فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
75 - 126
ایک اور جواب: اور اگر بطور تنزل ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ اہل لغت کے نزدیک میش کااطلاق اون والے پر ہوتاہے تب بھی ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ اس سے ان کی مراد بھیڑ ہے۔ اسکے بیان کے لئے ہم کو تھوڑی تفصیل میں جانا ہوگا۔
کسی چیز کی تعریف اس کے مساوی لفظ سے بھی کی جاتی ہے۔ جیسے انسان کی تعریف لفظ ناطق سے کی جائے (کہ جن جن افراد پر انسان دلالت کرتا ہے ناطق بنی اس اس پر دلالت کرتاہے) اور کبھی تعریف کے لئے معرف سے عام لفظ بھی استعمال کیاجاتاہے جیسے السعدانۃ نبت (کہ سعدانہ ایک مخصوص گھاس کا نام ہے) جبکہ نبت ہر گاس کو کہا جاتاہے۔ اول الذکر تعریف کامل ہے اور ثانی ناقص، الغرض تعریف دونوں ہی ہے۔
اگر معرّف کو بعض امور سے ممتاز کرنا ہے تو عام لفظ سے بھی تعریف جائز ہے ۲؎ (فاضل لاہوری بحث خواص اسم)
(۲؎ کلام لفاضل اللاہوری)
وھہنا کذٰلک اوالمقصود من تفسیرہ بہ تمیزہ عن بعض ماعداہ کالمعز والبقر، فانہما من ذوات الشعر، ولو قیل ان غرضھم من تفسیر الضان بلفظ میش ان الضان ماکان من ذوات الصوف سواء کان لہ الیۃ اولا کما ان میش کذٰلک فبعد التسلیم لایصیر حجۃ علینا لان الحجۃ علینا تفسیر الفقہاء لا تفسیر اھل اللغۃ، ووجب علینا اتباع الفقہاء لااھل الغۃ وھم کثیر امایخا لفون اھل اللغۃ عمدا کما قال الچلپی علی شرح الوقایۃ، فی باب الاضحیۃ قولہ الجذع شاۃ لہا ستۃ اشھر ای فی مذہب الفقہاء، و انما قیدنا ہ بہذا الان عند اھل اللغۃ الجذع من الشاۃ ماتمت لہا سنۃ کذا فی النہایۃ ۱؎ والعینی علی الکنز، فی باب الاضحیۃ وجاز الجذع من الضاع لاغیر۔ وھو ماتمت لہ ستۃ اشہر عند الفقہاء ۲؎ وفی کتاب الزکاۃ والمعز کالضان ویؤخذ الثنی فی زکاتہا لا الجذع وھو مااتی علیہ اکثر ھا، وھذا اتفسیر الفقہاء وعند اھل اللغۃ الجذع ماتمت لہ سنۃ، وطعن فی الثانیۃ ۳؎۔
(۱؎ ذخیرۃ العقبیٰ حاشیہ شرح الوقایہ کتاب الاضحیہ نولکشور کانپور ۴/ ۵۷۷)
(۲؎ رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق کتاب الاضحیہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۵)
(۳؎رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق کتاب الزکوٰۃ باب صدقۃ السوائم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۷۱)
تویہاں بھی ضان کا ترجمہ لفظ میش سے کردیا جس کا مفہوم اون والا ۔ لیکن اس سے اہل لغت کی غرض ضان میں بھیڑکو شامل کرنے کی نہیں تھی بلکہ دنبہ کو گائے، بھینس اور بکری سے ممتاز کرنا ہے کہ وہ اون والے جانور نہیں، اور دنبہ اون والا جانور ہے۔ اور جب ضان کو بھیڑ سے بھی ممتاز کرنا ہوا تو اس کی تعریف چکی والے جانور سے کی۔
جوب الجواب:اگر ہماری بات کایہ جواب دیا جائے کہ اہل لغت کے اطلاق کو یہاں تعریف مساوی سے پھیر کر تعریف عام قرار دینا ایک بے دلیل اور ادعائی بات ہے۔ اس لئے قابل تقسیم نہیں ظاہر ہے کہ ان کامنشاء ضاں کا ترجمہ پیش کرکے یہی ظاہر کرناہے کہ وہی جانور ہے جس کے اون ہوتاہے چکی ہویا نہ ہو، اس سے ان کو کوئی غرض نہیں تو لغۃ بھیڑ دنبہ میں شامل ہوئی ،
جواب : چلئے اہل لغت کا مطلب وہی ہے جو آپ کہتے ہیں، لیکن ہمارے لئے حجت اہل لغت کی بات نہیں ہے اہل فقہ کی بات ہے جب وہ ضان کے معنی چکتی والا کہتے ہیں تو وہی مانا جائے گا، اور بھیڑ دنبہ میں شامل نہ ہوگی ۔
رہ گئی یہ بات کہ اہل فقہ اور اہل لغت کے معانی میں اختلاف ہوتاہے۔ تو اس کی نظیر قربانی کے جانور میں ہی لفظ جذع ہے کہ اہل فقہ چھ ماہ کے بچے کوکہتے ہیں، اہل لغت ایک سالہ بچہ کو، اور مسئلہ کاحل اہل فقہ کے قول پر ہی دیا جاتاہے۔ چلپی علی شرح الوقایہ، عینی علی الکنز)
واما تفیسر الضان (عہ) بما کان من ذوات الصوف والمعز بما کان ذوات الشعر، کما فعل بعضہم فتفسیر کل واحد منہما تفسیر بالاعم، کما یشعر بہ من لاالمساوی، وغرضہم من ھذا التفسیر تمیز کل واحد من الاخر، الاتری ان البقروالجاموس من ذوات الشعرء فلو کان تعریف بالمساوی بطل الطرد، فہکذا تعریف الضان۔
شبہ نمبر ۳ : بعض فقہاء نے بھی تو ضان کی تعریف "مالہ صوف" (جس کے اون ہو) سے کی ہے۔ جس کے معنی صاف یہی ہوئے کہ بھیڑ بھی اس میں شامل ہے۔
جواب: جی ہاں قہستانی نے یہ تعریف کی ہے۔
''الضان ماکان من ذوات الصوف والمعز ماکان ذوات الشعر''
لیکن اس کا جواب ہم پہلے ہی دے چکے ہیں کہ یہ تعریف بالا عم ہے۔ بکری اور بیل سے دنبہ کو ممتاز کرنے کے لئے ہے۔ بھیڑ سے ممتاز کرنے کے لئے نہیں (جب اس کی ضرورت ہوئی تویہ تعریف کیا ''مالہ الیۃ'' جس کی چکتی ہو، تاکہ بھیڑ نکل جائے)
عہ: عبرالمجید ھکذا اوالعبارۃ فی الاصل ھکذا الضان ماکان من ذوات الصوف ولمعز من ذوات الشعر ۴؎۔قہستانی ۱۲
مجیب نے یوں تعبیر کیا ہے حالانکہ اصل کتاب میں یوں ہے، ضان وہ ہے جو اون والا ہو اور معز جو بالوں والا ہو، قہستانی ۱۲ عبدالمنان الاعظمی
(۴؎ جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ مکتبہ اسلامیہ کنبد قاموس ایران ۲/ ۳۰۶)
ہماری اس بات پر قرینہ یہ ہے کہ تعریف میں لفظ من استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں ، تو تعریف کی عبارت کا ترجمہ یہ ہوا ضان اون والے جانوروں میں سے بعض ہے اور دوسرا قرینہ یہ ہے کہ بکری کی تعریف میں یہی کہا گیا ہے۔
''ماکان ذوات الشعر''
جو بالوں والی ہو۔ تواگر اس عبارت کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ بکری بال والے جانوروں میں سے بعض ہے تو بیل بھینس وغیرہ بھی بکری میں شامل ہوجائیں گے، پس اس مجبوری سے جب بکری والی تعریف کو بالاعم قرار دیا جائے تو ضان والی تعریف کو بھی تعریف بالاعم قرار دیں (کیونکہ دونوں جملے ساتھ ساتھ ہیں تو دونوں کاحکم یکساں ہوناچاہئے۔
الاٰن نکتب عبارات الکتب الموجودۃ فانظر فیہا حق النظر حتی یتبین لک الحق والحق احق بان یتبع (م) وصح الجذع من الضان (ش) الجذع شاۃ لہا ستۃ اشہر، والضان بما تکون لہ الیۃ (م) والثنی فصاعدا من الثلثۃ (ش) ای من اشاۃ اعم من ان یکون ضانا اومعزا، ومن البقر ، ومن الابل ۱؎۔ شرح وقایہ من عینی، قولہ وصح الجذع الی قولہ من الثلثۃ اشارۃ الی بیان الانواع التی لاتجوز الاضحیۃ الابہا، وتصریح بینہا التی لاتجوز فیما دونہ ۲؎، چلپی علی شرح الوقایۃ، من عینی،
(۱؎شرح الوقایہ کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنو، ۴/ ۹۳)
(۲؎ ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃ شرح الوقایہ کتاب الاضحیۃ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۵۷۴)
حوالے: اب ہم کتابوں سے حواالے پیش کرتے ہیں جس سے حق واضح اور روشن ہوجائے گا :
(۱)ضان کا جذعہ قربانی میں جائزہے یعنی شش ماہہ بچہ اور ضان چکتی والے جانور کوکہتے ہیں، ثنی اور اس سے بڑی عمر والے جانور تینوں اقسام کے جائز ہیں یعنی شاۃ میں دنبہ ہو یا بکری اور گائے میں گائے ہو یا بھینس اور اونٹ (شرح وقایہ من عینی) (۲) مصنف کے مذکورہ بالا قول میں ان جانوروں کی طرف اشارہ ہے جن کے علاوہ قربانی جائز نہیں اورایسی عمروں کا بیان ہے جن کے علاوہ قربانی جائز نہیں، (حاشیہ شرح وقایہ چلپی من عینی)
وصح الجذع ذوستۃ اشہر من الضان ان کان بحیث لوخلط بالثنایا لایمکن التمییز من بُعد، وصح الثنی فصاعدا من الثلثۃ والثنی ہو ابن خمس من الابل وحولین من البقر والجاموس۔ وحول من الشاۃ ۳؎ اھ درمختار من عینی، قولہ من الضان ہو مالہ الیۃ منح، قید بہ لانہ لا یجوز الجذع من المعز وغیرہ بلاخلاف، کما فی المبسوط قہستانی والجذع من البقرا بن سنۃ، ومن الابل ان اربع، بدائع، قولہ من الثلثۃ ، ای الاتیۃ وھی الابل ۔ والبقر، بنوعیہ والشاۃ بنوعیہ ۴؎ ردالمحتار من عینی
(۳؎ درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲ و ۲۳۳)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیرت ۵/ ۲۰۴)
(۳) ضان کا اتنابڑا بچہ جو چھ ماہ کا ہو لیکن دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو (درمختار عینی)
ضان جس کے چکتی ہو، یہ چکتی کی قید اس لئے لگائی کہ بکری گائے اور اونٹ کے جذعہ کا استثناء مقصود تھا، بکری کا جذعہ چھ ماہ کا ہوتاہے اور گائے کا سال بھر کا اور اونٹ کا چار سال کا، اور ''من الثلاثۃ'' کا لفظ جس کا ذکر آگے آرہا ہے یہ اونٹ اور بقر ان دونوں نوعوں کے ساتھ اور اسی طرح اپنی دو نوں قسموں کے ساتھ، (ردالمحتار من عینی)