فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
55 - 126
فتاوٰی حجہ وغنیہ میں ہے:
ولو قدموا فاسقایأ ثمون ۱؎
(اگر فاسق کو امام بنایا تو بنانیوالے گنہگار ہوں گے) زیلعی وغیرہ میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا ۲؎۔
کیونکہ آگے کرکے امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا ان پر اس کی اہانت لازم تھی۔ (ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۲)
(۲؎ تبیین الحقائق کتا ب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴)
رہا یہ کہ وہ ہند و کی پرستش کا بکرا اس کے یہاں جاکر ذبح کرتاہے، اور اس کے ذبح سے تعظیم الہٰی کی نیت کرتا اور اللہ عزوجل کا نام لیتاہے، تو جانور حلال ہوجائے گا، مگریہ فعل اس کے لئے مکروہ ہے
فی الہندیۃ توکل ویکرہ للمسلم ۳؎
(ہندیہ میں اسے حلال اور مسلمانوں کے لئے مکروہ کہا گیاہے۔ ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۴۶)
اور اگر اس کافر ہی کی نیت پر ذبح کرتاہے تو جانور تو مردار ہوا ہی اس ذابح کا ایمان بھی بچنا مشکل ہے۔ مگر ظاہر یہ ہے کہ مسلمان پر حتی الامکان بدگمانی کی اجازت بھی نہیں کہ اس کا مقصود فقط اپنے ٹکے سیدھے کرنا ہوگا نہ کہ معبود باطل کی تعظیم کہ مسلمان سے متوقع نہیں، نہ معبود حق کی تعظیم کا خیال آتا ہوگا، تویوں بھی یہ فعل سخت شنیع اور جانور کی جان کی ناحق تضییع ہے، پھر اس کی امامت سے احتراز چاہئے کہ وہی احتیاط جو ہمیں اس پر بدگمانی نہیں کرنے دیتی نماز میں اسے امام نہ بنانے دے گی،
فان سوء الظن شیئ، والحزم شیئ اٰخر، وہذا من باب الخروج ومن اتقی الشبہات فقد استبراء لدینہ وعرضہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بدگمانی علیحدہ چیز ہے، اور احتیاط دوسری چیز ہے، اوریہ علیحدہ رہنا ہے، اور جو شخص شبہات سے بچا تو اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ بنالیا واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۹: مرسلہ غلام نبی صاحب ساکن موضع میانہ ٹھٹہ ضلع گوجرانوالا ڈاک خانہ موز اتوار ، ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسمی چراغ دین امام مسجد نے ایک بکرا ذبح کیا اور اس کا چمڑا مسمی حاکو قوم خاکروب نے اتارا اور گوشت بنایا، اور گوشت مذکور کو چند مسلمانوں نے مل کر تقسیم کرلیا اور اپنے گھروں میں پکا کر کھایا، کیا وہ گوشت کھانا جائز ہے یانہیں؟ اس بات کا خلاصہ حال مع ثبوت حدیث و قرآن شریف ارسال فرمائیں ،اور اس مسئلہ کو اخبار ودبدبہ سکندری شائع کرادیں
الجواب : جب وہ جانور مسلمانوں نے اللہ عزوجل کے لئے تکبیر کہہ کر ذبح کیا تو حلال ہوجانے میں کوئی شبہہ ہی نہ رہا، خاکروب کا گوشت بنانا وہ اگر اس وجہ سے ہے کہ بکرا اسی کی ملک تھا اور اس نے اپنے ظاہر پیروغیرہ کسی معبود باطل کے لئے ذبح کرایا تو اس کا کھانا مسلمانوں کو مکروہ ہے
کمانص علیہ فی الہندیۃ
(جیسا کہ ہندیہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت) اسی طرح اگر کسی معبود باطل کے لئے ذبح نہ کرایا، بلکہ اس نے ان کی دعوت کی تھی تو اس دعوت کا ہی قبول کرنا نامناسب تھا، اور اگر بکرا مسلمان کی ملک تھا اور اس سے بنوایا، اور وہ اپنا ناپاک پیشہ کرتاہے اور اس کے ہاتھ خوب پاک نہ کرالئے تھے، تو سخت بے احتیاطی کی، اور اگر اس کے ہاتھ پاک کرائے تھے یا وہ قوم کا خاک روب ہے یہ پیشہ نہیں کرتا، تو یہ دیکھا جائے کہ وہاں کے عرف میں خاک روب کی چھوئی ہوئی چیز سے پرہیز کرتے اور اس کے استعمال کو معیوب جانتے ہیں یانہیں، اگر جانتے ہیں، اور ان لوگوں نے بے پروائی کی تو مصلحت دینی کے خلاف کیا اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے،
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولا تنفروا ۱؎
(خوشخبری دو ، منافرت پیدا نہ کرو۔ ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ والعلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶)
دوسری حدیث میں ہے:
ایاک ومایسوء الا ذن ۲؎
(کانوں کے لئے تکلیف دہ بات سے بچو۔ ت)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامیہ بیروت ۴/ ۷۶)
(کشف الخفاء للعجلونی حدیث ۸۶۶ و ۸۶۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۴۷)
تیسری حدیث میں ہے:
ایاک وما یعتذرمنہ فان الخبر لا معتذرمنہ۳؎ ۔
معذرت والی چیز سے بچو، تو بیشک خبر معذرت خواہی والی چیز نہیں ہے۔ (ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ بکرا وقت ذبح سے مسلمانوں کے ہاتھ میں پہنچنے تک مسلمانوں کی نگاہ سے غائب نہ ہوا، اور اگر ذبح کرکے اسے دے دیا اور کوئی مسلمان دیکھتا نہ رہا، اس نے گوشت بنایا اور مسلمانوں کو دیا تو اب اس کا کھانا سرے سے حلال ہی نہ رہا،
فان الکافرلایقبل قولہ فی الدیانات ۱؎۔
دین کے امور میں کافر کی بات قابل قبول نہیں ۔ (ت)
(۱؎تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶/ ۱۲)
ہاں اگر اس کو اجیر کیا ہو تو جواز رہے گا،
لان الکافر یقبل قولہ فی المعاملات وان تضمنت شیئا من الدیانات، وکم من شیئ یثبت ضمنا لایثبت قصدا ۲؎۔ وتبیینہ فی التبیین وغیرہ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ کافر کی بات معاملات میں اگر چہ وہ دیانات کو متضمن ہوں، قابل قبول ہے، جبکہ بہت سے امور ضمنا ثابت ہوتے ہیں اور قصدا ثابت نہیں ہوتے، اس کی وضاحت تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(؎ ۲؎ تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶/ ۱۲)
مسئلہ ۱۵۰: از ملک بنگالہ ضلع نواکھالی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ گھوڑے کا گوشت کھانا ازروئے شرع شریف کے جائز ہے یانہیں؟ اگر جائزہے تو احادیث سے ثابت ہے یا قول فقہاء سے اور فتوٰی قول امام اعظم پر ہے یا صاحبین؟ بینوا توجروا
الجواب: صاحبین کے نزدیک حلال ہے، اور امام مکروہ فرماتے ہیں، قول امام پر فتوٰی ہوا کہ کراہت تزیہی ہے یا تحریمی، اور اصح وراجح کراہت تحریم ہے۔
صححہ الامام قاضی خاں فی فتاواہ، وقد قالوا انہ فقیہ النفس ولا یعدل عن تصحیحہ وقال الشامی ثم نقل ای القہستانی تصحیح کراہۃ التحریم عن الخلاصۃ والہدایۃ والمحیط والمغنی و القاضی خاں والعمادیۃ وغیرہا وعلیہ المتون ۳؎ اھ ومعلوم ان الترجیح للمتون وانہا الموضوعۃ لنقل المذہب فلا یعار ضہا ما فی کفایۃ البیہقی بخلاف انہ ظاہر الروایۃ و لافتوی الجمہور (عہ) المنقول بقیل بعد ما قدمنا(عہ) من التصحیحات الجلیلۃ للائمۃ الجلۃ۔
امام قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصحیح فرمائی ہے جبکہ فقہاء نے فرمایا: قاضی خان فقیہ النفس ہیں، لہذا اس کی تصحیح سے عدول نہ ہوگا، اور علامہ شامی نے فرمایا کہ پھرقہستانی نے خلاصہ ، ہدایہ، محیط، مغنی، قاضی خاں اور عمادی وغیرہاسے کراہت تحریمہ کی تصحیح نقل کی ہے، اور کہا کہ اس پر متون وارد ہیں اھ اور واضح بات ہے کہ ترجیح متون کو ہے اور وہ مذہب کو نقل کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ لہذا ان کا خلاف جو کفایۃ البیہقی میں بیان کیا ہے وہ متون کے معارض نہیں ہوسکتا، اور یہی ظاہر الروایۃ ہے، اور قیل کے ساتھ نقل شدہ جمہور کا فتوٰی بھی ان کا معارض نہیں ہوسکتا خصوصا ہماری ذکر کردہ اجلہ ائمہ کی تصحیحات کے بعد (ت)
عہ : لفظ ''جمہور'' اندازہ سے بنایا گیا ۱۲ عبدالمنان
عہ : اندازہ سے ''بعد'' کا لفظ بڑھایا ۱۲ عبدالمنان
(۳؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۳)
بہر حال مسئلہ اس قابل نہیں کہ اس پر فتوٰی فساد دیا جائے، یا فریق بندی عمل میں آئے، واللہ الموفق واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ۲ رمضاں المبارک ۱۳۱۰ھ
ماقولکم غفر اﷲ لکم ہذہ المسئلۃ افیدو نا یرحمکم اﷲ تعالٰی دربارہ اکل فرس، بعض قائل بکراہت تحریمی وبعض بکراہت تنزیہی، ولیکن بہر صورت شیرش جائز داشتہ اند، تحقیق دریں باب چیست؟
علمائے کرام اللہ تعالٰی تمھاری مغفرت فرمائے آپ کااس مسئلہ میں کیا قول ہے، ہمیں افادہ فرماؤ، اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے، گھوڑے کا گوشت کھانے میں بعض مکروہ تحریمہ اور بعض مکروہ تنزیہیہ کے قائل ہیں، جبکہ اس کے دودھ کو بہر صورت جائز مانتے ہیں، اس مسئلہ میں تحقیق کیا ہے۔ (ت)
الجواب: درمسئلہ گوشت اسپ علماء رامعترک عظیم ست، وتصحیح نیز مختلف وکراہت قول امام ست، بس اسلم احتراز تام ست، ہمچناں بر مذہب امام درشیر او نیزاختلاف کردہ اند، امام قاضی خاں بتحریم رفتہ، ودر درمختار جواز را وجہ گفتہ، بریں روایت وجہ فرق خود پیدا ست کہ درتحلیل لحم تقلیل آلہ جہاد ست بخلاف لبن، باز ایں ہمہ برتقدیرے ست کہ بحد سکر نہ رسد، ورنہ تعمدایں بالاتفاق ممنوع باشد، کمالا یخفی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
گھوڑے کے گوشت کے مسئلہ میں علمائے کرام کا عظیم معرکہ ہے اور تصحیح بھی مختلف ہے، کراہت امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے، پس مکمل احتراز میں بہتری ہے، اور اس کے دودھ کے متعلق بھی امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کے مذہب کے بیان میں اختلاف ہے، امام قاضی خاں علیہ الرحمۃ حرمت کی طرف گئے اور درمختار نے جواز کو وجہ قرار دیا ہے۔ اس درمختار کی روایت کے مطابق گوشت اوردودھ میں فرق کا واضح بیان ہے کہ گوشت کو حلال کردینے میں آلہ جہاد کی قلت پیدا کرنا ہے جبکہ دودھ کا معاملہ اسکے خلاف ہے، اور دودھ کی بحث اس حد تک ہے جس میں سکر یعنی نشہ نہ ہو، ورنہ قصدا ا تنی مقدار پینا ممنوع ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)