Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
79 - 126
السادس : من الظن زعم الحاق الجوامیس بالبقر، وانما عرفت الا ضحیۃ علی خلاف القیاس لکونہا تقربا بارقۃ دم، وازھاق روح فکیف یسوغ الالحاق فیہا، ولو ماغ لکانت المہا والوعول والظبا احق انہ تلحق بالبقرا والمعز، قال العلامۃ الاتقانی فی غایۃ البیان، التضحیۃ امر مستفاد بالشرع بخلاف القیاس، لان کون اراقۃ الدم قربۃ غیرمعقول المعنی فاقتصر علی مورد الشرع، ولہذا لم تجز التضحیۃ بشیئ من الوحش اھ ۱؎ وقال العینی فی رمز الحقائق انہا عرفت بالنص علی خلاف القیاس فیقتصر علیہا ۲؎ اھ ۔
 (۱؎ غایۃ البیان    )

(۲؎ رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق     کتاب الاضحیۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۲۰۵)
تنبیہ ششم بھینس کو گائے کے ساتھ لاحق نہیں کیا گیا: یہ کہنا بھینس کو گائے کے ساتھ ازروئے قیاس لاحق کیا گیا غلط ہے کیونکہ یہ مسئلہ قیاسی ہے ہی نہیں، اگر قیاس پر مدار ہوتا تو سفید نیل گائے کو گائے کے ساتھ، اور پہاڑی بکری اورہرن کو بکری کے ساتھ لاحق کرنا بدرجہ اولٰی بہترہوتا لیکن ایسا جائز نہیں۔

علامہ اتقائی نے غایۃ البیان میں فرمایا: ''قربانی کا مسئلہ بالکلیہ غیر قیاسی ہے کیونکہ خون بہانا کار ثواب ہو،یہ بات غیر معقول ہے۔ اس لئے جن جانوروں کو شرع نے جائز قرار دے دیا ان کے علاوہ مثلا وحشی جانوروں کی قربانی شرعا جائز نہیں''علامہ عینی نے رمز الحقائق میں تحریر فرمایا: ''قربانی حکم الٰہی سے خلاف قیاس ثابت ہوتی ہے، تو اسی پر اقتصار کیا جائے گا''۔
وقال العلامۃ الطوری فی تمکلۃ البحرالرائق جواز ھا عرف بالشرع فی البقر الاھل دون الوحشی والقیاس ممتنع ۳؎. اھ ومثل ذٰلک فی کثیر من الکتب و انما الشان انہم علموا انہا من نوع البقر فتناولہما النص تناول اولیا من دون حاجۃ الی الحاق، بہذا علل کما نص علیہ فی الہدایۃ والخانیۃ والذر وشرح النقایۃ للبرجندی ،وفی الجامع الرموز عن جامع المضمرات ومجمع الانہر عن المحیط، وفتح اﷲ المعین عن التبیین والبحرالرائق عن الوالوالجیۃ، والہندیۃ عن البدائع۔ وردالمحتار عنہا وعن المُغرَب وان اقترحت جلیت لک نقولہا، فانی لم اثر فی ھذہ الرسالۃ شیئاالا من الکتب التی منحنی بی فہی عندی فی ملکی ویدی، حتی انہم اخذوا علی لفظۃ توھم التغایر بینہما کقول الکنز، الجاموس کالبقر کما فی التبیین ۱؎، والبحر ۲؎ والنہر والشرنبلالیۃ، ومجمع الانہر وابی السعود وغیرھا مع انہ ان انما ھو کقولہ ایضا البخت کالعراب بید ان اول المسئلۃ کان ھناک بلفظ الابل فلم یوھم التشبیہ وھہنا بلفظ البقرفاوھم، ثم لما ذا استکثر من ھذاالفصل وانت الناقل عن ردالمحتار قولہ البقر بنوعیہ ۳؎ اھ، وعن مفاتیح الجنان ان الجاموس داخل فی البقر ۴؎ اھ۔
 (۳؎ تکملہ من البحرالرائق         کتاب الاضحیۃ      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۸/ ۱۷۷)

(۱؎ تبیین الحقائق   کتاب الاضحیۃ     المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر    ۶/ ۷)

(۲؎ تکملہ من البحرالرائق    کتاب الاضحیۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۸/ ۱۷۷)

(۳؎ ردالمحتار    کتاب الاضحیۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۴)

(۴؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن الاضحیۃ     مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ        ص ۱۸ٍ ۲)
علامہ طوری تکملہ بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں تصریح فرماتے ہیں : ''قربانی کا جواز شرح مطہر میں انھیں جانوروں میں ثابت ہے جو اہلی ہوں وحشی میں نہیں، اوریہاں قیاس کو باریابی کی اجازت نہیں'' تو حقیقت حال یہ نہیں ہوئی کہ اکمل کو کامل کے ساتھ لاحق کیا گیا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ علماء کے نزدیک بھینس کا گائے کی ہی نوع میں ہونا ثابت ہوا تو انھوں نے کہا کہ قرآن کا لفظ بقر بھینس کو شامل ہے اس لئے مسئلہ ہذا کے الحاق والے قاعدہ کے سہارے کی بالکل ضرورت نہیں، یہ امور ہدایہ، خانیہ، رمز الحقائق، تکملہ طوری، مستخلص الحقائق، شرح ملامسکین، طحطاوی علی الدر، شرح نقایہ برجندی، جامع الرموز، جامع المضمرات، مجمع الانہر عن المحیط، فتح اللہ المعین عن التبیین، بحرالرائق ۔ والوالجیہ، ہندیہ، عن البدائع، ردالمحتار عن البدائع وعن مغرب منصوص ہیں ، ضرورت پر ساری کتابیں پیش کی جاسکتی ہیں، الحمدللہ ساری کتابیں میری ذاتی ہیں، ہاں ان حضرات نے ایک لفظ ایسا ضرور کہا ہے جس سے یہ شبہ ہوگا کہ گائے اوربھینس میں تغایر ہے اور وہ کنز، تبیین، بحر، نہر، شرنبلالیہ، مجمع النہر ابی سعودوغیرہ میں ذکر کیا ہوالفظ ''الجاموس کالبقر'' ہے لیکن اس سے دھوکا کھانا غلط ہے، کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے علماء اونٹ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں ''البخت کالاعراب'' بیان مسئلہ میں اونٹ مقسم کی طرح پیش کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود جب بخت واعراب دو نوع نہ ہوئے تو صرف کاف تشبیہ کی وجہ سے بقر وجاموس دو نوع کیسے ہوں گے، اور خاص کر مجیب صاحب کوتو یہ شبہہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ انھوں نے خود ہی ردالمحتار کی عبارت ''البقر بنوعیہ'' اور مفاتیح الجنان کا حوالہ ''ان الجاموس داخل فی البقر'' (بھینس گائے میں شامل ہے)۔
وعن الاشعۃ جاموس نوعے از بقر ست ۱؎ فمالی اراک نقل العبارات وتنبؤ عنہا کان لم تسمعہا، کلا بل تسمع وتفہم ثم تحیل، اما سمعناک نقول انہم یدخلون الجاموس فی البقر، ویقولون انہ نوع منہ، ثم عدت تعد الا نواع خمسۃ، وتعجل النوع یقابل جنسہ، وبالجملۃ قد تبیین بطلان تخمیس الا نواع، وعد الجاموس نوعا براسہ۔
 (۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ     باب الاضحیہ الفصل الاول    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۶۰۸)
اور اشعۃ اللمعات سے ''جاموس نوع از بقر'' (بھینس گائے کی ایک قسم ہے) نقل کیا ہے حیرت ہوتی ہے کہ اس کے باوجود کس طرح مجیب نے قربانی کے جانور کی پانچ قسمیں کیں، اور بھینس کو الگ ایک نوع قرار دیا پس واضح ہوا کہ پانچ نوع قرار دینا غلط، اور بھیڑ کو چھٹی قرار دے کر اس سے انکار کرنا غلط درغلط ہے۔
ثم لایخفی علی کل ذی حجی مالم یکن اغلظ طبعا من الجوامیس، مابین البقروالجاموس من البون البین صورۃ ومعنی، یبائن الوضع الوضع، والطبع الطبع، واللحم اللحم، واللبن اللبن، والطعم الطعم، والحمل الحمل، والمزاج المزاج، والاثار الاثار، والافعال الافعال، والخواص الخواص، حتی حکم القیاس انہا نوعان متباینان، وان الجوامیس لا تجوز التضحیۃ بہا، وانما الاجزأ حکم الاستحسان قال فی الخلاصۃ ثم الاتقانی فی شرح الہدایۃ والحلبی فی تکملۃ لسان الحکام الجاموس یجوز فی الضحایا والہدایا استحسانا ۱؎ اھ،
 (۱؎خلاصۃالفتاوی   الفصل الرابع    مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۱۴)
ایک بات یہ بھی قابل غور ہےکہ گائے اور بھینس میں صورۃ اور معنا بناوٹ، طیبعت، گوشت اور دودھ، مزے اور اعمال وآثار میں تباین ظاہری ہے جس کے پیش نظر عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ان دونوں میں تباین نوعی ہے۔ اور بھینس کی قربانی نہ ہونا چاہئے مگر جائز ہے، تو یہ ایک خلاف قیاس حکم ہے۔

خلاصہ اتقانی، حلبی میں :  ''بھینس کی قربانی استحسانا جائز ہے''
وفی شرح مختصر الوقایۃ للفاضل عبدالعلی الجاموس کالبقرۃ لانہ نوع منہا، فی الروضۃ ھذااستحسان و القیاس انہ لا یجوز ۲؎ اھ وتغایر ہما فی العرف ظاہر، ولذا لو حلف لایاکل لحم البقر لم یحنث باکل لحم الجاموس، کما فی زکوٰۃ الہدایۃ، ولا بعکسہ، کما فی ایمان الخانیۃ، وما اذا یعنی مجرد الوفاق فی عدد الاعضاء مع الخلاف فی جمع مامر، فان ذٰلک حاصل فی الخیل والعیر ایضا مع انہمانوعان متباینان قطعا عرفا وشرعا، بل لک ان تقول لا وفاق فی العدد ایضا، فان لبقر جلد ا متدلیا من مبدأ حلقہ الی منحرہ، ولیس ذٰلک للجاموس، والشعر یعم بدن البقر ولیس علی جمع الجاموس الا شذر مزر، فاذا استحسنوا مع کل ذٰلک ان الجوامیس لیست الا من نوع البقر، کانت ضئین الہند احق بان تعد من نوع اضؤن العرب، فانہما الاخلف بینہما فی شیئ مما وصفنا حتی لو ان ضائنین منہما متشابہی اللون، والجثۃ نظر ھما ناظر من قدام لم یکد یمیز بینہما کضائنین کذٰلک من ارض واحدۃ، نعم الالیۃ من احدھما عریضۃ قصیرۃ ومن الاخری ضئیلۃ طویلۃ ومثل ھذا الخلف بل اکثر منہ کثیرا مایوجد فی افراد نوع واحد باختلاف الاراضی واختلاف المادۃ وغیرہ ذٰلک۔
 (۲؎شرح النقایہ للبرجندی     کتاب الاضحیہ     نولکشور لکھنؤ        ۳/ ۱۹۵)
فاضل عبدالحی لکھنوی کی شرح مختصر وقایہ میں ہے ''بھینس گائے کی طرح ہے یہ اسی کی ایک نوع ہے'' روضہ میں ہے : ''اس کی قربانی استحسانا جائز ہے قیاس میں تو جائز نہ ہونا چاہئے۔''

عرف کے اعتبار سے گائے اور بھینس کا تغایر ظاہرہے، اسی لئے اگر کوئی قسم کھائے کہ گائے کا گوشت نہیں کھائے گا، تو بھینس کا گوشت کھانے سے حانث نہ ہوگا، یہ مسئلہ ہدایہ کتاب الزکوٰۃ میں ہے، اور خانیہ میں ہے بھینس کی قسم کھائی تو گائے کا گوشت کھانے سے حانث نہ ہوگا، اور اگر خالی اعضاء کی تعداد میں موافقت کی وجہ سے گائے اور بھینس کے ایک نوع ہونے کا خیال کیا جائے اور تو گھوڑے گدھے میں اس سے زیادہ یکسانیت ہے حالانکہ وہ دونوں عرفا اور شرعا ہر لحاظ سے دو متبائن نوعیں ہیں، اور تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ گائے اور بھینس میں اعضاء کی تعداد میں بھی موافقت نہیں ہے کیونکہ گائے کی گردن میں فاضل کھال لٹکتی ہے جو بھینس میں نہیں ہوتی، اور گائے کے سم پر گھنا بال پورے بدن پر اگا رہتا ہے اور بھینس کے جنس پر چند قلیل بال ہوتے ہیں پس جب ان سارے اختلافات کے باوجود استحسان میں گائے اور بھینس کے ایک جنس ہوئے تودنبہ اور بھیڑ کے ایک جنس ہونے میں کیا شبہہ ہوسکتاہے۔ کیونکہ ان میں تو مذکورہ بالا اوصاف میں سے کسی میں اختلاف نہیں، اگر ایک رنگ کے دنبہ اور بھیڑ کو آگے سے دیکھئے تو فیصلہ مثل ہوگا کہ کون بھیڑ ہے اور کون دنبہ، ہاں صرف یہ بات ہے کہ دنبہ کی دم چوڑی اور چھوٹی ہوتی ہے اور بھیڑ کی دم لمبی اور بالدار ہوتی ہے۔ لیکن یہ کوئی بات نہیں اس سے بڑے بڑے اختلافات ایک نوع کے افراد میں اختلاف آب وہوا کی وجہ سے پائے جاتے ہیں، اور ان کا لحاظ کرکے کوئی اختلاف نوع کا حکم نہیں لگاتا۔
الاتری الی غلظ شفاہ الحبش، وصغر عیون الترک فطس انوف الصین، ولبعض من اتراک الوحوش علی عصعصہ لحمۃ زائدۃ قدر شبر یشبہ الذنب والہنۃ الناتیۃ بین الشفرین لاتوجد خلقۃ فی نساء المغرب، وربما یکون لانسان ستۃ اصابع وذکر الفقہاء ما اذا کان للمرء ، یدان فی ید، او رجلان فی رجل اوکفان فی کف، ھل یجب غسلہا فی الوضوء، کما فی البحر، والنہر، والدر، والہندیۃ وغیرھا، ولقد رأیت لبعض البلاد جما لا جمیلۃ المنظر، لطاف الجسم، صغار الحجم، طوال الوبر، لکل منہا علی ظہرہ سنامان رفیعان، بینہما مجلس الراکب یکونان لہ کعودی الرحل، وقد قال العلامۃ القروینی فی عجائب الموجودات، ثم الامام الدمیری فی حیوۃ الحیوان انہ یجلب من الہند نوع من الضأن علی صدرہ الیۃ، وعلی کتفہ الیتان، وعلی فخذیہ الیتان، وعلی ذنبہ الیۃ وربما تکبرالیۃ الضأن حتی تمعنہ من المشی، زاد القزوینی فیتخذ لالیتہا عجلۃ توضع علیہا وتشد الی صدرھا، فیمشی الضان وتجر العجلۃ والا لیۃ علیہا ۱؎ اھ، فہذہ اختلافات فی الاعضاء باصل الوجود والعدم، فضلا عن الصغر، والکبر، والطول والقصر، فہل یجوز لعاقل ان یحکم لذلک باختلاف النوع، وان احد من صنفی الا بل ذات کومین و ذات کوم، مثلا لیس من نوع الابل، لاتجوز التضحیۃ بہ، ولا تجب الزکوٰۃ فی سائمتہ۔
 (۱؎حیاۃ الحیوان   باب الضاد المعجمۃ (الضان)    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۳۴)

(عجائب المخلوقات  وغرائب الموجودات      الضان    مصطفی البابی مصر    ص ۲۴۹)
امثلہ (۱): آدمیوں میں حبشیوں کا ہونٹ نہایت موٹا ہوتاہے، (۲) ترکیوں کی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہے (۳) چینیوں کی ناک چیپٹی ہوتی ہے (۴) اور بعض وحشی ترکیوں کی دم کی ہڈی پر دم ہی کی طرح ایک بالشت تک لمباگوشت کا ٹکڑا ہوتاہے (۵) عام عورتوں کی شرمگاہ میں جو پارہ گوشت اُبھرا ہوا ہوتا ہے مراکشی عورتوں میں خلقۃ نہیں ہوتا (۶) ایسا بھی تو ہوتاہے کہ آدمی کے کبھی چھ انگلی ہوجاتی ہے، چنانچہ فقہاء کا جزیہ ہے اگر کسی آدمی کے دو دو ہاتھ ہوں یا دو دو پاؤں یا ایک ہاتھ میں دو ہتھیلیاں تو کیا وضو میں دونوں کا دھونا واجب ہے۔ یہ مسئلہ بحر، نہر، درر اور ہندیہ میں مصرح ہے۔ (۷) میں نے بعض شہروں میں اونٹ دیکھے ہلکے پھلکے ، لمبے بال والے، جن کے پُشت پر دو کوہانیں تھیں جن کے بیچ میں ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، (۸) امام قزوینی نے عجائب المخلوقات اور دمیری نے حیوۃ الحیوان میں تحریرکیا، ہندوستان کے بعض دنبے آتے ہیں جن کے سینے پر چکتی ہوتی ہے اوردونوں مونڈھوں پر دو چکتی اور رانوں پر دو چکتی اور دم پر ایک چکتی ہوتی ہے جو اتنی بڑی ہوتی ہے کہ لکڑی کی چھوٹی گاڑی پر وہ چکتی رکھ دی جاتی ہے اور گاڑی دنبہ کے سینہ سے باندھ دی جاتی ہے جسے وہ کھینچتاجاتاہے۔
مذکورہ بالا سارے اختلافات جو اعضاء کی کمی بیشی میں واقع ہونے، چہ جائیکہ ان کے بڑے اور چھوٹے ہونے کا اختلاف، تو کیا کوئی عاقل اس کی وجہ سے جانوروں کی نوع میں اختلاف ہونے کی بات کرے گا اور کہے گا کہ یہ دوکوہان والے اونت، اونٹ ہی نہیں، نہ ان کی قربانی ہوسکتی ہے نہ یہ سائمہ جانوروں میں شمار ہوں گے نہ ان پر زکوٰۃ ہوگی۔
Flag Counter