فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
61 - 126
مجمع البحار میں ہے :
الجری قیل ھوالجریث المارماہی ۴؎ ملخصا۔
جری کے متعلق کہا گیا کہ جریث مارماہی ہے اھ ملخصا (ت)
(۴؎ مجمع بحار الانوار باب الجیم الراء تحت ''الجری'' مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱ /۳۵۰)
اسی میں نہایہ سے ہے :
فی ح علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال الجریث ھو نوع من السمک یشبہ الحیات ای المارماھی ۱؎۔
ح میں لکھا ہے کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جریث مچھلی کی قسم جو سانپ کے مشابہ ہے۔ یعنی مارماہی (ت)
(۱؎ مجمع بحار الانوار باب الجیم مع الراء تحت ''جرث'' مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱/ ۳۹۔ ۳۳۸)
تاج العروس میں ہے :
(الجریث کسکیت سمک ) معروف ویقال لہ الجری وھو نوع من یشبہ الحیات، ویقال لہ بالفارسیۃ المارماھی ۲؎ اھ ملتقطا۔
جریث بروزن سکیت معروف مچھلی ہے۔ اس کو جری کہا جاتا ہے اور مچھلی کی قسم سانپ کے مشابہ ہے اس کو فارسی میں مارماہی کہتے ہیں اھ ملتقطا۔ (ت)
(۲؎ تاج العروس فصل جیم من باب الثاء تحت ''الجرث'' داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۰۹)
حیاۃ الحیوان میں ہے :
الجریث ھو ھذا السمک الذی یشبہ الثعبان وجمعہ جراثی ویقال لہ ایضا الجری بالکسر والتشدید وھو نوع من السمک یشبہ الحیۃ، ویسمی بالفارسیۃ مارماھی، وقد تقدم فی الہمزۃ انہ الانکلیس قال الجاحظ انہ یاکل الجردان وھو حبۃ الماء وحکمہ الحل ۳؎ اھ باختصار۔
جریث یہ مچھلی ہے جو سانپ کے مشابہ ہے اس کی جمع جراثی ہے۔ اس کو جری بھی کہتے ہیں کسرہ اور شد کے ساتھ، وہ مچھلی ہے جو سانپ کے مشابہ ہے اس کو فارسی میں مارماہی کہتے ہیں، اور ہمزہ کی بحث میں گزرا کہ یہ انکلیس ہےجاحظ نے کہا یہ جردان کھاتی ہے۔ اور یہ پانی کا سانپ ہے اس کا یہ حکم ہے کہ وہ حلال ہے اھ باختصار (ت)
(۳؎ حیاہ الحیوان باب الجیم الجریث مصطفی البابی مصر ۱ /۲۷۴)
مگر فقہائے کرام جسے جریث کہتے ہیں وہ یقینا مارماہی کے سواء دوسری مچھلی ہے کہ متون وشروح و فتاوٰی میں تصریحا دونوں کا نام جدا جدا ذکر فرمایا، لاجرم مغرب میں کہا :
ھو غیر المار ماہی ۴؎
(وہ مارماہی کا غیر ہے۔ ت)
(۴؎ المغرب)
علامہ ابن کمال باشا اصلاح وایضاح میں فرماتے ہیں :
(والجریث والمارماہی) الجریث نوع من السمک غیر المار ماھی ذکرہ فی المغرب، و انما افردھما بالذکر لما کان الخفاء فی کونہما من جنس السمک، ولمکان الخلاف، فیہما لمحمد، ذکرہ صاحب المُغرَب ۱؎۔
(جریث اور مار ماہی) جریث مچھلی کی قسم ہے جو مارماہی کا غیر ہے۔ یہ مغرب میں مذکور ہے۔ ان دونوں کو علیحدہ اس لئے ذکر کیا کہ ان کے مچھلی ہونے میں خفا ہے۔ نیزا ان کے حکم میں محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا اختلاف ہے اس کو صاحب مغرب نے بیان کیا ہے۔ (ت)
(۱؎اصلاح وایضاح علامہ ابن کمال پاشا)
حاشیۃ الکمثری علی الانور میں ہے :
الجریث نوع من السمک غیر مار ماھی ۲؎۔
جریث مچھلی کی قسم ہے جو مار ماہی کا غیر ہے۔ (ت)
(۲؎ حاشیۃ الکمثری علی انوار الاعمال)
یہ ایک سیاہ رنگ گول مچھلی ڈھال کی مانند ہے اسے فارسی میں ماہی کول کہتے ہیں۔
(جریث) سیاہ رنگ کی مچھلی ہے۔ (مارماہی) یہ سانپ کی شکل کی مچھلی ہے۔ ان دونوں کو علیحدہ اس لئے ذکر کیا ہے ان کے مچھلی ہونے میں خفاء ہے اور امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا اس میں اختلاف بھی ہے۔ (ت)
(۳؎درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۹)
عمدۃ القاری میں بعد عبارت مذکورہ ونقل اقوال مسطورہ ہے :
قلت الجریث سمک اسود ۴؎
(میں کہتاہوں ''جریث'' سیاہی رنگ کی مچھلی ہے۔ ت)
(۴؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب قول اللہ تعالٰی احل لکم صید البحر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱ /۱۰۵)
فتح اللہ المعین حاشیۃ الکنز للعلامۃ الازہر ی میں ہے :
الجریث سمکۃ سوداء قالہ العینی وقال الوافی الجِرِّیث بکسر الجیم والراء وتشدیدھا نوع من السمک مدورۃ کالترس ۵؎۔
جریث سیاہ رنگ کی مچھلی ہے۔ یہ علامہ عینی نے فرمایا ہے۔ جبکہ وافی نے کہا کہ جریث را اور جیم کے کسرہ اور شد کے ساتھ، مچھلی کی قسم ہے جو ڈھال کی طرح گول ہوتی ہے۔ (ت)
(۵؎ فتح المعین کتاب الذبائح فصل فیما یحل وفیما لایحل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۷۴)
اسی طرح طحطاوی وشامی وغیرہمامیں ہے :
عازییہ لابی السعود وزل قلم العلامۃ ط فجعلہ عنہ عن العینی وانما ذٰلک صدرالکلام فقط، امام الاخیر فعن الوافی کما اسمعناک نصہ۔
انھوں نے اس کو ابوسعود کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ علامہ طحطاوی کا قلم پھسلا ہے تو انھوں نے اس کو ابوسعود سے علامہ عینی سے منقول بتایا ہے۔ یہ ابتداء کلام میں ہے اور آخر میں وافی سے منقول بتایا جس کو ہم نے ذکر دیا ہے۔(ت)
ذخیرۃ العقبٰی میں ہے :
یقال لہ بالفارسیۃ ماھی کول ۱؎
(اسے فارسی میں ماہی کول کہاجاتاہے۔ ت) سچگی میری زبان کا لفظ نہیں، غایۃ الاوطار والے دونوں مترجم دہقانی تھے، دیہاتوں کی زبان دیہاتی جانیں،
واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
(۱؎ ذخیرۃ العقبٰی کتاب الذبائح نولکشور کانپور ۴ /۵۷۲)
مسئلہ ۱۶۸: ا زبریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں ۲ رمضان مبارک ۱۳۱۰ھ
ماقولکم غفراﷲ لکم فی ھذہ المسئلۃ افیدونا یرحکم اﷲ خوردن ماہی بسیار کو چک بحاشیہ مالابدمنہ مکروہ تحریمی نوشہ است؟
اس مسئلہ میں آپ کا کیا ارشاد ہے ہمیں مطلع فرمائیں اللہ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے کہ مالابدمنہ میں نہایت چھوٹی مچھلی کو کھانا مکروہ ہے تحریمی لکھاہے؟
الجواب : ماہی ریزہ کہ شایان شق شوف نباشد وہمچناں شکم چاک ناکردہ بریاں کنندش، نزدا مام شافعی حرام ست، ونزد سائر ائمہ حلال رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کمانص علیہ فی معراج الدرایۃ، ثم ردالمحتار، ونصہ لو وجدت سمکۃ فی حوسلۃ طائر تؤکل، وعندالشافعی لا تؤکل لان کالر جیع ورجیع الطائر عندہ نجس، وقلنا انما یعتبر رجیعا اذا تغیر و فی السمک الصغار التی التی تقلی من غیر ان یشق جوفہ۔ فقال اصحابہ لایحل اکلہ، لان رجیعہ نجس وعند سائر الائمۃ یحل ۱؎ اھ آرے درجواہر الاخلاطی دیدم کہ بکراہت تحریم تصریح وہمیں را تصحیح کردہ است، حیث قال اسمک الصغار کلہا مکروھۃ کراھۃ التحریم ھوا لاصح ۲؎، پس اسلم اجتناب ست۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
باریک ریزہ کی طرح مچھلی جس کا پیٹ چاک نہیں ہوسکتا، اور یوں بے چاک بھون کر کھائی جاتی ہے یہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک حرام ہے اور باقی ائمہ کرام کےنزدیک حلال ہے۔ (رحمہم اللہ تعالٰی )جیسا کہ معراج الدرایہ میں تصریح ہے اور پھر ردالمحتار میں یوں فرمایا کہ اگر پرندے کے گھونسلہ میں مچھلی پائی جائے تو وہ کھائی جائے، اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی کے ہاں کھانا جائز نہیں کیونکہ وہ پرندوں کی بیٹھ کی طرح ہے جبکہ ان کے ہاں پرندے کی بیٹھ نجس ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ بیٹھ تب ہوسکتی ہے جب اس کا رنگ متغیر ہو، اور امام شافعی کے اصحاب چھوٹی مچھلی جس کو چاک کئے بغیر بھون لیا جاتاہے۔ کہ متعلق فرماتے ہیں اس کا کھانا حلال نہیں ہے کیونکہ ا س کی بیٹھ نجس ہے۔ اور باقی تمام ائمہ کرام کے نزدیک حلال ہے۔ اھ، ہاں میں نے جواہر الاخلاطی میں دیکھا ہے انھوں نے اس کے مکروہ تحریمہ ہونے میں تصریح کی ہے۔ اور اسی کی تصحیح کی ہے جہاں انھوں نے فرمایا کہ چھوٹی مچھلیاں تمام مکروہ تحریمہ ہیں اور یہی صحیح ہے، پس اجتناب بہترہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۶)
(۲؎ جواہر الاخلاطی کتاب الذبائح قلمی نسخہ ص۲۸۷)