Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
71 - 126
مسئلہ ۱۹۴: ۲۲ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں۔ سائل دریافت کرتاہے کہ قربانی ولی کرے تو سب گھروالوں کی طرف سے ہوجائے گی کیونکہ سب اولاد شامل ہے مثلا بیٹے اور بیٹوں کی اولاد، نواسے وغیرہ اور سب مال اسباب کا دادا جو جوکہ ولی ہے مالک ہے۔ اور دوسروں کو اختیارات بالکل نہیں ہیں، اور ولی اپنے دل میں خیال کرکے قربانی یا دیگر صدقات یا زکوٰۃ یا میلاد شریف کرتاہےء اس صورت میں سب کی طرف سے قبول ہوگی یا ولی کی طرف سے؟ بینوا توجروا
الجواب :  ایک قربانی نہ سب کی طرف سے ہوسکتی ہے ، نہ سوا مالک نصاب کے کسی اور پر واجب ہے۔ اگر اس کی نابالغ اولاد میں کوئی خود صاحب نصاب ہو تو وہ اپنی قربان جدا کرے، یونہی زکوٰۃ جس جس پر واجب ہے یہ الگ الگ دیں، ایک کی زکوٰۃ سب کی طرف سے نہیں ہوسکتی، جو چیز واجب شرعی نہیں مثلا صدقہ نفل ومیلادمبارک وہ بھی ایک کے کرنے سے سب کی طرف سے نہ قرار پائے گا، ہاں کرنے والا ہر ایک کا اگرچہ فرض ہو اپنی اولاد اور گھروالوں جن کو چاہئے پہنچا سکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۵: از مدرسہ منظر الاسلام مرسلہ مولوی احسان علی صاحب متعلم مدرسہ مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نصاب کے لئے یہ بھی شرط ہےکہ ۵۲ ۔۱/۲ (ساڑھے باون)تولے چاندی یا ۷۔۲/ ۱(ساڑھے سات)تولے سونابمقدار اس کے روپیہ موجود ہوں جب قربانی واجب ہے یا کہ اتنے مقدار کی مالیت ہو چاہے اس کے پاس کاشت ہو یا چوپائے ہوں اگر ایسے شخص کے پاس ۶۰ روپیہ کی بھینس یا بیل ہے تو اس پر قربانی ہے یانہیں کسی شخص کو ہزار روپیہ ماہوار کی آمدنی ہے لیکن بزمانہ قربانی ایک روپیہ بھی اس کے پاس موجود نہیں، وہ شخص قرض لے کر قربانی کرے گا یا کہ نہیں، علی ہذا القیاس کاشت فروخت کرکے قربانی کرے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : قربانی واجب ہونے کے لئے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت، کاشتکار کے بل بیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ان کا شمار نہ ہو، ہزار  روپیہ ماہوار کی آمدنی والا آدمی قربانی کے دن ۵۶ روپیہ کا مالک نہ ہو، یہ صور ت خلاف واقعہ ہے۔ اور اگر ایسا فرض کیا جائے کہ اس وقت وہ فقیر ہے تو ضرور اس پر قربانی نہ ہوگی، اور جس پر قربانی ہے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں وہ چاہے قرض لے کر کرے یااپنا کچھ مال بیچے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶:     ۱۳ ذوالحجہ ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک بکری پارسال قربانی کے ارادہ سے لی گئی، اس نےگھر میں آکر دودھ دیا، اور لوگوں نے کہا ، یہ بکری دودھ کی ہے، اس کی قربانی مت کرو، تو اس کے عوض ایک مینڈھا قربانی کردیا، اور بکری کو گاؤں بھیج دیا، وہاں جاکر وہ گابھن ہوگئی، پھر اس کو مکان پر بلا لیا، یہاں آکر دو بکری بیائی، اور ان کا بھی یہی ارادہ کیا کہ جب یہ دونوں بکری سال بھر کی ہوجائیں گی ان کی بھی قربانی کردی جائے گی، اس کا دودھ بھی اپنے کام میں آیا، بعد کو بکری مع اس کے بچوں کے گاؤں بھیچ دی گئی، پھر اب اس کو گاؤں سے منگوالیا قربانی کے لئے، تو اس کے آثار سے معلوم ہوا کہ گابھن ہے اس کی قربانی نہیں کی بلکہ اس کے عوض میں ایک مینڈھا قربانی کردیا گیا۔
پس اس صورت میں بکری کا دودھ کام آسکتاہے یانہیں؟ اورآیا اس بکری کو فروخت کرنایا لینا جائز ہے اپنے لئے یہ بکری کا دودھ ڈھائی روپیہ میں پارسال خریدی گئی تھی اور پار سال جو مینڈھا اس کے عوض میں قربانی کیا گیا اس کی قیمت یا دنہیں۔ اور اب کے جو مینڈھا قربانی کیا گیا دو روپیہ چھ آنہ میں خریدا گیا تھا۔ بینوا توجروا
الجواب : دودھ کے جانور یا گابھن کی قربانی اگرچہ صحیح ہے مگر ناپسند ہے۔ حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی، سائلہ جبکہ غنیہ مالکہ نصاب ہے تو بہ نیت قربانی بکری خریدنے سے خاص اسی کی قربانی اس پر لازم نہ ہوئی اسے بدل لینے کا اختیار تھا، دودھ دیتی دیکھ کر اس کے عوض مینڈھا کردیا، اس سال گابھن خیال کرکے بھی مینڈھا کیا کچھ حرج نہ ہوا، اس بکری کا پالنا، بیچنا، دودھ پینا سب رواہے۔
وکراھۃ الانتفاع بلبن الاضحیۃ وصوفہا قبل التضحیۃ انما کان لانہ التزام اقامۃ القربۃ بجمیع اجزائہا کما فی الدر ۱؎ افاذا اقام القربۃ بغیر ھابقیت علی حکم ملکہ المطلق المتصرف علی ان منہم من اجازھما اعنی الانتفاع باللبن والصوف للغنی مطلقا لو جوبہا فی الذمۃ فلا یتعین کما فی الدر عن الزیلعی قال الشامی والجواب ان المشتراۃ للتضحیۃ متعینۃ للقربۃ الی ان یقام غیرھا مقامہا ۳؎ اما کراھۃ الاستبدلال فشیئ خارج عما نحن فیہ لان الکلام فی حلا الانتفاع بہا بیعا وحلبا بعد ما ابدلت بل ھی الکراھۃ فی غیرھا اذا وجدہا ذات در اوحمل لو رود الحدیث بالنہی عنہما، واﷲ تعالٰی اعلم
قربانی سے قبل اس جانور کے دودھ اور اون سے انتفاع اس لئے مکروہ ہے کیونکہ اس نے اس جانور کو جمیع اجزاء سمیت قربت کے لئے لازم بنایا ہے جیسا کہ درمختارمیں ہے تو جب اس نے قربت دوسرے جانور سے قائم کرلی تو اب یہ اس کی مطلق ملک والے تصرف میں ہوگیا، علاوہ ازیں بعض نے دودھ اور اون سے غنی کو اتنفاع مطلقا جائز قرار دیا ہے کیونکہ اس کے ذمہ واجب ہے لہذا یہ جانور متعین نہ ہوا جیساکہ درمختار میں زیلعی سے منقول ہے۔ علامہ شامی نے اس کے جواب میں فرمایا کہ خریداری قربانی کے لئے ہونے کی وجہ یہ جانور متعین رہے گا جب تک دوسرا اس کے قائم مقام نہ بنالے، لیکن دوسرے سے تبدیل کرنے کی کراہت علیحدہ معاملہ ہے وہ ہماری بحث سے خارج ہے کیونکہ یہاں اس جانور کو تبدیل کرنے کے بعد اس کی بیع اور دودھ سے انتفاع حلال ہونے میں بحث ہے بلکہ کراہت دودھ یا حمل پائے جانے کی وجہ ہے اس لئے بوجہ الغیر ہوسکتی ہے کیونکہ دودھ اور حمل والی کی نہی پر حدیث وارد ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ و ۲؎ درمختار     کتاب الاضحیہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۴)

(۳؎ ردالمحتار     کتاب الاضحیہ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۹)
مسئلہ ۱۹۷ تا ۱۹۸: از شہر بریلی مسئولہ منشی شوکت علی صاحب رضوی محرر چونگی شب ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:

(۱) قربانی کس پر ہے اور واجب ہے یافرض؟

(۲) آج کل ہندوستان میں گائے کی قربانی بعض مسلمان مشرکوں کی خوشنودی کےلئے منع کرتے ہیں اورکہتے ہیں بکری کی قربانی کی جائے۔ بینوا توجروا
الجواب

(۱) صاحب نصاب جو اپنے حوائج اصلیہ سے فارغ چھپن روپے کے مال کا مالک ہو اس پر قربانی واجب ہے۔

(۲) مشرکوں کی خوشنودی کے لئے گائے کی قربانی بند کرنا حرام حرام سخت حرام ہے۔ اور جو بند کرے گا جہنم کے عذاب شدید کا مستحق ہوگا اور  روز قیامت مشرکوں کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹:از موضع غنی پور ضلع منواکھال ڈاکخانہ صفدر گنج مرسلہ مولوی عبدالعزیز ۲۶ محرم ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں مثلا تین بھائی ہیں کہ تینوں ایک ساتھ رہتے ہیں، جبکہ قربانی کا وقت آیا تو تینوں آپس میں مل کر بڑا بھائی کو حکم کیا کہ تم ہمارے نام کی ایک بکری خرید کر قربانی کرو، اس میں دو تین روپیہ جو بھی خرچ ہوں اس کا دعوٰی ہم نہیں رکھتے ہیں اس حالت میں قربانی ہوگا یا نہیں۔ میرے یہاں بعض علماء فرماتے ہیں کہ قربانی بالکل جائز نہیں ہوگی، کیونکہ شریک دار کا حصہ معاف کرنے سے بھی معاف نہیں ہوتا، اس فساد میں بہت سے لوگوں نے قربانی چھوڑدیا، کیونکہ بعض تو ایسے ہیں کہ انھوں کے مال حصہ کرنے سے صاحب نصاب نہیں رہتے ہیں، ان علماؤ ں نے فرمایا ہیں کہ جنھوں کا مال حصہ کرنے سے صاحب نصاب نہیں رہتے ہیں، انھوں کو قربانی ناکرنا چاہئے، اگر چہ قربانی جائز ہے تو ان علماؤں کے حق میں کیا حکم ہے؟
Flag Counter