فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
60 - 126
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری زیر حدیث : قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما طعامہ میتۃ الا ماقدرت منہا والجری لاتاکلہ الیہود ونحن ناکلہ فرمایا، الجری بکسرالجیم والراء والتحتیۃ المشددتین وبفتح الجیم والجریث بمثناۃفوقیۃ بعد التحتیۃ ضرب من السمک یشبہ الحیات وقیل سمک لا قشرلہ۔ وقیل نوع عریض الوسط دقیق الطرفین ۲؎۔
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس کی خوراک میتہ ہے مگر کچھ بھون لی جاتی ہے اور جری کو یہودی نہیں کھاتے اور ہم کھاتے ہیں، اور آپ نے فرمایا جِرَی جیم اور راء کے کسرہ اور دو مشدد یاء اور جیم کے فتح کے ساتھ پڑھا جائے، اور جریث آخر میں ثاء سے پہلے یاء ہے، اور یہ مچھلی سانپ کی طرح ہوتی ہے، اور بعض نے کہا کہ اس پر چھلکا نہیں ہوتا اور بعض نے بتایا کہ درمیان سے چوڑی اور آگے پیچھے سے باریک ہوتی ہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الذبائح والصیدوالتسمیۃ باب قول اللہ تعالٰی احل الکم صید البحر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۲۵) (ارشاد والساری شرح صحیح البخاری کتاب الذبائح والصیدوالتسمیۃ باب قول اللہ تعالٰی احل الکم صید البحر دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۲۶۷)
مجمع بحارالانوار میں علامہ زرکشی سے ہے : الجری بکسر جیم وراء مشددۃ وتشدید یاء ضرب من السمک یشبہ الحیات وقیل نوع غلیظ الوسط رقیق الطرفین، وقیل مالا قشرلہ ۲؎۔
جری جیم اور راء کے کسرہ اور شد کے ساتھ اور آخر میں مشددیاء ہے یعنی مارماہی جو سانپ کے مشابہ ہوتی ہے۔ بعض نے کہا درمیان سے موٹی اور آگے پیچھے سے باریک ہوتی ہے۔ اور بعض نے کہا اس پر چھلکا نہیں ہوتا (ت)
(۲؎مجمع بحار الانور اب الجیم مع الراء تحت الجری مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱ /۳۵۰)
الانکلیس بفتح ہمزہ یاکسرہ ہے کومت کھاؤ، یہ سانپ کی مانند ایک مچھلی ہے یعنی مارماہی، ایک لغت میں الانقلیس کہاجاتاہے اس کو کھانا اس لئے مکروہ ہےکہ کہ اس کی غذا ردی ہے اس لئے نہیں کہ وہ حرام ہے۔ (ت)
(۳؎مجمع بحار الانور باب الہمزہ مع النون تحت انکلس مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱ /۱۲۵)
صلور اور انقلیس کو نہ کھاؤ، اور ان کا نام جری اور مارماہی ہے یہ دونوں سانپ کے مشابہ مچھلیاں ہیں۔ (ت)
(۱؎ مجمع بحار الانوار باب الصاد مع اللام تحت ''صلور'' مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ۳ /۳۴۷)
قاموس میں ہے :
الصلور کسنور الجری فارسیتہ المارماہی ۲؎۔
صلور، سنور کے ہم وزن ہے اس کا نام جری، اور فارسی میں مارماہی کہتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ القاموس المحیط فصل الصاد باب الراء تحت ''الصلور'' مصطفی البابی مصر ۲ /۷۴)
تاج العروس میں ہے :
وھو السمک الذی یکون علی ہیاۃ الحیات و منہ حدیث عمار ضی اﷲ تعالٰی عنہ لا تاکلوا الصلروالاالانقلیس ۳؎۔
یہ سانپ شکل کی مچھلی ہے، حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسی کے متعلق فرمایا: صلور اور انقلیس کو نہ کھاؤ۔ (ت)
(۳؎ تاج العروس فصل الصاد باب الراء تحت ''الصلور'' داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۴۰)
اسی میں ہے :
قال احمد بن الحریش قال النضر الصلور الجریث والانقلیس مارماہی ۴؎۔
احمد بن حریش نے کہا کہ نضر نے کہا کہ صلور وہ جریث ہے اور انقلیس وہ مارماہی ہے۔ (ت)
(۴؎تاج العروس فصل الجیم من باب الثاء تحت الجریث داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۰۹)
انھیں دونوں میں ہے :
(الانقلیس) الصلور الجری قال اللیث ھی (سمکۃ کالحیۃ) وقال غیرہ الجریث کانکلیس وھو قول ابن الاعرابی ۵؎۔
''الانقلیس'' صلور، جری ہے۔ لیث نے کہا یہ مارماہی ہے یعنی سانپ کی طرح مچھلی ہے اور ان کے غیر نے کہا ''جریث'' انکلیس کی طرح ہے اور یہ ابن اعرابی کا قول ہے۔ (ت)
(۵؎تاج العروس فصل القاف من باب السین داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۲۱)
حیاۃ الحیوان الکبرٰی میں ہے :
الانکلیس بفتح الہمزۃ واللام وکسرھما معاسمک شبیہ بالحیات ردی الغذاء و ھو الذی یسمی الجری والمارماہی، وقال الزمخشری قیل انہ الشلق وقال ابن سیدہ ھو علی ھیئۃ السمک صغیر لہ رجلان عند ذنبہ کرِجل الضفدع ولایدلہ یکون فی انہار البصرۃ، ولیس لفظہ عربیا اھ ۱؎ ملخصا۔
''انکلیس'' ہمزہ اور لام پر فتح اورکسرہ بھی یہ سانپ شکل کی مچھلی ہے جس کی غذا ردی ہے اس ک نام جری اور مارماہی ہے۔ زمخشری نے کہا کہ بعض نے شلق کہا ہے۔ ابن سیدہ نے کہا یہ عام مچھلی کی طرح ہوتی ہے اور ضفدع (مینڈک) کے پاؤں کے طرح اس کی دم کے نیچے دو پاؤں ہوتے ہیں اور اس کے اگلے پاؤں نہیں ہوتے، بصرہ کے دریاؤں میں پائی جاتی ہے اور عربی میں اس کا نام نہیں ہے اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ حیاۃ الحیوان باب الہمزۃ الانکلیس مصطفی البابی مصر ۱ /۶۴)
قاموس وتاج میں ہے :
(الشلق بالکسرااوککتف سمکۃ صغیرۃ) او علی خلقۃ السمکۃ لہا رِجلان عند الذنب کرجلی الضفدع لایدان لہا، تکون فی انہار البصرۃ، وقیل ہی من سمک البحرین ولیست بعربیۃ (او) ھی (الانکلیس) من السمک وھو الجری والجریث عن ابن الاعرابی ۲؎۔
شلق کسرہ کے ساتھ یاکتف کے وزن پر ہے۔ یہ چھوٹی مچھلی ہے یا مچھلی کے مشابہ مخلوق ہے۔ اس کی دم کے نیچے مینڈک کے پاؤں کی طرح پاؤں ہوتے ہیں اور اس کے اگلے پاؤں نہیں ہوتے اور یہ بصرہ کے دریاؤں میں پائی جاتی ہے بعض نے کہا کہ یہ بحری مچھلی ہے اور عربی میں اس کا نام نہیں ہے۔ یا یہ انکلیس ہے جو مچھلی کی قسم ہے۔ اور اس کو جَرّی کہتے ہیں اور جریث بھی، یہ ابن اعرابی سے منقول ہے۔ (ت)
(۲؎ القاموس المحیط فصل الشین من باب القاف مصطفی البابی مصر ۳ /۲۵۹)
(تاج العروس فصل الشین من باب القاف داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۳۹۹)
عجائب قزوینی بیان حیوانات بحر میں ہے :
جری ھوالذی یقال لہ مارماہی متولد من الحیۃ والسمک قال الجاحظ انہ یاکل الجردان ۱؎۔
جرّی جس کو مارماہی کہتے ہیں یہ نسل مچھلی اور سانپ سے پیدا ہوتی ہے جاحظ نے کہا ہے کہ یہ جردان کھاتی ہے۔(ت)
(۱؎ عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات المقالۃ الثانیۃ القول فی حیوان الماء مصطفی البابی مصر ص۹۷)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے :
ماقیل ان المار ماہی متولد من الحیۃ لیس بواقع بل ھو جنس شبیہ بہا صورۃ ۲؎۔
جویہ بتایا گیا کہ مار مارہی کی نسل سانپ اورمچھلی سے پیدا ہے، ایسا واقع نہیں ہے بلکہ وہ مچھلی کی جنس ہے جو صورت میں سانپ کے مشابہ ہے۔ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الذبائح فصل فیما یحل اکل ولایحل داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۱۴)
جس طرح ان اسامی میں اختلافات ہوئے یونہی ایک جماعت نے جریث بھی مارماہی کا نام جانا، اوراسے وہی مچھلی مشابہ مارمانا، عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے :
الجری قال عیاض ھو من السمک مالا قشرلہ وقال ابن التین ویقال لہ ایضا الجریث وقال الازھری الجریث نوع من السمک یشبہ الحیات ویقال لہ ایضا المارماھی، والسلور وقیل سمک عریض الوسط دقیق الطرفین ۲؎ اھ مختصرا۔
جری کے متعلق عیاض نے کہا وہ مچھلی ہے جس پر چھلکا نہیں ہے۔ اور ابن تین نے کہا اس کو جریث بھی کہتے ہیں اور ازہری نے کہا جریث مچھلی قسم ہے جو سانپ کے مشابہ ہے اس کو مارماہی بھی کہتے ہیں اور سلور بھی، بعض نے کہا یہ درمیان سے چوڑی اور آگے پیچھے سے باریک ہوتی ہے اھ مختصرا۔ (ت)
(۳؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب قول اللہ تعالٰی احل لکم صید البحر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱ /۱۰۵)