فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
53 - 126
ردالمحتارمیں علامہ علی مقدسی سے ہے:
المراد بقطعہما فصلہما من الراس اوعن الاتصال باللبۃ ۲؎۔
کاٹنے سے مراد یہ کہ سرسے جدا کرلیا یا لبہ سے تعلق کاٹ دیا۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۸۷)
جواب مسئلہ کو اسی قدر بس ہے، اور اگر تحقیق مقام درکار ہو
فاقول وباللہ التوفیق
(تومیں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ ت) وجیز کی عبارت مذکورہ میں تین فرعیں ہیں؟
اول بھیڑیا نے بکری کی رگہائے گردن کاٹ دیں۔ دوم پیٹ چاک کردیا۔ سوم سر جدا کردیا۔
پہلی میں حکم دیا ہے کہ ذبح نہیں ہوسکتی، اور دو باقی میں فرمایا ذبح کرلیں حلال ہوجائے گا، اول و سوم کے حکم میں بظاہر صریح تناقض ہے، یہ رگیں دماغ سے دل تک ہوتی ہیں،
بدائع وفتاوائے امام قاضی خاں وردالمحتاروغیرہامیں ہے:
الاوداج متصلۃ من القلب بالدماغ ۳؎۔
اوداج، دل تا دماغ متصل ہوتی ہے۔ (ت)
(۳؎ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۰۵)
(بدائع الصنائع کتاب الذبائح والصید فصل واما بیان شروط حل الاکل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۵۲)
تو جب سر جدا کردیا قطعایہ رگیں قطع کردیں، تو فرع اول کے حکم سے فرع سوم میں بھی حرمت چاہئے تھی اور حکم یہ دیا کہ ذبح کرے تو حلال ہے۔ ا ب اگر یوں توفیق کیجئے کہ ہمارے امام کے نزدیک صحت ذبح کے لئے مطلقا حیات درکار ہے، اگرچہ اسی قدر جو مذبوح میں بعد ذبح ہوتی ہے، اور صاحبین کے نزدیک اتنی حیات کافی نہیں، امام محمد فرماتے ہیں بس اس سے زائد ہو، اورشرط نہیں، اور امام ابویوسف فرماتے ہیں: نہیں، بلکہ یہ چاہئے کہ اتنے زخم کے بعد جانبر ہوسکے،
ہدایہ میں ہے:
لو انہ ذکاہ حل اکلہ عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فیہ حیوۃ خفیۃ، اوبینۃ، و علیہ الفتوی، لقولہ تعالٰی اِلاَّ مَا ذَکَّیْتُمْ مطلقا من غیر فصل وعند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی اذ اکان بحال لایعیش مثلہ لایحل لانہ لم یکن موتہ بالذبح، وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی ان کان مثلہ فوق مایعیش المذبوح یحل، والا فلا لانہ لامعتبر بہذہ الحیوۃ ۱؎۔
اگر ذبح کے وقت خفیف سی زندگی بھی ہو اور ذبح کرلی گئی تو امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اس کا کھانا حلال ہے، اور اسی پر فتوٰی ہے اللہ تعالٰی کے ارشاد الا ماذکیتم مطلق کی بناء پر ، جس میں کوئی تفصیل نہیں ہے، اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک وہ ایسی حالت میں ہوکہ زندہ نہ رہ سکے تو حلال نہ ہوگی کیونکہ ایسی صورت میں اس کی موت ذبح سے واقع نہ ہوگی، اور امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک ایسی حالت میں ہوکہ ذبح شدہ سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتی ہو تو ذبح کرنے سے حلال ہوگی ورنہ نہیں، کیونکہ ایسی زندگانی کااعتبار نہیں کیا جاتا۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب الصید مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۰۳)
فرع اول قول صاحبین پر مبنی ہے کہ قطع اوداج کے بعد حیات ، حیات مذبوح سے اصلا زائد نہیں ہوتی، لہذا وہ حکما میت ہے،اور میت محل ذبح نہیں، تو اب ذبح نہیں کرسکتے لفوات محل الذبح، اور فرع سوم قول امام پر مبنی ہے کہ اگرچہ سر جداہوگیا مگر جبکہ جانور ابھی تڑپ رہا ہے حیات باقی ہے اگر چہ حیات مذبوح سے زائد نہیں سہی، لہذا محل ذبح ہے ذبح کرلیں حلال ہوجائے گا، اور فرع دوم میں اگر صرف جلد چاک ہوئی کہ سی کر اندمال وحیات متصور ہو تو بالاجماع حلال ہے، اور نامتصور ہو تو صرف قول امام پر، یوں اگر توفیق کریں جب تو ظاہر ہے کہ فرع اول سے استناد صحیح نہیں، کہ وہ خلاف قول امام وخلاف مذہب مفتی بہ ہے اور اگر ایسی تاویل چاہئے کہ وہ بھی قول امام کی طرف رجوع کرآئے تو اب فوات محل ذبح میں تنقیح مناط کرنی ہوگی فاقول وبہ نستعین اس فوت کے یہ معنی تو بداہۃ نہیں کہ محل ذبح مابین اللبۃ واللحیین تھا وہ معدوم ہوگیا کہ کلام قطع اوداج میں ہے، نہ اس صورت میں کہ بھیڑیا سینہ تک ساری گردن کاٹ کر لے گیا، نہ یہ معنی ہیں کہ محل ذبح اوداج تھیں وہ فناہوگئیں کہ قطع تفریق اتصال ہے نہ کہ اعدام، لاجرم یہ معنی ہیں کہ محل اگر چہ باقی ہے مگر اس میں قابلیت فعل ذبح کی نہ رہی، تو محل من حیث ہو محل فوت ہوگیا، اگرچہ ذات باقی ہے، اب فنائے قابلیت میں نظر چاہئے کہ کس صورت میں اس کا فوت ہوناہے، یہاں اس کی تین صورتیں متصور :
اول یہ کہ اب معنی ذبح متحقق نہیں ہوسکتے۔
دوم ،مقصود ذبح فوت ہوگیا، اور شے جب مقصود سے خالی ہو باطل ہوجاتی ہے۔
سوم معنی ذبح قبل ذبح فعل غیر ذبح شرعی سے متحقق ہولئے، اور ذبح صالح کی تکرارنہیں، مذبوح کو ذبح نہیں کرسکتے ، ولہذا اگر مسلمان نے جانور ذبح کردیا اور وہ ابھی پھڑک رہا ہے، دوبارہ مجوسی نے ذبح کیا حرام نہ ہوگا، او ر اس کا عکس ہو توحلال نہ ہوسکے گا،
فان الذبح لا یعاد
(کیونکہ ذبح دہرایا نہیں جاتا۔ت) اول کی طرف راہ نہیں کہ معنی ذبح قطع اوداج حی بین اللبتہ واللحیین ہے۔
(۳؎ تبیین الحقائق کتاب الصید المطبعۃ الکبرٰی الامیرییہ بولاق مصر ۶/ ۵۲)
جب تک جانور زندہ ہے اور گلا اور اس پر وہ رگیں باقی ہیں ضرور قابل قطع ہیں تو معنی ذبح متحقق نہ ہوسکنا کیا معنی، قطع اوداج کا جواب اوپر معلوم ہولیا کہ فرع سوم میں بھی قطع اوداج متحقق ہے۔ اور حکم حلت ہے یونہی دوم کی گنجائش نہیں، اگرکہئے مقصود ذبح انہاردم تھا اور وہ فعل سبع سے ہولیا، تو یہ وجوداً وعدما ہر طرح باطل ہے۔ فرع سوم میں انہاردم ہوگیا اور قابلیت ذبح باقی ہے اور وقت ذبح حیات معلوم ہو اور ذبح سے خون نہ نکلے حلت ہوجائے گی، کما تقدم، حالانکہ انہاردم نہیں، اگر کہے مقصود ذبح ازباق روح ہے، اور وہ اس صورت میں فعل سبع کی طرف منسوب ہوگانہ کہ جانب ذبح، تویہ وہی قول صاحبین غیر مفتی بہ ہے
کماقدمنا عن الہدایۃ
(جیسا کہ ہدایہ میں سے گزرچکا ہے۔ ت)
معہذا فرع سوم اس پر بھی نقض کو موجود، لاجرم صورت سوم مقصود یعنی جہاں قبل ذبح قطع اوداج بین اللبۃ واللحیین واقع ہولے وہاں محل ذبح نہ رہا، یعنی محلیت وقابلیت ذبح فوت ہوگئی کہ ذبح دوبار ہ نہیں ہوتا، اورجہاں یہ معنی قبل ذبح متحقق نہ ہوئے عام ازیں کہ سرے سے اوداج قطع ہی نہ ہوئیں یا کسی ایسے فعل سے کہ انسان کی طرف منسوب نہ ہو قطع تو ہوئیں مگر موضوع ذبح پر قطع نہ ہوئیں ا ورہنوز حیات باقی ہے وہاں محل ذبح فوت نہ ہواذبح کرسکتے ہیں او رموجب حلت ہوگا، اب فروع میں تطابق ہوگیا اور صورت مسئولہ کاحکم بھی کھل گیا، فرع سوم سے مراد اس طرح سرجدا کرنا ہے کہ بین اللبۃ واللحیین قطع اوداج نہ ہو کہ اگر چہ قطع واقع ہو مگر محل ذبح میں نہ ہوا تو معنی ذبح قبل ذبح متحقق نہ ہوئے اور فرع اول سے مراد وہ قطع اوداج ہے کہ بین اللبۃ واللحیین ہوکہ اب تقدم معنی ذبح سے قابلییت ذبح ،ا ور الا ماذکیتم کے تحت میں داخل ہونے کی صلاحیت نہ رہی اور یہی صورت کہ اس فرع ملتقط میں مرادہے، جو بظاہر فرع سوم کے صریح مناقض ہے،
اسی عالمگیری میں عبارت وجیز سے پہلے ہے:
سنور قطع راس دجاجۃ فانہا لا تحل بالذبح وان کان یتحرک کذا فی الملتقط ۱؎۔
مرغی کا سر بلی نے کاٹ دیا تو وہ ذبح کرنے سے حلال نہ ہوگی اگر چہ وہ ذبح کے وقت حرکت کرے ملتقط میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۷)
اور فرع دوم خود ظاہر ہے کہ اس میں سرے سے قطع اوداج ہی نہیں، اب تمام فروع متفق اور سب مذہب امام ہمام رضی اللہ تعالٰی عنہ پر منطبق ہیں،
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق
(یوں تحقیق چاہئے کہ اللہ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے۔ ت) ظاہر ہے کہ صورت سوال فرع دوم کے مثل ہے، اور اس میں بھی قطع نہیں اور ذبح قطع ہے، تو معنی ذبح قبل ذبح متحقق نہ ہوئے، کیا اگر جانور کی رگہائے گردن برمے سے چھیددیں ذبح ہوجائے گا، ہر گز نہیں، کہ چھیدنا قطع کرنا نہیں تو محلیت ذبح ضرور موجود ہے اور بعد ذبح حلت لازم ، یہیں سے دو سوال باقی کا جواب ظاہر ہوگیا اور سب مذبح کھالیا محل ذبح نہ رہا، یونہی اگر عقدہ توڑ لیا تو قطع اوداج محل ذبح میں بھی واقع ہوا،بہر حال اب قابلیت ذبح نہ رہی، حلت نہیں ہوسکتی اور اگر عقدہ سے اوپر صرف سر جدا کرلیا کہ بین اللبۃ واللحیین قطع اوداج نہ ہوا تو محل ذبح باقی ہے، بعد ذبح حلت چاہئے اگر ہنوز روح باقی ہو،
ہذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی
(میری سمجھ میں یوں ہے، علم حق تو میرے پروردگار کے ہاں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔