فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
68 - 126
درمختارمیں ہے:
فان اکل تصدق بقیمۃ ما اکل ۳؎ اھ ذکرہ فی الناذر، وافادالشامی ان النذر لیس بقید ۱؎ بل کذلک الحکم فی کل ماوجب التصدق بہ، قلت واذا وجب ھذا فی واجب التصدق، ندب الیہ فی مندوبہ کالتصدق باللحم وبفضل مابین المذبوح الی غیر المذبوح کما لایخفی لان المقصود الاحتیاط للخروج عن العہدۃ بالیقین، فکل ماکان علی العھدۃ لو تیقن القضاء لایکون مستحبا ھنا، لدفع المراء، ھذا مما لایضن بہ خفاء۔
اگرکھالیا تو جنتا کھایا اس کی قیمت کو صدقہ کرے اھ انھو ں نے یہ نذر ماننے والے کو فرمایا اس پر علامہ شامی نے یہ افادہ فرمایا کہ نذر کی قید نہیں بلکہ ہر چیز جس کا صدقہ واجب ہواس کا یہی حکم ہے،میں کہتاہوں جب واجب صدقہ کا یہ حکم تو نفلی صدقہ میں گوشت کو صدقہ کرنا اور مذبوح اور غیر مذبوح سے فرق میں زائد کو صدقہ نفل ہوگاجیسا کہ مخفی نہ ہے کیونکہ مقصد یقینی طور پر عہدہ برآمد ہونا ہے تو ذمہ دار کو اگر عہدہ برآہونے کا یقین ہوجائے تو یہ مستحب نہیں ہے تاکہ ریا کاری نہ بن پائے اس میں خفا کا گمان نہیں ہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الاضحیہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۰)
ہاں اگر بطریق موجب شرح وہاں کی خبر ثالث ہو، مثلا دو گواہ عادل نےآکر خود اپنی رؤیت پر گواہی دی یا دار القضا میں قاضی شرعی نے باستجماع شرائط ان کے سامنے حکم دیا انھوں نے اس حکم پر شہادت ادا کی، یا وہاں کے دو عادل اہل رؤیت نے انھیں بعبارت معتبرہ شرع اپنی شہادت کا حامل کیا، انھوں نے شہادۃ علی الشہادۃ باستیعاب شرائط گزاری، یا وہاں کی خبر مستفیض ومشتہر ہوگئی، بایں معنی کہ رامپور سے متعدد گروہ آئے اور سب یک زبان یہی خبر لائے تو نہ یہ اصلی مخبر وحاکی دو تین شخص تھے ان کی زبانی نقل درنقل ہو کر شہر میں شہرت ہوگئی کہ یہ اصلا قابل اعتبار نہیں،
وان اشتبہ کثیر علی العوام ومن ضاھاھم
(اگرچہ یہ بات بہت سے عوام اور ان جسے لوگوں پر مخفی ہے۔ت) ایسی حالتوں میں بیشک وہاں کی رؤیت بروجہ شرعی ثابت ہوجائے گی۔
فی فتح القدیر و ردالمحتار مااسمعناک ففی الدرالمختار وحاشیتہ للعلامۃ الطحطاوی (یلزم) ثبوت الہلال سواء کان ہلال الصوم اوالفطر (اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولئک بطریق موجب) کان یتحمل اثنان الشہادۃ اویشہد علی حکم القاضی، اویستفیض الخبر، بخلاف مااذا خبرا ان اھل بلدۃ کذا رأوہ لانہ حکایۃ اھ حلبی ۱؎ الخ۔
فتح القدیر میں اور ردالمحتار میں بیان کردہ ہم نے آپ کو سنا دیا ہے اور درمختار اور اس کے حاشیہ طحطاوی میں ہے کہ رمضان کا ہلال ہویا فطر کا اس کاثبوت مشرق والوں پر مغرب والوں کی رؤیت سے لازم ہوجاتاہے جب مغرب والوں کی رؤیت مشرق والوں کے ہاں موجب طریقہ سے ثابت ہو مثلا دو گواہ بنیں، شہادت پر قاضی کی قضاء پر یا رؤیت کی خبر مستفیض ہوجائے بخلاف اس صورت کے کہ دو شخص یہ خبر دیں کہ فلاں شہر والوں نے چاند دیکھا ہے کیونکہ یہ محض حکایت ہے اھ حلبی الخ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۹)
(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصوم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۴۹)
علامہ مصطفی رحمتی حاشیہ درمختارمیں فرماتے ہیں :
معنی الا ستفاضۃ ان تأتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منہم یخبر عن اہل تلک البلدۃ انہم صاموا عن رؤیۃ الخ نقلہ الشامی ۲؎ وقواہ۔
خبر مستفیض کا معنی یہ ہے کہ وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور ہر جماعت یہ خبر دیں کہ وہاں کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے الخ اس کو علامہ شامی نے نقل کیااور اسے قوی قراردیا ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۹۴)
اور علامہ شامی نے اگر چہ دربارہ اضحیہ مطلع کو معتبر ماننے کا استظہار فرمایا۔
حیث قال اختلاف المطالع انما لم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ، وھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انہا کاوقات الصلوات یلزم کل قوم العمل بما عندھم فیجزئ الا ضحیۃ فی الیوم الثالث عشر (عہ) وان کان علی رؤیا غیر ھم ھو الرابع عشر ۳؎۔
جہاں انھوں نے کہا کہ روزہ میں مطالع کا اختلاف صرف اس لئے معتبر نہیں کہ روزے کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے او ریہ قربانی کے کے معاملہ کے خلاف ہے تو ظاہر یہ ہے کہ قربانی کا معاملہ اوقاف نماز کی طرح ہے ہر علاقہ کی قوم پر وہی لازم ہے جو اس کے ہاں ثابت ہو۔ لہذا تیسرے دن قربانی جائز ہے اگر چہ وہ دن دوسروں کے ہاں چوتھا دن بنتاہو۔ (ت)
عہ : لایخفی ان الثالث والرابع عشروقعا سہوا وانما مقصودہ رحمہ اﷲ تعالٰی الثانی و الثالث عشر ۱۲ منہ قدس سرہ۔
شامی میں تیرہ اور چودہ تاریخ کا ذکر سہوا ہوا، جبکہ مقصد بارھویں اور تیرھویں تاریخ کا بیان ہے ۱۲ منہ قدس سرہ (ت)
(۳؎ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۹۶)
مگریہاں اس کی گنجائش نہ ملے گی کہ مسئلہ قربانی میں مطالع شمس سے کام نہیں، جو ایک ہی فرسخ یعنی تین میل پر مختلف ہوجاتے ہیں :
کما نص علیہ علماء الہیئۃ قلت بل الحق انہا تختلف فی میل واحد بل اقل من ذٰلک، غیر ان التفاوت لقلتہ جدا لایستبین لنا الا فی نحو فرسخ۔
جیسا کہ اس پرعلماء ہیئت نے تصریح کی ہے میں کہتاہوں بلکہ حق یہ ہے کہ وہ ایک میل بلکہ اس سے کم میں مختلف ہوجاتے ہیں لیکن وہ اختلاف اتنا قلیل ہوتاہے کہ ہمیں صرف فرسخ کی مسافت تک معلوم ہوسکتاہے۔ (ت)
بلکہ یہاں غرض مطالع قمر سے ہے کہ چوبیس فرسخ یعنی بہتر میل سے کم میں نہیں بدلتے، جن کے اس حساب سے کہ ایک میل کوس کے پانچ ثمن کا نام ہے،
کما تشہد بہ التقادیر الدائرۃ بن اہل اللسان اذا اقیست الی الامیال المنصوبۃ فلا عبرۃ بما تلہج بہ متعلم النصارٰی
جیسا کہ اہل لسان کے ہاں معروف اندازے اس پر شاہد ہے جبکہ گاڑے ہوئے میلوں کا حساب کیا جائے تو نصارٰی کے شاگردوں کے قول کا اعتبار نہیں۔ (ت)
پینتالیس کو س ہوئے۔
فی ردالمحتار فی شرح المنہاج للرملی وقد نبہ التاج التبریزی علی ان اختلاف المطالع لایمکن فی اقل من اربعۃ وعشرین فرسخا وافتی بہ الوالد والاوجہ انہا تحدیدیۃ کما افتی بہ ایضا اھ فلیحفظ انتہی ۱؎ اقول والمنفی ھو الامکان العادی وان زعمت الفلاسفۃ مازعمت فان اﷲ علی کل شیئ قدیر۔
ردالمحتار اور شرح منہاج امام رملی میں ہے۔ اور تاج الدین تبریزی نے اس پر تنبیہ کی ہے کہ چوبیس فرسخ سے کم میں مطالع کا اختلاف ممکن نہیں ہے اور والد گرامی نے اس پر فتوٰی دیا ہے اور اس اندازہ کا تحدیدی ہونا مناسب ہے، جیسا کہ انھوں نے یہ بھی فتوٰی دیا ہے اھ محفوظ کروانتہی، میں کہتاہوں امکان عادی کی نفی کی گئی ہے اگر چہ فلاسفہ جو چاہے خیال کریں، تو بیشک اللہ تعالٰی ہر چیز پر قادر ہے (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۹۶)
اور بریلی سے رامپور کا فاصلہ براہ دائرہ طول کہ علم ہیئت میں اسی کا لحاظ ہے اس مقدار(عہ)کے نصف کو بھی نہیں پہنچتا اور اگر حساب عامہ ہی لیجئے تو بھی اس سے بہت کم ہے۔ بہر حال وہ تفاوت ہر گز نہیں جس کے باعث چاند کے مطلع بدلتے ہیں، لاجرم جب ثبوت شرعی پہنچے گا قطعا ظاہر ہوجائے گا کہ سہ شنبہ کی قربانیاں ایام نحر گزر جانے کے بعد تیرھویں تاریخ واقع ہوئی اب وہ احکام تصدق جو صورت بالا میں بطور افضلیت واستحباب مذکور ہوئے تھے سب واجب ہوجائیں گے
کما ظہر مما مر
(جیسا کہ گزشتہ سے ظاہر ہوا۔ ت)
تحقیق ان مسائل کی فقیر کے رسالہ
''ازکی الاھل بابطلال مااحدث الناس فی امر الہلال''
میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ : طول رامپور قید لو یعنی ۱۱۴/۳۶ طویل بریلی قید (لط ) یعنی ۱۱۴/۵۹ فصل بقدر ہا (کج) یعنی ۰/۲۳ میل تقریبا ۲۵۔ ۳/۱ جن کے سولہ کوس سے بھی کم ہوئے ولہذا دونوں شہر کے نصف النہار میں تفاوت صرف بقدر ہا(الب) ہوتا ہے یعنی جب یہاں ۱۲ بجتے ہیں وہاں بارہ بجنے میں دیڑھ منٹ باقی ہوتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ منہ قدس سرہ العزیز