فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
64 - 126
کتاب الصید
(شکار کا بیان)
مسئلہ ۱۷۸: ۱۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
ماقولکم
(آپ کا کیا فرمان ہے) اندریں مسئلہ کہ ایک شخص روز شکار بندوق کا شوقیہ کھیلتاہے۔ پس بحکم شرع شریف کے کس قدر شکار کھیلناجائز ہے اور کس وقت میں؟ اور وہ شکاری ہر روز شکار کھیلنے سے گنہگار ہوتاہے یانہیں؟
دریں امورچہ حکم دارد، بینوا مفصلا توجرو اکثیرا۔
الجواب: شکار کہ محض شوقیہ بغرض تفریح ہو، جیسے ایک قسم کا کھیل سمجھا جاتاہے ولہذا شکار کھیلنا کہتے ہیں، بندوق کا ہوخواہ مچھلی کا، روزانہ ہو خواہ گا ہ گاہ۔ مطلقا باتفاق حرام ہے۔ حلال وہ ہے جو بغرض کھانے یا دوایاکسی اور نفع یا کسی ضرر کے دفع کو ہو آج کل بڑے بڑے شکاری جو اتنی ناک والے ہیں کہ بازار سے اپنی خاص ضرورت کے کھانے یا پہننے کی چیزیں لانے کو جانا اپنی کسر شان سمھیں، یا نرم ایسے کہ دس قدم دھوپ میں چل کر مسجد میں نماز کے لئے حاضر ہونا مصیبت جانیں، وہ گرم دوپہر، گرم لو میں گرم ریت پر چلنا اور ٹھہرنا، اور گرم ہوا کے تھپیڑے کھانا گوارا کرتے اور دو دو پہر دو دودن شکار کے لئے گھر بار چھوڑے پڑے رہتے ہیں کیا یہ کھانے کی غرض سے جاتے ہیں، حاشا وکلا بلکہ وہی لہو ولعب ہے اور بالاتفاق حرام، ایک بڑی پہچان یہ ہے کہ ان شکاریوں سے اگر کہے مثلا مچھلی بازار میں ملےگی وہاں سے لے لیجئے ہر گز قبول نہ کرسکیں گے، یا کہئے کہ اپنے
پاس سے لائے دیتے ہیں، کبھی نہ مانیں گے بلکہ شکار کے بعدخود اس کے کھانے سے بھی چنداں غرض نہیں رکھتے بانٹ دیتے ہیں، تو یہ جانا یقینا وہی تفریح وحرام ہے۔
درمختارمیں ہے :
الصید مباح الا للتلہی کما ھو ظاہر ۱؎۔
شکار مباح ہے مگر لعب کے طور پر مباح نہیں۔ (ت)اسی طرح اشباہ وبزازیہ ومجمع الفتاوٰی وغنیہ ذوی الاحکام وتاتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا میں عامہ اسفار میں ہے واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصید مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۱)
مسئلہ ۱۷۹: معرفت مولوی امام بخش صاحب طالب علم مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ وحید احمد خاں ۱۸ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شکار تفریحا کھیلنا حرام ہے، زید کہتاہے کہ شکار اگر گوشت کھانے کے واسطے کھیلا جائے تو کچھ حراج نہیں کیونکہ ہم روز گوشت ہی کھاتے ہیں اور چونکہ آج کل گوشت مہنگا ہے اس واسطے شکار سے ہم کو فائدہ ہوگا، اور اگر یہ کہو کہ کسی جان بے فائدہ لینا ٹھیک نہیں توروز گوشت کیوں کھاتے ہو، زیدکی اس گفتگو پر یہ سوال کیا گیا کہ تم مہنگے کا سوا ل پیش کرتے ہو، اور اگر تمھیں شکار سے پیٹ ہی بھرنا مقصود ہے تو روز شکار کیوں نہیں کھیلتے تاکہ تم کو پورا فائدہ حاصل ہو، گاہے گاہے کیوں شکار کھیلتے ہو، وہ بھی اپنے ہمعمروں کو ساتھ لے جاکر، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ تم تفریحا ہی شکار کھیلتے ہو، جس کی اجازت شرع شریف نہیں دیتی یہ بے نواحضور سے مستفتٰی ہے کہ زید کی گفتگو صحیح ہے یا نہیں؟ اور زید کی یہ تاویل قابل سماعت ہوگی یا نہیں جبکہ نہ مجبوری ہے نہ کسی بیماری کی صحت شکار کے گوشت سے مدنظر ہے۔
الجواب : تفریح کے لئے شکار حرام ہے۔ اور غذا یا دوا کے لئے مباح ہے۔ اور نیت کا علم اللہ کو ہے۔ اگر واقعی وہ کھانے ہی کے لئے شکار کو جاتاہے تفریح مقصود نہیں تو حرج نہیں، اور اس کی علامت یہ ہے کہ مچھلی کے شکار کو جانا چاہئے، اور مچھلیاں بازار میں ملتی ہوں اور دام رکھتاہو، نہ خریدے بلکہ شکارہی کرکے لائے اور وہ تکالیف ومصائب جو اس میں ہوتی ہے گوارا کرے تو ہر گز اسے کھانا مقصو دنہیں بلکہ وہی تفریح واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰ : مسئولہ علی احمد صاحب ۱۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شکار مچھلی کا کھانا جائز ہے یاناجائز؟ شکار چارہ تلی سے اور گھیسے سے کھیلا جاتاہے۔
الجواب : کسی جانور کا شکار اگر غذا یا دوا یا دفع ایذا یا تجارت کی غرض سے ہو جائز ہے اور جو تفریح کےلئے ہو جس طرح آج کل رائج ہے اور اسی لئے اسے شکار کھیلنا کہتے اور کھیل سمجھتے ہیں، اور وہ جو کھانے کے لئے بازار سے کوئی چیز خرید کر لانا عارجانیں، دھوپ اور لو میں خاک اڑاتے اور پانی بجاتے ہیں، یہ مطلقا حرام ہے۔
کما نص علیہ فی الاشباہ والدرالمختار وغیرہا
(جیسا کہ اشباہ اور درمختار وغیرہما میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت) پھر مچھلی کا شکار کہ جائز طور پرکریں، اس میں زندہ گھیسا پروناجائز نہیں، ہاں مارکر ہو یا تلی وغیرہ بے جان چیز تو مضائق نہیں، یہ سب اس فعل کی نسبت احکام تھے، رہی شکار کی ہوئی مچھلی اس کا کھانا ہر طرح حلال ہے، اگر چہ فعل شکار ان ناجائز صورتوں سے ہوا ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱ : از حیدرآباد دکن محلہ افضل گنج اقامت گاہ مفتی لطف اللہ صاحب علی گڑھ جج ریاست حیدرآباد مرسلہ جناب صاحبزادہ مولوی سید احمد اشرف میاں صاحب متوطن کچھوچھا شریف ضلع فیض آباد، شاگردرشید مفتی صاحب مذکور ۳ محرم الحرام شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ بندوق کی گولی سے مارا شکار حلال ہے یا حرام، گولی کو حلت صیدمیں تیر کاحکم ہے یانہـیں؟ لمبی شکل کی جو گولیاں ہوتی ہے ان کا کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : بندوق کی گولی دربارہ حلت صید حکم تیر میں نہیں، اس کا مارا ہوا شکار مطلقاحرام ہے۔ کہ اس میں قطع وخرق نہیں،صدم ودق وکسر وحرق ہے،
شامی میں ہے :
لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھو بالاخراق، والثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذالیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم ۱؎۔
یہ مخفی نہیں کہ تابنے کی گولی کا زخم اس کے جلانے اور ثقل کی وجہ سے ہے جو بذریعہ شدید دباؤ کے حاصل ہوتاہے کیونکہ دھار نہیں ہوتی تو شکار حلا نہ ہوگا، اور یہی ابن نجیم کافتوٰی ہے۔ (ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۳۰۴)
مطلول شکل کی جوگولیاں ہیں اولا وہ بھی دھار دار نہیں ہوتی بلکہ تقریبا بیضوی شکل پر سنی جاتی ہیں، اور آلہ کا حدید یعنی تیز ہونا اگر چہ شرط نہیں مگر محدد یعنی باڑھ دار ہونا کہ قابل قطع وخرق ہو ضرور ہے۔ ثانیا اگر بالفرض گولی تیر کی طرح دھار دار رہی بنائی جائے اور اسے بطور معہود بندوق سے سرکریں جب بھی ثبوت حلت میں نظر ہے کہ صرف دھار دار کا وجود ہی کافی نہیں، بلکہ تیقن بھی ضروری ہے، اس کی دھار سے قطع ہونا ہی باعث قتل ہوا۔ اور یہاں ایسا نہیں کہ اس کا احراق وصدمہ شدید قاتل ہے کما سمعت اٰنفا (جیسا کہ ابھی آپ نے سنا۔ ت) تو محتمل کہ یہی وجہ قتل ہوا ہو، نہ قطع، اور بحالت شک و احتمال حکم حرمت ہے۔
ہدایہ میں ہے :
الاصل فی ھذہ المسائل ان الموت اذا کان مضافا الی الجرح بیقین کان الصید حلالا، واذا کان مضافا الی الثقل بیقین کان حراما، وان وقع الشک و لایدری مات بالضرح او بالثقل کان حراما احتیاطا ۱؎۔
ان مسائل میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر موت یقینی طور پر زخم کی طرف منسوب ہو تو شکار حلال ہے، اور اگر وہ ثقل کی طرف منسوب ہو تو یقینا حرام ہے، اور اگر شک ہو اور معلوم نہ ہو کہ زخم سے مرا ہے یا ثقل سے تو احتیاطا حرام ہے۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الصید مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۵۰۹)
اسی میں ہے :
لایوکل مااصابہ البندقۃ فمات بہا لانہا تدق وتکسر ولا تجرح و کذٰلک ان رماہ بحجر وکذٰلک ان جرحہ، قالو اتاویلہ اذا کان ثقیلا وبہ حدۃ لاحتمال انہ قتلہ بثقلہ۔ الخ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بندوق لگنے سے ہلاک شدہ کو نہ کھایا جائے کیونکہ وہ دباؤ سے توڑتی ہے زخم نہیں کرتی، اور اسی طرح اگر پتھر مارااور دباؤ سے زخمی ہوا، وضاحت یہ ہے کہ اگر پتھر بھاری ہو اور اس کی دھار ہو تو حرام ہے کیونکہ احتمال ہے کہ ثقل کے دباؤ سے ہلاک ہواہو، اس لئے حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎الہدایۃ کتاب الصید مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۵۰۸ و ۸۰۹)