Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
56 - 126
مسئلہ ۱۵۲: از دارا گنج ضلع بجنور مرسلہ ممتاز مسیح صاحب ایم اے مشن مورخہ    ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ

ہادی دین جناب مولانا صاحب! عرض مدعایہ ہے کہ اہل سنت وجماعت حنفی مذہب میں گھوڑا اور اقسام اور اس کے مثل خچر وگدھے کے حلال ہیں یا حرام؟ یا ان تینوں جانوروں میں سے کون سا جانور حلال ہے؟ مہربانی فرماکر بحوال حدیث شریف یا قول علماؤں کے جواب سے مشرف فرمائے۔
الجواب : گدھا حرام ہے،، یونہی وہ خچر جو گدھی سے پیدا ہواگرچہ باپ گدھا نہ ہو، اور ہمارے امام اعظم علیہ الرضوان کے مذہب میں گھوڑا مکروہ تحریمی ہے یعنی قریب بحرام، یونہی وہ خچر جس کی ماں گھوڑی ہو، حدیث میں ہے :
نہی علیہ اٖجل الصلٰوۃ والسلام یوم خیبر عن لحوام الحمر الاھلیۃ ۱؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے خیبر کے روز پالتو گدھے کے گوشت کو ممنوع فرمایا۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری         کتاب الذبائح والصید الخ باب لحوم الحمر الانسیۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۲۹)
مسئلہ ۱۵۳: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں ۱۶ صفر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ڈپٹی امداد علی صاحب نے رسالہ امداد المسلمین میں الو کے بارہ میں لکھا ہے کہ عالمگیری میں لکھا ہے :
البوم یوکل ۲؎
(الو حلال ہے۔ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ  کتاب الذبائح والصید الباب الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۲۹۰)
اور طحطاوی میں ہے :
یوکل القمری والسوادین والزر زور  والصصل والہدھد والبوم  والطاؤس ۳؎۔
قمری، سوادین، زرزور، صلصل، ہدہد، بوم طاؤس نامی پرندے حلال ہیں۔ (ت)
 (۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الذبائح   دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۱۵۷)
اور شا می میں ہے :
فی غررالافکار عندنا یوکل الخطاف والبوم ۱؎۔
غرر الافکار میں ہے اور ہمارے نزدیک خطاف اور بوم نامی پرندے حلال ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار   کتاب الذبائح   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۱۹۴)
اورمیزان میں ہے :
من ذٰلک قول الائمۃ الثلثۃ فی المشہور عنہم انہ لاکراھۃ فی مانہی عن قتلہ کالخطاف والہدہد والخفاش و البوم الببغاوالطاؤس مع قول الشافعی فی ارجح القولین انہ حرام ۲؎۔
ائمہ ثلثہ سے ان کا مشہور قول کہ جن پرندوں کے ہلاک کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کو کھانے میں کراہت نہیں ہے، اسی قبیل سے ہے، مثلا خطاف، ہدہد، خفاش۔ بوم، ببغا اور طاؤس نامی پرندے، امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی کے دو قول میں سے راجح قول میں یہ حرام ہے۔ (ت)
(۲؎ المیزان الکبرٰی کتا ب الاطعمۃ    مصطفی البابی مصر        ۲/ ۵۷)
اور حیاۃ الحیوان دمیری شافعی رحمہ اللہ تعالٰی سے بھی ثابت ہے، شافعی کے نزدیک حرام ہونا، نہ حنفیہ کے نزدیک تمام کتب ہائے معتبرہ فقہ سے بوم کا حلال ہونا ثابت ہے۔ یہاں تک کہ خلاصہ کلام ڈپٹی صاحب مذکور ہے، اور فتاوٰی ہندیہ ترجمہ فتاوٰی عالمگیری کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ قول ظاہر بوم سے مراد یہی الو ہے کہ پرند معروف ہے، اور شاید کوئی اورمعنی مراد ہوں، واللہ تعالٰی اعلم، اس واسطے مترجم نے بیعنہٖ لفظ چھوڑ دیا اس مسئلہ میں تحقیق جو بیان فرمائیں کہ صدق وکذب وہابیہ ظاہرہو۔ فقط
الجواب : عبارت عالمگیری جوامداد المسلمین میں نقل کی، اس کے شروع میں لفظ قیل واقع ہے، اصل عبارت یوں ہے :
قیل الشقراق لایوکل والبوم یوکل ۳؎۔
یعنی بعض نے کہا کہ کہ شقراق نہ کھایا جائے اور بوم کھایا جائے۔
(۳؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح    الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور        ۵ /۲۹۰)
یہ لفظ اس قول کے ضعف پر دلیل ہوتاہے، اور یہ بتاتا ہے کہ اس کی طرف بعض گئے ہیں، اکثر علماء خلاف پر ہیں، اور حیاۃ الحیوان کا حوالہ تو سرے سے غلط ہے اس میں کہیں نہیں لکھا کہ حنفیہ حلال جانتے ہیں اس میں صرف شافعیہ کے دو قول لکھے ہیں، عبارت اس کی یہ ہے :
الحکم یحرم اکل جمیع انواعہا، قال الرافعی ذکر ابوعاصم العبادی ان البوم کالرخم، وکذٰلک الضوع، ومن شافعی رحمہ اﷲ قول انہ حلال ۱؎۔
حکم یہ ہے کہ تمام اقسام حرام ہیں، رافعی نے کہا ابوعاصم العبادی نے ذکر کیا ہے کہ رخم کی طرح بوم حرام ہے، اور اسی طرح ضوع بھی حرام ہے، اور امام شافعی حرام ہے اور امام شافعی کا ایک قول ہے کہ یہ حلال ہے۔ (ت)
 (۱؎حیاۃالحیوان         باب الباء الموحدۃ     مصطفی الباب مصر    ۱ /۲۲۸)
خیرا ن سب سے قطع نظر کرکے اس مسئلہ کی طرف چلئے، یہی عالمگیری وطحطاوی وشافعی ومیزان، جن سے امداد المسلمین میں یہ عبارتیں نقل کیں، ان میں اوروںج کے سوا ہماری تمام کتب مذہب اور صحاح احادیث سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہم اجمعین میں صاف صریح حکم قطعی کل بلااستثناء وتخصیص موجود ہے کہ ہر پرنداپنے پنجہ سے شکار کرنے والے حرام ہے، جیسے ہر درندہ دانتوں سے شکار کرنے والے،
عالمگیری میں بدائع سے ہے:
لایکل کل ذی مخلب من الطیر ۲؎۔
یعنی حرام ہے ہر پنچہ والا پرند۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الذبائح الباب الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۲۸۹)
طحطاوی میں ہے :
لایل سباع الوحوش والطیر ۳؎ اھ ملخصا۔
درندے وحشی وپرند سب حرام ہیں اھ ملخصا۔
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الذبائح     دارالمعرفۃ بیروت    ۴ /۱۵۷)
حموی پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے :
الدلیل علیہ انہ صل اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہی عن اکل کل ذی ناب من السباع وکل ذی مخلب من الطیر، رواہ مسلم وابوداؤد وجماعۃ، و السرفیہ ان طبیعۃ ھذہ الاشیاء مذمومۃ شرعا فیخشی ان یتولد من لحمہا شیئ من طباعہا فیحرم اکراما لبنی آدم کما انہ یحل ما احل اکرامالہ ۱؎۔
یعنی دلیل اس پر یہ ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہر درندے کیلے والے اور ہر پرندے پنچہ والے کے کھانے سے منع فرمایا، مسلم وابوداؤد وغیرہما ایک جماعت محدثین نے یہ حدیث روایت کی، اور اس میں راز یہ ہے کہ ان چیزوں کی خصلت شرعا بدہے تو اندیشہ ہے کہ ان کا گوشت کھانے سے کچھ خصلت ان کی سی آدمی میں پیدا ہوجائے، لہذا انسان کی عزت کے لئے ان کا کھانا حرام ہوا، جیسے کہ اس کی عزت ہی کے لئے حلال جانور حلال کے گئے،
 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار   کتاب الذبائح     دارالمعرفۃ بیروت    ۴ /۱۵۵)

(ردالمحتارعلی الدرالمختار   کتاب الذبائح   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۱۹۳)
میزان امام شعرانی میں ہے :
من ذٰلک اتفاق الائمۃ الثلثۃ علی تحریم کل ذی ناب من السباع ومخلب من الطیر یعدوبہ علی غیرہ (الی ان قال) لانہ فیہ قسوۃ من حیث انہ یقسر غیرہ ویقہرہ من غیر رحمۃبذٰلک الحیوان المقسور فیسری نظیر تلک القسوۃ فی قلب الاٰکل لہ۔ واذاقسی قلب العبد صار لا یحن قلبہ الی موعظۃ وصار کالحمار ۲؎۔
یعنی انھیں مسائل سے ہے امام ابوحنیفہ وامام شافعی وامام احمدر ضی اللہ تعالٰی عنہم کا اتفاق کہ ہر کیلے والا درندہ اور ہر پنچہ والا پرندہ جو دوسرے پر اس کیلے یا پنجے سے حملہ کرتاہے حرام ہے، اس لئے کہ اس میں سنگدلی ہے کہ وہ بیدردی سے مجبور ومغلوب کرتاہے، تو ایسی ہی سنگدلی اس کے کھانیوالے میں سرایت کرے گی، اور جب آدمی کا دل سخت ہوجاتاہے تو کسی نصیحت کی طرف میل نہیں کرتا اور آدمی سے گدھا ہوکر رہ جاتاہے۔
 (۲؎ المیزان الکبرٰی  کتاب الاطعمۃ     مصطفی الباب مصر        ۲ /۵۷)
میں کہتاہوں یوں ہی کتب طیبہ سے ثابت کہ الو کھانے والا آدمی سے الو ہوکر رہ جاتاہے والعیاذ باللہ رب العلمین۔

غرض یہ قاعدہ کلیہ شرعیہ ہے جس پر ائمہ حنفیہ کا اجماع ہے، اور اس سے ہر گز کوئی پنچہ والا پرندہ کہ سباع طیر سے ہو مستثنٰی نہیں اور شک نہیں کہ الو پنچہ والا پرندہ ہے۔ بلکہ اس کے پنجے بہت شکاری پرندوں سے زیادہ قوی اور تیز ہیں، اور شک نہیں کہ گوشت اس کی خوراک ہے،ا ور شک نہیں کہ وہ اپنے سے کم طاقت پرندوں پر حملہ کرتاہے، یہ سب باتیں یقینا معلوم ہیں، اور فقیر کے سامنے بہت شکار پیشہ مسلمانوں نے بیان کیا کہ یہ پرندہ شکاری ہے، پانچ (عہ) سکان بریلی نے کہ ان میں چار صاحب قوم کے قراول،اور پانچوں نمازی نیک سنی صحیح العقیدہ ہیں،
عہ: نیاز محمدخاں ابن رحم خاں ونذیر خان ابن وزیر خاں وعنایت اللہ خاں ابن کرم علی خاں وغلامی خان ابن حسن خاں قراول ساکناں بہاریپور محلہ قراؤلان ومحمد خاں ابن گل خان افغان ساکن شہر کنہ ۱۲
Flag Counter