فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
69 - 126
مسئلہ ۱۸۹: از ایرایاں محلہ سادات ضلع فتح پور مسئولہ حکیم سید نعمت اللہ صاحب ۲۳ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ امسال اخبار وغیرہ سے معلوم ہوا کہ بقر عید کو ۲۹ کا چاند ہوا مگر معقول سند نہ ملنے سے تیس کے حساب سے عیدالاضحٰی ہوئی، توقربانی ۱۲ تاریخ کو ۳۰ کے حساب سے کرے یا احتیاطا اختلاف کی وجہ سے ۱۱ تک کرلے ۱۲ کو نہ کرے۔
الجواب : دربارہ رؤیت کا کچھ اعتبار نہیں ۔ ہمیں حکم ہے کہ ۲۹ کا چاند اگر ثابت نہ ہو تو ۳۰ دن پورے کرلیں
فان غم علیکم فاکملوا العدۃ ثلثین
(اگر بادل ہوجائے تم پر تو تیس کی گنتی پوری کرو۔ ت) ۳۰ کے حساب سے بارھویں تک قربانی بے تکلف کریں، احتمالات کا شریعت میں کچھ اعتبار نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰: از بنگالہ شہر اسلام آباد چاٹگام موضع ادھونگر مرسلہ مولوی عبدالجلیل صاحب ۷ ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ
چہ فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں صورت کہ درخانہ شخصے وہ کس موجوداست، وقربانی بر ہریک ایشاں واجب است، پس شخصے مذکور گاوے خریداز طرف ہفت کس قربانی نمود وازجانب سہ کس ہیچ نکرد، ووقت قربانی فوت گردید، پس از بواقی ساقط شودیا بمقدار آں مرفقراء و مساکین راصدقہ کنند شرعا چہ حکم است۔ بینوا بسنۃ الکتاب توجروا من الملک الوہاب۔
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک گھر میں دس حضرات موجود ہیں اور ان سب پر قربانی واجب ہو تو گھر والے شخص نے سات حضرات کی طرف سے گائے خریدی اور قربانی کردی، اور باقی تین حضرات کی قربانی نہ ہوئی اورقربانی کاوقت ختم ہوگیا تو کیا باقی حضرات کی قربانی ساقط ہوجائے گی یا وہ حضرات کی مالیت کو فقراء ومساکین پر صدقہ کریں، شرعا کیا حکم ہے؟ بتاؤ اور اجر اپنے عطا کرنے والے مالک سے پاؤ۔ (ت)
الجواب : از شہ باقی ساقط نشود فان الاضحیۃ واجبۃ عینا لاکفایۃ، وچوں وقت گزشتہ است واجب است کہ ہر ایک ازیں سہ کساں قیمت گوسپندے کہ دراضحیہ کافی شود، برفقرا صدقہ کند فی الدارلمختار ترکت التضحیۃ ومضت ایامہا تصدق غنی بقیمۃ شاۃ تجزئ فیہا ۱؎ اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
باقی تین سے قربانی ساقط نہ ہوگی کیونکہ واجب عینی ہے واجب کفایہ نہیں ہے جب وقت گزر گیا تو ان کو چاہئے کہ وہ بکرے کی قیمت فقراء پر صدقہ کریں، درمختار میں ہے کہ قربانی چھوٹ گئی ہو تو وقت ہوجانے پر غنی شخص بکرے کی قیمت صدقہ کردے تو اس سے کفایت حاصل ہوجائے گی اھ
(۱؎ درمختار کتا ب الاضحیہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲)
مسئلہ ۱۹۱ : ۲ ۱ ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زید کے پاس مکان سکونت کے علاوہ دو ایک اور ہوں تو اس پر قربانی واجب ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب : واجب ہے جبکہ وہ مکان تنہا یا اس کے اور مال سے کہ حاجت اصلیہ سے زائد ہومل کر چھپن روپے کی قیمت کو پہنچیں، اگر چہ مکانوں کو کرایہ پر چلاتاہو یا خالی پڑے ہوں یا سادی زمین ہوبلکہ مکان سکونت اتنا بڑا ہے کہ اس کا ایک اس کے جاڑے گرمی کی سکونت کے لئے کافی ہو اور دوسرا حصہ حاجت سے زائد ہو اور اس کی قیمت تنہا یا اسی قسم کے مال سے مل کر نصاب تک پہنچے جب بھی قربانی واجب ہے۔ اسی طرح صدقہ بھی۔
فی الہندیۃ عن الظہیریۃ ان کان لہ عقار ومستغلات ملک اختلف المشائخ المتاخرون رحمہم اﷲ تعالٰی فالزعفرانی و الفقیہ علی الرازی اعتبرقیمتہا وابوعلی الدقاق وغیرہ اعتبرا الدخل۔ واختلفوا فیما بینہم، قال ابوعلی الدقاق ان کان یدخل لہ من ذٰلک قوت سنۃ فعلیہ الاضحیۃ ومنہم من قال قوت شہر، ومتی فضل من ذٰلک قدر مائتی درھم فصاعدا فعلیہ الاضحیۃ ۱؎ الخ ونحوہ فی ردالمحتار ولم یذکر ترجیحا ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ، اقول: بہ جزم فی الخانیۃ من صدقۃ الفطر ولم یحک خلافا حیث قال وما زاد علی الدارالواحدۃ والد ستجات الثلثۃ من الثیاب یعتبر فی الغناء ۲؎اھ ثم قال واذ اکان لہ دار لا یسکنہا ویؤاجرھا اولا یؤاجرھا یعتبر قیمتھا فی الغناء وکذا اذا اسکنہا و فضل عن سکناہ شیئ، یعتبر فیہ قیمۃ الفاضل فی النصاب ویتعلق بہذا النصاب احکام وجوب صدقۃ الفطر والاضحیۃ وحرمۃ وضع الزکاۃ فیہ ووجوب نفقۃ الاقارب ۳؎ اھ وھکذا انقل الکلام عنہا برمزہ ''خ'' فی خزانۃ المفتین وکذٰلک ذکر فی البزازیۃ اقوال المتاخرین کالزاعفرانی والدقاق وغیرھما مقدما قول الزعفرانی ان العبرۃ بالقیمۃ ثم قال وعند الثانی رحمہ اﷲ ھو موسر بالضیاع۔ ۱؎ اھ
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے کہ زمین اور آمدن والی ملکیت ہو تو متاخرین فقہاء رحمہم اللہ تعالٰی نے اختلاف کیا ہے ۔ تو زعفرانی اور فقیہ علی رازی نے ان کی قیمت کا اعتبار کیا اور ابوعلی الدقاق وغیرہ نے ان کی آمدن کا اعتبار کیا ہے اور پھر آمدن کے اعتبار والوں کا آپس میں اختلا ف ہوا، ابو علی الدقاق نے کہا اگر سال بھر کی آمدن حاصل ہوجائے تو قربانی واجب ہے اور ان میں سے بعض نے مہینے کا قول کیا ہے آمدن میں سے سال بھر میں دو سو درہم فاضل بچ جائیں یا اس سے زائد تو اس پر قربانی واجب ہے الخ اور ردالمحتار میں اسی کی مثل مذکور ہے اور انھوں نے ترجیح کو ذکر نہ کیا، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں یوں لکھا ہے۔ عبارت یہ ہے، اقول (میں کہتاہوں) خانیہ میں اس پر جز فطرانہ کے متعلق کیا ہے اور انھوں نے اختلاف کو ذکر نہ کیا، جہاں انھوں نے فرمایا، جو ایک مکان اور تین جوڑے لباس سے زائد ہوں وہ غناء میں شمار ہوگا اھ، پھر فرمایا اگر اس کا مکان ہو جس میں رہائش پذیر نہیں اس کو کرایہ پر دیا ہو یا نہ دیا ہو تو اس کی قیمت کے اعتبار سے غناء میں شمار ہوگا، اور یوں اگر مکان میں رہائش پذیر ہو اور رہائش سے کچھ کمرے زائد ہوں تو زائد کی قیمت کو نصاب میں شمار کیا جائے گا اور اس نصاب سے صدقہ فطر اور قربانی زکوٰۃ لینے کی حرمت اقارب کا نفقہ کے احکام متعلق ہوجائیں گے اھ۔ اور خزانۃ المفتین میں خانیہ کی اس کلام کو اس کی رمز ''خ'' کے ساتھ ذکر کیا اور یوں ہی بزازیہ نے متاخرین کے اقوال کو ذکر کیا اور زعفرانی کے قول کو دوسروں پر مقد کیا کہ قیمت کا اعتبار ہے اور پھر کہا کہ امام ثانی (امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی) کے نزدیک زمینوں کی وجہ سے غنی قرار پائے گا اھ،
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۲)
(۲؎ و ۳؎ فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الصوم فصل فی صدقہ الفطر نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۷)
(۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۶۸۷)
وفی الہندیۃ عن الخلاصہ عن الاجناس لو کان لہ دار فیہا بیتان شتوی وصیفی وفرش شتوی وصیفی، لم یکن بہا غنیا فان کان لہ فیہا ثلث بیوت و فیمۃ الثالث مائتا درھم فعلیہ الاضحیۃ ۲؎ الخ، ومثلہ فی البزازیۃ ۳؎ وقال قبلہ لو کان فی داراجارۃ فاشتری ارضا بنصاب وبنی فیہا منزلا یسکنہ لزمت ۴؎ اھ،
اور ہندیہ میں خلاصہ سے بحوالہ اجناس ذکر کیا کہ اگر مکان میں دو کمرے ہوں موسم سرما اور دوسرا موسم گرما کے لئے ہو اور سردی اور گرمی کے بستر ہوں تو اس سے غنی شمار نہ ہوگا، اور اگر مکان کے تین کمرے ہوں اور تیسرے کی قیمت دو سو درہم ہو تو اس پر قرانی لازم ہوگی الخ اور ا س کی مثل بزازیہ میں مذکور ہے انھوں نے اس سے قبل ذکر کیا اگر کوئی کرایہ کے مکان میں ہو تو اس نے نصاب برابر قیمت سے زمین خرید کر مکان بنایا اور اس میں رہائش پذیرہوا تو اس پر قربانی لازم ہے اھ ،
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۳)
(۳؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۸۷)
(۴؎فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۸۷)
وبالجملۃ قد تظافرت الروایات علی الایجاب وھو الموافق لاطلاق المتون والشروح من قولہم کما فی الہدایۃ وغیرھا واجبۃ علی الحرالمسلم، اذا کان مالکا لمقدار النصاب فاضلا عن مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ ۱؎ وھو المنقول من احد شیخی المذھب والخلاف انما جاء عن المتأخرین ثم ھوالاحوط فعلیہ فلیکن التعویل، فان قلت الیس قد احالو یسار الاضحیۃ علی یسار صدقۃ الفطر واحال فی التنویر یسار ھا علی نصاب یحرم الصدقۃ، حیث قال صدقۃ الفطر تجب علی کل مسلم ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ وان لم ینم وبہ تحرم الصدقہ ۲؎ اھ وقال فی الدرمن مصارف الزکوٰۃ لایصرف الی غنی، یملک قدر نصاب فارغ من حاجتہ الاصلیۃ من ای مال کان ۳؎ اھ وقال فی ردالمحتار ذکر فی الفتاوی فیمن لہ حوانیت ودورللغلۃ، لکن غلتہا لاتکفیہ ولعیالہ انہ فقیر و یحل لہ اخذا الصدقۃ عن محمد وعند ابی یوسف لاحل کذا لولہ کرم لاتکفیہ غلتہ اھ،
خلاصہ یہ کہ اس پر قربانی کوواجب کرنے والی روایات کثیرہ متفق ہیں اور یہی متون اور شروح کے اطلاق کے موافق ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہ کا قول ہے کہ آزاد مسلمان جب اپنی رہائش لباس، ضروری سامان سے زائد مقدار نصاب کا مالک گھوڑے، ہتھیار اور غلام وغیرہ سے زائد مقدار نصاب کا مالک ہو تو قربانی واجب ہے، اور وہی مذہب کے ایک شیخ سے بھی منقول ہے اور اختلاف متاخرین میں پیدا ہوا ہے، پھریہ باعث احتیاط ہے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئے، اگر تو اعتراض کرے کہ فقہاء کرام نے قربانی کے معیار وجوب کو صدقہ فطر کےمعیار وجوب کی طرف پھیرا ہے اور تنویر میں قربانی کو صدقہ واجبہ کی حرمت کے معیار پر لاگو کیا ہے جہاں انھوں نےکہا کہ صدقہ فطر ہر ایسے مسلمان پر واجب ہے جو اپنی اصل حاجت سے زائد نصاب والا ہو اگر چہ وہ نصاب نامی نہ ہو اور اسی نصاب سے صدقہ واجبہ لینا حرام ہوجاتاہے اھ ۔ اور درمختار میں مصارف زکوٰۃ کے باب میں کہا کہ زکوٰۃ غنی پر صرف نہ کی جائے غنی وہ ہے کہ اپنی اصلی حاجت سے فارغ قدر نصاب کا مالک ہو خواہ کوئی بھی مال ہو اھ اور ردالمحتار میں کہا کہ فتاوی میں مذکور ہے ایسے شخص کے متعلق جو دکانوں اور مکانوں کا مالک ہو جن کو کرایہ پر دیا ہو لیکن ان کا کرایہ اس کو اور اس کے عیال کو کفایت نہیں کرتا تو وہ فقیرہے۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اس کو زکوٰۃ حلال ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک حلال نہیں ہے۔ اوریونہی اگر انگو رہوں اور ان کی آمدن اسے کافی نہ ہو اھ،
(۱؎ الہدایہ کتاب الزکوٰۃ باب صدقۃ الفطر مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۱۸۸)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ باب صدقۃ الفطر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۴۳۔ ۱۴۲)
(۳؎ درمختار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۱)