مچھلی کی ایک قسم ہے اسے ہندی میں جھینگا کہتے ہیں۔ (ت)
(۳؎ متن الارب باب الراء فصل الباء مطبع اسلامیہ لاہور ۲/ ۹۲)
مخزن میں ہے:
روبیان اور اربیان نیز آمدہ بفارسی ماہی روبیان نامند ۴؎۔
روبیان اور اربیان بھی آیا ہے۔ فارسی میں اس مچھلی کو روبیان کہتے ہیں۔ (ت)
(۴؎ مخزن الارویۃ فصل الراء مع الواؤ نولکشور کانپور ص۳۱۳)
اسی طرح تحفہ میں ہے۔تذکرہ داؤد انطا کی میں ہے :
روبیان اسم لضرب من السمک یکثرببحراالعراق والقلزم احمر کثیر الارجل نحوالسرطان لکنہ اکثر لحما ۵؎۔
روبیان مچھلی کی قسم ہے، بحر عراق اور بحرا قلزم میں بکثرت پائی جاتی ہے یہ سرخ رنگ اور کثیر پاؤں والے کیکڑے کی طرح ہوتی ہے لیکن وہ گوشت میں زیادہ ہے۔ (ت)
(۵؎ تذکرۃ اولی الالباب لداؤ دانطاکی الباب الثالث حرف الراء مصطفی الباب مصر ۱/ ۱۷۱)
حیاۃ الحیوان الکبرٰی میں ہے :
الروبیان ہو سمک صغیر جدا احمر ۶؎۔
روبیان بہت چھوٹی مچھلی سرخ رنگ ہوتی ہے۔ (ت)
(۶؎ حیاۃ الحیوان باب الراء المہملۃ تحت الروبیانۃ مصطفی الباب مصر ۱/ ۵۲۸)
روبیان سمندری مچھلی ہے۔ مصر والے لوگ اسے فرندس اور اہل اندلس اسے قمرون کے نام سے جانتے ہیں۔ (ت)
(۱؎الجامع المفردات الادویۃوالاغذیۃ حرف الراء تحت روبیان دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۴۴۵)
انوار الاسرارمیں ہے :
الروبیان سمک صغار جدا احمر ۲؎۔
روبیان بہت چھوٹی مچھلی سرخ رنگ ہوتی ہے۔ (ت)
(۲؎انوارالاسرار)
تو اس تقدیر پر حسب اطلاق متون وتصریح معراج الدرایہ مطلقا حلال ہونا چاہئے کہ متون میں جمیع انواع سمک حلال ہونے کی تصریح ہے۔
والطافی لیس نوعا براسہ، بل وصف یعتری کل نوع۔
طافی کوئی قسم نہیں ہے بلکہ یہ ایک وصف ہےجو ہر قسم کو لاحق ہوسکتاہے۔ (ت)
اور معراج میں صاف فرمایا کہ ایسی چھوٹی مچھلیاں جن کا پیٹ چاک نہیں کیا جاتا اور بے آلائش نکالے بھون لیتے ہیں امام شافعی کے سوا سب ائمہ کے نزدیک حلال ہیں،
ردالمحتارمیں ہے :
وفی معراج الدرایۃ ولو وجدت سمکۃ فی حوصلۃ طائر توکل وعند الشافعی لا توکل لانہ کالرجیع ورجیع الطائر عندہ نجس، وقلنا انما یعتبر رجیعا اذا تغیر وفی السمک الصغار التی تقلی من غیر ان یشق جوفہ فقال اصحابہ لا یحل اکلہ لان رجیعہ نجس وعند سائر الائمۃ یحل۔
اور معراج الدرایہ میں ہے اگر پرندے کے گھونسلے میں مچھلی پائی جائے کھائی جائے، اور امام شافعی کے نزدیک نہ کھائی جائے کیونکہ پرندے کی بیٹھ کی طرح ہے، اور ان کے ہاں پرندے کی بیٹھ نجس ہے اور ہم کہتے ہیں بیٹھ تب بنے گی جب متغیر ہوجائے گی، اور چھوٹی مچھلی جس کو بغیر چاک کئے بھون لیا جاتاہے شافعی حضرات فرماتے ہیں حلال نہیں ہےکیونکہ اس کی بیٹھ نجس ہے۔ اور باقی ائمہ حلال کہتے ہیں۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۶)
مگر فقیر نے جواہرالاخلاطری میں تصریح دیکھی ہے کہ ایسی چھوٹی مچھلیاں سب مکروہ تحریمی ہیں اور یہ کہ یہی صحیح تر ہے۔
جہاں کہں کہ چھوٹی تمام مچھلیاں مکروہ تحریمہ ہیں یہی صحیح ہے۔ (ت)
(۱؎ جواہرالاخلاطی کتاب الذبائح قلمی نسخہ ص۲۲۹۔ ۲۸۷)
جھینگے کی صورت تمام مچھلیوں سے بالکل جدا اور گنگچے وغیرہ کیڑوں سے بہت مشابہ ہے۔ اور لفظ ماہی غیر جنس سمک پر بھی بولا جاتاہے۔ جیسے ماہی سقنقور، حالانکہ وہ ناکے کا بچہ ہے کہ سواحل نیل پر خشکی میں پیدا ہوتا ہے۔ اور ریگ ماہی کہ قطعا حشرات الارض اور ہمارے ائمہ سے حلت روبیان میں کوئی نہیں معلوم نہیں اورمچھلی بھی ہے تو یہاں کے جھینگے ایسے ہی چھوٹے ہیں جن پر جواہر اخلاطی کی وہ تصحیح وارد ہوگی، بہرحال ایسے شبہہ واختلاف سے بے ضرورت بچنا ہی چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴ تا ۱۷۶ : از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ۲ رمضان مبارک ۱۳۱۰ھ
(۱)جھنگا کا کھانا کیا حکم رکھتاہے؟ (۲) انڈے کا چھلکا کھانا؟ (۳)مکڑے کا جالا کھانا؟
الجواب :
(۱) مختلف فیہ است۔ ہر کہ از جنس ماہی دانستہ حلال گفتہ فان السمک بجمیع انواعہ حلال عندنا۔ ہر کہ غیراو گمان بُردہ بحرمت رفتہ اذکل مائی ماخلا السمک حرام عندنا، اسلم در ہمچوں مسائل اجتناب است الحمداللہ فقیر واہل بیت فقیر عمر باست کہ نخوردہ ایم ونہ ہرگز ارادہ خوردنش دادیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱) مختلف فیہ ہے ۔ جو حضرات اس کو مچھلی کی قسم کہتے ہیں حلال کہتے ہیں، کیونکہ مچھلی کی تمام اقسام ہمارے نزدیک حلال ہیں، اور جو حضرات اس کو غیر مچھلی کہتے ہیں وہ حرام مانتے ہیں کیونکہ مچھلی کے ماسوا تمام آبی جانور ہمارے نزدیک حرام ہیں، ایسے مسائل میں اجتناب بہترہے، الحمداللہ اس فقیر اور اس کے گھروالوں نے عمر بھر نہ کھایا اور نہ اسے کھائیں گے، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) پوست بیضہ جز اوست پس درحلت و حرمت بحکم اوست ہمچوں جلد حیوان، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) انڈے کا چھلکا انڈے کے حکم میں ہے کیونکہ اس کا جزء ہے جیسا کہ حیوان کی کھال، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳) تصریح ایں جزئیہ ایدوں بخیال نیست نہ اینجا کتب حاضر دارم اما ظاہر ممانعت است ہمچوں خانہ زنبور کما نص علیہ فی الہندیۃ ۱؎ عن الملتقط عن الامام خلف بن ایوب رحمہ اللہ تعالٰی زیراکہ نسجش متولد از لعاب اوست۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳) مکڑے کے جالے کا حکم خیال میں نہیں ہے اور نہ ہی یہاں میری کتب ہیں لیکن ظاہری طور پر ممنوع ہے جس طرح زنبور کا گھر ممنوع ہے جیسا کہ ہندیہ میں ملتقط سے اور وہاں امام خلف بن ایوب رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے کیونکہ جالا مکڑے کے لعاب سے بنتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الثانی نورانی کتب خانہ کراچی ۵/ ۲۹۰)
مسئلہ ۱۷۷ : از موضع ڈرہال ضلع مراد آباد مرسلہ شیخ محمد اسمعیل صاحب ۲۱ شوال ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ ملائم ہڈی کو چبالیتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور ایک ہڈی ملائم گائے کے نشانہ میں ہوتی ہے جس کو چبنی کہتے ہیں اور اسے گوشت کے ساتھ کھالیتے ہیں۔ بینوا توجروا
الجواب: جانور حلال مذبوح کی ہڈی کسی قسم کی منع نہیں جب تک اس کے کھانے میں مضرت نہ ہو، اگر ہو تو ضرر کی وجہ سے ممانعت ہوگی،نہ اس لئے کہ ہڈی خود ممنوع ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔