فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
58 - 126
مسئلہ ۱۵۵ : از درتحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۱۴ رجب ۱۳۱۵ھ
جو کواکہ دانہ کھاتاہے اور رنگ میں بالکل سیاہ ہوتاہے، اس کا کیا حکم ہے؟ اور جو کوا کہ دانہ اور نجاست دونوں کھاتاہے اس کا کیاحکم ہے؟
الجواب : دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھتااور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیں، چھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتاہے، اور چونچ اور پنجے غالبا سرخ، وہ بالاتفاق جائز ہے، اور مردار خورکوا جسے غراب ابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق ناجائز ہے۔ اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اوریک رنگ سیاہ ہوتاہے اور موسم گرما میں آتاہے، اور خلط کرنیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں آواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، اور اصح حل مگر کراہت تنزیہہ میں کلام نہیں،
یہ درمختار اور ردالمحتار میں بیان شدہ کا خلاصہ ہے جبکہ یہ مقام ابھی زیادہ تحریم وضبط اور تقریر کا محتاج ہے ہوسکتاہے کہ اللہ تعالٰی کسی اور تحریر میں اس کو آسان کردے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۵)
مسئلہ ۱۵۶: مسئولہ مولوی محمد ایوب صاحب سنھبل مرادآبادی ۳ جمادی الاولٰی ۱۳۲۵ھ
کواحرام ہے یانہیں؟ الو حرام ہے یانہیں؟
الجواب : یہ کوے کہ ہمارے دیار میں پائے جاتے ہیں سب حرام ہیں، الو حرام ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷: از شاہجہان پور ڈاک خانہ نادر شاہیان مقام میران پور، یعقوب شاہ خاں بروز یکشنبہ ۱۸/ ۱۳۳۴ ھ
جناب قبلہ دام اقبالہ بعد سلام علیکم عرض ہے کہ پیلو کے انڈے اور گوشت اور پالنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب : سب جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گائے کی حلت کاحکم کس وقت سے جاری ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بھی اس کا گوشت تناول فرمایا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : گائے کی حلت شریعت قدیمہ ہے۔ اللہ عزوجل قرآن عظیم میں فرماتاہے :
ھل اتٰک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین o اذ دخلوا علیہ فقالواسلٰما قال سلم قوم منکرون o فراغ الی اھلہ فجاء بعجل سمین ۱؎۔ دوسری جگہ فرمایا: بعجل حنیذ ۲؎۔
یعنی کیا آئی تیرے پاس خبر ابراہیم کے عزت دار مہمانوں کی، جب وہ اس کے پاس آئے بولے سلام، کہا سلام انجانے لوگ ہیں پھر جلد ی کرتا اپنے گھر گیا، سوان کے کھانے کو لے آیا ایک فربہ بچھڑا بھنا ہوا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵۱ /۲۴ تا ۲۶) (۲؎ القرآن الکریم ۱۱ /۶۹)
احادیث سے ثابت ہے کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے قربانی کی، اور قربانی کا گوشت کھانے کا حکم فرماتے، مگر خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تناول فرمایا یانہیں، اس بارے میں کوئی تصریح حدیث اس وقت پیش نظر نہیں،
واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۵۹: از شہر بریلی محلہ قاضی ٹولہ شہر کہنہ مرسلہ محمد عمران صاحب ۱۶ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے گوشت گائے کا کھایا یانہیں؟
الجواب : حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے گائے کی قربانی فرمائی اوراس کے کھانے کھلانے کاحکم فرمایا خود بھی ملاحظہ فرمایا یانہیں، اس (عہ) کا ثبوت نہیں، دنیا کی ہزاروں نعمتیں ہیں کہ حضور نے قصدا تناول نہ فرمائیں، گوشت گاؤ کی مذمت میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے صحیح نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: حدیث مسلم کتا ب الزکوٰۃ کہ بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے گوشت گاؤ صدقہ میں آیا، وہ حضور کے پاس لایا گیا اور حضورسے عرض کیا گیا کہ یہ صدقہ ہے کہ بریرہ کو آیا، فرمایا اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ۳؎۔ اس سے بظاہر تناول فرمانا معلوم ہوتاہے ۱۲ حجۃ الاسلام حامدر ضا رضی اللہ عنہ۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب اباحۃ الہدیۃ للنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۵)
مسئلہ ۱۶۰ و ۱۶۱: مسئولہ معرفت سیٹھ آدم جی گونڈل کاٹھیاوار ہاشم بیگ شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱) کبوتر کھانے میں کسی قسم کی کراہت ہے؟
(۲)عقیقہ کا گوتشت ماں باپ کھائیں یا نہیں؟
الجواب
(۱)کچھ نہیں۔
(۲) کھائیں، اس کا حکم مثل قربانی ہے، تین حصے مستحب ہیں، ایک اپنا ایک عزیزوں قریبوں کا ایک مسکینوں کا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲: مرسلہ محمد حکیم الدین از ضلع پورینہ موضع چوپڑا ۴ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ خرگوش پنجہ والا ناخن دار مگر شترکی مانند ہے اور ہر چند میں حیض مثل عورتوں کے ہوتی ہے، اس کا کھانا حلا ل ہے یاحرام؟ لہذا بعض علماء کی زبانی سنا گیا ہے کہ خرگوش پنجہ والا ناخن دارحرام ہے جو خرگوش کہ حلال ہوتاہے اس کے کُھر ہوتاہے مانند بکری وبیل وغیرہ کے، جناب والا ! اس پر بھی ہم کو اطمینان کُل نہیں ہوتاہے۔ اس لئے بخدمت فیض د رجت یہ کمترین بطور عریضہ ھذا روانہ کرتاہے ضرور بالضرور جواب سے اس ذرہ بےمقدار کو آفتاب درخشا فرمائیں گے۔ زیادہ والسلام۔
الجواب : خرگوش ضرور حلال ہے، اسے حرام جاننا رافضیوں کا مذہب ہے، خرگوش کے پنجے ہی ہوتے ہیں، کُھر والا خرکوش دنیا کے پردہ پر کہیں نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔