فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
52 - 126
مسئلہ ۱۴۲: از ریاسی ریاست جموں مولانا امام الدین گاذر مرسلہ پیر سید غلام شاہ کشمیری ۱۷ صفر ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایک بکری کو شیر یا چیتے نے گلے سے پکڑا اور خون پینے کے لئے رگوں کو چھیدڈالا باسنانہٖ، اور بکری زندہ ہے، اگر ذبح کی جائے تو حلال ہوسکے گی یا نہیں؟ ادھر کشمیر اور پونچھ کے مفتی عدم حلت کا فتوٰی دیتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ وجیزامام کردری اور فتاوٰی عالمگیری میں ایسے جانور کوحرام لکھا ہے،
شاۃ قطع الذئب اوداجہا لا تحل بالذکوٰۃ وہی حیۃ ۱؎۔
بھیڑئیے نے بکری کی اوداج (گلے کی رگیں) کاٹ دیں اور ابھی زندہ تھی تو ذبح کردی گئی تو حلال نہ ہوگی۔ (ت)
سے استدلال کرتے ہیں، اورنیز کہتے ہیں کہ چار رگیں کاٹنی فرض تھیں وہ شیر نے کاٹ ڈالیں، حالانکہ شیر رگیں بالکل نہیں کاٹتا صرف انھیں بیچ میں سے چھید ڈالتا ہے، مثلا رگ کی اصل صورت یہ ہے، زخمی اس طرح ==== کردیتاہے، بسا اوقات دو ہی رگوں کو دانت مارتا ہے ،موافق مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ جواب ارشاد فرمایا جائے ، اگر (ولو فرض) عقدہ توڑ جائے اور سب مذبح کھا جائے، تو اس صورت میں کیاحکم ہوگا؟
بینوا بالکتاب تو جروا یوم الحساب
(کتاب سے بیان فرمائیے یوم حساب اجر دئے جاؤ گے۔ ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الوجیز کتاب الذبائح الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۱)
(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الذبائح الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۸)
الجواب: اللہ(عہ) عزوجل فرماتاہے:
حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اہل لغیر اﷲ بہ والمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الا ما ذکیتم ۱؎۔
تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور سوئر کا گوشت اور جس کے ذبح میں غیر خدا کانام لیا گیا اور گلا گھونٹی، اور لاٹھیوں سے ماری اور اوپر سے گرنے والی، اور جسے کسی نے سینگ مارا، اور درندہ کی کھائی ہوئی، مگر جسے تم ذبح کرلو،
(۱؎القرآن الکریم ۵/ ۳)
عہ: ایضا فتوائے مولوی محمد مرتضٰی از بلکوٹ ، ڈاکخانہ اوڑی، ریاست کشمیر کہ در تحریم مقطوع الاوداج من السبع بود ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ ایں عبارت نوشتہ شد فی الواقع اگر درندہ محل ذبح کہ مابین اللبۃ واللحیۃ ست دو یا بیشتر اوداج رابرید کہ اتصال آنہا بد ماغ یا سینہ منقطع شد حالاذبح نتواں شد لَفوات محلہٖ پس الا ماذکیتم صادق نیاید آرے اگر دندان زدہ رگ راقدرے شگافتہ، ست کہ خرق باشد نہ قطع یا درغیر محل مذکور چنانکہ در سریا برصدر ومجروحہ ہنوز زندہ است آں، ذبح کردہ شد حلال می شود لبقاء محل الذبح فید خل فی قولہ تعالٰی الا ماذکیتم تحقیق وتفصیل ایں مسئلہ درفتوائے فقیر جلد ہفتم کتاب الذبائح است، وباﷲ التوفیق واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
نیز مولوی مرتضٰی از بلکوٹ ڈاکخانہ اوڑی، ریاست کشمیر، نے درندہ کی قطع کردہ اوداج (گلے کی رگیں) پر جانور کو حرام قرارد ینے کا فتوٰی ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ کو دیا، وہ عبارت یہ ہے: اگر فی الواقع درندے نے مقام ذبح جولبہ اورلحیہ کے درمیان ہے میں د ویا زیادہ اوداج کو کاٹ دیا ہو کہ ان کا تعلق دماغ یا سینے سے منقطع ہوگیا ہو ایسی صور ت میں وہ جانور ذبح کے قابل نہ ہوگا کیونکہ ذبح کا محل فوت ہوگیا، پس قرآن کاحکم الا ماذکیتم صادق نہ آئیگا، ہاں اگر رگوں کو زخم ہوا اوروہ قدرے پھٹ گئی ہوں او رمکمل قطع نہ ہوئی ہوں یا محل ذبح مذکور کے غیر مثلا سریا سینہ کو درندے نے کاٹ دیا اور زخمی جانور ابھی زندہ ہو اور ذبح کرلیا گیا تو حلال ہوگا کیونکہ ذبح کا محل باقی تھا تو اللہ تعالٰی کے ارشاد الا ماذکیتم میں داخل ہوگیا، اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوٰی جلد ہفتم (جو کہ اب بیسویں ہے) کتا ب الذبائح میں ہے، توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔
یہ استثناء تمام مذکورات کی طرف راجع ہے جس سے متعلق ہوسکتاہے، ظاہر ہے کہ خون اور گوشت ذبح نہیں ہوسکتے ، عجب نہیں کہ اضافہ لفظ لحم میں یہی حکمت ہو کہ صلاحیت استثنا نہ رہے، اور مردار اور جو ایک بار ذبح ہوچکی صالح ذبح نہیں، بحمداللہ تعالٰی یہاں سے وہابیہ کا رد ہوگیا، ما اُہل سے اگر ما ذبح مرادلیتے ہیں جیساکہ یہی حق اور یہی تفسیر ماثور ہے۔ تو قبل ذبح کسی کا نام پکارنے سے کیوں حرام بتاتے ہیں اور مطلق پکارنا مراد لیتے ہیں، تو جب اسے نام خدا پر ذبح کیا گیا کیونکر حرام کہتے ہیں، حالانکہ اللہ عزوجل فرماتاہے:
الا ما ذکیتم ۲؎۔
(مگر جسے تم ذبح کرلو۔ ت) یہ چیزیں حرام ہیں مگر جسے تم ذبح کرلو وہ حلال ہے، پہلی صورت میں تویہی تھا کہ بغیر خدا کے بتائے وہابیہ نے اپنی طرف سے حرام کہہ دیا، اور دوسری صورت جو خود وہابیہ لیتے ہیں اس سے بھی سخت تر ہے کہ جسے اللہ عزوجل نے حلال بتایا اسے حرام بتاتے ہیں، والعیاذباللہ تعالٰی، پانچ اشیاء سے باقی ماندہ میں جو مرگئی صالح ذبح نہ رہی، اور جس میں کچھ بھی حیات باقی ہے اگر چہ کتنی ہی خفیف ہو، اگر چہ اس کی حالت کتنی ہی ردی ہو، اگر چہ اس میں صرف مذبوح کی سی تڑپ باقی ہو، جب ذبح کرلی جائیگی مطلقا حلا ل ہو جائے گی اگرچہ ذبح کے وقت نہ خون دے نہ تڑپے جبکہ وقت ذبح اس میں حیات ثابت ہو اس لئے کہ رب عزوجل نے استثناء میں کوئی تفصیل نہ فرمائی، یہی ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب ہے، اور اسی پر فتوٰی،
(۲؎ القرآن الکریم ۵/ ۳)
درمختارمیں ہے:
ذبح شاۃ مریضۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت والالا، ان لم تدرحیاتہ عندالذبح وان علم حیاتہ حلت مطلقا وان لم تتحرک ولم یخرج الدم، وہذا یتأتی فی منخنقۃ و متردیۃ ونطیحۃ والتی بقرا لذئب بطنہا، فذکاۃ ہذہ الاشیاء تحلل وان کانت حیاتہا خفیفۃ، وعلیہ الفتوی لقولہ تعالی الا ماذکیتم من غیر تفصیل ۱؎۔
بیمار بکری کو ذبح کیا جبکہ اس نے حرکت کی اور خون نکلا تو حلال ہے، ورنہ نہیں بشرطیکہ ذبح کے وقت زندہ ہونا معلوم نہ ہوسکا، اور اگر اس موقعہ پر زندہ ہونا معلوم تھا تو مطلقا حلال ہے اگر چہ حرکت نہ کی اور نہ خون نکلاہو، یہ صورت گلہ گھونٹی ہوئی، اوپر سے گرنے والی ، سینگ زدہ، اور جس کا پیٹ درندے نے پھاڑ دیا ہو، میں پائی جاتی ہے تو ایسے جانور ذبح کردئے جائیں تو حلال ہوں گے، اگر چہ ذبح کے وقت خفیف سی زندگی معلوم ہوجائے اور اسی پر فتوٰی ہے اللہ تعالٰی کے قول الاماذکیتم مطلق کی بناء پر۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۰)
ولہذا ہمارے علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر درندہ نے جانور کا پیٹ چاک کردیا، یابالکل سر سےجداکر کے لے گیا، اور ابھی اس میں حیات باقی ہے ذبح کرنے سے حلال ہوجائے، وجیز کردری جس سے بحوالہ عالمگیری سوال میں استدلال ہے، اس کی پوری عبارت کتاب السیرسے چند سطر پہلے یہ ہے:
شاۃ قطع الذئب اوداجہا وہی حیۃ لاتذکی لفوات محل الذبح، ولو بقرالذئب بطنہا وہی حیۃ تذکی لبقاء محل الذ بح فتحل لوذبحت ولو انتزع الذئب راس الشاۃ وبقیت حیۃ تحل بالذبح بین اللبۃ واللحیین ۱؎۔
بھیڑئیے نے بکری کی اوداج (گلے کی رگیں) کاٹ دیں ابھی زندہ ہے مگر ذبح کے قابل نہ ہو تو ذبح نہ ہوگی کیونکہ ذبح کا محل نہ رہا، اور بھیڑئیے نے اس کا پیٹ پھاڑ دیا اور ابھی زندہ ذبح کے قابل ہے تو ذبح کی جائے کیونکہ ذبح کا محل باقی ہے، اور اگر بھیڑئیے نے سر کاٹ لیا ابھی زندہ تھی اور ذبح کرلی گئی لبہ اورلحیہ کے درمیان سے تو حلال ہوگی۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الذبائح الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۸)
صورت مسئولہ کا آیہ کریمہ کے اطلاق اورہمارے امام اعظم کے مذہب مفتی بہ میں داخل ہونا ظاہر ہے اور عبارت وجیز اس سے متعلق نہیں ۔ وجیز میں وہ صورت منع کی ہے، درندہ رگیں قطع کردے، اور سوراخ کرنا قطع کردینا نہیں کہ اس میں سینہ سے سر تک رگوں کا اتصال بحال رہتاہے، اور قطع اس وصل کا فصل کردیناہے۔