Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
78 - 126
الثالث : اجمع المسلمون واعترف الرجل، ان الغنم من الاضاحی، وقد علم من یفرق بین البہم والبہم، ان ھذا من الغنم قال اﷲ عزوجل
ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما ۴؎۔
قال الفاضل رفیع الدین الدھلوی فی ترجمۃ اور گائے سے اور بھیڑ بکری سے حرام کیں ہم نے اوپر ان کے چربیاں ان کی ۵؎۔
 (۴؎ القرآن الکریم     ۶/ ۱۴۶)

(۵؎ ترجمۃ القرآن الرفیع الدین    تحت آیۃ ۶/ ۱۴۶     ممتاز کمپنی لاہور    ص۶۳۔ ۱۶۲)
تنبیہ سوم بھیڑکے قربانی کے جانور ہونے پر اجماع ہے: مفتی سابق نے اعتراض کیا، اور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ غنم قربانی کے جانوروں میں سے ہے۔ اور چوپایوں کے درمیان فرق جاننے والے یہ خوب جانتے ہیں کہ بھیڑ غنم میں شامل ہے قرآن عظیم کی آیت ''ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما'' کا ترجمہ فاضل رفیع الدین دہلوی فرماتے ہیں : ''اور گائے سے اور بھیڑ بکری سے حرام کیں ہم نے اوپر ان کے چربیاں ان کی''۔
الرابع انما المرجع فی امثال الامور الی علماء اللسان وکما علم کل من یعلم اللسن الثلث ان الحیوان الذی یسمی بالہندیۃ بکری وذکرہ بکرا، ھوالذی یسمی بالفارسیۃ بُز، وفی الاطلاق الاعم گوسپند، وبالعربیۃ معزا، وفی الاعم غنما وشاۃ، وذکرہ تیسا وماعزا، وانثاۃ عنزا۔ وما عزۃ، کذٰلک علموا ان الحیوان الذی یسمی بالہندیۃ بہیڑ، وذکرہ مینڈھا، وعند قوم وانثاہ بھیڑ ولقوم بھیڑی ھو الذی یسمی بالفارسیۃ میش، وبالاطلاقین الاخص والاعم گوسفند، وذکرہ المناطح فوچ، وبالعربیۃ ضانا، وبالاطلاقین شاۃ، وغنما، وذکرہ کبشا وضانا، وانثاہ نعجۃ وضائنۃ،
ایضا تنبیہ چہارم: اس بات کا فیصلہ کہ بھیڑ غنم میں داخل ہے یا نہیں۔ وہی حضرات علماء کرسکتے ہیں جن کو تینوں زبانوں میں مہارت ہو تو ان زبانوں کا عالم یہ خوب جانتاہے کہ جس جانور کو ہندی میں بکری اور اس کے نرکو بکرا کہتے ہیں، فارسی میں اسی کو بُز اور عام بول چال میں گوسپند اور عربی میں معز ، اور عام بول چال میں غنم وشاۃ کہتے ہیں اس کے مذکر کو ''تیس'' اور ماعز کہتے ہیں اور مؤنث کو عنز اور ماعزہ کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی معروف بات ہے کہ ہندی میں جس جانور کو بھیڑ جس کا مذکر مینڈھا اور بعض کی زبان میں بھیڑا کہتے ہیں، اسی کی مؤنث کو بعض لوگ بھیڑ اور بعض بھیڑی کہتے ہیں، اسی کو فارسی میں میش اور عام بوچال میں گوسفند اس کا مذکر مناطح قوچ کہلاتاہے یہی عربی میں ضان اور دونوں اطلاقوں میں شاۃ و غنم کہلاتاہے اس کا مذکر ضان وکبش اور مؤنث کو نعجہ کہا جاتاہے۔
قال اﷲ عزوجل ثمنیۃ ازواج من الضان انثین ومن المعز انثین ۱؎
قال فی موضح القراٰن
پیدا کئے آٹھ نر ومادہ بھیڑ میں سے دو، اور بکری میں سے دو ۲؂ ، وفی ترجمۃ الرفیعۃ آٹھ جوڑے، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو  ۳؂۔
وقال الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی ترجمتہا آفریدہشت قسم رازگوسفند دوقسم واز بُز دوقسم ۴؎ ۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۶/ ۱۴۳)

(۲؎ موضح القرآن     تحت آیۃ   ۶/ ۱۴۳     مطبع مصطفائی انڈیا    ص۱۴۶)

(۳؎ ترجمۃ القرآن الرفیع الدین     تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳    ممتاز کمپنی لاہور    ص۱۶۲)

(۴؎ ترجمۃ القرآن (فارسی) لولی اللہ الدہلوی تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳     مطبع ہاشمی دہلی    ص۴۹۔ ۱۴۸)
''ثمانیۃ ازواج من الضان اثنین''
پیدا کئے آٹھ نر ومادہ بھیڑے اور بکری سے دو (از موضح القرآن) آٹھ جوڑے بھیڑوں میں سے اور دو بکری میں سے دو، (شاہ رفیع الدین)
آفرید ہشت قسم از گوسفند دو قسم، واز بز دو قسم ( شاہ ولی اللہ)۔
وقال الفاضل یوسف چلپی فی ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃ شرح الوقایۃ، ضانا جمع ضائن خلاف الماعذ، وھما نوعان من جنس الغنم، یقال للاول بالفارسی میش وللثانی بُز، والشاۃ اسم جنس یشملہا کالغنم ویقال لہا بالفارسی گوسفند، کذا فی الصحاح، والاسماء ۱؎ اھ باختصار ،
(۱؎ ذخیرۃ العقبٰی   کتاب الزکوٰۃ   باب زکوٰۃ الاموال   نولکشور کانپور   ۱/ ۱۲۷)
ضان ، ضائن کی جمع، ماعز کے خلاف ۔ اور یہ غنم کی ہی دو نوعیں ہیں، پہلے کو فارسی میں میش اور ثانی کو بُزکہتے ہیں اور غنم کے ہی ہم معنٰی لفظ شاۃ ہے جس کا اطاق دونوں نوعوں پر ہوتاہے اور اس معنی میں فارسی لفظ گوسفند بولا جاتاہے اسماء اور صحاح میں ایسا ہی ہے (مختصرا) (ذخیرہ عقبٰی چلپی)
وقد ترجم فی النفائس بہیڑ ا بالفاسیۃ بمیش نر، وبالعربیۃ بکبش وضان ۲؎ وقال فی تحفۃ المؤمنین بہیڑ بہندی غنم است ۳؎، ثم قال غنم ضان ست ۴؎ ثم قال ضان بفارسی میش نامند ۵؎ ۔
 (۲؎ النفائس)

(۳؎ تحفۃ المومنین مع مخزن بن الادویۃ     الباء مع الہاء     نولکشور کانپور      ص۱۶۹)

(۴؎تحفۃ المومنین مع مخزن بن الادویۃ   الغین مع المیم     نولکشور کانپور    ص۴۲۵)

(۵؎تحفۃ المومنین مع مخزن بن الادویۃ   الصاد مع الالف   نولکشور کانپور    ص۳۹۷)
بھیڑ ا فارسی میں میش نر اور عربی میں ضان ہے (نفائس)

 بھیڑہندی میں غنم ہے۔ اور غنم ضان ہے اور ضاں فارسی میں میش ہے (تحفۃ المومنین)
وفی المنتخب الرشیدی ضان میش ضائن میش نر ۶؎ وفی الصراح ضائن میش نر، خلاف ماعز، والجمع ضان،خلاف معز اھ ۷؎۔
 (۶؎ منتخب اللغات مع غیاث اللغات     باب الضاد مع النون     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۸۲)

(۷؎ الصراح فی الغۃ الصحاح      باب النون فصل الضاد     نولکشور لکھنؤ        ص۴۱۸)
ضان میش ، ضان نر۔ (منتخب رشیدی)

ضائن میش نر، خلاف ماعز۔
اور اس کی جمع ضان خلاف معز(صراح)۔
فان کان فی مریۃ بعد فلیقم ولیَعْدُ فلیذھب بقطیع منہ الی العرب، والفرس، ولیدرفیہا بلاد اوقری وجبالا ومفاوز، ولیسأل کل اھل ناد من حاضر، وباد، ورجل، وامرأۃ وحر وامۃ، وعالم وجاہل، وسائر و قافل فان اخبرہ العرب جمیعا ان ھذا ضان ، غنم، شاۃ ، کبش، نعجۃ، وقالت الفرس ایں ست میش، وگوسپند، نرو ومادہ، فلیصدق بالحق، وان اعربت العرب ان ھذا عصفور، اوکلب عقور  اوفیل ماسور ، وتفرست الفرس، فقالت خرگور، اوچرغ پرزور اوچغد شبکور، فہو معذور۔
ان سب شہادتوں میں ضان اور میش ایک ہی چیز قرار دی گئی ہے اور اسی کو ہندی بھیڑ بتایا گیا ہےاگر اس کے بعد بھی شبہہ ہو کہ یہ دونوں ایک نوع نہیں ہیں، تو بھیڑ کا ایک گلہ لے کر عرب اور فارس کے شہروں اوردیہاتوں میں پھر کر جنگلوں اور پہاڑوں، آبادیوں اور ویرانوں میں گھوم گھوم کر ہر ایک شہری ودیہاتی، عالم وجاہل سے سوال کرو، تو سارے عرب یہ کہیں یہ ضان ہے غنم ہے۔ شاۃ ہے کبش ہے، نعجہ ہے۔ اور فارسی کہیں یہ میش ہے گوسپند ہے۔ تو حق بات تسلیم کرو، اور اگر عرب اس کو گوریا، کٹکھنا کتا یا ہاتھی یا اہل فارس اس کو گورخر یا چیتا یا الو کہیں تو تم معذور ہوگے۔
الخامس ارأیت ان انکر منکر، ان ھذا المہیب الثقیل، ذا الخرطوم الطویل، الذی یقال لہ بالہندہا تہی وگج، لیس ھو الذی یقال لہ بالعربیۃ فیل، وبالفارسیۃ پیل، فہل عندک علیہ من حجۃ ودلیل، الاالرجوع الی اھل اللسن، وابانۃ ان اطباقہم علی امثال ذٰلک من باب التواتر المورث للیقین، کما ان من جحد وضع بمبئی اوکلکتہ، مثلا لہذا  البلد المعلوم، فلا دواء لہ الا الانباء بان الناس مطبقون علی ان ھذا البلد بہذا مسمی وبہ موسوم فان عاند وعاد وعاود  اللداد، فمالہ من طب الا الا فتصاد۔
تنبیہ پنجم تائید مزید : لمبی اور دراز اسونڈ والے ہاتھی کو کوئی فیل نہ مانے تو اس کے علاوہ کیا سبیل ہے کہ اہل عرب سے یہ کہلا دیا جائے کہ ہمارے یہاں سب لوگ اسے فیل ہی کہتے ہیں، جیسے اگر کوئی بمبئی کا انکا رکرے، تو اس کی سبیل بھی یہی ہے کہ اسے بمبئی شہر دکھا کر لوگوں سے کہلادیا جائے کہ سب لوگ اسی کو بمبئی کہتے ہیں:
Flag Counter