Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
80 - 126
السابع : اطبق اھل التفسیر والحدیث والفقہ واللغۃ من العرب والعجم ،ان الغنم نوعان ،ضان و معز، میش وبُز، وان الضان ومیش خلاف المعز وبُز، والمعز وبُز خلاف الضان ومیش، قال العلامۃ الخفاجی فی عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی حاشیتہ علی تفسیر البیضاوی الضائن خلاف الماعز، وجمعہ ضان اھ ۱؎،
(۱؎ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی البیضاوی     تحت آیۃ ۶/۸۰   دارصادر بیروت   ۵/ ۳۵۹)
تنبیہ ہفتم توضیح مزید: عربی وعجمی اہل تفسیر و حدیث، اہل فقہ ولغت اس بات پر متفق ہیں کہ بکری کی دو قسمیں ہیں : ضان اور معز، جس کی تعبیر فارسی میں میش اور بز سے کی جاتی ہے  اور دونوں میں ایسا اختلاف ہے کہ جو معز ہے ضان نہیں اور جو ضان ہے معز نہیں، 

حوالے : 

 Oضائن ماعز کے خلاف ، اور اس کی جمع ضان ہے (علامہ خفا جی حاشیہ بیضاوی)
وقال فی مجمع بحار الانوار ضوائن ذات صوف عجاف ھو جمع ضائنۃ، وھی الشاۃ من الغنم خلاف المعز ۲؎ اھ وقال فی المرقات الضان خلاف المعز من الغنم ۳؎ اھ، وقال العلامۃ مسکین فی شرح الکنز، الغنم اسم یطلق علی الذکر والانثی من الضان والمعز والضان خلاف المعز ۴؎ اھ ،
 (۲؎ مجمع بحارا لانوار    باب الضاد مع الہمزۃ ضائن    مکتبۃ دارالایمان المدینۃ المنورہ    ۳/ ۳۸۳)

(۳؎ مرقات المفاتیح    کتاب الصلٰوۃ باب فی الاضحیۃ الفصل الاول    المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ        ۳/ ۵۶۱)

(۴؎ شرح الکنز لمنلا مسکین مع فتح المعین کتاب الاضحیہ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۳/ ۳۸۱)
O ضوائن اون والی ضائنہ کی جمع، یہ بکری کی ایک قسم خلاف ماعز ہے۔ (مجمع بحارالانوار)

O ضائن معز کے خلاف غنم میں سے ۔ (مرقات)

O غنم اسم جنس ہے۔ یہ ضان ومعز مذکر ومؤنث دونوں پر بولا جاتاہے، اور ضان اور معز میں اختلاف ہے۔ (شرح کنز علامہ مسکین)
وقال فی القاموس المعز ھو خلاف الضان من الغنم ۵؂ اھ ،وفیہ الضائن خلاف الماعذ من الغنم، جمع ضأن اضئن ضأنک اعزلہا من المعز۶؂اھ ،
 (۵؎ القاموس المحیط    باب الزاء فصل المیم (العز)     مصطفی البابی مصر        ۲/ ۱۹۹)

(۶؎القاموس المحیط    باب النون فصل الضاد (الضائن)    مصطفی البابی مصر    ۴/ ۲۴۴)
O معز ضان کے خلاف ہے۔ غنم کی ہی ایک قسم ہے (قاموس)

O ضائن، بکریوں میں معز کے خلاف، اور جمع ضائن، محاورہ ہے: اپنے ضانوں کو ماعز سے الگ کرو۔ (قاموس)
وفی مختار الصحاح للعلامۃ الرازی الضائن ضد الماعز و الجمع الضأن والمعز ۷ اھ۔ وفیہ المعز من الغنم ضد الضان ۱؎اھ،
 (۷؎ مختار الصحاح      تحت لفظ ضائن     مؤسسۃ علوم القرآن بیروت    ص۳۷۶)

(۱؎ مختار الصحاح         تحت لفظ (المعز)     مؤسسۃ علوم القرآن بیروت    ص۶۲۷)
O ضائن ماعز کا ضد ہے۔ اور جمع ضان اور معز ہے (مختار الصحاح رازی)

O  معز بکریوں میں ضان کا ضد ہے۔ (مختار الصحاح رازی)
وتقدمت اٰنفا عبارات ذخیرۃ العقبٰی والصراح و انت المحتج بقول الغیاث گوسفند بمعنی میش مقابل بُز چنانکہ معز درعربی مقابل ضان ست ۲؎ الخ، وحشیت علیہ بقولک ازیں عبارت صاف معلوم می شود کہ آں حیوان کہ عرب آں راضان گویند فرس آں رامیش گویند، وانچہ عرب آں معز گویند فرس بُز گویند، ونقلت عن الشیخ المحقق قدس سرہ غنم دوصنف ست معزکہ آں رابُز گویند وضان کہ آں رامیش خوانند ۳؎ وایدتہ بقول الشامی الشاۃ بنوعیہ ۴؎ اھ،
 (۲؎ غیاث اللغات   فصل کاف فارسی مع واؤ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۴۳۱)

(۳؎ اشعۃ اللمعات  کتاب الصلٰوۃ   باب الاضحیۃ  الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۶۰۸)

(۴؎ ردالمحتار    کتاب الاضحیۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۴)
ذخیرہ عقبٰی اور صراح کی عبارتیں اوپر گزریں۔

O گوسفند معنی میں میش کے جو بز کا مقابل ہے جیسا کہ معز عربی میں ضان کا مقابل ہے۔ (غیاث اللغات بحوالہ مجیب)

O جس حیوان کو عرب ضان کہتے ہیں فارسی میں میش کہتے ہیں (تقریر مجیب)

O غنم کی دو قسم ہے۔ معزکہ اس کو بز کہتے ہیں، اور ضان کہ اس کو میش کہتے ہیں (شیخ محقق، بحوالہ مجیب) Oبکری اپنی دونوں نوعوں کے ساتھ (شامی بحوالہ مجیب) ۔
فکان اجماعا علی ان ماکان من الغنم خارجا عن الضان، ومیش فہو داخل فی المعز وبُزوماکان منہا خارجا عن المعز وبز فہو داخل فی الضان ومیش، وقدبینا ان حیوانا ھذا من الغنم، وان ستربک فیہ فلن یستر بین احد ممن لہ قسط من العقل انہ من بہیمۃ الانعام، ثم لعلک تزھو بنفسک ان تدعی کونہ ابلا اوبقرا فاما ان یکون من المعز او من الضان، اذا الانعام منحصرۃ فی الاربع بتصریح العلماء کافۃ کما نص الامام البغوی فی المعالم، والامام الرازی فی المفاتیح والعلامۃ الرومی فی ارشاد العقل والمولی القاری فی المسلک المتقسط،و الفاضل طاہر فی مجمع البحار وغیرھم فی غیرھا لکن الاول باطل اذا المعز ذات شعر، وھذا باعترافک ذات صوف والمعز بُز وبکری و ھذا لیس بہا عند احد من الصبیان فضلا عن علماء اللسان فتعین ان یکو ن من الضان فانظرالی حججک کیف کرت علیک بالحجاج، فان الضان ومیش لوکان مختصۃ عند العرب والعجم بمالہ الیۃ وھذا لا الیۃ لہ بزعمک توجب ان یکون خارجا منہا، فوجب ان یکون داخلافی المعز وبُز،وقد قفیت علی نفسک انہ لیس منہا، فبطل انحصار الغنم فی نوعین، وقد کنت بہجت بہ نقلا واستنادا ،وتعویلا واعتمادا ثم بطلانہ یقتضی ببطلان دعوٰک فان مدار التضحیۃ علی النعمیۃ دون خصوص الالیۃ و الضانیۃ۔
تو ایک طرح اجماع ہوگیا کہ غنم صرف دونوں میں منحصر ہے ، جوغنم معز نہیں وہ ضان ہے۔ اور جو ضان نہیں وہ معز ہے۔ تو لامحالہ بھیڑ کو بھی ضان یا معز کسی میں داخل ماننا پڑے گا، اور اگر کچھ شبہ ہو تو اتنا تو قطعی ہے کہ یہ بہیمۃ الانعام میں داخل ہے۔ اور  بہ اتفاق علماء انعام کی صرف چارقسمیں ہیں۔اس امر کی تصریح امام بغوی نے معالم میں اور رازی نے مفاتیح میں رومی نے ارشاد میں ملا علی قاری نے ملسک المتقسط میں اور فاضل طاہر نے مجمع البحار میں کی ہے۔ اور ان کے علاوہ نے دوسری کتابوں میں کی ہے۔  اور آپ اس کو گائے یا اونٹ میں شامل کرنے کی جرأت کرہی نہیں سکتے۔ لا محالہ یہ ضان میں ہی شامل ہوگا، معز یا بکری تو ہوگا نہیں کہ اس کے اون ہوتاہے اور معز کے اون نہیں ہوتا، کیونکہ آپ کا یہ خود کااعتراف ہے کہ یہ اون والی ہے، تو دیکھئے آپ ہی کی دلیل نے آپ کا کیسا ردکیا اور صاف ظاہر ہوگیا کہ چکتی مابہ الامتیاز نہیں، ورنہ بھیڑ کو معز میں داخل کرناہوگا، اور آپ اس کو دونوں ہی سے خارج کرنے پر تلے ہوئے تھے، اور اسی سے آپ کے دعوٰی کا رد بھی ہوگیا کہ یہ قربانی کا جانور نہیں۔
الثامن : کل ماشقق، ورقق، وظن ان قد دقق من کون میش حقیقۃ فی کذا ومجازا فی کذا او مشترکا بینہا الخ انما ھو علی زعم ان مالہ الیہ مغایر بالنوع لما لیست لہ الیۃ بالمعنی الذی توھم فظن ادخالہا جمیعا یؤدی الی التثلیث ولم یدرانہ ھوالواقع فیہ لما بینا ان ھذا الحیوان من الانعام قطعا واذ لیس من البدن فمن الغنم فلو کان نوعا مغایر الذوات الالیات لو جب التثلیث۔
تنبیہ ہشتم حقیقت ومجاز والی تدقیق کا جواب : اس پر مجب کی اس قسم کی ساری تدقیقات کہ میش ذوات الیہ میں حقیقت ہوگا یا مجاز یا مشترک، سب کا مبنٰی یہ تھا کہ چکتی کو میش کی حقیقت میں بنیادی دخل ہے۔ اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ بنیاد ہی غلط ہے، تو یہ تدقیقات بھی بے حقیقت ہوگئیں، اور انھیں پر مبنی یہ حکم بھی کہ غنم کی دو ہی قسم نہ رہیں گی، بھیڑ کے بعد اس کی تین قسم بنیں گی۔
Flag Counter