| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
وفی التتارخانیۃ عن الصغری لہ داریسکنہا لکن تزید علی حاجتہ بان لایسکن الکل یحل لہ اخذ الصدقۃ فی الصحیح، وفیہا سئل محمد عمن لہ ارض یزرعہا ، او حانوت یستغلہا، اور دار غلتہا ثلثۃ الاف، ولا تکفی لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنۃ یحل لہ اخذ الزکوٰۃ وان کانت قیمتہا تبلغ الوفاء، وعلیہ الفتوی وعندھما لایحل ۱؎ اھ الکل ملخصات، قلت نعم، یفتٰی بہذا فی حرمۃ الصدقۃ، وبہ جزم فی الخانیۃ وخزانۃ المفتین ، قالا لو کان لہ حوانیت او دار غلۃ تساوی ثلثۃ الاف، وغلتہا لا تکفی لقوتہ وقوۃ عیالہ یجوز صرف الزکوٰۃ الیہ وکذا لو کان لہ ضیعۃ تساوی ثلثۃ الاٰف ولا یخرج منہا مایکفی لہ ولعیالہ یجوز لہ اخز الزکوٰۃ ۲؎ اھ ثم لم یمنعہا ھذا علی جزمہما فی مسئلۃ الاضحیۃ بمارأیت ولا تلازم بین حل الصدقۃ و سقوط الواجبات المالیۃ، حتی صرح العلماء ان من لہ نصاب سائمۃ لا تساوی مائتی درھم تحل لہ الزکوٰۃ وتلزم الزکوٰۃ،
اور تتارخانیہ میں فتاوٰی صغرٰی سے منقول ہے کسی کا مکان رہائشی ہو لیکن حصہ حاجت سے زائد نہ ہو اور سب میں رہائش نہ ہو تو صحیح قول میں اس کو زکوٰۃ لینا حلال ہے اور اس میں ہے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی علیہ سے سوال کیا گیا کہ کسی کی زراعت والی زمین ہو یا دکانیں کرایہ پر دی ہو یا مکانات کرایہ والے ہوں اور ان کی آمدن تین ہزار ہوا اور وہ اس کو اور اس کے عیال کو سال بھر کے لئے کافی نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ لینا حلال ہے اگر ان کی قیمت خرچہ کو پورا کرتی ہو، اور اسی پر فتوٰی ہے، اور شیخین کے نزدیک حلال نہیں ہے اھ، یہ تمام عبارتیں ملخص ہیں، جواب میں کہتاہوں ہاں زکوٰۃ کے حرام ہونے کے لئے یہ فتوٰی ہے اور اسی پر خانیہ اور خزانۃ المفتین میں جزم کیا ہے ان دونوں نے کہا کہ اگر دکانیں اور مکان کرایہ پر دئے ہوں جن کی آمدن تین ہزار ہو اور یہ آمدن اس کو اور اس کے عیال کو کافی نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اور یوں اگر زرعی زمین ہو جس کی قیمت تین ہزار ہو جبکہ اس سے حاصل ہونے والا غلہ اتنا نہیں کہ اس کو اور اس کے عیال کو کافی ہو تو اس کو زکوٰۃ لینا جائز ہے اھ، پھر یہ زکوٰۃ لینے کا جواز ان دونوں حضرات کے جزم کے مطابق قربانی کے مسئلہ کے لئے مانع نہیں، جیسا کہ تم نے دیکھا، جبکہ زکوٰۃ کے حلال ہونے اور واجبات مالیہ کے ساقط ہونے میں تلازم نہیں ہے حتی کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ جس کے پاس سائمہ جانوروں کا نصاب موجود ہو اور ان جانوروں کی قیمت دو سو درہم کے مساوی نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ لینا حلال ہے اس کے باوجود جانوروں کی زکوٰۃ اس پر واجب ہے،
(۱؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۵) (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الزکوٰۃ فصل فیمن یوضع فیہ الزکوٰۃ نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۲۴) (خزانۃ المفتین کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۷)
فی ردالمحتار عن الشرنبلالیۃ عن الجوھرۃ عن الامام المرغینانی اذا کان لہ خمس من الابل قیمتہا اقل من مائتی درھم تحل لہ الزکوٰۃ وتجب علیہ ۱؎ اھ وتمامہ تحریرہ فیہ ولا شک ان الزکوٰۃ اضیق وجوبا من صدقۃ الفطر والا ضحیۃ فلا غرو ان وجبتا علی صاحب الضیاع والمستغلات لملکہ نصابا فاضلا، وحلت لہ الصدقۃ لعدم کفایۃالغلۃ لہ ولعیالہ معایبقی خلاف مفہوم ما افادہ فی التنویر ولا حرج فیہ بعد ماجاءت من العلماء تلک النصوص بالتکثیر ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ردالمحتار میں شرنبلالی بحوالہ جواہر امام مرغینانی سے منقول ہے کہ اگر کسی کے پاس پانچ اونٹ ہوں جن کی قیمت دو سو درہم سے کم ہو اس کو زکوٰۃ حلال ہے باوجود یہ کہ اس پر اونٹوں کی زکوٰۃ واجب ہے اھ اور ا س مکمل بحث وہاں موجود ہے اور اس میں شک نہیں کہ زکوٰۃ کا وجوب صدقہ فطر اور قربانی کے وجوب سے کڑاہے تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ صدقہ فطر اور قربانی زمین وغیرہ کی آمدن والے پر واجب ہوںجبکہ وہ آمدن اصل حاجت سے زائد نصاب برابر اور ساتھ ہی اس کو زکوٰۃ لینا حلال بھی ہو کیونکہ زمین کی آمدن اس کو اور اس کے عیال کو کافی نہ ہو ، ہاں تنویر کے مفاد مفہوم کا خلاف باقی رہا تو اس میں علماء کی کثیر نصوص آجانے کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۵)
مسئلہ ۱۹۲: مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب از بانکی پو ر پٹنہ ۲۳ صفر ۱۳۳۲ھ ایک شخص برائے نام صاحب جائدا د ہے۔ سو روپیہ سالانہ آمدن کی جائداد ہے۔ وہ شخص( ہہ ۔ للعہ) ماہوار کا نوکر بھی ہے۔ جو اس کی ضروریات دنیویہ کو کافی ہے۔ کسی سال میں کچھ نہیں بچتا اس کی بیوی کے پاس تقریبا (معہ ۷۰ ) روپیہ کا زیور ہے۔ ۵۰ کا طلائی باقی نقرئی، اب ایسی صورت میں یہ تو ظاہر ہے کہ زکوٰۃ میاں بی بی دو میں کسی پر واجب نہیں مگر صدقہ فطر وقربانی ان دونوں یا ایک پر واجب ہے یانہیں؟ اور ہے تو کس پر؟
الجواب : ستر روپیہ کا زیور اگر مملوک زن ہے ار اس پر قرض نہیں تو اس پر نہ صرف اضحیہ وصدقہ فطر بلکہ زکوٰۃ بھی فرض ہے کہ اگر چہ( صہ) کے سونے (عہ) کی چاندی میں کسی کی نصاب کامل نہیں، مگر سونے کو چاندی کرنے سے چاندی کی نصاب کامل مع زیادہ ہوجائے گی، ہاں شوہر پر صدقہ واضحیہ بھی نہیں، اگر چہ زیو رمذکور بھی اسی کی ملک ہو کہ تمام کا قرض محیط ہے۔ مگر ان علماء کے نزدیک کہ ایجاب صدقہ واضحیہ میں قیمت جائداد کا اعتبار کرتے ہیں اور راجح ومفتی بہ اول ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے :
ان کان لہ عقار ومستقلات ملک اختلف المشائخ المتاخرون رحمہم اﷲ فالزعفرانی والفقیہ علی الرازی اعتبر اقیمتہا، وابو علی الدقاق وغیرہ اعتبر الدخل، واختلفوا فیما بینہم، قال ابوعلی الدقاق ان کان یدخل لہ من ذٰلک قوت سنۃ فعلیہ الاضحیۃ ومنہم من قال قوت شہر و متی فضل من ذٰلک قدر مائتی درھم فصاعدا فعلیہ الاضحیۃ ۱؎۔،
اگر کسی کی زمین اور آمدن والی ملکیت ہو متاخرین مشائخ کااختلاف ہے تو زعفرانی اور فقیہ علی رازی نے قیمت کا اعتبار کیا ہے اور ابو علی الدقاق وغیرہ نے آمدن کا اعتبار کیا ہے اور ان کا آپس میں اختلاف ہوا اور ابوعلی الدقاق نے کہا اگر اس کو ان اشیاء سے سال بھر کے خرچہ کی آمدن ہو تو اس پر قربانی واجب ہے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ماہانہ خرچہ کی آمدن ہو اور جب سال بھر میں دو سو درہم یا زائد فاضل بچ جائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔ (ت)
(۱؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۲)
ردالمحتارمیں ہے :
سئل محل عمن لہ ارض یزرعیہا او حانوت یستغلہا او دار غلتہا ثلثۃ الاف ولاتکفی لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنۃ یحل لہ اخذالزکوٰۃ وان کانت قیمتہ تبلغ الوفاء وعلیہ الفتوی وعندھما لا یحل ۱؎۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے سوال کیا گیا ایسے شخص کے متعلق کہ اس کی زرعی زمین یا دکان یا مکان کا کرایہ آمدن تین ہزار ہے اور اس کے اور اس کے عیال کے سال بھر کے نفقہ کے لئے کافی نہیں اس کو زکوٰۃ حلال ہے اگر چہ ان کی قیمت کفایت کو پہنچی ہو، اور اسی پر فتوٰی ہے اور شیخین کے نزدیک حلال نہیں۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۵)
درمختار کے صدقہ فطر میں ہے :
تجب علی کل مسلم ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ وان لم ینم، وبہذا النصاب تحرم الصدقۃ، وتجب الاضحیۃ ونفقۃ المحارم علی الراجح ۲؎ اھ قلت فالذی لہ ارض قیمتہا الوف کما وصف لو کان تجب علیہ الاضحیۃ لحرمت علیہ الزکوٰۃ لکنہا لم تحرم فالاضحیۃ لم تجب، واﷲتعالٰی اعلم۔
ہر مالک نصاب مسلمان پر کہ اس کی اصل حاجت سے زائد ہو اگر چہ یہ نصاب نامی نہ ہو تو راجح قول پر محارم کا نفقہ اور قربانی واجب ہے اور اس نصاب سے زکوٰۃ لینا حرام ہوجاتاہے ، میں کہتاہوں جس کے پاس زمین ہے جس کی قیمت ہزاروں ہے جیسے بیان کیا گیا ہے اگر اس پر قربانی واجب ہے تو اس کو زکوٰۃ لینا حرام ہے لیکن زکوٰۃ حرام نہیں، لہذا قربانی واجب نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الزکوٰۃ باب صدقہ الفطر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۴۲و۱۴۳)
مسئلہ ۱۹۳: از سرکار مارہرہ شریف مرسلہ حضور سیدنا سید مہدی حسن میاں صاحب سجادہ اقدس دامت برکاتہم ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ اعلیٰحضرت محترم خادمانہ عرض ہے۔ فقیر رضوی کی عمر گیارہ سال کچھ ماہ کی ہے ۔ زیور اس کے پاس غالبا ساٹھ روپے کا ہے۔ بالغ نہیں ہے۔ قربانی اس کے ذمہ واجب ہپے یا نہیں؟ پیر برکات عمر سترہ سالہ خلف بھائی جان مرحوم بے ماں باپ کا ہے لیکن اس کی والدہ کا زیور وظروف مسی وپار چہائے پوشیدنی ہیں جو بغضب ایک شخص کے پاس ہیں جن کے ملنے کی کسی قسم کی امید اس کو کسی زمانہ میں نہیں وہ مالک ووارث ان چیزوں کا ضرور ہے مگر اس کے قبضہ سے قطعی باہر ہیں اور صحیح طور سے یہ بھی نہیں معلوم کہ ان چیزوں کا وجود ہے یانہیں۔ اس کے ذمہ قربانی ہے یانہیں؟
الجواب : حضور والہ آداب غلامانہ معروض، نابالغ اگر چہ کسی قدر مادار ہو نہ اس پر قربانی ہے نہ اس کی طرف سے اس کے باپ وغیرہ پر، حضرت صاحبزادہ صاحب اگراس مال کے سوا اپنی حاجت اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کے مالک ہیں تو ان پر قربانی ہے ورنہ نہیں، وہ مال کہ نہ کبھی اس کے ملنے کی امید ہو نہ اس کا وجو د ہی معلوم، مثل معدوم ہے۔ اس کے سبب وجوب نہ ہوگا۔ زیادہ حد ادب۔