فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
57 - 126
ہفدہم ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ کو میرے سامنےاس مضمون کی شہادت ادا کی ،اور ان میں بعض نے کہا ہمارے سامنے توتے کو شکارکر لے گیا ،بعض نے کہا کھونٹی پر شکرہ بندھا تھا شکرہ کو مار لے گیا ،حالانکہ شکرہ اتنا بڑا اور قوی اور خود شکاری جانور ہے، اور الو کی منقار بہت چھوٹی ہوتی ہے کہ چونچ سے اس کاقابو میں آنا معقول نہیں ،نہ کہ ایسا زور کہ بندش توڑ کر زندہ لے جائے ،لاجرم پنجہ سے شکار کیا، اور یہ امر اس جانور کی قوت سے کچھ عجب نہیں کہ وہ شکرہ سے بھاری جانور کو شکار کرلیتا ہے ،
علامہ زکریا بن محمد بن محمود انصاری قزوینی کتاب عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات میں اس کا حال لکھتے ہیں :
تصطاد السنانیر الضعاف وتعادی الغراب وھو ذلیل بالنھار اما باللیل فلا یقدر علیہ شیئ من الطیور ۔۱
الو کمزور بلیوں کو شکار کرلیتا ہے ،کوے سے اس کو دشمنی ہے ،دن کو ذلیل ہوتا ہے مگر رات میں کوئی پرند اس پر قدرت نہیں رکھتا ۔
(۱ عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات النوع السادس من الحیوان (بوم) مصطفی البابی مصر ص ۲۷۱ )
مرآت الاصطلاحات عنبر شاہی میں ہے :
چنگ بالفتح بروزن سنگ قلاب آہنی وپنجہ آدمی وحیوان درندہ ،شکاری چوں باز وشاہین وشیر وپلنگ وامثال آں ،واز شعر طوطی ہند امیر خسرو دہلوی جنگ بوم واقع شدہ ، وبوم ہرچند جانور شکاری نیست ،بدیں معنی کہ مردم بداں شکارنمی کنند ،لیکن فی الحقیقۃ ذومخلب ست کہ صیدمے نماید ، چنانچہ دیدہ شد ،وشعر مذکور این ست
بوم کہ باشد کہ بچنگ دراز
طعمہ برد از دہن جرہ باز
چنگ بروزن سنگ ہے ،لوہے کے شکنجے اور آدمی کے پنجے ،شکاری اوردرندے حیوان جیسے باز،شاہین ،شیر ،چیتا،اور ان کی ہم مثل کو چنگ کہتے ہیں ،طوطی ہند امیر خسرودہلوی کے شعر میں چنگ الو کے لیے استعمال ہوا ہے اگرچہ مشہور شکار کاپرندہ اس معنی میں نہیں کہ آدمی اس کاشکار نہیں کرتا لیکن حقیقتاًوہ اپنے پنجے سے شکار کرتا ہے جیسا کہ مشاہدہ میں آیا ہے وہ شعر یہ ہے :
الوجس کاپنجہ دراز ہے
منہ سے کھاتا ہے باز والی جرات (ت)
(۲مرآت الاصطلاحات عنبر شاہی )
غرض جب وہ شکاری جانور ہے تو اس کے حرام ہونے میں اصلا جائے کلام نہیں ،رہا بعض عبارت حنفیہ میں لفظ بوم کی نسبت لفظ یوکل وارد ہونا اقول نہ وہ اجماعی قاعدہ فقہ حنفی وحدیث نبوی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مقابل ہو سکتا ہے نہ مشاہدات کو رد کرسکتا ہے اس سے بالتعین الو کی حلت ثابت ہی نہیں ہوتی ،زبان عرب میں لفظ بوم خاص الو کے لیے موضوع نہیں ، بلکہ ہر اس پرند پر اطلاق کیا جاتا ہے جو شب کو اپنے آشیانہ سے نکلتا ہے ۔ علامہ دمیری حیاۃ الحیوان میں فرماتے ہیں :
قال الجاحظ وانواعھا الھامۃ والصدی والضوع والخفاش وغراب اللیل والبومۃ وھذہ الاسماء کلھا مشترکۃ ای تقع علی کل طائر من طیر اللیل یخرج من بیتہ لیلا ،قال وبعض ھذہ الطیور یصید الفار وسام ابرص والعصافیر وصغارالحشرات وبعضھا یصید البعوض ،ومن طبعھا ان تدخل علی کل طائر فی وکرہ وتخرجہ منہ وتاکل فراخہ وبیضہ وھی قویۃ السلطان باللیل لایحتملھا شیئ من الطیر ۱
جاحظ نے کہا،اور اس کے اقسام ہامہ ،صدی ،ضوع ،خفاش ،غراب اللیل ،بوم نامی پرندے ہیں اوریہ تمام نام مشترک ہیں ،یعنی رات کو اپنے گھر سے نکل کر پرواز کرنے والے ہر پرندے پربولتے ہیں،اورکہا ان پرندوں میں سے بعض چوہے ،چھپکلی ،چڑیوں اور چھوٹے چھوٹے حشرات کوشکار کرتے ہیں اور ان میں سے بعض مچھروں کاشکار کرتے ہیں اور وہ طبعی طورپرہرپرندے کے گھونسلے میں داخل ہوکر اس کو اڑاتا ہے اور اس کے چوزوں اور انڈوں کوکھاجاتے ہیں اور رات میں وہ قوی تسلط والے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی پرندہ ایسی قوت نہیں پاتا۔(ت)
(۱حیاۃ الحیوان باب الباء الموحدۃ (البوم ) مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۲۶)
توجن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے الو مراد نہیں بلکہ وہ پرند شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑوغیرہ ،یہ معنی امام عتابی کی تصریح سے ثابت ہیں ۔
علامہ قہستانی جامع الرموز میں لکھتےہیں :
لاباس بما لیس بذی مخلب کالبوم فی روایۃ عن ابی یوسف ،کما فی العتابی ۔۲
امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے ایک روایت یہ ہے کہ جن پرندوں کےپنجے نہیں ہیں ان کے کھانے میں حرج نہیں ہے ،جیساکہ عتابی میں ہے ۔(ت)
(جامع الرموز بحوالہ العتابی کتاب الذبائح مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳ / ۳۴۹)
پس حنفیہ کی طرف حلت چغد کی نسبت ایک دھوکا ہے کہ اشتراک لفظ بوم سے پیداہوا، وباللہ التوفیق۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: ازاوجین مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
مولٰنا صاحب مجمع فضائل ومنبع فواضل فرید العصر، وحید الزمان، مخدوم مکرمی دام افضالکم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدۃ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوٰی ارسال فرمایا، اس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ، یہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں،
لاباس بمالیس بذی مخلب کالبوم ۱؎ الخ۔
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔ الخ۔ (ت)
(۱؎ جامع الرموز بحوالہ العتابی کتاب الذبائح مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳ /۳۴۹)
تو کیا چمگادڑ اور باگل بھی حلال ہے؟ جواب بالتشریح بیان فرمائیے۔ زیادہ نیاز، بینوا توجروا
الجواب: چمگادڑ چھوٹاہو یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں، اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ اللہ تعالٰی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے، مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، مطلقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتاہو، ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں، ولہذا درمختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی،
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے :
اما الخفاش فقد ذکر فی بعض المواضع انہ یوکل، وفی بعض المواضع انہ لا یوکل لان لہ نابا اھ ۲؎ ورأیتنی کتبت علی ہامشہ مانصہ فیہ انہ لایصید بنابہ، ولایصول ولیس کل مالہ ناب حراما۔
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے اوربعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایاجائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کےلے سے شکارنہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتاہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۰)
برجندی میں ہے :
ذکر فی المحیط ان فی الخفاش اختلاف العلماء اھ ۱؎۔
محیط میں مذکور ہےکہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
(۱؎ شرح النقایہ للبرجندی کتاب الذبائح نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۹۳)
درمختارمیں ہے :
وقیل الخفاش لانہ ذوناب ۲؎۔
بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔ (ت)
(۲؎درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۹)
ردالمحتارمیں ہے :
قال الاتقانی وفیہ نظرلان کل ذی ناب لیس بمنہی عنہ اذا کان لایصطاد بنایہ ۳؎ اھ
اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہرکیلے والا حرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتاہو اھ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۴)