| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
الجواب : الحمدﷲ الذی خصنا بالاکرام وعمنا بالانعام خلق لنا الانعام، للتقرب والاطعام، وکثیر من الحاج، ثمانیہ ازواج من الضان اثنین، و من المعز اثنین، آ الصوف حظر، ام الشعر حجر، آ بالاذناب امر، ام علی الا لا یاقصر، ومن الابل اثنین، ومن البقر اثنین، آ با لبخت جد، ام فی العراب حصر، آ الجاموس رد، ام طائف البقر، آبطول وقصر وصغر وکبرفی عضو اوشعر، للنوع غیر، اوبالحصر ضرر، نبؤنی بعلم ان کان لکم خبر، والصلاۃ والسلام علی السید الاعز والہ وصبحہ کل کریم معز۔ عدد اصواف الضاف واشعار المعز۔
اس خدا کی تعریف جس نے ہم کو اکرام کے ساتھ خاص فرمایا اور انعام کے کو ہم پر عام فرمایا ، اور حاجیوں کے لئے اور ہمارے لئے چارپائے بنائے کہ کھائیں بھی اور قربانی بھی کریں۔ یہ آٹھ جوڑے ہیں، ضان کے دو اور معز کے دو، تو کیا اُون والے ممنوع ہیں یا بال والے، یا دم والوں پر روک ہے یا چکتی والوں پر، اور اونٹ کے دو اور گائے کے بھی دو، تو کیا بختی اونٹوں پر انحصار ہے یا اعراب پر، اور بھینس مردود ہے یا گائے کی مختلف اصناف لانبی(لمبی) اور ناٹی، یا کسی عضو یا بال کی چھوٹائی بڑائی، نوع کو بدلنے والی اورحصر کو قائم کرنیوالی ہے تمھیں علم ہو تو مجھے بتاؤ، اور صلاۃ وسلام ہو تمام معززین کے سردا ر پر، ان کی آل پر ، اصحاب پر جو کریم اور معزز ہیں، بھیڑوں کی اون اور بکریوں کے بال برابر۔
و بعد فلا شک ان ھذا لحیوان من بہیمۃ الانعام، ومن الاغنام ومما تجوز التضحیۃ بہ باجماع اھل الاسلام مسئلۃ واضحۃ جلیلۃ النبیان غنیۃعن البیان، لا تتناطح فیہا عنز ان وتد توارث التضحی بہ المسلمون، وعلماؤھم متظافرون، طبقۃ فطبقۃ وجیلا بعد جیل من دون نکیر منکر، ولا مراء عقیل فمن نسبہم جمیعا الی الضلال والاضلال فقد عتاوعصی، وشق العصا، یولی ماتولی، ولسوف یری،
حمد وصلاۃ کے بعد بلا شبہ بھیڑ بکریوں اور انعام میں شمار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے اور اس کی قربانی جائز ہے۔ یہ مسئلہ خود واضح اور بیان سے بے نیاز ہے۔ اس کی قربانی مسلمانوں میں شروع ہی سے متوارث ہے علماء کے تمام گروہ اور مختلف جماعتوں نے اس میں کبھی کوئی اختلاف اورجدال نہیں کیا، تو بلاامتیاز سبھی کو گمراہ او گمراہ گر کہنا سرکشی اور جرم ہے۔ اور امر محبوب سے روگردانی، جس کا انجام آئندہ معلوم ہوگا۔
وقد کان الاعراض عن مثل ھذا امثل واحری، فان الامر اذانتہیٰ الی انکار الواضحات کان السبیل ترک التحاور، فانہا ھی المقاطیع للحجج الشامخات، والبراھین الغر، فمن یماری فیہا فیما ذا یوقن، وبای حدیث بعد ھا یؤمن ولکن وجوب اخماد الباطل وارشاد الغافل۔ والرفق بضعفاء المسلمین کیلا یقعوا فی ضلال مبین، وتحسین الظن بالمسلم العاقل، فانہ ربما عثر، فاذا ذکر تذکر، واذا بصر ابصر، وانما العاقل من اقر وما اصر فاذاعلم الخبر ھجر الہجری وانکرا لمنکر، وربک غفارلمن استغفر،
اس مسئلہ پر خامہ فرسائی سے چشم پوشی ہی بہتر تھی کیونکہ یقینیات جہاں دلائل کے پر جلتے ہیں، جو ایسی باتوں کا انکار کرے پھر کس بات کااقرار کرے گا اور کس پر ایمان لائے گا، لیکن باطل کو بجھانا اور غافل کو بتانا، کمزور اہل اسلام کو گمراہی سے روکنا، اور یہ خوش گمانی بھی کہ پھسلنے والا سنبھالے سنبھل بھی جاتاہے۔ راہ دکھاؤ تو کوئی کوئی دیکھ بھی لیتاہے۔ اور واقعی عقلمند وہ ہے جوہر بات پرخواہ مخواہ اصرارنہ کرے، اورحقیقت آشکار ہو تو یاوہ گوئی اور انکار چھوڑ دے تو پروردگار غفور و رحیم ہے۔
کل ذٰلک یدعون ان نأتی فی الباب بعدۃ تنبیہات تقرر الصواب وتمیط الحجاب ویا سبحٰن اﷲ ھل من حجاب، علی وجہ شمس تجلت من سحاب ھذا وایاک ثم ایاک ان یلھیک الا مل، اویطغیک الملل، اویستخفک الطیش، فیاخذک العجل۔ قبل ان تجمع الکلمات الاخربالاول فانی ارید، ان استدرجک من الرفیع الی الرقیع، ومن ذی سم الی اشم حتی اوقفک علی شمس تتضا ء لا دونہا الظلم، فعسٰی ان یعتریک وھم وباتیک مایزیح، اوتمسی فی حلم اوستصبح فیما یریح، علی انی قد علمت ان السبیل وعر الی ایضاح الجلیات، وانما الجادۃ المسلوکۃ اظہار الخبیات، لکنی اتنزل لک الی وھدۃ وقعت، ولا اٰلو ان ارفعک الی الحق ما استطعت فاقول وتوفیق بالقریب المجید، علیہ توکلت والیہ اُنیب،
ان سب باتوں نے ہمیں چند تنبیہات پرمجبور کیا، سبحان اللہ چمکتے سورج پر کیا حجاب میں تمھیں ہدایت کرتاہوں کہ بیکار امیدوں یا ملال کے چکر ، یا طیش کے فوران میں پھنس کر پوری بات دیکھے سنے بغیر جلد بازی نہ کر بیٹھنا ،میں تمھیں ادنٰی سے اعلی تک آہستہ آہستہ لے کر چل کر سورج کے پاس کڑا کردوں گا جہاں تاریکیاں کافور ہیں، کیونکہ جہاں وہم پیدا ہوتاہے اس کا ازالہ بھی ہوتاہے اور رات کے بھیانک خواب سے صبح کو چھٹکارا بھی مل جاتاہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ توضیع تر پوشیدہ امور کی ہوتی ہے۔ اوربدیہات کی تفیہم مشکل ہے۔ میں نے حق کی طرف رہنمائی میں کوتاہی نہیں کی ہے۔
الاول : قال ربنا عزمن قائل اُحلت لکم الانعام، الی قولہ عزوجل ثم محلہا الی البیت۱؎، وقال سبحنہ وتعالٰی وکل امۃ جعلنہ منسکا لیذکروا اسم اﷲ تعالٰی من مارزقہم من بہیمۃ الانعام ۲؎۔ فقد اذا دجل جلالہ ان الانعام کلہا محل المنسک، وانہا التی یتقرب بنحرھا وذبحا الی ربنا وربہا دون سائر البہائم والحیوانات،
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۰ تا ۳۳) (۲؎القرآن الکریم ۲۲/ ۳۴)
تنبیہ اول : اس بات کے بیان میں کہ صرف انعام ہی قربانی کے جانور ہیں : اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے: تمھارے لئے حلال کئے گئے انعام سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے تو دور ہوں بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر، پھر اس کا ساجھی کسی کونہ کرو، اور جو اللہ کا شریک کرے کہ وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچھک لے جاتے ہیں، یا ہوا اسے کسی دوسری جگہ پھینکتی ہے بات یہ ہے اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے، تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔ تمھارے لئے انعام میں فائدے ہیں ایک مقررہ میعاد تک، پھر ان کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک اور ہر امت کےلئے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئے ہوئے بے زبان چوپایوں پر، تو تمھارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو۔ (سورہ حج۔پ ۱۷)
قال الامام محی السنۃ البغوی، فی معاملۃ التنزیل ''لیذکروا اسم اﷲ علی مارزقہم من بہیمۃ الانعام'' عند نحرھا وذبحہا، وسماھا بہیمۃ الانعام، لانہا لا تتکلم، وقال بہیمۃ الانعام لانہا لا تتکلم وقال بہیمۃ الانعام قید بالنعم لان من البہائم مالیس من الانعام ، کالخیل والبغال والحمیر، لایجوز ذبحہا فی القرابین ۱ اھ و لااری مرتا با یرتاب فی ان حیواننا ھذا من بہیمۃ الانعام،بانہ اھلی ذات قوائم اربع وظلف، قال فی المصباح المنیر لغۃ الفقہ، الا نعام ذات الخف، والظلف، وھی الابل، والبقر، والغنم ۲؎ اھ فان کنت فی ریب من ھذا فانبئنا مما ذاتراہ امن الوحوش ام من السباع، ام من الطیور، ام من الہوام، ام ذوات الحوافر، ام نوع اٰخر مقطوع الدابر، مابہ علم ولاعنہ مخبر۔
(۱؎ معالم التنزیل لی ھامش الخازن تحت آیۃ ۲۲/ ۳۴ مصطفی البابی مصر ۵/ ۱۸) (۲؎ المصباح المنیر النون مع العین مصطفی البابی مصر ۱/ ۸۴۔ ۱۸۳)
ان آیات کا مفاد یہ ہے کہ جانوروں میں صرف انعام ہی قربانی اور ہدایا کے لئے مخصوص ہیں، حضرت امام بغوی نے اس مضمون پر تفسیر معالم میں دوسری آیت کے تحت تصریح فرمائی، یعنی ان جانوروں کے ذبح اور نحر کے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہو ان جانوروں کو انعام کہنے کی وجہ ان کا نہ بولنا ہے۔ انعام کی قید اس لئے لگائی کہ کچھ بہائم ایسے ہیں کہ قربانیوں میں ذبح نہیں کئے جاتے ، جیسے گھوڑا ِ، خچر، گدھا____ اتنا ثابت ہوجانے کے بعد اس کی ضرورت تو نہ تھی کہ ہم بھیڑ کاانعام ہونا بھی ثابت کریں، اوریہ کہ اہلی ہے وحشی نہیں ہے دو کُھر والا چوپایہ ہے، مگر ہم شہادتیں فراہم کررہے ہیں :
انعام کُھردار جانور اور خف والے ،یہ اہل، بقر،غنم ہیں (مصباح المنیر) اگر اس کے بعد بھی شبہ ہو تو بتاؤکیا وحشی ہے یا درندہ ہے، کہ پرندہ ہے یا حشرات الارض میں سے ہے، سُم والوں ہے یاکوئی ایسی قسم جس کی نسل ختم ہوگئی ہے۔اس کا ہمیں علم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خبرہے ۔
الثانی قال جل ذکرہ من الانعام،
حمولۃ و فرشا ۱۔
قال الشاہ عبدالقادر الدہلوی رحمہ اﷲ تعالٰی فی ترجمۃ الکریمۃ پیداکئے مواشی میں لدے والے اور دبے ۲؎ وقال فی فوائدہا
لدنے والے اونٹ اور بیل، اور دبے بکری اور بھیڑ۳؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۴۲) (۲؎ موضع القرآن تحت آیۃ ۶/ ۱۴۲ مطبع مصطفائی انڈیا ص۱۴۶) (۳؎موضع القرآن تحت آیۃ ۶/ ۱۴۲ مطبع مصطفائی انڈیا ص۱۴۶)
تنبیہ دوم : اس بات کے ثبوت میں کہ بکری انعام میں سے ہے : ارشاد الٰہی ہے ''من الانعام حمولۃ وفرشا۔ شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ فرمایا: ''پیدا کئے مواشی میں لدنے والے اور دبے'' اور فوائد میں فرمایا: ''لدنے والے اونٹ اور بیل ،اور دبنے والے بھیڑ اور بکری''۔