فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
81 - 126
التاسع : احسنت اذ ایقنت ان التفسیر بالاعم انما یجوز حیث یقصد التمییز عن بعض الاغیار ولکن دعواک ان ہہنا کذالک فمفسروا الضأن بمیش انما قصدوا المیز عن البعض ، کلمۃ انت قائلہا لا برہان لک علیہا بل الحجۃ، ناطقۃ بخلافہا حیث کان المحل لبیان حکم لا یعد والضان کجواز الجزع کما فی عبارۃ الشیخ المحقق رحمہ اﷲ تعالٰی فی اشعۃ اللمعات۱؎ وغیرھا۔
(۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیۃ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۰۸)
تنبیہ نہم ذات الصوف تعریف بالاعم نہیں: یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ کبھی کبھی تعریف وتفسیر لفظ اعم سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ مجیب نے دعوٰی کیا ہے۔ لیکن یہ بات کہ لفظ ضان کی تفسیر میں میش کا ذکر بھی یونہی ہے۔ بےحقیقت بات ہے۔ بلکہ شہادات اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہ تفسیر ایک ایسے حکم کے بیان کے سلسلہ میں ہے جو اضان کے ساتھ خاص ہے جیسے صاحب اشعۃ اللمعات کا یہ کہنا کہ ضان کا چھ ماہہ بچہ بھی جائز ہے۔
العاشر انما الخطاب بلغۃ العرب، فمالم یثبت النقل فالاحتجاج باللغۃ تام قطعا ولا یدفع بالاحتمال بناء علی ان اھل الشرع قد یصطلحون علی معنی اٰخر، بذٰلک استدل الامام المحقق علی الاطلاق محمد بن الہمام علی تحریم البنت من الزنا، قال فی الفتح لانہا بنتہ لغۃ والخطاب انما ھو باللغۃ العربیۃ مالم یثبت نقل ۱؎ وتبعہ علیہ البحر فی البحر، والشامی فی ردالمحتار وغیرھما من العلماء الکبائر، وھذا الذلم یظہر من الوفاق، فکیف وقد ثبتت مواطاتہم علیہ کما مر ویاتی بتوفیق اﷲ تعالٰی۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۱۸)
تنبیہ دہم دربارہ لغت فقہاء واوہاء : نیز یہ بات بھی صحیح نہیں کہ اعتبار فقہاء کی لغت کا ہےنہ کہ ادیبوں کی لغت کا،جب خطاب زبان عرب میں ہے۔ تو جب تک منقول ہونے کا ثبوت نہ ہو ضروری ہےکہ لغوی معنی ہی مراد ہوں اس کی تائید ابن ہمام رضی اللہ تعالی عنہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے کہ ''لغۃ زنا سے پیدا ہو نےوالی لڑکی کو بنت ہی کہا جاتاہے اس لئے قرآن کے فرمان وبناتکم میں یہ بھی داخل ہوگی، اور زانی کا نکاح ایسی لڑکی سے حرام ہوگا''۔ (امام ابن ہمام، بحر، شامی)
الحادی عشر تظافرت کلمات علماء التفسیر والحدیث والفقۃ، واللغۃ وغیرھا علی المیز بین الضان والمعز بالصوف والشعر، قال الامام محی السنۃ البغوی فی معالم التنزیل الضأن النعاج وھی ذوات الصوف من الغنم، _______والمعز ذوات الشعر من الغنم ۲؎ اھ مختصرا ،
(۲؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳ مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۹۲)
تنبیہ یازدہم تفسیر بالاعم کی حقیقت: یہ امر بھی قابل غور ہے کہ علماء تفیسر وحدیث اور فقہ ولغت کی بڑی تعداد نے ضان اور معز کی تفریق میں صوف اور بال کا لفظ استعمال فرمایا ہے تو تفسیر بالاعم وغیرہ کی تاویل ان کے کلام میں نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان قلیل التعداد علماء کے کلام میں جو ایک لفظ خاص ''ذات الیۃ'' (چکتی والی) سے تعبیر کرتے ہیں، حوالے:
O بغوی معالم التنزیل ''ضان ونعجہ، نر ومادہ اون والی بکری کو کہتے ہیں اور بال والی کو معز''۔
وقال الامام الرازی فی تفسیر الکبیر الضان ذوات الصوف من الغنم، والمعز ذوات الشعر من الغنم ۳؎ اھ ملخصا وفی المصباح المنیر وحیوۃ الحیوان وغیرھما الضان ذوات الصوف من الغنم ۴؎ اھ،
(۳؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر ) تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۳/ ۲۱۶)
(۴؎ المصباح المنیر الضاد مع الاواو الضان مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۲)
O امام رازی تفیسر کبیر: ''اون والی بکری ضان ہے اور بال والی معز''۔
O مصباح المنیر وحیٰوۃ الحیوان ''بکری کی اون والی قسم ضان کہلاتی ہے''۔
وفی شرح النقایۃ، ثم الطحطاوی ، و ردالمحتار الضان ماکان من ذوات صوف والمعز من ذوات الشعر ۱؎۔ وبہ فرق بینہما فی البحرالرائق وغنیۃ ذوی الاحکام، وفتح اﷲ المعین جمیعا عن معراج الدرایۃ، والیہ یشیر حدیث الامام احمد، وابن ماجۃ، والحاکم، وقال صحیح الاسناد عن زیدبن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یارسول اﷲ ماھذا الاضاحی، قال سنۃ ابیکم ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام ، قالوا فما فیہا یارسول اﷲ ، قال بکل شعرۃ حسنۃ، قالوا فالصوف یا رسول اﷲ قال بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ ۲؎،
(۱؎ جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۳۰۶)
(ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۹)
(۲؎ مسنداحمد بن حنبل حدیث زید بن ارقم رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۶۸)
(سنن ابن ماجہ ابواب الاضاحی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۳۳)
طحطاوی شرح نقایہ ردالمحتار : ''ضان اون والی اور معز بال والی''۔
O بحرالرائق ، غنیہ ذوی الاحکام فتح اللہ المعین عن معراج الدرایۃ (ایضا)
O حدیث امام احمد ابن حنبل: ابن ماجہ کا ارشارہ یہی ہے: ''زیدبن ارقم کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے پوچھا: یار سول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم! یہ قربانیاں کیاہیں؟ فرمایا: تمھارے باپ ا براہیم علیہ السلام کی سنت۔ پوچھا: ہم کو کیا ملے گا؟ فرمایا: اس کے ہر بال کے برابر نیکی۔ لوگوں نے عرض کیاـ: اون کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ فرمایا اس کے بھی ہر بال کے برابرنیکی ملے گی''۔
قال فی المرقات لما کان الشعر، کنایۃ عن المعز، کنواعن الضان بالصوف ۳؎ الخ، والیہ مال النصوص التسعۃ المذکورۃ فی التنبیہ السابع، عن العنایۃ والجمع، والمرقاۃ ، وشرح الکنز، وذخیرۃ العقبٰی والقاموس والصراح، ومختار الصحاح وغیاثک الذی استغثت بہ من تفسیر الضان بما یخالف المعز وبالعکس اذلو کان الفصل بینہا بشیئ اخص من الصوف لم یکن کل مالیس بضان معز اولا بالعکس بقاء مادۃ تفارق الصوف من ذٰلک الاخص خارجا منہا جمیعا عدم الضاینۃ لعدم الاخصی وعدم المعزیۃ لوجود الصوف، فہذہ احد واعشرون نصوصا، سبعۃ اضعاف ماجئت بہ کلہا قاضیۃ بہذہ التفسیر، ولعل ماترکناہ اکثر مما سردنا وقد اعترف الرجل وان لم یعرف فسیقضی العیان ان ھذا الحیوان من ذوات الصوف فہو من خصوص الضان فضلا عن عموم الغنم اوالانعام والتعریف بالاعم وان جاز عند الاوائل فلیس بجید بالاجماع ۔
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلٰوۃ باب فی الاضحیۃ المکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۵۷۸)
O مرقات میں ہے:'' حدیث شریف میں بال سے اشارہ بکری کی طر ف تھا۔ تو لوگوں نے صوف کہہ کر ضان کے بارے میں پوچھ لیا''
ساتویں تنبیہ میں عنایہ ، مجمع، مرقات، شرح کنز، ذخیرہ عقبٰی ، قاموس، صراح، مختار الصحاح ،غیاث اللغات کی عبارتوں کا مفاد بھی یہی ہے۔ کیونکہ ضان اور معز کے علاوہ کوئی اور نوع ہوتی جس کی وجہ امتیاز چکتی ہو تو ضان اور معز میں جنس غنم کا انحصار باطل ہوا جاتاہے۔
یہ ۲۱ نصوص ہیں اور جو مذکور نہ ہوئے اس سے بہت زیادہ ہیں، سب اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ ضان اور معز میں فرق اون سے ہے چکتی سے نہیں، اس طرح مجیب نے لاعلمی میں ہی سہی، یہ اعتراف کرلیا کہ بھیڑ ضائن میں شامل ہے آگے علی الاعلان اعتراف کرنا پڑے گا، عام سے تفسیر ماننے میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ متقدمین نے اسے صرف مباح مانا ہے۔ ایسی تعریف عمدہ نہیں ہے۔
قال المولی المحقق السید الشریف قدس سرہ الشریف فی شرح المواقف، اعلم ان اشتراط المساواۃ فی الصدق مماذھب الیہ المتاخرون، واما المتقدمون فقالوا الرسم منہ تام یمیز عن کل مایغایر منہ ونا قص یمیز عن بعض، وصرحوا بان المساواۃ شرط لجودۃ الرسم کیلا یتناول مالیس من المرسوم ولا یخلو عما ھو منہ ۱؎ اھ مختصرا، وقال العلامۃ حسن چلپی فی حاشیۃ التلویح لاخلاف فی اشتراط المساوات الجودۃ التعریف ۲؎۔ اھ فحمل کلامہم علی مالیس بجید لیس بجید۔
(۱؎ شرح المواقف المرصدا السادس المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۴،۵)
(۲؎حاشیہ التلویح مع التوضیح والتویح المطبعۃ الخیریۃ مصر ۱/ ۶۷)
میرسید شریف رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مواقف میں فرمایا: ''متاخرین نے تعریف میں مساوات کی شرط لگائی اور متقدمین نے کہا کہ جو تمام مشارکات سے تمیز دے دے وہ رسم تام ہے۔ اور جو بعض سے ممتاز کرے رسم ناقص ہے۔ اور تعریف تبھی عمدہ ہے کہ مساوی سے ہو کہ امتیاز کامل حاصل ہو'' اور حسن چلپی نے بھی حاشیہ تلویح میں فرمایا: تعریف کی عمدگی کے لئے مساوات شرط ضروری ہے'' تویہ علماء جس بات کو غیر عمدہ بتادیں، ان کے کلام کو اسی پر حمل کرنا کوئی عمدہ بات نہیں ہے۔