Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
51 - 126
مسئلہ ۱۳۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی کافر نے ایک بکری پر اہلال لغیراللہ کیا، اور بنام خدا ذبح کرنا چاہا، پھر کسی کے کہنے سے ذبح موقوف کرکے ایک شخص کو ہبہ کردیا نہ کہ اس غیر کے نام پر بلکہ جیسے، آپس میں ایک دوسرے کو ہبہ کرتے ہیں، آیا موہوب لہ کو خدا کے نام پر ذبح کرکے کھانا اس کا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:عندالتحقیق کریمہ
مااُہِلَّ بِہٖ لغیر اﷲ۲؂
میں اہلال وقت ذبح مقصود ، یعنی اس وقت اگر نام غیر خدا لیا گیا حرام ہے، اس معنی پر آیہ کریمہ کو صورت مسئولہ سے کچھ علاقہ ہی نہیں،
  (۲؎ القرآن الکریم      ۲/ ۱۷۳)
اوربعض نے جو پیش از ذبح جانور پر نام غیر خدا پکاردینا مراد  رکھا، ان کے نزدیک بھی استمرار اسی کاتادم شرط حرمت ہے۔ استدلال شاہ عبدالعزیز صاحب کا حدیث
''ملعون من ذبح لغیر اﷲ '' ۱؎
 (جس نے غیر اﷲ کے نام پر ذبح کیا وہ ملعون ہے ۔ ت)
(۱؎ فتح العزیز (تفسیر عزیزی)         تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳     مطبع مجتبائی دہلی     ص۶۱۰)
اور عبارت نیشاپوری:
اجمع العلماء لو ان مسلما ذبح ذبیحۃ وقصد بذبحہا التقرب الی غیر اﷲ صار مرتدا ذبیحتہ ذبیحۃ مرتد۲؎۔
علماء کا اجماع ہے کہ اگر مسلمان نے جانور کوغیر اللہ کے تقرب کےلئے قصد کرتے ہوئے ذبح کیا تووہ مرتد ہوجائے گا، اس کا ذبیحہ مرتد کے ذبیحہ کی طرح ہوگا۔ (ت)
 (۲؎فتح العزیز (تفسیر عزیزی)         تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳     مطبع مجتبائی دہلی   ۶۱۱)
سے اس کا صاف مؤید ہے، یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جب ایک بار اس پر نام خدا کا پکاردیا گیانجس العین ہوگیا اب اگرچہ وہ نیت جاتی بھی رہے اور وقت ذبح تقرب الی اللہ ہی مقصود ہو، اور نام بھی خدا ہی کا لیا جائے حرام رہے گا، حالانکہ علت حرمت مرتفع ہوگئی اور ارتفاع علت کو ارتفاع معلول لازم،
شاہ صاحب اپنی تفسیرمیں فرماتے ہیں:
آرے ذکر نام خدا براں جانور وقتے فائدہ می دہد کہ تقرب بغیر خدا ازدل دور کردہ، وخلاف آں شہرت دادہ آواز دیگر دہند کہ ما ازیں کار برگشتیم۔ ۳؎۔
ہاں اس جانور پر خدا کا نا م ذکر کرنا تب فائدہ مند ہوگا جب غیر خدا کے تقرب کو دل سے نکال دے اور غیر خدا کے تقرب کے خلاف کو شہرت دے اور لوگوں کو بتائے کہ اس کا م سے باز آگیا ہوں۔ (ت)
 (۳؎فتح العزیز (تفسیر عزیزی)         تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳     مطبع مجتبائی دہلی   ۶۱۱)
اس عبارت سے صاف ظاہر کہ اگربعد اہلال للغیر ونیت فاسدہ زائل ہوجائے تو جانور قطعا حلال ہے، خصوصا صورت مسئولہ میں کہ یہاں تو وہ بکرا صاحب اہلال کی ملک ہی نہ رہا، دوسرے شخص کا مملوک ہوگیا کیا صرف ایک بار نام  خدا پکار دینے سے اس میں وہ حرمت ابدی ونجاست سرمدی آگئی کہ اب اگرچہ وہ نیت بھی جاتی رہی، اور اہلال للغیر بھی موقوف ہوجائے بلکہ جانور صاحب اہلال کی ملک بھی نہ رہے، اور ملک ثانی خاص خدا کے نام پرذبح کرے، باایں ہمہ اس کی حرمت نہ جائے ؟ یہ امر  بالبداہۃ باطل، اور اس بکر کی حلت میں باتفاق فریقین کوئی شبہ نہیں ،
واللہ تعالٰی اعلم وحکمہ عزاسمہ احکم
مسئلہ ۱۳۸: ۱۴ رمضان المکرم ۱۳۱۴ھ

جنگل میں صبح کے وقت بیل مذبوحہ پایا، مگر ذابح معلوم نہیں کہ کافر ہے یا مسلمان، اگر مسلمان ہے تو بسم اللہ اللہ اکبر کہی ہو یانہ، آیا مذبوحہ حلال ہے یاحرام؟ اگر حلال ہے تویہ جزئیہ کون سی کتاب میں ہے اور کون سے باب میں ہے یا
مااہل بہ لغیر اللہ ۱؎
میں داخل کیا جائے کون سی دلیل کے ساتھ؟ بینوا توجروا
 (۱؎ القرآن الکریم   ۲/ ۱۷۳)
الجواب : ان بلاد میں کہ مومن اور کافر، مشرک ، ملحد، زندیق ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں، ایسا نامعلوم الحال ذبیحہ حلال نہ سمجھا جائے گا۔
کمابینہ فی الدرالمختار۲؎ وردالمحتار۳؎ من اٰخر الصید فراجعہما وفیہ تفصیل لا یعدو ماقلناہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ درمختار اور  ردالمحتار کے باب الصید  کے آخر میں اس کو بیان کیا ہے تو دونوں کتب کی طرف رجوع کرو اور اس میں تفصیل ہے جو ہمارے بیان کردہ سے زائد نہیں ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الصید         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۶۴)

(۳؎ ردالمحتار    کتاب الصید    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۰۶)
مسئلہ ۱۳۹: از بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ عبدالرشید خاں     ۱۳ جمادی الاولٰی ۱۳۳۳ھ

اور مدار صاحب کا مرغہ کرنا کیسا ہے؟ او رکھانا اس کا جائز ہے یانہیں؟
الجواب : جو جانور مسلمان نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا اور اللہ عزوجل کے لئے اس کی جان دے وہ حلا ل ہے، مرغ مزار پر لے جانا نہ چاہئے نہ مرغ کی خصوصیت ضروری سمجھنا چاہئے، جو ذبح جہاں ہو اللہ کے لئے کرے ان کا ثواب ان کی روح کو پہنچا دے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۰: مسئولہ انوارالحق چونیاں ضلع لاہور بروز یک شنبہ بتاریخ ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ

فتاوٰی شاہ عبدالعزیز صاحب کا حنفی المذہب کے مطابق ہے یاکہ نہیں، اورنیز اس میں لکھاہے کہ پیر کے نام کا بکرا حرام ہے، خواہ وقت ذبح تکبیر کہی جائے، اب اے وارث النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم! تحریر فرمائے کہ شاہ صاحب اس مسئلہ میں غلطی پر ہیں، یا یہ کہ اس فتاوٰی کی عبارت سمجھنے میں غلطی ہے اس فتوے کی تمام عبارت دو تین ورق پڑھ کر تحریر فرمائیں، اور نیز حضور نے کئی دفعہ پڑھابھی ہوگا۔
الجواب : اس مسئلہ میں حق یہ ہے کہ نیت ذابح کا اعتبار ہے اگر اس نے اراقۃ دم تقربا الی اللہ کی اور وقت ذبح نام الہٰی لیا جانور بنص قطعی قرآن عظیم حلال ہوگیا۔
قال اﷲتعالٰی مالکم ان لاتاکلوا مما ذکر اسم اﷲ علیہ ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تمھیں کیا ہوا کہ تم اسے نہیں کھاتے جس پر اللہ کانام پکارا گیا۔ (ٹ)
(۱؎ القرآن الکریم   ۶/ ۱۱۹)
تفصیل فقیر کے رسالہ ''سبل الاصفیاء'' میں ہے، شاہ صاحب سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئی، اور وہ نہ فقط فتاوٰی بلکہ تفسیر عزیزی میں بھی ہے، اورنہ ایک ان کا فتاوٰی بلکہ کسی بشر غیر معصوم کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں سے کچھ متروک نہ ہو، سید نا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
کل ماخوذ من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ہذہ القبر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ تمام حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا ہر ایک اپنے قول پر ماخوذ ہوگا اور قول کو اس پر رد کیا جائے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۱: از رام گڑھ سیٹھاں علاقہ سیکر شیخاوٹی، مدرسہ نور الاسلام، مسئولہ عبدالعزیز ۱۹ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ پیروں کا بکرا جو مانتے ہیں جائز ہے یانہیں؟ بینواجروا
الجواب: ذبح اللہ عزوجل کے نام پر کیا جائے اور ثواب پیروں کو پہنچا یا جائے، نہ اس میں حرج نہ اس کے ماننے میں حرج، مسلمان یہی کرتے ہیں اور ان کا مقصود ہوتاہے، اس کے خلاف سمجھنا بدگمانی ہے،
کمافی الدرالمختار
(جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ ت) اوریہ بدگمانی حرام ہے،
کمافی القراٰن العظیم
(جیساکہ قرآن عظیم میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter