فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
65 - 126
مسئلہ ۱۸۲: ۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب
(اس باب میں علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں۔ت ) کہ ایک شخص نے بسم اللہ کہہ کر شکار پر بنددق چلائی، پس جس وقت جاکر دیکھا تو کوئی آثار اس میں زندگی کے نہ تھے اور نہ جنبش تھی، جس وقت کہ اس کو ذبح کیا تو خون نکلا اچھی طرح سے، پس وہ شکار حلال ہے یاحرام؟ اوراگر اس کو حلال نہ کرتے تو حلال ہو تایاحرام؟ اور درصورت نہ نکلنے خون کے بھی، جواب تحریر فرمائے۔
الجواب : اگر ذبح کرلیا اور ثابت ہوا کہ ذبح کرتے وقت اس میں حیات تھی مثلا پھڑک رہا تھا یا ذبح کرتے وقت تڑپا اگر چہ خون نہ نکلا، یا خون ایسا دیا جیسا مذبوح سے نکلا کرتاہے اگر چہ جنبش نہ کی، یا کسی اور علامت سے حیات ظاہر ہوئی تو حلال ہے۔ اور اگر بندوق سے مارکر چھوڑدیا ذبح نہ کیا یا کیا مگر اس میں وقت ذبح حیات کا ہونا ثابت نہ ہوا تو حرام ہے۔ غرض مدار کا اس پر ہے کہ ذبح کرلیا جائے او ر وقت ذبح اس میں رمق حیات باقی ہو، اگر چہ نہ جنبش کرے نہ خوں دے حلال ہوجائے گا، ورنہ حرام،
درمختارمیں ہے :
ذبح شاۃ مریضۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت والا لا ان لم تدرحیاتہ عند الذبح وان علم حیاتہ حلت مطلقا، وان لم تتحرک ولم یخرج الدم وھذا یتأتی فی منخنقۃ ومردیۃ ونطیحہ، والتی بقر الذئب بطنہا فذکاۃ ھذ الاشیاء تحلل وان کانت حیاتہا خفیفۃ وعلیہ الفتوٰی لقولہ تعالٰی الا ماذکیتم من غیر فصل ۱؎ اھ وفی ردالمحتارعن البزازی عن الاسبیجابی عن الامام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ خروج الدم لایدل علی الحیاۃ الااذ کان یخرج کما یخرج من الحی قال وھو ظاہر الروایۃ ۲؎۔
مریض بکری ذبح کی تو اس نے حرکت نہ کی اور خون نکلا تو حلال ہے ورنہ نہیں بشرطیکہ ذبح کے وقت زندہ ہونا نہ معلوم ہوسکا اور اگر زندہ ہونا یقینا معلوم ہے تو مطلقا حلا ل ہے اگر چہ حرکت نہ کرے، اور خون نہ نکلے یہ صورت گلہ گھونٹنے، اوپر سے گرنے والے اور سینگ زدہ میں متحقق ہوتی ہے اور جس کا پیٹ بھیڑئیے نے پھاڑ دیا ہو وہاں یہ صورت ہوسکتی ہے تو ایسے جانور کا ذبح ہونا حلال کردے گا اگرچہ ان کی خفیف زندگی معلوم ہے، اسی پرفتوٰی ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : الا ماذکیتم یعنی جس کو تم نے ذبح کردیا، بلاتفصیل یہ حکم ہے اھ اور ردالمحتارمیں بزازی سے انھوں اسبیجابی سے انھوں نے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے کہ محض خون نکلنا حیات کی دلیل نہیں مگر ایسا نکلے جیسے زندہ سے نکلتاہے تو حیات کی دلیل ہے۔ اور یہ ظاہر الروایۃ ہے۔ (ت)
(۱؎درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۰)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۶)
اسی کی کتاب الصید میں ہے :
المعتبر فی المتردیۃ واخواتہا کنطیحۃ وموقوذۃ وما اکل السبع والمریضۃ مطلق الحیاۃ وان قلت کما اشرنا الیہ وعلیہ الفتوی ۱؎۔
اوپر سے گرنے والی اور اسی جیسی مثلا سینگ زدہ ،لاٹھی زدہ، درندہ کی کھائی ہوئی، اور مریضہ میں مطلق حیات معتبر ہے اگر چہ حیات قلیل ہی ہو جیسا کہ ہم نے اس طرف اشارہ کردیا ہے۔ اور اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصید مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۳)
مدارک التزیل میں ہے :
الموقوذۃ التی اثخنوہا ضربا بعصی اوحجر ۲؎۔
موقوذۃ وہ ہے جس کو لاٹھی یا پتھر سے مارا ہو۔ (ت)
(۲؎ مدارک التنزیل (تفسیر نسفی) تحت آیۃ ۵/ ۳ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۶۹۹)
معالم میں ہے :
قال قتادۃ کانوا یضربونہا بالعصٰی فاذا ماتت اکلوھا ۳؎ اھ فظہران المضروب بکل مشقل کالبندقۃ ولوبندقۃ الرصاص کلہ من الموقوذۃ فیحل بالذکاۃ وان قلت الحیاۃ۔
قتادہ نےکہا جاہلیت میں لوگ لاٹھی مارتے جب مرجاتی تو اسے کھاتے تھے اھ، تو ظاہر ہوا کہ کسی دباؤ والی چیز سے ضرب لگی ہوئی جیسے بندق اگر چہ تابنے کی گولی ہو تو وہ موقوذہ یعنی لاٹھی زدہ کے حکم میں ہے تو وہ ذبح سے حلال ہوگی اگر چہ حیات قلیل ہو۔ (ت)
(۳؎معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۵/ ۳ مصطفی البابی مصر ۲ /۷)
ردالمحتارمیں ہے :
لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھو بالاحراق والثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذلیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم ۴؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مخفی نہیں کہ تانبےکی گولی کا زخم جلانے اور ثقل سے جوشدید دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ بنتاہے۔ کیونکہ دھار نہیں ہوتی، لہذا اس زخم سے حلال نہ ہوگی، اسی پر ابن نجیم نے فتوٰی دیا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۴؎ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۳۰۴)
مسئلہ ۱۸۳: از گونڈہ بہرائچ مکان مولوی مشرف علی صاحب مرسلہ حضرت سید حسین حید رمیاں صاحب ۱۵جمادی الاولٰی ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ بندوق کا شکار کھانا جبکہ تکبیر کے ساتھ سر کی جائے کیا حکم رکھتاہے؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر زندہ پایا اور ذبح کیا، ذبح کے سبب حلال ہوگیا ورنہ ہر گز نہ کھایا جائے، بندوق کا حکم تیر کی مثل نہیں ہوسکتا، یہاں آلہ وہ چاہےے جو اپنی دھار سے قتل کرے۔ اور گولی چھرے میں دھارنہیں، آلہ وہ چاہئے جو کاٹ کرتاہو۔ اوربندوق توڑکرتی ہے نہ کہ کاٹ،
ردالمحتارمیں ہے:
لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھوبالاحراق والثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذ لیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم ۱؎۔
مخفی نہیں کہ تانبے کی گولی کا زخم جلانے اور ثقل جو شدید دباؤ سے حاصل ہوتے ہیں سے بنتاہے کیونکہ گولی کی دھار نہیں ہوتی، لہذا اس سے حلال نہ ہوگی، اس پر ابن نجیم نے فتوٰی دیا ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۰۴)
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے :
لایحل صید البندقۃ وما اشبہ ذٰلک و ان خرق لانہ لایخرق الا ان یکون شیئ من ذٰلک قد حدد وطولہ کالسہم وامکن ان یرمی بہی، فان کان کذٰلک و خرقۃ بحدہ حل اکلہ ۲؎ انتہی، وبہ اندفع ماظن بعض اجلہ علماء کالنفور من الحرمۃ بالرصاس الکبیر لثقلہ دون الحبات لخفتہا وذٰلک لان مناط الحل لیس ھی الخفۃ بل الحد والخرق، وبدیہی ان لاشیئ من ذٰلک فی الحبات الا تری الی ماقال فی الدرالمختار لو کانت یعنی البندقۃ خفیفہ بہا حدۃ حل ۱؎ حیث لم یقتصر علی الخفۃ زاد بہا حدۃ۔ ولابد من قید اٰخر ترکہ وصرحۃ بہ وھو من تصیبہ بحدھا کما مرعن الا مام فقیہ النسف۔ وھی مسئلۃ المعراض الشہیرۃ فی الکتب، فالصواب اطلاق المنع، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
بندوق وغیرہ کا شکار اگر چہ زخمی ہوجائے حلال نہیں ہے کیونکہ یہ چیزیں نہیں، ہاں اگر گولی کی لمبی دھار ہو تو تیر کی مانند ہونے کی بناء پر اسکی طرف پھینکی جاسکے اور وہ چیر دے تو اس کا کھانا حلال ہوگا، اھ اس بیان سے کانپور کے بعض اجلہ علماء کا یہ گمان مدفوع ہوگیا کہ بڑی تانبے والی گولی سے حرام ہے کیونکہ وہ بھاری ہوتی ہے اور چھرے دار گولی سے حلال ہوگی کیونکہ چھرے باریک ہوتے ہیں، یہ اس لئے کہ حلت کا مدار خفیف وباریک ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا مداردھار دار اور چیرنا ہے اور یہ چیز چھروں یعنی دانوں میں بدیہی طور پر نہیں پائی جاتی، آپ دیکھ نہیں رہے جو درمختار میں فرمایا کہ باریک گولی کی دھار ہو تو حلال ہے یہاں انھوں نے صرف خفت پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ دھار کو زائد ذکر کیا اور ایک اور قید بھی ضروری جس کو واضح ہونے کی وجہ سے ذکر نہ کیا وہ یہ کہ دھار لگنے سے زخمی ہو جیسا کہ اما م فقیہ النفس (قاضی خاں) کا کلام گزرا، اور کتب میں معراض کے عنوان سے یہ مسئلہ مشہور ہے تویہی درست ہے کہ گولی کا شکار مطلقا منع ہے