Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
67 - 126
کتاب الاضحیہ

(قربانی کا بیان)
مسئلہ ۱۸۶ : از موضع مہچندی ضلع پیلی بھیت مرسلہ حاجی نصرالدین صاحب ۱۴ محرم ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جلد چہارم کتاب شرح وقایہ کتاب الاضحیہ ص ۴۳ میں تحریر ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جو شخص دیکھے تم میں سے چاند ذی الحجہ کا اور ارادہ کرے قربانی کا تو چاہئے کہ اپنے بال اور ناخن کو روک رکھے یعنی نہ کاٹے، روایت کیا جماعت نے، اب ایک شخص اہل اسلام کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے، تو وہ شخص دیکھنے چاند ذی الحجہ کے سے اپنے بال اور ناخن نہ روک رکھے یا حجامت کرالے، یا اس نے یہ حکم نہ مانا، اور رسول مقبول صلی اللہ صلی تعالٰی علیہ وسلم کی حکم عدولی کرے تو اس کے واسطے شرع شریف میں سے کیا حکم ہے؟ اور کیاکہا جائے گا ؟ جواب تحریر فرمائے، اور قربانی اس کی صحیح طورپر ہوگی یا کوئی نقص اس کی قربانی میں عائد ہوگا؟ بینواتوجروا
الجواب : یہ حکم صرف استحبابی ہے کرے تو بہترہے نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے ۳۱ دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن تراشے ہوں نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہوگیاتو وہ اگر چہ قربانی کاارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کرسکتا اب دسویں تک رکھے گا تو ناخن وخط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گا،اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے۔ فعل مستحب کے لئے گناہ نہیں کرسکتا۔
فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ وفی المضمرات، عن ابن المبارک فی تقلیم الاظفار وحلق الرأس فی عشر ذی الحجۃ، قال لا تؤخرالسنۃ، وقد ورد ذٰلک ولایجب التاخیر اھ فہذا محمول علی الندب بالاجماع الا ان نفی الوجوب لا ینافی الاستحباب فیکون مستحبا الا ان  استلزم الزیادۃ علی وقت اباحۃ التاخیر، ونہایتہ  مادون الاربعین، فلا یباح فوقہا، ۱؎ اھ مختصرا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتارمیں ہےکہ منیہ کی شرح اور مضمرات میں ابن مبارک سے نقل کیا کہ ناخن کاٹنا اور سر منڈانا ذوالحجہ کے دس دنوں میں اپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ سنت کو مؤخر نہ کیاجائے جبکہ اس کے متعلق حکم واردہے تاہم تاخیر واجب نہیں ہے اھ تویہ استحباب پر محمول ہے اور وجوب کی نفی استحباب کے منافی نہیں ہے لہذا مستحب ہے ہاں اگر اباحت کی مدت پر تاخیر کو مستلزم ہو تو مستحب نہ ہوگا، اباحت کی مدت کی انتہا چالیس روز ہے تو اس سے زیادہ تاخیر مباح نہ ہوگی اھ مختصرا واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلٰوۃ باب العیدین     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۵۶۵)
مسئلہ ۱۸۷: مرسلہ ڈاکٹر واعظ الحق سعد اللہ پوری ڈاکخانہ خسرو پور ضلع پٹنہ بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۵ ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ

قربانی ایام تشریق تک جائز ہے یانہیں؟
الجواب : قربانی یوم نحر تک یعنی دسویں سے بارھویں تک جائز ہے، آخر ایام تشریق تک کہ تیرھویں ہےجائز نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸ : مرسلہ مولوی حاجی الہ یار خاں صاحب تاجر کتب    ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ

رامپور میں عیداضحی شنبہ کے دن ہوئی اور بریلی میں ایک شنبہ کو، اب درصورت عدم اطلاع کے جن لوگوں نے سہ شنبہ کو قربانی کی، اور بعد میں اس کے مطلع ہوئے، ان لوگوں کی قربانی درست ہوئی یا نہیں؟ اب ان پر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب : دوسرے شہر کی رؤیت مجرد حکایات واخبار سے ہر گز ثابت نہ ہوگی، مثلا چند آدمی اگر چہ کیسے ہی عادل ثقہ ہوں یہاں آکر بیان کریں، وہاں فلاں دن رؤیت ہوئی یا عید کی گئی، یا حکم دیا گیا، یا ہمارے سامنے گواہیاں گزریں، یا منادی پھری، کچھ قابل التفات نہیں کہ امر شرعی کا ثبوت بروجہ شرعی چاہئے، خانگی طو ر کا یقین کوئی چیز نہیں، گو عوام تو عوام اس زمانے کے بہت ذی علم بھی یقین شرعی وعرفی کے فرق سے غافل ہیں،
فی الدرالمختار وحاشیۃ ردالمحتار (لا لو شہدوا برؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ ۱؎)فانہم لم یشہدوا بالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم  وانماحکوا رؤیۃ غیرھم، کذا فی فتح القدیر، قلت وکذا لو شہدوا برؤیۃ غیرھم، وان قاضی تلک المصر امرا لناس بصوم رمضان لانہ حکایۃ لفعل القاضی ایضا ولیس بحجۃ بخلاف قضائہ ۲؎ الخ۔
درمختار اور اس کے حاشیہ ردالمحتار میں ہے اگر لوگوں نے غیر کی رؤیت پر شہادت دی تو جائز نہیں کیونکہ یہ محض حکایت ہے کیونکہ انھوں نے اپنی رؤیت پر شہادت دی اورنہ غیر کی شہادت پر مبنی شہادت دی انھو ں نے تو صرف غیر کی رؤیت کی حکایت کی ہے۔ یوں ہی فتح القدیر میں ہے۔ میں کہتاہوں اگر وہ غیر کی رؤیت پر شہادت بھی دیں تب بھی یہی حکم ہے اوریونہی اگر وہ اس شہر کے قاضی کے اس حکم  پر شہادت دیں کہ اس نے لوگوں کو رمضان کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ قاضی کے فعل کی حکایت ہے اور یہ حجت نہیں ہے بخلاف جبکہ وہ قاضی کی قضاء پر شہادت دیں وہ حجت ہے الخ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۴۹)

(۲؎ ردالمحتار   کتاب الصوم    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۹۴)
پس اگر رامپور کی خبر اسی طرح یہاں آئی جب تو سہ شنبہ کی قربانی میں ا صلا خلل نہیں،
لانہم بنوھا علی امر شرعی وھو اکمال العدۃ ثلثین عندالغمۃ ولم یثبت مایردہ فلایخاطبون لابہا وقع عند ھم۔
کیونکہ انھوں نے شرعی حکم کو مبنٰی قرار دیا وہ تیس کی گنتی پوری کرنا جب بادل ہوں اور اس شرعی حکم کو رد کرنے والی کوئی چیز ثابت نہیں جبکہ لوگ اپنے ہاں پائی جانی والی دلیل کے مخاطب ہیں۔ (ت)

اگر چہ انھوں نے خلاف احتیاط بیشک کیا کہ قطع نظر اس سے کہ افضل وفاضل یعنی دہم یازدہم چھوڑ کر سب میں گیا درجہ اختیار کیا،جب اگلےچاند کی تاریخ میں بھی احتمال تھا، اور بے رؤیت وشہادت صرف تیس پورے کرنے پر بنائے کارہوئی تھی تو شنبہ کی عید بھی ایک احتمال رکھتی تھی، ایسی حالت میں فی التاخیر اٰفات پر نظر کرکے سہ شنبہ تک بیٹھا رہنا نہ چاہتے تھا، علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بحالت احتمال مستحب ہے بارھویں تک دیر نہ لگائے اور دیر ہوجائے تو مستحب ہے کہ اس قربانی سے کچھ اپنے یا اپنے اغنیاء کے صرف میں نہ لائے بلکہ بالکل را ہ خدا میں اٹھائے۔
شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
لوشک فی یوم الاضحی فاجب ان لا یوخر الی الیوم الثلث والافاحب ان یتصدق کلہ ۱؎۔
اگر قربانی کے دن میں شک ہو تو تیسرے دن تک مؤخر نہ کی جائے ورنہ تمام گوشت کو صدقہ کرنے مجھے پسند ہے ۔ (ت)
 (۱؎ جامع الرموز   کتاب الاضحیہ  مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۳/ ۵۷۔۳۵۶)
باایں ہمہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی قربانی قضاء ہوگئی، البتہ افضل یہ ہے کہ جس قدر گوشت وغیرہ اپنے یا اور اغنیاء کے صرف میں آگیا ہو اس کی قیمت لگاکر صدقہ کریں، اور نیز جانور مذبوح وزندہ میں بوجہ ذبح جو تفاوت قیمت ہوگیا وہ بھی خیرات کریں، مثلا زندہ ایک روپیہ کو آیا تھا اور ذبح کیا ہوا بارہ آنے کو جاتا تو چار آنے اور تصدق کئے جائیں،
عالمگیری میں ہے :
اذا شک فی یوم الاضحی فالمستحب ان لایؤخر الی الیوم الثالث فان اخر یستحب ان لا یاکل منہ ویتصدق بالکل فیتصدق بفضل مابین المذبوح وغیر المذبوح لانہ لو وقع فی غیر وقتہ لا یخرج عن العہدۃ الا بذٰلک کذا فی المحیط السرخسی ۲؎۔
اگر قربانی کے دن میں شک ہو تو مستحب یہ ہے کہ تیسرے روز تک مؤخر نہ کی جائے اور مؤخر ہوجائے تو پھر مستحب یہ ہے کہ تمام گوشت صدقہ کیا جائے اور خود کچھ نہ کھائے اور مذبوح اور غیر مذبوح میں قیمت کے فرق زائد کو صدقہ کرے کیونکہ اگر قربانی اپنے فروخت سے باہر ہو تو اس کے بغیر عہدہ برآہ نہیں ہوتا یوں محیط سرخسی میں ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الاضحیۃ     الباب لثالث نورانی کتب خانہ پشاور        ۵/ ۲۹۵)
Flag Counter