Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
74 - 126
ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الہندیہ (۱۳۱۴ھ)

(بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مسئلہ ۲۰۳: از کانپور مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی احمد حسن صاحب مدرس اعلی مدرسہ فیض عام کانپور اواخر رمضان مبارک ۱۳۱۴ھ
علم الہدی سمی المصطفٰی باسمہ الذی بشربہ عیسٰی، بزیادۃ لفظ معناہ المرتضی دامت عنایتکم ازا حمد حسن عفی عنہ
 (خلاصہ) ہدایت کے نشان، حضرت مسیح کی بشارت والے، نام میں رسول مقبول کے ہم نام، اورجناب مرتضٰی کے اسم مبارک کے ہم مادہ، مولا احمد رضا خاں صاحب زید مجدہم۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، وبعد ازیں آنکہ دریں وقت یک استفتاء از پنچاب آمدہ است، ونہایت غور طلب ست اکثر علمائے پنچاب دریں امر کہ شیدہ اند لکن بمنزل مقصود نرسیدہ اند، وجواب استفتاء یک شخصے کہ مایہ علم اتم دارد نوشہ لکن چونکہ جواب مخالف معمول ست قبول نمی کنند، اکنوں جواب را نقل کردہ بخدمت سامی ارسال ست۔ہرچہ تحقیق جناب ست ارسال فرمایند اگر مخالف رائے جناب باشد امید کہ بوجہ احسن روشن کنند واگر موافق باشد نیز بزیادہ ادلہ ثبت فرمایند۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، پنجاب سے ایک سوال آیا ہے جس کے جواب کے لئے بہت سے علماء سرگرداں ہیں لیکن منزل مقصود مفقود ہے۔ ایک پر مغز عالم نے ایک جواب تحریر کیا وہ معمول قدیم کے خلاف ہے اس لئے عوام اور علماء کوئی قبول نہیں کرتا، میں سوال وجواب دونوں ہی خدمت میں ارسال کررہاہوں، جواب اگر صحیح نہ ہو تو وجہ غلط بتائیں اور صحیح ہو تو تائید مزید سے مزین فرمائیں
ماقول العلماء المحمدیۃ الحنفیۃ علیہ افضل الصلٰوۃ واکمل التحیات فی حیوان ذات صوف ولا الیۃ لہ(عہ)، ویقال فی اللغۃ الملتانیۃ لانثاہ بھیڈو لذکرہ گھٹہ، اتجوز بہ التضحیۃ ام لا، بینوا توجروا من الملک العلام۔
سوال:علمائے اسلام بالخصوص اعلام احناف بھیڑ اور بھیڑےے (نر ومادہ) کے بارے میں کیا فرق ہیں، ان کی قربانی جائز ہے یانہیں؟
عہ :  سائل کی الجھن اصل یہ ہے کہ عرب میں دنبہ ہوتاہے اور بکری بھیڑ جو ہمارے یہاں ہوتی ہے جس کی صرف دم دنبہ سے مختلف ہے یہ کس میں داخل ہے، دنبہ میں یا بکری میں یا کوئی تیسری قسم ہے۔ تو اس کی قربانی جائز ہے یانہیں؟ عبدالمنان اعظمی
الجواب : اقول وبہ نستعین انی رأیت کتب الحنفیۃ الموجودۃ عندی من شرح الوقایۃ وحاشیتہا للچلپی والدرالمختار وشرحہ للشامی، ومفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام، والتعلیل الممجد شرح مؤطا امام رحمہ اﷲ واشعۃ اللمعات ووجدت فیہا انہم ینحصرون الاضحیۃ فی الشاۃ والبقر والابل اوالغنم والبقر والابل ویعمون الشاۃ بقولہ ضانا کان اومعز ا وکذٰلک الغنم ویفسرون الضان بما تکون لہ الیۃ و یدخلون الجاموس فی البقر ویقولون انہ نوع منہ فصارت انواع الاضحیۃ خمسۃ الضان والمعز والبقر والجاموس والابل ذکورا کانت اواناثا فتلک عشرۃ کاملۃ،
جواب :  شرح وقایہ اور اس کے دو حاشیے از علامہ چلپی ، درمختار اور شامی، مفاتیح الجنان شح شرعۃ الاسلام، تعلیق الممجد، اشعۃ اللمعات کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ قربانی کے جانوروں کی ابتدائی تین قسمیں ہیں:

(۱) شاۃ یا غنم ( یہ دونوں لفظ بطور ترادف قربانی کے جانوروں کی ایک ہی قسم کے لئے بولے جاتے ہیں)۔ 

(۲)بقر (اس کی دو قسمی کرتے ہیں گائے اور بھینس)۔(۳) جمل (اس کی ایک قسم شمار کرتے ہیں)۔

شاۃ کو پھر دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: ضان اورمعز

ا ور بقر کی بھی دو قسم کرتے ہیں: بقر وجاموس اس طرح اصل اور ذیلی قسموں کو ملاکر کل پانچ قسمیں ہوئیں:

(۱)جمل (اونٹ)     (۲)بقر (گائے)(۳) جاموس (بھینس) (۴) ضان (دنبہ) (۵) معز (بکری) اور مذکر ومؤنث دونوں کو شامل کردیا جائے تو کل دس قسمیں ہوتی ہیں :
وحسبت ان الحیوان المذکور و المسئول عنہ لیس داخلا فی الخمسۃ لانہ لو کان داخلہ فیہا لما فسروا الضان بان تکون لہ الیۃ، بل عمموہ بما تکون لہ الیۃ اولا حتی صارت انواع الشاۃ اوالغنم ثلثۃ والکل ستۃ ، واذ لیس فلیس فان قیل یدخلون الجاموس فی البقر فما السرفی عدم ادخال الحیوان المسئول عنہ فی الضان مع انہ یؤید ادخالہ فیہ تفسیر اہل اللغۃ لفظ الضان بمیش، کما فی الغیاث ۱؎ وغیرہ،
 (۱؎ غیاث اللغات     باب خادمعجمہ فصل ضاد معجمہ مع الف     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۳۱۲)
پہلی دلیل : سوال میں ذکر کی ہوئی ہندوستانی بھیڑ اپنی شکل وصورت کے لحاظ سے اگر شامل ہوسکتی ہے تو ضاں (دنبہ) میں اگر اس میں شمار نہ ہوئی تو پھر کسی قسم میں شمار ہونے کا سوال ہے یوں غلب ہے کہ ضان یعنی دنبہ کی تعریف میں یہ قید ہے کہ اس کے الیہ (چکی) ہوتی ہے اور بھیڑ کے چکی نہیں ہوتی ہے، اس لئے ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ بھیڑ قربانی کاجانور ہے ہی نہیں اس لئے اس کی قربان جائز نہیں، اس امرپر قرینہ یہ ہے کہ اگر بھیڑ کو قربانی کے جانور میں شریک کرنا مقصو دہو تا تو دنبہ کی تعریف میں چکی ہونے کی قید نہ لگاتے بلکہ ایسا لفظ بولتے جو بھیڑ اور دنبہ دونوں کو عام ہو، اور ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ مقصد اس نوع کی شریک کرناہی نہیں ہے۔
دوسری دلیل :  ایک بات یہ ہے بھی ہے کہ ازروئے شرع غنم یا شاۃ کی دو ہی قسم بنائی گئی ہے۔ ضان اور معز اگر بھیڑ کو بھی قربانی کا جانور مان لیا جائے تو ایک کے اضافہ کے بعد غنم کی ۳ قسم ہوجائے گی اور سب کا مجموعہ پانچ کے بجائے چھ ہوجائے گاجوتصریحات علماء کے بالکل خلاف ہے۔ اس لئے ثابت یہی ہوا کہ یہ قربانی کا جانور ہی نہیں ہے۔
ایک شبہ : شکل وصورت، رنگ وروپ، فوائد اور تاثیر میں ہزار اختلاف ہوتے ہوئے بھینس کو بقر میں شامل مانا تو صرف دم کے اختلاف کی وجہ سے بھیڑ دنبہ میں کیوں شامل نہیں کی گئی،
قلت لعلہ ان الجاموس اکمل من البقر فی اللحم والقیمۃ ، والحیوان المسئول عنہ ناقص عن الضان فی العضو ای الالیۃ۔ فالحاق الاکمل بالکامل اولی من الحاق الناقص بالکامل، واما تفسیر اہل اللغۃ ۲؎ فمعناہ ان العرب کما یطلقون لفظ الضان علی ماتکون لہ الیۃ کذٰلک الفرس یطلقون علیہ لفظ میش فموداھما واحد کما یشعر بہ عبارۃ الغیاث، گوسفند بمعنی میش مقابل بز چنانکہ معزدرعربی مقابل ضان ست کما استفاد من القاموس و الصراح، وبعضے نوشتہ اند کہ اطلاق گوسفند برمیش و بز ہر دو آمدہ، از سراج، انتہی ۱؎عبارۃ الغیاث۔
 (۲؂  غیاث اللغات     فصل کاف فارسی مع واؤ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۳۱)

(۱؎غیاث اللغات         فصل کاف فارسی مع واؤ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۴۳۱)
جواب: بھینس قیمت اور گوشت میں گائے سے عمدہ ہے۔ اور بھیڑ دنبہ سے چکی میں ناقص ہے اس لئے یہ بات قرین قیاس ہے کہ اکمل او ر عمدہ کو کامل کے ساتھ شمار کیا جائے، اوریہ بات غلط ہے کہ ناقص کو کامل کے ساتھ جوڑا جائے ، اسی لئے بھینس کو گائے میں شمار کیا اور بھیڑ کو دنبہ میں نہیں۔
دوسرا شبہ: اہل لغت نے ضان کا ترجمہ فارسی کے لفظ میش سے کیا ہے جو بھیڑ اوردنبہ دونوں کو عام ہے پس اہل لغت کے اس محاورہ کے موافق اہل شرع کو بھی بھیڑ کو دنبہ میں شامل ماننا چاہئے۔
جواب: اہل لغت کی تشریح کے موافق لفظ میش بھیڑ اور دنبہ دونوں کو عام نہیں بلکہ میش صرف دنبہ کو کہتے ہیں۔

فارسی میں لفظ گوسفندی لفظ میش طرح لفظ بز کا مقابل ہے جیسا کہ عربی میں لفظ معز ضان کا مقابل ہے۔ قاموس وصراح دونوں سے یہی ثابت ہے۔
البتہ بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ فارسی کا لفظ گوسفند لفظ میش کا ہم معنٰی نہیں بلکہ میش وبز (دنبہ و بکری) دونوں کو عام ہے۔ (غیاث اللغات) ۲؎
 (۲؎ غیاث اللغات     فصل کاف فارسی مع واؤ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۳۱)
پس ازیں عبارت صاف معلوم می شود کہ آں حیواں کہ عرب آن راضان گویند فرس آں رامیش گویند، وانچہ عرب آں معز گویند فرس آں رابُز گویند، لاان لفظ میش عام یطلق علی الضان وعلی الحیوان المسئول عنہ ولو سلم ان لفظ میش فی لغۃ الفرس بمعنی ذوات الصوف اعم من ان یکون لہا الیۃ اولا لیشتمل الضاف والحیوان المسئول عنہ فتفسیر اہل الغۃ لفظ الضان بلفظ میش تفسیر بالاعم وھو جائز اذا کان المقصود ھو التیمیز عن بعض ماعداہ ۱؎ ۔ وذکرہ الفاضل اللاھوری فی بحث خواص الاسم۔
 (۱؎ کلام لفاضل اللاہوری)
اس عبارت سے صاف ظاہر ہوگیا کہ اہل عرب کے نزدیک جو جانور ضان کہلاتاہے اہل فارس اس کو میش کہتے ہیں (اور اہل اردو دنبہ کہتے ہیں اور اہل عرب جس کو معز کہتے ہیں اہل فارس اسی کو بز کہتے ہیں، نہ یہ کہ لفظ میش کے اطلاق میں بھیڑ داخل ہے۔
Flag Counter