Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
62 - 126
مسئلہ ۱۶۹ : مرسلہ محمد علی اکبر کوڑا سال سویم ڈھاکہ    تاریخ ۱۴ جمادی الاول ۱۳۳۳ھ

کہ سوکھی مچھلی (جو دیار بنگالہ میں معروف ومشہور ہے) کھانا جائز ہے یانہیں؟ اور برتقدیر حلال ہونے کے اگر کوئی حرام کہے تو اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب : مچھلی تر ہو یا خشک، مطقا حلال ہے۔
قال تعالٰی واحل لکم صید البحر ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: حلال کیا گیا تمھارے لئے بحری شکار کو۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم    ۵ /۹۶)
سوائے طافی کے جو خود بخود بغیرکسی سبب ظاہر کے دریا میں مرکر اترا  آتی ہے۔
عالمگیریہ میں ہے :
السمک یحل اکلہ الاماطفا منہ ۴؎۔
مچھلی کھانا حلال ہے ماسوائے پانی پر تیرنے والے مرکر۔ (ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الذبائح    الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور        ۵ /۲۸۹)
خشک مچھلی کا کسی نے استثناء نہ کیا، اگر حرام کہنے والا جاہل ہے اسے سمجھا یا جائے، اور ذی علم ہے تو اس پر حلال خدا کے حرام کہنے کا الزام عائد ہے۔ اسے تجدید اسلام وتجدیدنکاح چاہئے، ہاں اگر وہاں سوکھی مچھلی ماہی دریا کے سوا کسی خشکی کے جانور کا نام ہے، جیسے ریگ ماہی، تو اس کا حال معلوم ہونا چاہئے، اگر ریگ ماہی کی طرح حشرات الارض سے ہے تو ضرور حرام ہے۔
عالمگیریہ میں ہے :
جمیع الحشرات وھو ام الارض لاخلاف فی حرمۃ ھذہ الاشیاء ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حشرات الارض مٹی سے پیدا شدہ ہے ان چیزوں کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الذبائح الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/۲۸۹)
مسئلہ ۱۷۰: مسئولہ مولوی غلام گیلانی صاحب شمس آباد ضلع کیمل پور    ۲۵ شعبان ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض ملکوں میں مچھلی خشک اور گوشت خشک کھایا جاتاہے، قبل پکانے کے تو تو اس میں سخت بدبو ہوتی ہے مگر بعد پکنے کے بھی بدبو باقی رہتی ہے، کیا اس کا کھانا جائز ہے یاناجائز؟ بینوا توجروا
الجواب : فی الواقع ایسی سخت بدبودار چیز علاوہ اس کے کہ نفاست طبع کے خلاف ہے، نظافت دین سے بھی جدا ہے۔
وبنی الدین علی النظافۃ
 (دین کی بنیاد نظافت پر ہے۔ ت) مسموع ہوا کہ اس کے مستعلمین کے بدن و دہن میں اس کی بو بس جاتی ہے۔ یہ علاوہ کراہت اکل کے اور بلائے شدید اور ملائکہ کو ایذا ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان الملئکۃ تتاذی لما یتاذی بہ بنواٰدم ۲؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا: جس سے بنی آدم اذیت پائیں اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں (ت)
(۲؎ صحیح مسلم     کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوبا ابصلا الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۰۹)
اور ایسی حالت میں ان کو قرآن مجید پڑھنا منع ہے۔ حدیث میں ہے :
طیبوا افواھکم فانہا طرق القراٰن ۳؎۔
اپنے منہ صاف رکھو کیونکہ یہ قرآن کا راستہ ہیں۔ (ت)
 (۳؎ کنز العمال  حدیث ۲۷۵۲و ۲۷۵۳   مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱/ ۶۰۳)
بلکہ جو بدبو پر مشتمل ہو اسے مسجد میں جانا حرام ہے۔ اور جماعت میں شامل ہونا ممنوع ہے اور جبکہ اس سے ضرر غالب متحقق ہو، تو حرمت میں کیا شبہ ہے۔
فان المضار کلہا حرام
 (سب ضرر رساں چیزیں حرام ہیں۔ ت)واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۱: مرسلہ از چاند پور ضلع بجنور محلہ پتیا پاڑہ مکان محمد حسین خاں زمیندار

مچھلی بے ذبح کیوں جائز ہے؟
الجواب: خون مفسوح ناپاک ہے وہ بدن میں رہے اور جانور مرجائے تو تمام گوشت پوست نجس وحرام ہوجاتاہے۔ ذبح سے مقصود اس کا جدا کرنا ہے۔ ولہذا حدیث صحیح میں ارشاد ہوا :
ماانہر الدم وذکر اسم اﷲ علیہ فکلوا  ۱؎،الحدیث، رواہ السئۃ عن رافع بن خدیج عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
جس کا خون بہا دیا گیا اور اس پر اللہ تعالٰی کا نام ذکر کیا گیا تو اسے کھاؤ، الحدیث،اس کو صحاح ستہ کے ائمہ نے روایت کیا رافع بن خدیج سے انھوں نے بنی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری        کتا ب الذبائح     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۲۷  و  ۸۳۱  و  ۸۳۲)

(صحیح مسلم     کتاب الاضاحی    باب جواز الذبح بکل ما انہرام الدم     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۵۶)
اورفرمایا :
انہرالدم بما شئت واذکر سم اﷲ ۲؎ رواہ احمد والنسائی وابوداؤد وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
خون بہادے جس سے تو چاہے۔ اور اللہ تعالٰی کا نام ذکر کر، اس کو احمد نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے۔ (ت)
 (۲؎ سنن النسائی   کتاب الضحایا اباحۃ الذبح بالعود   نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۲/ ۲۰۵)

(مسند احمد بن حنبل    حدیث عدی بن حاتم    المکتب الاسلامی بیروت        ۴/ ۲۵۸)
کل مافری الاوداج ۳؎۔ الحدیث۔ رواہ ابن ابی شیبۃ عن رافع بن خدیج والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو چیز اوداج کو کاٹ دے۔ الحدیث، اس کو ابن ابی شیبہ نے حضرت رافع بن خدیج سے، اور طبرانی نے کبیر میں ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
 (۳؎ المصنف لابن ابی شیبہ   کتاب الصید   من قال اذا انہر الدم الخ     ادارۃ القرآن کراچی        ۵/ ۳۸۹)
مچھلی اور ٹیری میں خون ہوتاہی نہیں کہ اس کے اخراج کی حاجت ہو، غیر دموی کے نزدیک میں ہمارے یہاں صرف یہی دو حلال ہیں، لہذا صرف یہی بے ذبح کھائے جاتے ہیں، شافعیہ وغیرہم کے نزدیک کہ اور دریائی جانور بھی کل یا بعض حلال ہیں وہ انھیں بھی بے ذبح جائز جانتے ہیں کہ دریا کے کسی جانور میں خون نہیں ہوتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۲: شمس الہدٰی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی محلہ سوداگراں     ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ

حضور پرنور کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ مچھلی کو اس کی آنت وغیرہ کے کھانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: مکروہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: مسئولہ شوکت علی صاحب ۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ
 (علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ ت) کہ کھانا جھینگا کا درست ہے یانہیں؟ مکروہ ہے یاحرام؟
الجواب : حمادیہ میں علماء کے دونوں قول نقل کئے ہیں، کہ بعض حرام کہتے ہیں اور بعض حلال۔
حیث قال الدود الذی یقال لہ جھینکہ عند بعض العلماء لانہ لایشبہ السمک، و انما یباح عندنا من صید البحر انواع السمک، وھذا لایکون کذٰلک، وقال بعضہم حلال لانہ یسمی باسم السمک ۱؎۔
  جہاں انھوں نے کہا کہ وہ کیڑا جسے جھینگا کہا جاتاہےبعض کےنزدیک حرام ہےکیونکہ وہ مچھلی کےمشابہ نہیں ہے۔جبکہ ہمارے نزدیک سمندری شکار میں مچھلی کی اقسام ہی مباح ہیں، اور جھینگا ان میں سے نہیں ہے۔ اور بعض نے کہا یہ حلال ہے کیونکہ اس کا نام مچھلی ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی حمادیہ         کتاب الصید والذبائح     قلمی نسخہ    ص۵۶۷ و  ۳۳۲)
اقول: عبارت حمادیہ سے ظاہر یہی ہے کہ ان کے نزدیک قول حرمت ہی مختار ہے کہ اسی کو تقدیم دی والتقدیم اٰیۃ التقدیم (مقدم کرنا مقدم بنانے کی علامت ہے۔ ت) اور جھینگے کو دودیعنی کیڑا کہا او رکیڑے حرام ہیں، اور اہل حلت کی طرف سے دلیل میں یہ نہ کہا وہ مچھلی ہے بلکہ یہ کہ اس پر مچھلی کا نام بولا جاتاہے۔ تحقیق مقام یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں مچھلی کے سوا تمام دریائی جانور مطلق حرام ہیں، تو جن کے خیال میں جھینگا مچھلی کی قسم سے نہیں ان کے نزدیک حرام ہواہی چاہئے مگر فقیر نے کتب لغت وکتب طب و کتب علم حیوان میں بالاتفاق اسی کی تصریح دیکھی کہ وہ مچھلی ہے۔ قاموس میں ہے :
الاربیان بالکسر سمک کالدود ۲؎۔
اربیان کسرہ کے ساتھ، کیڑے کی طرح مچھلی ہے۔ (ت)
 (۲؎ القاموس المحیط     باب الواؤ   فصل الراء    مصطفی البابی مصر   ۴/ ۲۳۵)
صحاح وتاج العروس میں ہے :
الاربیان بیض من السمک کالدود یکون بالبصرۃ ۱؎۔
اربیان سفید مچھلی ہے کیڑے کی مانند بصرہ میں ہوتی ہے۔ (ت)
(۱؎تاج العروس   باب الواؤ والیاء فصل الراء   داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱۰/ ۱۴۳)
Flag Counter