Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
72 - 126
الجواب المطول
مال شرکت میں جس کا حصہ بقدر نصاب نہ ہو نہ اس کے پاس اپنا اور کوئی خاص مال اتنا ہو کہ حصہ کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے، اس پر قربانی واجب نہیں، یعنی نہ کرے گا تو گنہ گار ہوگا نہ یہ کہ اس کو قربانی نہ چاہئے یہ محض غلط ہے بلکہ کرے گا تو ثواب پائے گا بلکہ بہ نیت قربانی جانور خریدے گا تو اس پر بھی خاص اس جانور کی قربانی واجب ہوجائے گی نہ کرے گا اور اس جانور کو دوسرے سے بدل نہیں سکتا کہ اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہوئی،
درمختارمیں ہے :
وفقیر ماشراھا لہا لو جوبہا علیہ بذٰلک حتی یمتنع علیہ بیعہا ۱؎۔
اور فقیر نے واجب نہ ہونے کے باوجود خریدی ہے اس لئے اس کو فروخت ممنوع ہے (ت)
(۱؎ درمختار   کتاب الاضحیہ  مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۲)
ایک شریک اگر دوسرے شرکای کے اذن سے زر مشترک سے جانور خاص اپنی قربانی کے لئے خرید کراپنی طرف سے قربانی کرے تو بلاشبہ جائز ہے۔ اور قربانی صحیح ہوجائے گی، خواہ ان میں شرکت عقد ہویا شرکت ملک، بیان اس کا یہ کہ یہاں پانچ صورتیں ہیں:

ایک شرکت ملک کی اور چار شرکت عقد کی، کہ شرکت مفاوضہ ہو یا شرکت عنان، مطلق ہے خریدوفروخت میں، جیسے یہ کہیں کہ جو کچھ ہم خریدیں وہ ہمارے آپس میں مشترک ہے۔ یا شرکت جن خاص اجناس میں قرار پائی ہے جنس تجارت سے نہیں، اول ااخیر یعنی شرکت ملک و شکل اخیر میں تو ظاہر ہے کہ یہ جانور خاص اس خریدنے والے کی ملک ہوگا۔
لان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ کما فی الاشباہ ۱؎ وغیرھا، بل قال فی الدر وغیرہ لو اشترٰی لغیرہ نفذ علیہ ۲؎ الخ قال الشامی لانہ اذا لم یکن وکیلا بالشراء وقع الملک لہ فلا اعتبار بالاجازۃ بعد ذٰلک لانہا انما تلحق الموقوف لا النافذ ۳؎۔
کیونکہ خریداری جب مشتری پر بطور نفاذ پائی نجائے تو نافذ ہوجائیگی، جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ بلکہ درمختاروغیرہ میں کہا اگر غیر کے لئے خریدی تو خود اس پر نافذ ہوگی الخ، شامی میں فرمایا کیونکہ غیر کا وکیل خریداری میں یہ نہیں ہے تو اس کی ملکیت قرار پائی گی تو اس کے بعد کی اجازت معتبر نہ ہوگی کیونکہ بعد کی اجازت موقوف بیع کا لاحق ہوسکتی ہے نافذ کو نہیں لاحق ہوسکتی۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     الفن الثانی کتاب البیوع    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۳۲۳)

(فتاوی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ     کتاب البیوع  الفضل الثالث     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۴۱۹)

(ردالمحتار     کتاب البیوع باب المتفرقات         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۲۰)

(۲؎ درمختار     کتاب البیوع     فضل الفضولی         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۳)

(۳؎ ردالمحتار     کتاب البیوع           داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۳۷)
ردالمحتارمیں ہے :
شریک العنان لہ ان یشتری مالیس من جنس تجارتہا ویقع الشراء لہ ویطالب بالثمن وکذا یقع الشراء لہ من جنس تجارتہما بعد ماصار المال عروضا ۴؎ اھ قلت و لم اذکر ھذا الاخیر لان الفرض انہ اشتری بدراہم الشرکۃ۔
شرکت عنان میں شریک کواختیار ہے کہ وہ مسلمہ تجارت کے غیر کو خریدے جبکہ خریداری شریک کی اپنی ہوگی اور بائع اس سے ثمن کا مطالبہ کرے گا اوریونہی جب ان کی مسلمہ تجارت کی جنس کو خریدے نقد مال کے سامان بن جانے کے بعد اھ، میں کہتاہوں، میں آخر صورت کو ذکر نہ کروں گا کیونکہ یہاں مشترکہ دراہم سے خریدنا مفروض ہے۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار   کتاب الشرکۃ فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت       ۳/ ۳۵۱)
غایت یہ کہ ثمن جو مال شرکت سے ادا کیا ہے اس میں حصہ دیگر شرکاء کا اسے تاوان دینا ہوگا جبکہ شرکاء نے قیمت خریداری ثمن میں اپنے اپنے حصہ اسے ہبہ کئے ہوں کہ شیئ قابل قسمت میں ہبہ صحیح نہیں یا قبل شراء اپنے حصوں سے ابراء کیا ہو کہ ابراء یعنی معافی دین سے ہوتی ہے یہاں ابھی دین نہیں، یا ابراء معلق کیاہو، یعنی جب تو اپنے لئے شرکت کے مال سے خریدے تو ہم نے تجھے اپنے حصے معاف کئے کہ ابراء صالح تعلیق نہیں،
عالمگیریہ میں ہے :
احدالمشرکین اذا قال لشریکہ، وھبت لک حصتی من الربح قالو ان کان المال قائما لا تصح لکونہا ہبۃ المشاع فیما یقسم، وان کان الشریک استھلک المال صحت الہبۃ لکونہا اسقاطا حینئذ کذا فی الظہیریۃ ۱؎.
دونوں شریکوں میں سے ایک نے دوسرے کو کہا میں نے اپنے حصے کا نفع تجھے ہبہ کردیا تو فقہاء نے فرمایا اگر نقد مال موجود ہو تو یہ ہبہ درست نہ ہوگا کیونکہ قابل تقسیم چیز کا مشاعی حصہ ہے اوراگر شریک نے مال کو ہلاک کردیا ہو تو ہبہ صحیح ہوگا کیونکہ اس صورت میں ہبہ کا مطلب حصہ کو ساقط کرنا ہے۔ ظہیریہ میں یوں ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الہبۃ الباب الثالث    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۳۸۱)
عینی پھر بحرالرائق پھر ردالمحتارمیں ہے :
انہ ای الابراء تملیک من وجہ حتی یرتد بالرد، وان کان فیہ معنی الاسقاط فیکون معتبرا بالتملیکات فلا یجوز تعلیقہ بالشرط ۲؎۔
کسی کو بری کرنا من وجہ تملیک ہے حتی کہ رد کردینے سے ابراء ہوجاتاہے اگر چہ اس میں اسقاط کا معنی ہے۔ لہذا تملیکات میں معتبر ہوگا اس لئے شرکا کے ساتھ اس کی تعلیق جائز نہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار   کتاب البیوع باب المتفرقات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۲۵)
ایضاح الکرمانی پھر عزمیہ پھر شامیہ میں ہے :
قال ان دخلت الدارفقد ابرأتک وقال لمدیونہ اوکفیلہ اذا ادیت الی کذا، اومتی ادیت، اوان ادیت الی خمس مائۃ فانت بری عن الباقی فہو باطل ولا ابراء ۱؎۔
اگرکہا تو گھر میں داخل ہوجائے تو میں نے تجھے بری کیا۔اور اپنے مدیون یا کفیل کو کہا اگر تو مجھے اتنے یا جب ادا کرے، یا یوں کہا اگر تو مجھے پانسو ادا کرے تو باقی سے بری ہے۔ تو یہ باطل ہے کوئی برائت نہ ہوئی، (ت)
 (۱؎ردالمحتار    کتاب البیوع     باب المتفرقات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۲۵)
ہندیہ میں قنیہ سے ہے :
قال ائمۃ بلخ التحلیل یقع علی ماھو واجب فی الذمۃ لا علی عین قائم ۲؎۔
بلخ کے ائمہ نے فرمایا جو ذمہ میں واجب ہواس سے برائت ہوتی ہے نہ کہ عین موجود مال سے (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الہبۃ الباب الثالث     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴/ ۳۸۲)
مگر اس سے جانور میں شرکاء کی ملک نہیں ہوتی،  خیریہ میں ہے  :
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المشتری للاب ۳؎۔
باپ کے مال کے ساتھ خریداری کرنے سے یہ لازم نہیں اتا کہ خرید کردہ چیزباپ کی ہوجائے (ت)
 (۳؎ فتاوٰی خیریہ  کتاب البیوع   دارالمعرفۃ بیروت   ۱/ ۲۱۹)
ردالمحتار میں ہے :
  مااشتراہ احدھما لنفسہ یکون لہ و یضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک ۴؎۔
ان میں سے کسی نے چیز کو اپنے لئے خریدا تو اسی کی ہوگیہ اور وہ اپنے شرکاء کے حصے کا ضامن ہوگا اگر خریداری میں مشترکہ مال دیا ہو (ت)
 (۴؎ ردالمحتار  کتاب الشرکۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۳۸)
اور تین صورتوں میں اگر چہ جانور سب شرکاء کی ملک مشترک ٹھہرے گا مگر جبکہ وہ سب اسے اذن دے چکے کہ خاص اپنی طرف سے قربانی کردے، اور یہ ناممکن ہے بے اس کے کہ جانور خاص اس کی ملک ٹھہرے، تو ان کایہ اذن جانور میں سے اپنا اپنا حصہ اس کو ہبہ کرنا ہوگا، اور جانور قابل قسمت نہیں جو شیئ ناقابل قسمت ہو اس میں ہبہ مشاع صحیح ہے، تو تنہا یہی اس جانور کا ملک ہوگیا، اور قربانی اس کی بلاد غدغہ صحیح ہوگئی اور اب اس پر ثمن میں حصہ شرکاء کا بھی تاوان نہیں آسکتا،
محیط پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
الشراء حال الشرکۃ لو من جنس تجارتہما فہو للشرکۃ، وان اشہد عند الشراء انہ لنفسہ لانہ فی النصف بمنزلۃ الوکیل بشراء شیئ معین وان لم یکن من تجارتہما فہولہ خاصۃ ۱؎۔
اگر جنس تجارت کو شرکت کے مال سے خریدا تو وہ شرکت کی ہوگی اگر چہ وہ خریداری کے وقت اپنی ذاتی ہونے پر بھی گواہ بنالےکیونکہ وہ معین چیز کی خریداری میں نصف کا وکیل ہے۔ ہاں اگر وہ چیز جنس تجارت میں سے نہ ہو تو اس کی ذاتی ہوگی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الشرکۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳/ ۴۳۔ ۳۴۲)
ہدایہ میں ہے :
اذا اذن احدا المتفاوضین لصاحبہ ان یشتری جاریۃ فیطأہا ففعل فہی لہ بغیر شیئ لان الجاریۃ دخلت فی الشرکۃ علی البتات جریا علی مقتضی الشرکۃ، اذھما لایملکان تغییرہ فاشبہ حال عدم الاذن، غیر ان الاذن یتضمن ھبۃ نصیبہ منہ لان الوطئ لا یحل الابالمالک، ولاوجہ الی اثباتہ بالبیع (ای انہ ھلک بالشراء) لما بینا انہ یخالف مقتضی الشرکۃ فاثبتناہ بالہبۃ الثابتہ فی ضمن الاذن ۳؎ اھ مختصرا بزیادۃ مابین الہلالین للایضاح۔
جب شرکت مفاوضہ کے ایک شریک نے دوسرے کو لونڈی خرید کر وطی کی اجازت دے دی ہو اور اس نے ایسے کرلیا تو وہ لونڈی بلا عوض اس کی ہوجائے گی کیونکہ وہ لونڈی شرکت میں ہے۔ شرکت کا مقتضی یہی ہے کیونکہ عقد شرکت کے بعد دونوں میں سے کوئی اس کو متغیر نہیں کرسکتا لہذا وہ وطی گویا کہ بلااذن متصور ہوئی مگر اجازت دینا اپنے حصے کو ہبہ کردینے کو متضمن ہے کیونکہ وطی مستقل ملکیت کے بغیر حلال نہیں ہوتی اور اس ملکیت کو بیع کی طرف منسوب کرنا یعنی یہ کہنا وطی کرنے والا خریدنے سے مالک ہوگیا درست نہیں کیونکہ یہ مقتضی شرکت کے منافی ہے تو ہم نے ملکیت کو اس ہبہ سے ثابت کیا ہے جو اذن کے ضمن میں پایا گیا اھ مختصرا۔ اور وضاحت کےلئے ہلالین میں درج شدہ عبارت کا اضافہ کیا ہے۔ (ت)
(۲؎ الہدایہ  کتاب الشرکۃ  مطبع یوسفی لکھنؤ انڈیا        ۲/ ۶۱۶)
یہ لوگ جنھوں نے قربانی ناجائز ہونے کا فتوٰی دیا اور لوگوں سے قربانیاں چھڑادیں فقہ سے بے بہرہ معلوم ہوتے ہیں اور جو ایسا ہواسے فتوی دینا حرام ہے۔
نسأ ل اﷲ العفو والعافیۃ و حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter