Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
50 - 126
مسئلہ ۱۳۵: از رامہ ڈاک خانہ جاتلی تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۸ شوال ۱۳۳۸ھ

مذبوحہ شدہ مالک کو دستیاب ہوجائے، ذابح نامعلوم ہے، کیا یہ مذبوحہ حلال ہوگی یا نہیں؟
الجواب: حلال ہے مگر جب کہ اس گمان کا محل ہو کہ ذابح مرتد یا مشرک یا مجوسی ہے۔ 

حلبی وشامی علی الدرر میں ہے:
الاولی ان یقال ان کان الموضع مما یسکنہ او یسلک فیہ مجوسی لایوکل والا اکل ولایعترض بشأن ترک التسمیۃ عمدا، فان ہذا موہوم لایعارض الراجح ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ کہنا بہترہے، ایسا موضع جہاں مجوسی رہتا ہو وہاں اس کا آنا جانا ہو تو وہاں کانہ کھایا جائے ورنہ کھایا جائے، اور قصدا بسم اللہ کو ترک کی صورت سے اعتراض نہ کیا جائے کیونکہ یہ احتمال موہوم ہے جو راجح احتمال کا مقابل نہیں بن سکتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار         کتاب الصید         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۰۷)
مسئلہ ۱۳۶: از موضع بکاجبی والا، علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاکخانہ کوٹ نجیب اللہ خاں مرسلہ مولوی شیر محمد ۲ رمضان ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ اگر کوئی شخص کسی کی بکری یا او ر کوئی حلال جانور چرا کر ذبح کرے تو وہ جانور اس کے ذبح کرنے سے حلال ہوجائے گا یا نہیں؟ اور اس کا کھانا کیسا ہے؟ اور اس ذبح کرنیوالے کے لئے کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: یہ شخص ملک غیر میں بے اس کی اجازت کے تصرف کرنے سے گنہ گار ہوا، مگر اگر یہ ذبح کرنیوالا اہل ذبح ہے اور تکبیر اس نے قصدا ترک نہ کی تو جانور کاذبیحہ صحیح ہوگیا یہاں تک کہ اگر یہ جانور مالک نے خاص قربانی کے لئے خریدا تھا اور اس شخص نے ایام قربانی میں اپنی طرف سے ذبح کرلیا، اور مالک نے یونہی ذبح کیا ہوا اس سے لے لیا تو مالک کی قربانی ادا ہوگئی اور اگر مالک نے تاوان لے لیا تو ذابح کی قربانی اد اہوگئی اور اگرکوئی شخص کسی کا جانور چوری یا غصب سے لے کر ذبح کرے، اور ابھی پکانے یا بھوننے نہ پایا ہو، تو مالک کو اس کا لے لینا اور خود کھانا حلال، اور جسے وہ اجازت دے اسے بھی حلال، ہاں بے اس کی اجازت کے یہ ذبح کرنیوالا نہ خود کھا سکتاہے نہ دوسرے کو کھلاسکتاہے اسے حرام ہے جب تک اس کا تاوان ادانہ کرے، یہ حرمت تعلق غیر کے سبب ہے نہ اس وجہ سے کہ ذبح صحیح نہ ہوا، جس طرح ذابح کے پکالینے یا بھوننے کے بعدمالک کو اس کے لے لینے کا اختیارنہیں کہ اب ذابح اس کامالک ہو گیا اصل مالک کو صرف تاوان لینے کا اختیار رہا، جب یہ تاوان لے لے گا ذابح کو اس کا کھانا حلال ہوجائے گا،
درمختار میں اشباہ سے ہے:
لو شراہا بنیۃ الاضحیۃ فذبحہا غیرہ بلااذنہ فان اخذہا مذبوحۃ ولم یضمنہ اجزأتہ۔ وان ضمنہ لاتجزئہ وہذا اذا ذبحہا عن نفسہ، واماا ذا ذبحہا عن مالکہا فلاضمان علیہ ۱؎۔
اگر قربانی کی نیت سے بکری خریدی تو کسی دوسرے شخص نے اس کی اجازت کے بغیر اسے ذبح کردیا تو اگر مالک نے وہ ذبح شدہ بکری رکھ لی اور اس سے ضمان نہ لیا تو مالک کی قربانی جائز ہوگی اور اگر ضمان لیا تو قربانی جائز نہ ہوگی یہ اس صورت میں ہے کہ جب ذبح کرنے والے نے اپنی طرف سے جانور ذبح کیا ہو اور اگر اس نے مالک کی طرف سے ذبح کیا تو اس پر ضمان نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار بحوالہ الاشباہ   کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۴)
عالمگیریہ میں محیط سرخسی سے ہے:
رجل ذبح اضحیۃ غیرہ عن نفسہ بغیر امرہ، فان ضمنہ المالک قیمتہا یجوز عن الذابح دون المالک لانہ ظہر ان الاراقۃ حصلت علی ملکہ وان اخذھا مذبوحۃ تجزئ عن المالک لانہ قد نواہا فلیس یضرہ ذبح غیرہ لہا ۲؎۔
کسی شخص نے غیر کی قربانی کو اپنی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر ذبح کرلیا تو مالک نے اس کو جانور کی قیمت کا ضامن بنایا تو وہ قربانی ذبح کرنے والے کی طرف سے ہوگی مالک کی نہ ہوگی کیونکہ واضح ہوگیا کہ ذبح کرنے والے نے اپنی طرف سے قربانی دی ہے اور اگر مالک نے ذبح شدہ کو لے لیا تو قربانی مالک کی جانب سے ادا ہوئی کیونکہ اس نے قربانی کی نیت کررکھی تھی تو غیر کا ذبح کرنا مضرنہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی     کتاب الاضحیۃ  البا ب السابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۰۲)
تنویرمیں ہے:
ان غصب وغیر فزال اسمہ واعظم منافعہ ضمنہ وملکہ بلاحل انتفاع قبل اداء ضما نہ کذبح شاۃ وطبخہا اوشیہا ۱؎ اھ ملخصا۔
اگر دوسرے شخص نے جانور غصب کیا اور اس میں کوئی تغیر کردیا تو اس کا نام زائل ہوگیا اور اس کے منافع بڑھالئے ضمان دیا تو مالک ہوجائے گا اور ضمان کی ادائیگی سے قبل اس کو انتفاع حلال نہ ہوگا مثلا ذبح کرکے پکالیا یا بھون لیا تو مالک ہوجائے گا۔ اھ ملخصا (ت)
(۱؎درمختار شرح تنویرالابصار   کتاب الغصب  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۰۶)
اسی میں ہے:
ذبح شاۃ غیرہ طرحہا المالک علیہ، واخذ قیمتہا اواخذہا وضمنہ نقصانہا ۲؎۔
غیر کی بکری ذبح کی تومالک نے اس کے ذمہ ڈال دی اور اس کی قیمت وصول کرلی یا وہ ذبح شدہ بکری مالک نے رکھ لی اور نقصان کا ضمان وصول کرلیا (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویرالابصار  کتاب الغصب  مطبع مجتبائی دہلی  ۲/ ۲۰۶)
ردالمحتارمیں ہے:
لانہ اتلاف من وجہ لفوات بعض المنافع کالحمل والدروالنسل و بقاء بعضہا وہو اللحم، ۳؎ درر۔
کیونکہ یہ من وجہ اتلا ف ہے حاملہ ہونے ، دودھ اور نسل کے اعتبار سے اورمن وجہ باقی ہے گوشت کے اعتبار سے درر، (ت)
 (۳؎ ردالمحتار        کتاب الغصب  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۲۳)
اسی طرح ہدایہ وغیرہا میں ہے:
فظہران ماوقع فی اٰخرالصید من الدر المختار، بما نصہ ورأیت بخط ثقۃ سرق شاہ فذبحہا بتمسمیۃ فوجد صاحبہا ہل توکل ، الاصح لا، لکفرہ بتسمیتہ علی الحرام القطعی بلا تملک ولا اذن شرعی اھ فیحرر ۴؎ اھ فغیر معتمد ولا محرر، لمخالفتہ لما فی الدر وغیرہ عامۃ معتمدات المذہب، ولذا قال فی ردالمحتار المعتمد خلافہ بدلیل قولہم بصحۃ التضحیۃ بشاۃ الغصب واختلافہم فی صحتہا بشاۃ الودیعۃ ولذا قال السائحانی، اقول: ہذا ینا فی ماتقدم فی الغصب، وفی الاضحیۃ فلا یعول علیہ ۱؎ اھ، مافی ردالمحتار ، اقول: و یؤید حدیث شاۃ ذبحت بغیر اذن مالکہا، وقدمت للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاخبرہ بذٰلک لحمہا، فلم یتناول منہ وامر بحملہ الا ساری، واﷲ تعالٰی اعلم۔
تو درمختار کے باب الصید کے آخر میں جو واقع ہے وہ غیر معتمداورغیر محرر ہے، وہ عبارت یہ ہے، ''میں نے ثقہ عبارت میں پایا کہ کسی نے بکری چوری کرکے ذبح کرلی اور اس پر بسم اللہ پڑھی تو مالک ناراض ہوا، کیا وہ کھائی جائے گی؟ (جواب) اصح یہ ہے کہ نہ کھائی جائے کیونکہ حرام قطعی پر بسم اللہ پڑھنے سے کفر ہونے کی بناء پر ملکیت اور اذن شرعی کے بغیر یہ عمل ہوا''، اھ اس کو واضح کیا جائے اھ یہ اس لئے غیر معتبر ہے کہ درمختار اور دیگر عام کتب مذہب کے بیان کے خلاف ہے اور اسی لئے ردالمحتار میں فرمایا اس کا خلاف معتمدعلیہ ہے اس پر دلیل فقہاء کا یہ قول ہے کہ غصب شدہ بکری کی قربانی صحیح ہے، اور امانت بکری کے متعلق اختلاف کیا، اور اسی لئے سائحانی نے فرمایا میں کہتاہوں کہ یہ غصب میں بیان شدہ کے خلاف ہے اور قربانی کے بیان سے بھی مخالف ہے، ردالمحتارکا بیان ختم ہوا، اقول: (میں کہتاہوں) اس کی تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح شدہ بکری حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی اور آپ کو واقع بتایا گیا تو آپ نے وہ گوشت نہ کھایا اور آپ نے وہ گوشت قیدیوں کو دے دینے کا حکم فرمایا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۴؎ درمختار             کتاب الصید         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۶۴)

(۱؎ ردالمحتار     کتاب الصید         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۰۷)
Flag Counter