Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
59 - 126
مسئلہ ۱۶۳ و ۱۶۴: مرسلہ مولوی حافظ مصاحب علی صاحب از مقام جاورہ مورخہ یکم رجب المرجب ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :ـ

(۱)بعض کفار جو کہ گوشت خور نہیں ہیں تالاب یا ندی سے مچھلیاں پکڑوا کر دیگر تالاب یا ندی محفوظ میں ڈلوادیں اس غرض سے کہ مسلمان مچھلیاں پکڑواکر نہ کھاسکیں، تو کیا ایسے تالاب یا ندی سے مسلمانوں کو مچھلیاں پکڑواکر کھانا جائز ہے یانہیں؟
 (۲) زید، بکر، عمرو، خالد نے مل کر ایک کمپنی قائم کرکے ایک کارخانہ جاری کیا اور عام طور پر اعلان کردیا کہ جس کا دل چاہے اس کارخانہ میں شریک ہوجائے، فی حصہ ایک صد روپیہ قرار پایا ہے جو شخص جس قدر حصے خریدنا چاہے اسی قدر روپیہ کا منافع دیا جائے گا۔ اوراگر کارخانہ میں نقصان ونفع ہوگا تو حصہ کے تناسب سے نقصان کا زیر بار ہونا پڑے گا۔ خریدار حصہ سے خواہ ایک حصہ خریدے یا دس حصہ تین مرتبہ کرکے روپیہ کمپنی میں وصول کیا جائے گا، کارخانہ کو اختیار ہے جو کام چاہے جاری کرے،کسی خریدار حصہ کو امور کارخانہ میں واہل کارخانہ یعنی منیجر وغیرہ کے امور میں دخل اندازی کا اختیارنہ ہوگا، خریدار کو صرف نفع یا نقصان سے غرض ہے، اور خریدار حصہ اپنے خرید شدہ نفع یا نقصان سے فروخت کرنے کا مجاز ہوگا، پس سوال یہ ہے کہ ایسے کارخانہ میں شرکت اور اس کے بعد خرید وفروخت مذکور جائز ہے یانہیں؟ نیز یہ خرید وفروخت کس بیع میں داخل ہے؟
الجواب :

(۱) مچھلیاں پکڑنے سے ملک ہوجاتی ہے اور دوسرے دریا میں چھوڑنے سے ملک سے خارج نہیں ہوتیں، نہ دوسرے کو ان کالینا جائز ہوتاہے۔ مسلم ہو یا کافر، جب تک چھوڑنے والے نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ اس کی ہیں جو ان کو لے، تو ملک غیر ہونے کے سبب سے ان میں ممانعت آئے گی، مگر از انجا کہ یہ کفار نہ ذمی ہیں نہ مستامن نہ ان سے اس بارہ میں کوئی معاہدہ ہے، لہذا اب بھی وہ مچھلیاں حکما ایسی ہی ہیں جیسی پکڑنے سے قبل تھیں، ان کا ارادہ فاسد ان پر رد کیا جائے گا اور مسلم کافر جو کوئی پکڑے اس کے لئے مباح ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم۔

(۲) اگر وہ تجارت بروجہ شرعی ہو عقود فاسدہ یا ربا کو دخل نہ ہو تو اس میں شرکت جائز مگر اپنے روپیہ کا حصہ دوسرے کے ہاتھ بیچنا اور اس کا خریدنا دونوں حرام۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۵: از کلگٹ ایجنسی مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کے ہاتھ کا ذبح ناجائز ہے جیسے کہ ہنود اس کے ہاتھ کی پکڑی مچھلی کھانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : جائز ہے، اگر چہ اس کے ہاتھ میں مرگئی یا اس نے مارڈالی ہو کہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں جس میں مسلمان یا کتابی ہونا ضرورہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۶ و ۱۶۷ : ا زبنگالہ ۱۸ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس ومفتیان شرع متین اس حیوان کے بارے میں جو کہ عجائب المخلوقات میں بایں طور بیاں کیا گیا ہے :
ومنھا سمکۃ مدورۃ ذنبہا اطول من ثلثۃ اذرع وعلی وسط ذنبہا شوکۃ معقفۃ شبہ کلاب وھی سلاحہا تضرب بہا وھی نمراء بیاضہا فی غایۃ اللبیاض ونقد سواد ھا فی غایۃ السوادو لہا منخران علی ظہر ھا وفم علی بطنہا وفرج کفرج النساء ۱؎ انتہٰی،
ان میں سے ایک مچھلی گول قسم کی دم تین ہاتھ لمبی ہے اور اس کی دم کے درمیان میں کنڈے کی شکل میں ایک ٹیڑہا کانٹا ہے وہ اس کا ہتھیا ر ہے۔ وہ مچھلی نہایت سفید ہے جس پر گہرے سیاہ رنگ کے نقطے ہوتے ہیں اس کے نتھنے اس کی پیٹھ پر اور اس کا منہ پیٹ پر اس کی شرمگاہ عورتوں کی شرمگاہ کی طرح ہوتی ہے۔ انتہی (ت)
 (۱؎ عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات بحر فارس   المقالۃ الثانیۃ   مصطفی البابی مصر    ص۸۸)
اگر یہ مچھلی ہو تو اس کو عربی میں کیا کہتے ہیں اور فارسی میں اس کا کیا نام ہے اور ہندی میں اس کا اس مخصوص بہ کیا ہے۔ بحوالہ کتب تحریر فرمائیے،

(۲) اور جریث کو اہل ہند کیا کہتے ہیں اور وہ کون سی مچھلی ہے اس کی عوارضات مختص بہا کو  بوضاحت بیان فرمائیے، غایۃ الاوطار میں لکھا ہے کہ جریث کو بعض اہل ہند سجگی کہتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے۔ اگر غلط ہے تو پھر سجگی کیا شے ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : یہ مچھلی کہ عجائب المخلوقات میں ذکر کی اگر اس کا وجود ہر دو عالم مثالی وخیالی سے باہر ثابت ہو تو ان نوادر سے ہے۔ جو بہ مرور دہور کبھی کسی سیاح کی نظر پڑے اور عامہ ناس ان کے رسم واسم سے آگاہ نہیں،
وما یعلم جنود بک الا ھو ۱؎
 (اور تمھارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ت)
 (۱؎القرآن الکریم    ۷۴ /۳۱)
علامہ قزوینی کو خود اس کا نام معلوم ہوتا تو لکھتے، وہ خود اس کے عجائب دہر سے ہونے کے معترف ہیں عبارت مذکورہ سوال کے بعد کہا
والبحرلا تحصی عجائبہ ۲؎
 (سمندر کے عجائبات بے شمار ہیں۔ ت) اسے جریث گمان کرنا صحیح نہیں، جریث ایک کثیر الوجود مچھلی سواحل پر ارزانی سے بکنے والی ہے،
 (۲؎ عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات  حر فارس المقالۃ الثانیۃ     فصل فی عجائبہ    مصطفی البابی مصر    ص۸۸)
محرر المذہب سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مبسوط میں روایت فرماتے ہیں :
عن عمرو بن شوذب عن عمرۃ بنت ابی طبیخ قالت خرجت مع ولیدۃ لنافا شترینا جریثہ بقفیز حنطۃ فوضعناھا فی زنبیل فخرج راسہا من جانب وذنبہا من جانب فمر بنا علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال بکم اخذت قالت فاخبرتہ فقال ما اطیبہ وارخصہ واوسعہ للعیال ۳؎۔
یعنی عمرہ بنت ابی طبیخ نے کہا میں اپنی کنیز کے ساتھ جاکر ایک جریث ایک قفیز گیہوں کو خرید کرلائی جو زنبیل میں سمائی، ایک طرف سے سر نکلا رہا ایک طرف سے دم، اتنے میں مولا علی کرم اللہ وجہہ کا گزر ہوا، فرمایا، کتنے کو لی؟ میں نے قیمت عرض کی۔ فرمایا: کیا پاکیزہ چیز ہے اور کتنی ارزاں اور متعلقین پر کتنی وسعت والی۔

ولہذا علامہ قزوینی نے اسے عجائب میں ذکر نہ کیا البتہ جری کانام لیا اور اسے مارماہی سے تفسیرکیاکہ بزعم بعض وہی جریث ہے۔ اس تقدیر پر خود انھوں نے اس نادر مچھلی اور جریث میں فرق کیا، اسے عجائب بحر فارس اور اسے عجائب ہند میں لکھا۔ اس کی وسط دم پر کانٹا بتایا تھا اور جری کی پیٹھ پر ایک چیز مثل عمود لکھی، اور وہ منخزین وفم وفرج کا ذکر یہاں نہ کیا،
(۳؎ المبسوط للامام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)
حیث قال منہا (ای من عجائب بحرالہند) سمکۃ مدورۃ یقال لہا مارماہی علی ظہرھا شبہ عمود ومحددالراس لا تقوم لہا فی البحر سمکۃ الا تضربہا بذٰلک العمود و تقتلہا ۱؎۔
جہاں انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان کے سمندر کے عجائبات میں سے ایک گول مچھلی ہے جس کو مارماہی کہا جاتاہے اس کی پیٹھ پر عمودی شکل محدد سروالا کانٹا ہوتاہے، سمند ر میں جو مچھلی اس کی زد میں آئے اس کو وہ اپنے مدور کانٹے سے ہلاک کردیتی ہے۔ (ت)
 (۱؎ عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات بحرالہند  فصل فی جزائرھذاالبحر     مصطفی البابی مصر    ص۸۴)
اور تحقیق یہ ہے کہ یہ دوسری مچھلی بھی نہ مارماہی ہے۔ نہ مارماہی جریث مارماہی گول نہیں بلکہ لمبی بالکل سانپ کی شکل پر ہوتی ہے۔ عربی میں اسے جری بکسر وتشدیدرا، اور جری بالفتح اور جریت بتائے فوقانیہ بروزن جریث اور صلور وسلور اور انقلیس و انکلیس، بفتح ہمزہ ولام ہر دو انقلیس وانکلیس بکسر ہر دو اور فارسی میں مارماہی اور ہندی میں بام کہتے ہیں، جاحظ نے کہا وہ پانی کا سانپ ہے یعنی صورۃ نہ کہ حقیقۃ، بعض نے کہا وہ سانپ اور مچھلی کے جوڑے سے پیدا ہے، قزوینی نے اسے پر جزم کا، اور صحیح یہ کہ یہ بھی بے ثبوت ہے بلکہ وہ سانپ سے جدا ایک خاص نوع ماہی ہے۔ اہل فن نے ان اسمائے مذکورہ اعنی جری وصلور وانقلیس میں بہت اختلاف کیا۔ بہت نے انھیں مارماہی کا غیر جانا، کسی نے کہا جری بے سنے کی مچھلی کو کہتے ہیں، کسی نے کہا ایک قسم ماہی ہے جس کے سرودم باریک اور پشت چوڑی ہوتی ہے۔ کسی نے کہا انکلیس چھوٹی مچھلی کی شکل پر ایک جانور ہے جس کی دم کے پاس مینڈک کے پاؤں کے مثل دو پاؤں ہوتے ہیں، اور ہاتھ نہیں ہوتے، بصرہ کی نہروں میں پایا جاتاہے۔ بعض نے کہا بحرین کی مچھلی ہے۔ اس جانور کو شلق بالکسر یا شلق مثل کشف کہتے ہیں، کسی نے کہا شلق بھی انکلیس اور انکلیس جریث ہے، کسی نے کہا انکلیس مارماہی اور صلور جریث ہے بہر حال اس قدر میں شک نہیں کہ مارماہی ایک معروف مشہور مچھلی مستطیل الخلقۃ مشابہ مارہے نہ کہ مدور،
Flag Counter