Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
73 - 126
الجواب المختصر
صورت مستفسرہ میں قربانی بلا شبہ جائز ہے۔ اور بعض کا وہ شبہ محض بے اصل وباطل ہے۔ اجازت اباحت ہے۔ اور اباحت وہبہ میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ قربانی تو یوں جائز کرلی، مال مشترکہ سے شریکوں کا کھانا پہننا کہ زمانہ رسالت سے بلانکیر رائج ہے سب حرام ہوجائے گا کہ ہبہ مشاع ہو ا اور ہبہ مشاع ہو اا ور ہبہ مشاع ناجائز ہے حالانکہ رب عزوجل فرماتاہے:
وان تخالطوھم فاخوانکم ۱؎۔
اگر تم آپس میں ملالو تو تمھارے بھائی ہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۲۰)
اور فرماتاہے:
لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا ۲؎۔
تمھیں حرج نہیں کہ تم اکھٹے کھاؤ یا متفرق ۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم   ۲۴/ ۶۱)
اس فتوٰی کے انداز سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ فتوٰی دینے والے لوگ فقہ نہیں جانتے نہ اس کام کے اہل ہیں، اور نااہل کو فتوٰی دینا حرام اور سخت کبیرہ ہے۔ حدیث میں ہے:
من افتی بغیر لم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۳؎۔
جو بغیر علم کے فتوٰی دے آسمان وزمین کے فرشتے اس پر لعنت کریں۔
والعیاذ باللہ تعالٰی، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ کنز العمال بحوالہ بن عساکر عن علی     حدیث ۲۹۰۱۸     موسستہ الرسالۃ بیروت    ۱۰/ ۱۹۳)

(الفقیہ والمتفقہ    باب ماجاء من الوعید لمن افتی بغیر علم     حدیث ۱۰۴۳     دار ابن جوزی ریاض    ۲/ ۳۲۷۸)
مسئلہ ۲۰۰: بمقام گھوسیا ضلع مرزا پور ڈاکخانہ اورائی مرسلہ جناب اکمل الدین صاحب مورخہ ۲۸ محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس بارے میں کہ ہمارے موضع میں زمانہ قدیم سے تمام مسلمان حنفی المذہب ہوتے چلے آرہے ہیں مگر عرصہ چند روز ہوا کہ سات آدمیوں نے مذہب اہلحدیث کو اختیار کرلیا ہے اور ہمارے بزرگوں نے بڑی سعی کوشش سے قید کی مصیبت کو برداشت کرکے گورنمنٹ سے تین دن کی قربانی کا حکم جاری کرالیا تھا لیکن اس سال اسی فرقہ اہل حدیث سے ایک شخص نے کپتان کے روبرودستخط کردئے کہ ہم لوگ ایک روز قربانی کریں گے لہذ اہم لوگو ں کے خیال میں یہ بات آئی ہے کہ اسی سال میں دستخط کرنے کی وجہ سے دو روز کی قربانی منسوخ ہوگئی، آئندہ خدا جانے ایک دم سے منع ہوجائے تو کیا تعجب ہے اور یہ گروہ تقلید کے بالکل منکر ہیں لہذا دستخط کنندہ کے ذمہ عائدہ ہوتاہے یانہیں؟ اگر عائد ہوتا ہے یانہیں؟ اگر عائد ہوتا ہے تو مع دلیل کے تحریر فرمائے اور ان لوگوں کو اپنے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے دیا جائے یا نہیں؟ دوسرے یہ کہ ثناء اللہ اپنی کتاب ''اہل حدیث کا مذہب'' کے صفہ ۵۲ میں لکھا ہےکہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ رکوع کے وقت چونکہ تطبیق کرگئے تھے دونوں ہاتھوں کو زانوں پر نہ رکھتے تھے، چنانچہ صحیح مسلم میں ان کا یہی مذہب ثابت ہے بلکہ اپنے شاگردوں کو تاکید مزید اسی عمل کی کیا کرتے ۔ لہذا اس کی سند صحیح ہے یا لغو۔
الجواب :غیر مقلدین گمراہ بدین ہیں، ان پر بوجہ کثیرہ کفرلازم ہے۔ جس کی تفصیل ''الکوکبۃ الشہابیۃ'' میں ہے کہ حسب تصریحات قرآن عظیم واحادیث وائمہ ستر وجہ سے لزم کفر بیان کیاہے۔ ان کا مساجد میں کوئی حق نہیں۔ اور قربانی کے دو دن چھوڑدینے کا ان سے کیا تعجب، وہ سارادین ہی قربان کئے بیٹھے ہیں جس کی تفصیل
الکوکبۃ الشہابیہ وحسام الحرمین والاستمداد علی اجیال الا رتداد وغیرھا
کتب میں شائع ہوچکی ۔ خوشنودی ہنودکے لئے گاؤ کشی بند کرنا یا اس کی توسیع میں جو اللہ ورسول نے دی، کمی قبول کرنا مسلمانوں کا کام نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فمتمسکم النار ۱؎ وقال اﷲ تعالٰی واﷲ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ۲؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
 اللہ تعالٰی نے فرمایا:تم ظلم کونیوالوں کی طر ف میلان نہ کرو۔ تو تم کو آگ جہنم چھوئے، اور اللہ تعالٰی نے فرمایا: اللہ تعالٰی اور اس کا رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں اگر مومن ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۱۱/ ۱۱۳)	     (۲؎ القرآن الکریم   ۹/ ۶۲)
مسئلہ ۲۰۱:     ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں شہر میں قبل نماز عید بعد طلوع شمس قربانی جائز ہے یانہیں؟ اور اہل قریہ یا کہ شہر والے اپنی قربانی کو گاؤں بھیج دیں تو ان کوبعد صبح قبل نماز عید قربانی کرلیں توجائز ہوگا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : شہر میں قربانی اگر چہ ساکن دہِ کی طرف سے وہ  روز واول پیش از نماز عید (اور اگر نماز عید کسی عذر سے نہ پڑھیں تو پیش از خروج وقت نماز عید) ناجائز و نامعتبر ہے۔ اور بیرون شہر اگر چہ فنائے مصر غیر متصل بمصر ہو، اگر چہ قربانی ساکن شہر کی ہو، پیش نماز بعد طلوع فجر تاریخ دہم جائز ہے۔
فی الدرالمختار اول وقتہا بعد الصلٰوۃ ان ذبح فی مصرای بعد اسبق صلٰوۃ ولو قبل الخطبۃ، لکن بعد ھا احب وبعد مضی وقتہا لو لم یصلو اعلیہ العذر، ویجوز فی الغد  وبعدہ قبل الصلٰوۃ لان الصلٰوۃ فی الغد تقع قضاء لااداء، زیلعی وغیرہ، و بعد طلوع فجر یوم النحر ان ان ذبح فی غیرہ والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ فحیلۃ مصری ارادان یخرجھا لخارج المصر فیضحی بہا اذ ا طلع الفجر اھ ۱؎ ، فی ردالمحتار لخارج المصرای الی مایباح فیہ القصر، قہستانی ۲؎ اھ، وفیہ ''من باب صلٰوۃ المسافر'' یشرط مفارقۃ ماکان من توابع موضع الاقامۃ کربض المصر، وھو ماحول المدینۃ من بیوت ومساکن فانہ فی حکم المصر وکذا القری المتصلۃ بالربض فی الصحیح بخلاف البساطین ولو متصلہ بالبناء لانہا لیست من البلدۃ امداد، واما الفناء، وھو المکان المعد لمصالح البلد کرکض الدواب ودفن الموتٰی والقاء التراب فان اتصل بالمصر اعتبر مجاوزتہ وان انفسل بغلوۃ اومزرعۃ فلا ۱؎ اھ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے قربانی کا وقت نماز کے بعد ہے اگرشہر میں کرے یعنی نماز پڑھنے کے بعد اگر چہ خطبہ سے قبل ہو، لیکن خطبہ کے بعد مستحب ہے اور اگر عید کی نماز نہ پڑھیں تو نماز کا وقت گزر جانے کے بعد، اور دوسرے اور تیسرے اور تیسرے روز نماز سے قبل کیونکہ دسرے روز عید کی نماز قضاء ہوگی نہ کہ ادا، زیلعی وغیرہ، اور اگر گاؤں میں ذبح کرنی ہو تو عید کے روز صبح طلوع ہونے کے بعد، قربانی میں ذبح کرنے کی جگہ معتبر ہے قربانی کرنے والے کی جگہ معتبرنہیں، تو شہری کے لئے جلدی قربانی کا حیلہ یہ ہے کہ وہ جانور کو شہر سے باہر لے جائے تو فجر طلوع ہونے کے بعد قربانی کرے اھ، ردالمحتارمیں ہے: شہر سے باہر اتنی دور لے جائے جہاں سے مسافر کےلئے قصر شروع ہوتی ہے۔ قہستانی اور اس کے باب صلٰوۃ المسافرمیں ہے کہ قصر جائز ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے شہر کے توابع سے نکل جائے شہر کے توابع کی مثال ڈیرے وغیرہ اور وہ شہر کے ارد گرد کے مکانات ہیں، اور شہر سے متعلق رہائش گاہیں شہر کے حکم میں ہیں، او ر یوں وہ دیہات جو شہر کے باڑوں سے متصل ہوں صحیح قول میں شہر کے حکم میں ہیں بخلاف باغات کے اگر چہ وہ عمارت سے متصل ہوں کیونکہ آبادی میں شمار نہیں، امداد الفتاوٰی، لیکن فناء شہر وہ ہے جو شہری سہولیات کے لئیے بنائی گئی ہو جیسا کہ جانوروں کے باڑے اور مردے دفن کرنے اور کوڑا وغیرہ ڈالنے کی جگہ اور اگر شہر سے متصل ہوں تو ان سے گزر جانا معتبر ہوگا اور اگر شہر سے فاصلہ پر تیراندازی یا زراعت تک ہو تو وہاں سے گزر جانا ضروری نہیں اھ ۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ درمختار   کتاب الاضحیہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۲)

(۲؎ ردالمحتار کتاب الاضحیہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۲)

(۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلٰوۃ     باب صلٰوۃ المسافر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۵۲۵)
مسئلہ ۲۰۲: از مخدم پور ڈا کخانہ ترہٹ ضلع گیا مرسلہ سید رضی الدین حسین صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ

جناب مستطاب مخدومنا زاد مجدھم دیہات میں قربانی حسب دستور ہو یانہ ہو، کیونکہ مسئلے اس کے جمعہ کے مسئلے سے ملتے ہیں،زیادہ حد نیاز
الجواب : قربانی میں شہر و دہِ بلکہ آبادی جنگل سب برابر ہیں، جن شرائط سے شہروالوں پر واجب ہوتی ہے انھیں شرائط سے گاؤں بلکہ جنگل کے رہنے والے پر بھی واجب ہے فقط مقیم ہونا چاہئے کہ شہرمیں نہ ہو پھر مسافر سے بھی اس کا وجوب ساقط ہے نہ یہ کہ ممانعت ہو، اگر کرے گا فضل ہوگا ثواب پائے گا۔
فی الدرالمختار التضحیۃ علی حرمسلم مقیم بمصراوقریۃ اوبادیۃ عینی فلا تجب علی مسافر ۲؎ اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
  درمختارمیں ہے آزاد شہر یا گاؤں یا بادیہ میں مقیم مسلمان پر واجب ہے ، عینی، تو مسافر پر واجب نہیں ہے اھ ملتقطا۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الاضحیہ   مطبع مجتبائی دہلی  ۲/ ۲۳۱)
Flag Counter