Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
54 - 126
مسئلہ ۱۴۳: مسئولہ والی علی صاحب کانسٹبل از تھانہ بہیڑی ضلع بریلی ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ کتا کسی جانو رکو پکڑلے، اور اس جانور کے زخم کتے کی پکڑ کا ہوجائے، اور بعد میں جانور ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہے یاحرام؟
الجواب : شکاری کتا جبکہ بسم اللہ کہہ کر چھوڑا گیا اگر جانور اس کے زخم سے مرجائے تو حلال ہے، اور اگر زندہ ملے اور ذبح کرلیا جائے تو حلال ہے، اس کے زخم سے جانور میں کوئی حرج نہیں آتا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴ و ۱۴۵:   کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) اگرذبیحہ ذبح کیا جائے اور وہ بعد میں ایک دیر کے خون دے ، تو کھانا اس کا جائز ہے یانہیں؟

(۲) عورت یا لڑکے کے ذبیحہ کیساہے؟ بینو توجروا
الجواب : 

(۱) پہلی صورت میں حلت میں کوئی شبہ نہیں، خروج خون علامت حیات ہے، اور بعد دیر کے نکلنا اس کا غیر مانع، بلکہ اگر خون نہ دے ؎ فقط حرکت کرے اور تڑپے تاہم کھانا اس کا جائز ہے کہ شرط حلت حیاۃ عندالذبح ہے نہ کہ خروج دم۔
فی تنویر الابصار ذبح شاۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت ۱؎۔
تنویر الابصار میں ہے: ذبح کرنے پر بکری نے حرکت کی یا خون نکلا، تو حلال ہوگی، (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار        کتاب الذبائح     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۰)
 (۲) عورت ولڑکے کا ذبیحہ اگر وہ قواعد وشرائط ذبح سے واقف ہیں اور مطابق شرع ذبح کرسکتے ہیں بلا ریب حلال ہے،
فی الدرالمختار وشرط کون الذابح مسلما ولوامرأۃ اوصبیا یعقل التسمیۃ والذبح ویقدر ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے: مسلمان اگر چہ عورت یا بچہ ہو شرط یہ ہے کہ بسم اللہ اورذبح کو جانتا ہو، اور اس عمل پر قادرہو، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (عہ) لکنہ فیہ اختلاف ذکرہ فی الہدایۃ فی کتاب الصید ۱۲ منہ ۔
لیکن اس میں اختلاف ہے جس کو ہدایہ کی کتاب الصید میں ذکر فرمایا ہے ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ درمختار     کتاب الذبائح     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۲۸)
مسئلہ ۱۴۶ـ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گاؤ میش قریب المرگ کو ذبح کیا گیا، اختلاف اس امر میں ہے کہ وہ زندہ تھی کہ مرچکی تھی ، ذبح کرنے والا نیز چند اور شخص کہتے ہیں کہ وہ زندہ تھی لیکن دو شخص کی یہ رائے ہے کہ وہ مرچکی تھی، بعد ذبح کے کسی عضو نے جنبش نہ کی، دریافت طلب امریہ ہے کہ ایسی صورت میں اس کا کھانا جائز ہے یانہیں، واقعات یہ ہیں کہ یہ بھینسیں بعد ذبح کرنے کے ایک قصاب کے ہاتھ دس روپیہ میں فروخت کردی تھی وہی دونوں شخص جو کہتے ہیں کہ وہ مرگئی تھی قصاب کو بہکا دیا، قصاب مذکور نے اس کا گوشت دفن کردیا اور کھال لے گیا اور بریلی فروخت کرآیا، گوشت کی قیمت اس کو معاف کردی گئی صرف کھال کی قیمت جو چھ روپے اس کو طے کردی گئی تھی، اور وہ اس نے بریلی میں بہت منافع کے ساتھ فروخت کیا طلب کی جاتی ہے لیکن وہ چھ روپے دینے سے بھی انکار کرتا ہے، اور کہتاہے کہ تم لوگوں نے مردہ جانور کی کھال نکلواکر مجھے ناپاک کردیا، میرے برادری والے مجھے نکال دیں گے،میں قیمت نہیں دوں گا، دریافت طلب یہ بات ہے کہ اس قصاب پر کیا برائی آسکتی ہے، اگر یہ خیال کرلیا جائے کہ وہ مرگئی تھی اور دھوکا میں ایسا کیا گیا۔
الجواب : ذبح ہوتے وقت بھینس کا زندہ ہونا خوب معلوم تھا، یا ذبح کے بعد وہ تڑپی، یا ایسا خون دیا جیسا زندہ جانور سے نکلتاہے، یا اور کوئی علامت زندہ کی پائی گئی، مثلا منہ یا آنکھ بند کی یا پاؤں سمیٹے یا بدن کے بال کھڑے ہوئے تو وہ حلال ہے اور کھانا جائز، اور قصاب پر دس روپے واجب، اور اگر وقت ذبح اس کا زندہ ہونا تحقیق نہ تھا، نہ بعد ذبح کوئی علامت زندگی کی پائی(عہ) گئی نہ ایسا خون نکلا، نہ وہ حرکت کی، بلکہ بالکل ساکن رہی ، یا منہ یاآنکھ کھل گئی، یا پاؤں پھیل گیا، یا بال بچھ گئے، تو بھینس حرام ہے، اور قصاب پر ایک پیسہ بھی واجب نہیں ، واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: اصل میں تحریر ہے ـ:''ڈالی گئی'' ۱۲ عبدالمنان الاعظمی
مسئلہ ۱۴۷: مسئولہ احمد حسن بنگالی طالبعلم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ

صدقہ کا جانور بلاذبح کئے جانور ہی کسی مصرف صدقہ کو دیا جائے تو جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب الملفوظ

اگر صدقہ واجبہ ہے اور وجوب خاص ذبح کا ہے تو بے ذبح ادانہ ہوگا، مگر اس حالت میں کہ ذبح کے لئے وقت متعین تھا جیسے قربانی کے لئے ذی الحجہ کی دسویں گیارھویں(عہ) ـ، اور وہ وقت نکل گیا تو اب زندہ تصدق کیا جائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ:  اصل میں بارھویں نہیں ہے غالبا ناقل کا سہو ہے ۱۲ عبدالمنان الاعظمی
مسئلہ ۱۴۸: مسئولہ شیخ محمد وزیر صاحب پٹیل از قصبہ تحصیل اون ضلع ایوت محال ملک برار ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا ایک بیٹا بکر چالیس روپیہ کا ملازم سرکار ہے، زید کا آبائی واجدادی پیشہ یہ ہے کہ روزانہ ہربز قصاب کے مکان پر جانا، اور جس قدر بکریاں ذبح کرنے کی ہوں، ان کو ذبح کردینا اور ان کی اجرت میں فی راس ایک آنہ پیسہ یا پاؤ بھر گوشت لینا، چلا آتاہے، اورنیز ہر مواضعات قریب میں جاکے قوم ہندو کے مکان پر جو ان کی پرستش کا بکرا ہوتاہے، اس کو ذبح کردیتاہے، اور اس کی اجرت لیتاہے،یہ پیشہ اس وقت تک جاری ہے، اور سناگیا ہے کہ ذابح البقر وقاطع الشجر ودائم الخمر کی بخشش میں احتمال ہے، اگر اس مسئلہ کی کچھ بنیاد ہے اور یہ سچ ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟ براہ کرم بواپسی ڈاک جواب باصواب سے سرفراز فرمائے،
الجواب

گائے بکری کا ذبح کرنا جائزہے،
قال اﷲ تعالٰی ان اﷲ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: بیشک اللہ تعالٰی نے تمھیں حکم دیا ہے کہ گائے کو ذبح کرو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم                ۲/ ۶۷)
وہ قول کہ لوگوں میں مشہور ہے محض بے اصل ہے، قطع شجر کی بھی اجازت قرآن عظیم میں موجود ہے۔
قال اﷲ تعالٰی وما قطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اﷲ ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تم نے جو سبز درخت کاٹے یا ان کو تم نے باقی کھڑا رہنے دیا تو یہ اللہ تعالٰی کے حکم سے ہوا۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم            ۵۹/ ۵)
ہاں دائم الخمر البتہ مرتکب سخت کبیرہ اور مستحق عذاب نار ہے، مگر یہ کہنا اس کی نسبت بھی باطل ہے کہ اس کی مغفرت کبھی نہیں ہوگی یہ صرف کافر کے لئے ہے، مسلمان کیسا ہی گنہگار ہو زیر مشیت ہے چاہے عذاب فرمائے تو اس کا عدل ہے، چاہے بلا عذاب بلکہ بلاحساب بخش دے تو اس کافضل ہے۔
ان اﷲ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذٰلک لمن یشاء ۲؎۔
اللہ تعالٰی نہ مغفرت فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے، اور مغفرت فرمائے گا اس سے کم کو جس کو وہ چاہے گا۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم            ۴/ ۴۸ و ۴/ ۱۱۶)
پھر مسلمانوں میں سے جس پر عذاب فرمائے گا ہر گز وہ عذاب دائم نہ ہوگا، انجام بلاشبہ مغفرت ہے، اور جب ان جانوروں کا ذبح جائز ہے اس پر اُجرت مقرر کرکے لینا بھی جائز ہے
کماہوحکم مباح یحتاج الی عمل
 (جیسا کہ ہر مباح محتاج العمل کا حکم ہے۔ ت)
اب یہاں متعدد صورتیں ہیں، سائل دو اجرتیں بتاتاہے، ایک آنہ یا پاؤ بھر گوشت ، یہ اگر یوں ہے کہ کبھی ایک آنہ مقرر کرلیا جاتاہے کبھی پاؤ بھر گوشت تو وہ آنہ جائز ہے، اور گوشت کہ اسی جانور کا قرار پاتاہے ناجائز ہے
لانہ کقفیزالطحان
 (کیونکہ یہ پیسنے والے آٹے کا حصہ قفیز کی طرح ہے۔ ت) بلکہ اگر اس جانور کا نہ ٹھہرے جب بھی گوشت کثیرالتفاوت چیز ہے۔
لانہ قیمی فلا یصلح دینا علی الذمۃ ویقع فیہ النزاع وکل ماکان کذالک یورث الفساد۔
کیونکہ یہ قیمت والی چیز جو کسی کے ذمہ دین نہیں بن سکتی اور اس میں تنازعہ ہوتاہے اور جو ایسی چیز ہو وہ فساد برپا کرتی ہے۔ (ت)

اوراگر یہ معنی ہیں کہ تعین کچھ نہیں ہوتا کبھی ایک آنہ دیتے ہیں کبھی گوشت، تویہ جہالت اجرہے، جہالت اجر مفسد اجارہ ہے۔
بہرحال اُجرت میں گوشت کا قدم درمیان ہے اجارہ فاسد ہے،ا ور عقد فاسد حرام و ازقبیل ربا ہے، اور اس کا عادی ہونا ضرور موجب فسق، اور اس کا پیشہ کرنے والا فاسق معلن، اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ، اوراس کے پیچھے نما ز مکروہ تحریمی کہ پڑھنا منع، اور پڑھی تو پھیرنا واجب۔
Flag Counter