے ''شامی'' نے نقل کیا کہ:

حضرت علامہ نے الفاظ عامہ کو محل تقیید میں بھی عام مراد لینے والوں کے خلاف فرمایا:

''جو مقام تقیید میں لفظ کے اطلاق کا سہارا لے کر احکام عامہ جاری کرے گا وہ بیشمار احکام کے فیصلہ میں قضاء اور افتاء غلطی کرے گا۔''

مثلا ہم مسئلہ دائرہ میں ہی لے لیں، ضان کہ جنتی تفسیریں ہیں، جیسے اون والی، جو معز نہ ہو، او رمیش یہ سب تعریفیں کے الفاظ بالاعم ہیں، اب کوئی اون والی تعریف کے الفاظ پر غور کرکے بھیڑذبح کردے، تو ا س نے بقول مجیب غلط نہیں کیا،
فربما یجترح فی تضحیۃ بذات صوف لیست من الضان فیأثم بترک الواجب والاصرار علیہ سنین متطاولۃ کما ھو حال

 عامۃ المسلمین بالدیار الھندیۃ عالمھم وجاھلھم عند ھذالرجل قدحکم علیھم بالضلال والاضلال فمااضلھم ان ضلوا الا الی ھذہ التفاسیر بالاعم، وان کان رجل علق ابانۃ عرسہ بالتضحیۃ ، فضحی بھذا یحکم الواقف علی کلماتھم بوقوع البینونۃ ،وھی لم تبن ،فیحرم الحلال او بعدمھا  ففعل ذٰلک یحکم بعدم الوقوع ،وھی قد بانت فیحلل الحرام الی غیر ذٰلک الشنائع العظام ،ما ھجمت تلک الامن تلقاء ذٰلک التفسیر بالعام ،فکیف یسوغ ان یحمل کلامھم علی مثل ھذا الاببرھان واین البرھان ھاتوابرھانکم ان کنتم صٰدقین۔
مگر آپ پڑھ آئے ہیں کہ انھوںنے ایسے تمام لوگوں کو جاہل اور جاہل گر بنایا، یا مثلاکسی نے اپنی عورت کے طلاق کو قربانی کرنے پر معلق کیا، اوربھیڑ کی قربانی کردی، تو ایک ایسا شخص جو کلمات علماء کے مفہوم و مرا دکو سمجھتاہے۔ بھیڑ کی قربانی کو قربانی قرار دے کر طلاق بائن واقع مانے گا، جبکہ مجیب صاحب عام کو عام رکھتے ہوئے بھی اس کو قربانی کے جانور سے نکال کر طلاق نہ واقع ہونےکا فتوٰی دیں گے، اب ان دونوں باتوں میں حقیقت امر سے قطع نظر جس کو پہلے صاحب حرام کہہ رہے ہیں، دوسرے صاحب حلال ہونے کا فتوٰی دے رہے ہیں، تو یہ سارے قبائح اسی تفیسر بالاعم کاشاخسانہ ہیں، تویہ معلوم ہوا کہ یہ قول ہی غلط ہے۔
الرابع عشر : مسألۃ التحدید ان کانت تؤخذ من جہۃ التقلید، کما یدل علیہ الاستناد بالاھوری، فاجلۃ ائمۃ الدین وجہابذۃ النقاد المحققین مثل الامام  فخر الدین الرازی فی شرح الاشارات، والامام صدرالشریعۃ فی التنقیح، والعلامۃ القاضی عضد الدین فی المواقف ،والقاضی النحریر ناصر الدین البیضاوی فی طوالع الانوار، والعلامۃ سعد الدین التفتازانی فی التہذیب، والفاضل قطب الدین الرازی فی شرح الشمسیۃ، والمحقق شمس الدین محمد بن حمزۃ الفناری فی فصول البدائع فی اصول الشرائع وغیرھم من الاکابر المصرحین بان المعرف لا بدلہ من التساوی، فلا یجوز التعریف بالاعم ، ولا بالاخص، احق بالاتباع وان شئت نقلت لک نصوصہم، ولا یخفی علیک ان المسألۃ شہیرۃ دائرۃ، وفی کتب الکلام و الاصول والمیزان سائرۃ، فالاستاذ الی اللاھوری کیفما کان من ابعاد النجعۃ لاسیما وکتابہ فی النحو، ولیست المسألۃ من مسائل ذا النحو۔
تنبیہ چہاردہم حدکے تقلیدی ہونے کی بحث : تعریف کا مسئلہ اجتہادی نہیں تقلیدی ہے۔ مطلب یہ کہ عام سے اگر تعریف جائز ہے تو بزور قیاس اس کور دور نہیں کرسکتے جیساکہ مجیب نےاس مسئلہ میں فاضل لاہوری کی سندپکڑی ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ مسئلہ تقلیدی ہے لیکن یہ بھی تو دیکھنا ہوگا کہ تقلیدی کن لوگوں کی کی جائے' اور جن کی تقلید کرتاہے وہ کیاکہتے ہیں۔تو امام رازی شرح اشارات میں صدرا لشریعہ تنقیح میں، قاضی عضدالدین مواقف میں، قاضی بیضاوی طوالع الانوار میں، تفتازانی تہذیب میں، قطب رازی شرح شمسیہ میں امام فناری اصول بدائع میں، وغیرہ اکابر علمائے اعلام تصریح فرماتے ہیں کہ تعریف کے لئے تساوی ضروری ہے۔ نہ تو معرف عام تعریف میں چلے نہ خاص، تو ان علماء کی بات مانی جائے گی کہ فاضل لاہوری کی، جبکہ ان کی کتاب فخن نحو کی کتاب ہے، اور یہ مسئلہ علم نحو کا نہیں۔
Flag Counter