Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
76 - 126
ومن سنن الاسلام التضحیۃ بالانعام التضحیۃ ذبح الاضحیۃ والانعام بالفتح جمع نعم بفتحین وھو ذوات القوائم الاربع یعنی ان من السنۃ التضحیۃ بالجذع من الضان، وھو ماتم لہ ستۃ اشہر، وقیل سبعۃ اشہر، وبالثنی فصاعدا من شاۃ، اعم من ان یکون ضانا او معزا، ومن الابل والبقر مطلقا، وھو ای الثنی ابن خمس من الابل۔ وحولین من البقرۃ وحول من الشاۃ والمعز۔ والجذع بفتحتی الجیم والدال ، وقیدناہ بالضان و ھومالہ الیۃ۔ لان الجذع من المعز لاتجوز بہ التضحیۃ وقولنا مطلقا اشار الی انہ یجوز  المذکور والانثی من جمیع ماذکر، وان الجاموس داخل فی البقر ھکذا ذکرہ فی الفروع ۱؎ اھ، ویختار من الشاۃ الکبش ای الذکر من الغنم فان الانثی منہ اعنی النعجۃ وکذا المعز و ان جازہ لکن الکبش ھوا الاولی ۲؎ انتہی مااردناہ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام من عینی، والکبش افضل من النعجۃ ھی الانثی من الضان قاموس ۳؎ ردالمحتار من عینی، قولہ الجذع من الضاف ھو ذوات الصوف من الغنم التی لہ الیۃ، کما فی منح الغفار وغیرہ التعلیق الممجد علی مؤطا امام محمد من عینی ۴؎۔ وعن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تذبحو ا لامسنۃ بضم میم وکسرسین ونون مشددۃ، فرمودہ زبح نہ کنید مگر مسنہ، لاان یعسرعلیکم  فتذبح جذعۃ من الضان، مگر آنکہ دشوارشود بہم سانیدن مسنہ برشما، پس ذبح کنید جذعہ را از میش جذع بفتح جیم وذال رواہ مسلم شرح ایں حدیث تفصیلے دارد آنرا موافق مذہب حنفی بیان کنیم، ودر شرح موافق مذاہب اربعہ ذکر کردہ شدہ است بدانکہ اضحیہ جائز نیست ، مگر ازاہل وبقر وغنم، وروایت کردہ نشدہ است ازاں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ونہ از اصحاب وے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین جزا صناف ثلثہ ازذبائح وغنم ووصنف معزکہ آنرا بُزگویند، وضان کہ آنرا میش خوانند، وجاموس بسیں مہملہ کہ معرب گاؤ میش ست نو ع از بقرت وجائز است، از جمیع ایں اقسام ثنی انتہی مااردناہ ا شعۃ۱؎ المعات علی المشکوٰۃ۔
 (۱؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام     فصل فی سنن الاضحیۃ     مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ    ص۲۱۸)

(۲؎مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام     فصل فی سنن الاضحیۃ     مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ   ص۲۲۰)

(۳؎ ردالمحتار  کتاب الاضحیہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۵)

(۴؎ التعلیق الممجد علی مؤطا لامام محمد مع المؤطا کتاب الضحایا ومایجز منہا     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی    ص۲۸۰)

(۱؎ اشعۃ اللمعات    کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیہ     الفصل الاول     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۶۰۸)
 (۴) اور انعام کی قربانی مسنون ہے، انعام چوپایہ کوکہتے ہیں، اضحیہ کے معنی قربانی ہیں، مطلب یہ ہے کہ ضان کا چھ ماہہ بچہ، یا سات ماہہ بچہ کی قربانی مسنون ہے اور ایک سالہ بچہ کی بھی، لیکن اس کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے۔ ضان ہو کہ معز، اور اونٹ اور بقر کا ثنی بھی قربانی کے لئے جائز ہے۔ اونٹ کا ثنی پانچ سالہ اور بقر کا دوسالہ اور شاۃ کا ایک سالہ۔ا ور جذعہ کے لئے ضان کی قید اس لئے لگائی کہ بکری چھ ماہہ جائز نہیں، اورضان چکتی والے جانور کو کہتے ہیں اوپر کی عبارت میں ایک جگہ مطلقا کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکر ہوکہ مؤنث، اوربھینس گائے میں داخل ہے۔ اور شاۃ میں افضل مادہ نہیں بلکہ نر ہے۔ دونوں نوعوں کا یہی حکم ہے۔ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام)

(۵) اور مصنف نے ''جامع من الضان'' کہا، اورضان وہ اون والا جانور ہے جس کے چکتی ہو، ایسا ہی منح الغفار وغیرہ میں ہے۔ (تعلیق الممجد من عینی)

(۶) اور نر مینڈھا مادہ سے افضل ہے اور یہ ضان کا مؤنث ہے۔ قاموس ۔(ردالمحتار)

(۷) مسنہ ہی ذبح کرو۔ یہ نہ ملے تو ضان کا ''جذعہ'' اس حدیث کی شرح میں تفصیلات ہیں، ہم مذہب حنفی کے موافق بیان کرتے ہیں، قربانی کے جانور کی تین نوعیں ہیں، اونٹ، بقر، غنم۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اور اصحابہ سے ان کے علاوہ قربانی ثابت نہیں، غنم کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ معزر کو فارسی میں بز کہتے ہیں، اور ضاں کو میش اور جاموس گاؤ میش کا معرب ہے یہ گائے کی ہی ایک قسم ہے۔ اور ان سب کاثنی جائزہے۔ (اشعۃ اللمعات)
فان  قبل قلت فیما سبق الحجۃ علینا تفسیر الفقھاء لا تفسیر اھل اللغۃ ،ورأیت الآن ترجمۃ الشیخ لفظ الضان بمیش وھو من اعاظم مقلدی الحنفیۃ وانت نقلتہ ایضا للسند ،فلم لاتقول بجواز اضحیۃ الحیوان المسئول عنہ بعد ،قلت لاتفرح بترجمۃ الشیخ مثلاً کما فرح العامۃ بھا، وجوزوا التضحیۃ بالحیوان المسئول عنہ فضلو اواضلو نعوذ باﷲ منہا، فان لفظ میش لغۃ الفرس لالغتنا،فاما حقیقۃ فیما لہ الیۃ ومجاز فی الحیوان المسئول عنہ، لکونہ من ذوات الصوف مثل مال الیہ۔ اوبالعکس واما مشترک بینہا، فعند تفیسر الضان بہ کما فسرہ الشیخ بہ لا یجوز ان یراد بہ معالا نہ یلزم الجمع بین الحقیقۃ والمجاز، ولو بین معینی مشترک فی اطلاق واحد، وبطلانہما لایخفی علی الکل ، مع انہ حنیئذ یصیر للغنم لواشاۃ اصناف ثلثۃ، المعز ومالہ الیۃ ومالا الیۃ لہ ویخالف قول الشیخ فیما بعد وغنم دوصف است ۱؎ وقال الشامی والشاۃ بنوعیۃ ۲؎۔ وھکذا وان ارید بہ عموم المجازی ای ما کان من ذوات الصوف فلا یلزم الجمع بالمعنین الا ان التخالف بینہ وبین قول الشیخ وغیرہ المذکورین باق وھو ظاہر ، وکاف فی عدم ارادتہم ، فاما ان یراد بہ الحیوان المسئول عنہ فقط حقیقۃ کان اومجازا، فیخرج مالہ الیۃ من باب التضحیۃ۔ و یصیر النوع الخامس، من الانواع الخمسۃ بہا الحیوان المسئول عنہ، لامالہ الیۃ و ھو خلاف الاجماع اویراد بہ مالہ الیۃ فقط حقیقۃ کان او مجاز فیحرم الحیوان المسئول عنہ من البین کما ہو حقہ وہو المطلوب۔ واجراء ہذا التفصیل بعینہٖ فی لفظ الضان ان کما وقع فی الحدیث والمتون بان یقال لفظ الضان لفظۃ لغۃ العرب لالغتنا فاما حقیقۃ فیما لہ الیۃ ومجاز فی الحیوان المسئول عنہ الی قولنا وھو المطلوب، فقیل تفسیرہ بما تکون لہ الیۃ یمکن ویحصل الفائدۃ منہ، وھی الاستقرار علی المطلوب واما بعد تفسیرہ بمالہ الیۃ کما فعل الفحول من العلماء، فلا فائدۃ فیہ لانہ یعلم من ھذا التفسیران مراد الفقہاء بالضان مالہ الیہ سواء کان معنی حقیقیا او مجازیا فما مطلبنا فی الاجراء وتطویل المسافۃ فطننت بل علمت من ھذہ النقول ان التضحیۃ بالحیوان المسئول عنہ لا تجوز۔ وقد سمعت تحقیقۃبما لا مزید علیہ اٰنفا فاقول ما انا علیہ، وعلیہ التعویل ھو عدم جواز التضحیۃ بہ، فان اصبت فمن اﷲ تعالٰی ، وان اخطأت فمعنی ومن الشیطان وان وجد فی الکتب الاخر المعتمدۃ علیہا الغیر الموجودۃ عندی جوازھا، فح ترک التضحیۃ بہ اولی لان مقتضی الاحتیاط ح ھو عدم الجواز علی ما علم من اصول الفقہ، ھذا بالنواجذ ولا یلتقف الی قول المخالفین القائلین بالجواز فان اقوی دلائلہم ''وجدنا علیہ اسلافنا'' وتعلم حالہ وما سوی ھذا الدلیل من تفسیر الضان بلفظ میش وما کان من ذوات الصوف، فاوھن من بیت العنکبوت کما مر، ھذا ماظہر لی ولعل عندی غیری احسن من ھذا۔ المجیب نظام الدین مدرس مدرسۃ الاسلامیہ احمد پور شرقیہ۔
 (۱؎اشعۃاللمعات     کتاب الصلٰوۃ  باب الاضحیۃ     الفصل الاول   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۶۰۸)

(۲؎ ردالمحتار   کتاب الاضحیہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۴)
سوال: آپ نے اس سے قبل کہا کہ ضان کا ترجمہ میش (بھیڑ) اہل لغت کرتے ہیں، اور اہل فقہ یہ ترجمہ کرتے ہیں تو ہم بھی تسلیم کرلیتے کہ ضان بھیڑ کو شامل ہے اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ صاحب اشعۃ المعات توائمہ وحدیث میں سے ہیں، اور انھوں نے بھی وہ اہل لغت والا ترجمہ کیا ہے تو آپ کو کیا عذر ہے۔
جواب: شیخ محقق کے اس ترجمہ سے جاہلوں کی طرح خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ شیخ کے اس لفظ میش سے دنبہ اور بھیڑ دونوں ہی مراد ہوں گے، یا ان میں سے کوئی ایک اور دونوں ہی مراد ہوں گے تو بطور حقیقت مجاز، یا اشتراک یا عموم مجاز، تو حقیقت ومجاز، یا اشتراک  کے طور پر دونوں معانی کا ایک ساتھ مراد لینا اصول لسان کے اعتبار سے ناجائز ہے۔ اور بطور عموم مجاز دونوں ایک ساتھ مراد لینے پر یہ خرابی لازم آتی ہے کہ قربانی کے کل چھ قسم کے جانور ہوتے ہیں، حالانکہ ہم ثابت کرآئے ہیں کہ پانچ ہی ہیں، اور ایک ہی مراد لیں، اور وہ بھیڑ ہو تو دنبہ چھوٹ جاتاہے جو بالاتفاق قربانی کا جانور ہے۔
مزید سوال : آپ کی یہ ساری تقریر ضان کے معنی دنبہ مراد لینے پر بھی جاری ہوتی ہے، تو یہ مراد لینا بھی ممنوع ہوا۔
جواب: جب فقہاء نے چکتی والا کہہ کر اسی جانور کو متعین کردیا تو اب ہم کو اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ وہ معنی مجازی ہیں یا حقیقی یا بطور اشتراک۔

پس ان نصوص فقہیہ کی روشنی میں ہمارا فیصلہ تو یہی ہے کہ بھیڑ کی قربانی ناجائز ہے۔ اگر دوسری کسی کتاب میں اس کے جواز کا حکم ہو بھی تو احتیاط اس سے بچنے میں ہی ہے کہ عدم جواز کے یہ دلائل قاہرہ ہم نے ظاہر کردئے۔

اوریہ کہنا کہ بزرگوں سے ایسا ہوتا آیا ہے، یا میش کے معنی بھیڑ ہیں یہ تار عنکبوت سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے یہ فتوٰی صحیح ہو تو اللہ تعالٰی کی طرف سے، اور غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے، واللہ تعالٰی اعلم۔ 

(نظام الدین مدرس اسلامیہ احمد پور شرقیہ)
Flag Counter