| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
مسئلہ ۱۸۴: از کراچی بندر محلہ جمعدار گل محمدمکرانی مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب مکرانی ۳۵ شعبان ۱۳۱۱ھ چہ می فرمایند علمائے کرام رحمکم ربکم اندریں مسئلہ کہ اگر شخصے شکار بہ تفنگ یعنی بندوق کرد، وبذریعہ بندقہ رصاص یعنی گولی یا چھرہ شکار زخمی شد وشخص مذکور وقت سرکدن بندوق بسم اللہ الرحمن ا للہ اکبر ہم گفتہ اماجانور مذکور قبل ازذبح مرد، آیا آں جانور شرعا حلال ست یا حرام؟ دریں مسئلہ درمیاں علمائے بندر کراچی مباحثہ واختلاف افتادہ است۔ آخر الامر طرفین بریں قرار دادہ اند کہ ہر جوابیکہ علمائے کرام بریلی دہند، جانبین تسلیم نمایند۔ بینوا توجروا یوم الحساب۔
علمائے کرام رحمہم اللہ تعالٰی کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص بندوق سے شکار کرے اور تانبے کی گولی یا چھرہ سے شکار زخمی ہو کر ذبح سے قبل مرجائے اور وہ بندوق چلاتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ لے تو کیا وہ جانور حلال ہے یاحرام؟ اس مسئلہ میں بندر کراچی کے علماء کا مباحثہ واختلاف ہے بالآخر دونوں فریقوں نے قراردیا کہ علمائے بریلی جو بتائیں ہم تسلیم کرلیں گے، جواب دو اجر پاؤ قیامت کے روز۔ (ت)
الجواب : حلال نیست زیرا کہ آلہ آں باید کہ دم بُرندہ دارد نہ آنکہ صدمہ شکنندہ یا گرمی سوزندہ کمافی ردالمحتار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حلال نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے خون بہانے والا آلہ چاہئے نہ کہ وہ جو ٹکڑا کر توڑے یا گرمی سےجلائے، جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۸۵ : ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کتے کا پکڑا ہوا شکار مسلمان کھاسکتے ہیں یا نہیں؟ ایک خرگوش کو کتے نے اس طرح پکڑا ہے کہ اس کے دانت خرگوش کے جس میں پیوستہ ہوگئے ہیں، اور بہت سارا جسم اس کا چبا ڈالا ہے کہ خرگوش کے جسم میں خون جاری ہے، ہنوز ابھی جان باقی ہے۔ پس اس کو ذبح کرکے کھاسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب : بسم اللہ کہہ کر تعلیم یافتہ کتے کو جو شکار کرکے مالک کےلئے چھوڑ دیا کرے خود نہ کھانے لگے غیر حرم کے حلال جانور، وحشی پر جو اپنے پاؤں یا پروں کی طاقت سے اپنے بچاؤ پرقادر تھا چھوڑا، اور کتا اس کے چھوڑنے سے سیدھا شکار پر گیا یا ا سکے پکڑنے کی تدبیر میں مصروف ہوا بیچ میں اور طرف مشغول یا غافل نہ ہوگیا اور اس نے شکار کو زخمی کرکے مارڈالا یا ایسا مجروح کردیا اس میں اتنی ہی حیات باقی ہے جتنی مذبوح میں ہوتی ہے کچھ دیرتڑپ کر ٹھنڈا ہوجائے گا اور کتے کو چھوڑنے میں کوئی کافر مجوسی یا بت پرست یا ملحد یا مرتدجیسے آج کل نصارٰی، رافضی، نیچری، وہابی، قادیانی وغیرہم، خلاصہ یہ کہ مسلمان یا کتابی کے سوا کوئی شریک نہ تھا، نہ شکار کے قتل میں کتے کی شرکت کسی دوسرے کتے نا تعلیم یافتہ یا سگ نیچری یا کسی اور جانور نے کہ جس کا شکار ناجائز ہو اور چھوڑنے والا چھوڑنے کے وقت سے شکار پانے تک اسی طرف متوجہ رہا، بیچ میں کسی دوسرے کا م میں مشغول نہ ہوا، تو وہ جانور بے ذبح حلال ہوگیا، اور ان چودہ شرطوں سے ایک میں بھی کمی ہوا ورجانور بے ذبح مرجائے تو حرام ہوجائے گا ورنہ حرم کاشکار تو ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتا۔ باقی صورتوں میں ذبح شرعی سے حلال ہوجائے گا،
تنویر الابصار و درمختار و ردالمحتار میں ہے :
(الصید بخمسۃ عشرشرطا) خمسۃ فی الصائد وھو ان یکون من اھل الذکاۃ وان یوجد منہ الارسال وان لایشارکہ فی الارسال من لایحل صیدہ، وان لایترک التسمیۃ عامدا۔ وان لایشغل بین الارسال والاخذ بعمل اٰخر، وخمسۃ فی الکلب ان یکون معلما وان یذھب علی سنن الارسال، وان لا یشارکہ فی الاخذ ما لایحل صیدہ وان یقتلہ جرحا، وان لایاکل منہ و خمسۃ فی الصید ،ان لا یکون من بنات الماء الاالسمک وان یمنع نفسہ بجناحیہ اوقوائمہ وان لا یکون متقویا بنابہ، او بمخلبہ، وان یموت بہذا قبل ان یصل الی ذبحہ ۱؎ اھ، قلت ومعنی قولہ ان یموت ای حقیقۃ اوحکما بان لایبقی فیہ حیاۃ فوق المذبوح، کما نص علیہ فی الدر، واوضحہ المحشی۔
کوئی شکار کل پندرہ شرطوں سے مباح بنتاہے پانچ شرطیں شکاری میں پائی جائیں کہ(۱) وہ ذبح کرنے کا اہل ہو ،(۲)اور وہ خود کتے کو شکار پر چھوڑے،(۳) اور اس کے ساتھ چھوڑنے میں ایسا شخص شریک نہ ہو جس کا شکار حلال نہیں ہوتا، (۴)اور وہ قصدا بسم اللہ کو ترک نہ کرے، (۵)اور کتا چھوڑنے اور شکار کر پکڑلینے تک درمیاں میں کسی اور عمل میں مصرو نہ ہو، اور پانچ شرطیں کتے میں پائی جائیں (۱) سکھایا ہو اہو۔ (۲) سیدھا شکار کی طرف جائے (۳)کتے سے شکار کو وصول کرنیوالا ایسا شخص نہ ہو جس کا شکار حلال نہیں ہوتا (۴) شکار کو کتا زخمی کرکے مارے (۵)اور خود شکار کو نہ کھائے۔ اور پانچ شرطیں شکار میں پائی جائیں (۱) پانی میں پیدا ہونے والا شکار صرف مچھلی ہو۔ (۲)وہ بھاگ کر ایا اڑکر اپنا دفاع کرسکے (۳ و ۴) کیلی دانت یا پنچوں والا نہ ہو۔ (۵) ذبح تک رسائی سے قبل مرجائے اھ میں کہتاہوں اس کا کہنا کہ مرجائے، یعنی حقیقۃ مرجائے یا حکما مرجائے مذبوح سے زائد اس میں حیات نہ ہو، جیساکہ درمختارمیں تصریح ہے، اور محشی نے اس کو واضح کیا ہے۔ (ت)
(۱؎درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصید مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۱) (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۹۷)
انھیں میں ہے :
شرط کون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم ان کان صیدا، فصید الحرم لا تحلہ الذکاۃ مطلقا (اوکتابیا، ولو مجنونا ۲؎) اھ ملخصا۔ والمراد بہ المعتوہ کما فی العنایۃ عن النہایۃ لان المجنون لا قصد لہ ولا نیۃ لان التسمیۃ شرط بالنص وہی بالقصد وصحۃ القصد بما ذکر نا یعنی قولہ اذا کان یعقل التسمیۃ والذبیحۃ ویضبط ۱؎ اھ ش۔
ذبح کرنے والے کے لئے مسلمان جو حالت احرام اور حرم میں نہ ہو۔ شرط ہے، اور شکار ہو تو ضروری ہے کہ حرم سے باہر ہو کیونکہ حرم کا شکار ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوتا مطلقا ذبح کرنے والا اہل کتاب میں سےہو اگر چہ ذبح کرنے والا مجنون ہو اھ ملخصا۔ مجنون سے مراد معتوہ (ابتدائی جنون) ہو جیسا کہ عنایہ میں نہایہ سے نقل کیا ہے کیونکہ کامل جنون والا قصد اور نیت کا اہل نہیں ہے کیونکہ بسم اللہ پڑھنا منصوص شرط ہے اور وہ قصد کے بغیر ممکن نہیں اور قصد کی صحت ہمارے ذکر کردہ سے ہوتی ہے یعنی اس کا قول کہ وہ بسم اللہ اور ذبح اور ضبط کو سمجھتاہو، اھ ش۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸) (۱؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۸۸)
ان سب شرائط کے ساتھ جس خرگوش کو کتے نے مارا مطلقا حلال ہے اور اگر ہنوز مذبوح سے زیادہ زندگی باقی ہے تو بعد ذبح حلال ہے۔ اس کے دانت جسم میں پیوست ہوجانا وجہ ممانعت نہیں ہوسکتا، قرآن عظیم نے اس کا شکار حلال فرمایا اور شکار بے زخمی کئے نہ ہوگا اور زخمی جبھی ہوگا کہ اس کے دانت اس کے جسم کو شق کرکے اندر داخل ہوں اور یہ خیال کہ اس صورت میں اس کا لعاب کہ ناپاک ہے بدن کو نجس کردے گا، دو وجہ سے غلط ہے۔ اولا شکار حالت غضب میں ہوتاہے اور غضب کے وقت اس کا لعاب خشک ہوجاتاہے۔
ولذافرق جمع من العلماء فی اخذہ طرف الثوب ملا طفا فینجس او غضبان فلا۔
اس لئے علماء کی ایک جماعت نے کتے کے پاک کپڑے کو پیار سے منہ میں لینے اور غصہ کی حالت میں لینے میں فرق کیا ہےکہ جانور پیار سے منہ میں لے تو ناپاک اور غصہ میں لے تو پاک ہے۔ (ت)
ثانیا اگر لعاب لگا بھی تو آخر جسم سے خون بھی نکلے گا، وہ کب پاک ہے جب اس سے طہارت حاصل ہوگی اس سے بھی ہوجائے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔